Malak kasana status

Malak kasana status Art & Intertanment and information

زندگی کو بدل دینے والے ارشادات!!!
17/09/2023

زندگی کو بدل دینے والے ارشادات!!!

13/08/2023

ساوتھ ایشیا انڈیکس کے مطابق

Islamabad:— Economic Report Card of outgoing PDM govt: (April 22 — August 2023)

GDP growth:—
2022:— 6.1%
2023:— 0.29%

Industrial growth:—
2022:— 7.19%
2023:— -2.94% 🔻(negative)

Large scale manufacturing:—
2022:— 10.61%
2023:— -8.11%🔻(negative)

Total GDP:—
2022:— $383 billions
2023:— $341 billions

Exports:—
2022:— $28.83 billions
2023:— $21.2 billions

Remittances:—
2022:— $26.1 billions
2023:— $20.5 billions

Service sector growth:—
2022:— 6.19%
2023:— 0.86%

Agriculture growth:—
2022:— 4.40%
2023:— 1.55%

CPI inflation:—
2022:— 11%
2023:— 28.2%

Food inflation:—
2022:— 11.8%
2923:— 37.9%

Total liquid FX reserves reserves:—
April 2022:— $16.4B
August 2023:— $13.4B

Currency valuations:—
April 2022:— $1 USD = ₨186
August 2023:— $1 USD = ₨287

Usho road Kalam
31/07/2023

Usho road Kalam

31/07/2023

I've just reached 400 followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏🤗🎉

04/06/2023

**گبرال گوجر داستان* *
(تحریروتحقیق
رحمان ملک )
وادی سوات میں گبرال گوجروں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں یہ لوگ قدیم دور سے آباد ہیں اور مالکانہ حیثیت سے رہتے ہیں اس خطہ میں گوجر عددی اعتبار سے بھی اہم ہیں۔ ان کو اعلی حیثیت حاصل ہے ۔ اور سماجی اعتبار سے بھی اعلی رتبے کے حامل ہیں ۔
گبرال وادی کالام کا خوبصورت ترین خطہ ہے ۔جو کالام سے تقریباً ٢٠ میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ گبرال سے چترال کی طرف میدان نامی پہاڑ تک قریباً چالیس کلومیٹر کا علاقہ بڑا ہموار ، سبز پوش ، گل پوش علاقہ ہے ، جہاں کے ذرے زرے پر قدرت نے فیاضی کی انتہا کی ہے ۔ اتروڑ اور گبرال میں وادی کشادہ اور کسی حد تک بیضوی ہے ۔
گبرال مشرق کی طرف شاموٹ تک ،مغرب کی طرف دریائے اتروڑ تک ،شمال میں چترال تک اور جنوب میں اتروڑ گبرال تک کے علاقوں پر محیط ہے ۔ جس میں گوجر قبیلے کی آبادی تقریباً٢٣ ہزار ہے۔ جن میں سے ١٢ ہزار ووٹر ہیں ۔ اس جنت نظیر وادی کے مشہور گاوں باڑی، گستگان ، بیلہ گوٹ ، کارین باڑہ ، مالی، گوہ، چھوٹا جبہ، اور بڑا جبہ ہیں ۔ یہ پورا علاقہ ایک یونین کونسل پر مشتمل ہے وادی گبرال، وادی گل بیلہ، دان کا بیلہ ،میدان اس خطے کی مشہور وادیاں ہیں ۔
ڈونگا بیلہ پہاڑ ١٧ ہزار فٹ بلند ہے جبکہ میاں گل سر ٢١ ہزار فٹ بلند ہے ۔ گبرال ندی ، خڑخڑی اور ڈینگی ندی یہاں کے اہم دریا ہیں
یہاں بے شمار ایسی جڑی بوٹیاں پائ جاتی ہیں ۔ جو پاکستان کے دیگر پہاڑی علاقوں میں نایاب ہیں ۔ ان میں ریچھ جٰڑی، سیلی ،سونچل ،کاکوڑہ، تاکی جڑی ،مارجڑی ،زیرہ مہرہ ،متر جڑی، پشمالہ ،سی مُو ، چوٹیال ، تین دی جڑی شامل ہیں ۔ ریچھ جڑی ایک ایسی جڑ ہے جسے نومبر میں ریچھ کھا لیتا اور جا کر غار میں سو جاتا ہے ۔ جب مارچ اپریل میں آسمان پر بادل گڑڑاتے ہیں۔ تو یہ بیدار ہو جاتا ہے ۔ شکاری لوگ اس کی تلاش میں ہوتے ہیں اس کو مار کر اس کا پتہ نکال لیتے ہیں اس پتے کا پانی مخصوص طاقت بڑھانے کے لیے شہرت رکھتا ہے ۔ تاکی جڑی گھر میں کوئ پیے تو پورے گھرانے کو پینی پڑتی ہے ورنہ پورا گھرانہ بیمار ہو جائے گا ۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ جب بھی کوئ پئے اور سبز پودے پر آواز کسے تو وہ خشک ہو جاتا ہے ۔
مارجڑی کا سایہ جس پر پڑجائے وہ آدمی نیم بے ہوش ہو جاتا ہے ۔ متر جڑی مکھن ذیادہ حاصل کرنے کی غرض سے لسی بلورنے کی چاٹی کے نیچے رکھتے ہیں غرض سینکڑوں اقسام کی جڑی بوٹیاں ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی علیحدہ افادیت ہے ۔
یہاں کی موسمی صورتحال بھی شدید تر ہے . بہت ذیادہ سردی پڑتی ہے ۔ سخت برف گرتی ہے ۔سخت بارشیں برستی ہیں ۔ اور سخت ژالہ باری ہوتی ہے ۔ یہاں کی اہم فصلوں میں جوار ،آلو، شلغم، مٹر ،کدو ،سونچو، شامل ہیں ۔ یہاں کا آلو ٹنوں کے حساب سے پاکستان کی منڈیوں میں سپلائ کیا جاتا ہے ۔ میٹھے سیب اور کاغذی اخروٹ کے لیے بھی یہ وادی شہرت رکھتی ہے ۔ یہاں پر چونکہ گھنے جنگل اور جھاڑیاں موجود ہیں۔ اس لیے جنگلی حیات بھی کئ نسل کے ملتے ہیں جن میں چیتا، ریچھ، شیر ،ببر شیر ،بندر ،گیدڑ، ،ہرن ،پہاڑی بکرے عام پائے جاتے ہیں ۔ مکانات ذیادہ تر لکڑی اور پتھر کے بنے ہوتے ہیں گھر کو پانچ حصوں چولہا، بارا، پور اور بنڈی میں تقسیم کیا جاتا ہے بارا مہمان خانے کے لیے وقف ہوتا ہے ۔
مٹر ماسی (پاٹی گوشت )اور پنیر عام خوراک ہے ۔جرگہ گاہ جس کو جرگہ ٹھار کہتے ہیں ۔ہر گاوں میں موجود ہے ۔ یہاں کے رسم ورواج تہذیب وثقافت ، دستکاریاں بہت دلچسپ اور انوکھی ہیں جن کی تفصیل لکھنے کے لیے مفصل کتاب درکار ہے ۔
گوجر گبرال میں گوجری زبان بولی جاتی ہے جبکہ گوجر قبیلے کے لوگ پشتو زبان بھی بولتے اور سمجھتے ہیں ۔
١٧٥٧ء میں محققین السنہ نے وادی سوات کے رہنے والے گوجروں کی زبان کو راجپوتانہ کی زبان کے مشابہ قرار دیا ہے اور سوات بنیر کے درمیان میں کئ زبانیں مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں ۔ مگر میری نظر میں سوات، بنیر اور راچپوتانہ کی زبان کا مشابہ ہونا بظاہر تعجب خیز ہے ۔
گبرال کے گوجروں کا کہنا ہے کہ وہ محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملے کے وقت وہاں سے آئے ۔ جب کشمیر میں ان پر ٹیکس لگایا گیا تو کچھ لوگ گبرال میں آکر آباد ہوئے ۔ جو ان وقتوں میں بنجر علاقہ تھا ۔ جسے گوجری زبان میں” شدئ “ یا ”شاڑہ “کہتے ہیں اور ان لوگوں نے اسے” کروندہ “ یعنی قابل کاشت بنا لیا ۔ جب یہ لوگ سوات کی طرف کوچ کرنے لگے تو اس وقت ان کے دو بڑھے بوڑھے تھے ۔ جن میں سے ایک کی اولاد گبرال اور جبکہ دوسرے کی اولاد لائ کوٹ میں آباد ہوئ ۔ دونوں بڑے جبیب الرحمن اور طوطا تھے۔ طوطا کی اولاد آج کل لائ کوٹ میں ہے اور حبیب الرحمن کی اولاد گبرال میں آباد ہے ۔ ان دونوں کے والد کا نام محمد نور بابا تھا ۔ جن کی زیارت لائ کوٹ میں ہے ۔
جب یہ لوگ گبرال میں آباد ہوئے جو ایک کافر بادشاہ گبر کے نام کی یادگار ہے۔ تو ان دنوں میں چترال کے مہتر اِن لوگوں سے خراج وصول کیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ مہتر کے آدمیوں نے مویشیوں کے ساتھ ساتھ کچھ بچوں کو بھی اغوا کر لیا ۔ گوجر لوگ مدین کے سیدوں کو ساتھ لے کر مہتر کے پاس گئے ۔ ان کی وجہ سے مال مویشی اور بچے واپس کر دئیے گئے ۔ گوجر لوگوں نے سیدوں کو بڑے بڑے نذرانے شروع کر دیئے ۔ لیکن بعد میں سید لوگوں نے گبرال پر ملکیت کا دعوی کر لیا ۔ اور انہوں نے گبرال کا علاقہ بہ عوض سترہ ہزار روپے بہ دست خان بہادر آف جورہ بیچ ڈالا ۔ لیکن آخری دنوں میں والئ سوات کے حکم سے خان بہادر ان زمینوں سے دست بردار ہو گیا ۔ اور گوجر لوگ اسی وادی کے دوبارہ مالک بن گئے ۔
کالام اور گوجر گبرال کی دادی والئ سوات میاں گل عبدالودود کے عہد کے آخری ایام ١٩۴٧ میں ریاست سوات کے ساتھ ملحق ہوئ ہے اس سے قبل یہ خطہ ریاست چترال کے ساتھ منسلک تھا ۔
گبرال کے گوجروں کے ایک گروہ کا ذریعہ معاش مویشی پالنا ہے ۔ جن کے گرمائ اور سرمائ الگ الگ ٹھکانے ہیں ۔ جبکہ گبرال کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے اور مختلف اداروں میں ملازمت پیشہ ہے ۔ کاشت کاری کو بھی زریعہ معاش کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے
یہاں کے گوجر امن پسند ،محنتی اور مہمان نواز ہیں ۔ صلح جوئ ان کا خاص وصف ہے ۔ لڑائ جھگڑے اور فتنہ فساد سے دور رہتے ہیں ۔ جرائم پیشہ عناصر کا سرے سے وجود ہی نہیں ۔ اس خطے کی صحت مند آب و ہوا کی وجہ سے لوگ طویل عمر پاتے ہیں ۔ اور عام بیماریاں کم اثر کرتی ہیں ۔ دودھ ،دہی ،مکھن ،دیسی گھی کی فراوانی ہے جسکی وجہ سے لوگوں کی صحت قابلِ رشک ہے ۔ عام طور پر بیماریوں کا علاج جڑی بوٹیوں سے کیا جاتا ہے ۔

پورے گبرال میں کشان (کسانہ ) کے لوگ آباد ہیں جبکہ اسکی ذیلی گوتوں میں علی خیل، عبدالخیل، باروخیل، جٹ خیل ،چوکر خیل ،نظام خیل، نیمہ کئ خیل ، قاضی خیل، سید میر خیل شامل ہیں ۔ کسانہ یا کشان گوجروں کا قدیم قبیلہ ہے ۔ وجہ تسمیہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ان کے مورث اعلی کا نام کشان یا کسانہ تھا جس کے نام پر یہ گوت مشہور ہوئ ۔ چینیوں نے انہیں یوچی کہا چینی تاریخ میں کشان قبائل پر کئ کتب لکھی جا چکی ہیں۔ ۔ یوچی شمالی تبت اور باختر میں اب بھی آباد ہیں ۔ کسانہ ضلع گجرات میں تقریباً چالیس مواضع میں آباد ہیں اور کئ گاوں اس گوت کے نام سے مشہور ہیں اس کے علاوہ پاکستان بھر اور کشمیر میں کسانہ گوت کے لوگ آباد ہیں ۔
گبرال کے چند مشہور شعراء میں مولانا محمد اسحاق ،میاں گل جان اور عبدالودود شامل ہیں جبکہ مولانا عبدالقدوس، مولانا محب اللہ ،مولوی محمد اسحاق، مولوی محمد یوسف مولوی، محمد دین، مولانا محمد گل، اور مولانا فیض اللہ یہاں کے ممتاز علماء دین ہیں ۔
ملک عقل ذادہ گوجر گبرال کی ممتاز سیاسی شخصیت ہیں آپ ١٩٧٦ میں پیدا ہوئے ۔ کسانہ گوت سے تعلق ہے والد کا نام ملک چمن خان ہے ۔ جو کہ ١٩٨٥ء میں یونین کونسل اتروڑ کے چئیرمیں بھی رہ چکے ہیں ۔ ملک عقل ذادہ ٢٠١٥ء کے بلدیاتی الیکشن میں تحصیل ممبر منتخب ہوئے ۔جبکہ ٢٠٠٥ ءمیں یونین کونسل اتروڑ گبرال کے ناظم بھی منتخب ہوئے تھے ۔
ملک محمد زبیر گوجر اتروڑ گبرال کی کی مشہور سماجی اور سیاسی شخصیت ہیں۔
٢٠١٥ ء کے الیکشن میں آپ ویلیج کونسل کے ناظم منتخب ہوئے ہیں۔ گوجر قوم کی خدمت کے لیے دن رات حاضر رہتے ہیں قوم کے مسائل باہمی مشاورت سے حل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں آپ گوجر یوتھ فورم سے وابستہ ہیں ۔
ملک محمد زبیر گوجر نے بتایا کہ ان کا خاندان دو صدی قبل وادی آلائ سے آ کر آباد ہوا ۔ آلائ کی حسین سرسبز چوڑ ویلی ان کے آباواجداد کا آبائ مسکن تھی۔( میرا دو بار وادی آلائ میں جانا ہوا اس وادی کے آخری گاوں گنگوال سے چوڑ میدان تک راستہ جاتا ہے چوڑ سے آگے بہت طلسماتی جگہ ہے سنا ہے ۔ جہاں آج تک جو گیا واپس نہیں آسکا ) ۔ملک زبیر صاحب گوجری انتہائ روانی اور شستہ لہجے میں بولتے ہیں ۔ بہت ملنسار اور باصلاحیت شخصیت ہیں ۔
گبرال کی دیگر سرکردہ سیاسی شخصیات میں محمد خان گوجر نائب ناظم (٢٠٠١ء) محمد طاہر گوجر جنرل کونسلر ، حاجی ہاشم علی گوجر جنرل کونسلر ، کرمداد گوجر یوتھ کونسلر ،محمد رفیق گوجر کسان کونسلر شامل ہیں ۔
وادی گوجر گبرال دلکش مناظر اور فطری رعنائیوں کا ایک خوبصورت مرقع ہے یہاں کے گھنے جنگلات ، سربفلک پہاڑوں کی برف پوش چوٹیاں اور قدرتی طور پر ترشیدہ سبزہ زار اس سحر انگیز ماحول کو اور بھی معطر اور دلکش بناتے ہیں ۔زندگی کے چند پرسکون اور خاموش لمحوں کو گزارنے کے لیے بہترین تفریح گاہ ہے جہاں کے پرامن اور مہمان نواز فطرتی ماحول کے دلدادہ باسی سیاحوں کے لیے خطرات کی گھنٹی نہیں بجاتے ۔بلکہ خالص گوجرانہ انداز میں کھلے بازوں سے سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں ۔ یہاں آ کر انسان کو حقیقی سکون ، دلی مسرت ، اور ذہنی آسودگی کا ناقابلِ بیان احساس ہوتا ہے۔ اس برفانی علاقے میں قدرت کے شفاخانے لاعلاج امراض کے لیے اکسیر کا حکم رکھتے ہیں ۔
برفیلے چشموں کا پانی نہ جانے کن کن معدنیات ، نادرونایاب بوٹیوں کے عرق سے لبریز ہے ۔ پھولوں کی ایسی اقسام پائ جاتی ہیں ۔ جن کی خوشبو انسان پر انتھیسیا جیسا اثر کرتی ہے تو انسان مدہوش ہو کر گر جاتا ہے ۔ وادی گوجر گبرال کے عقب میں اکیس ہزار فٹ بلند میاں گل سر پہاڑ وادی کے حسن و جمال کو اور بھی نمایاں کرتا ہے ۔ غرض یہاں ہر طرف رنگینی ، رعنائ اور حسن کا راج ہے ۔ دلوں میں وادی گوجر گبرال دیکھنے کی اُمنگ پیدا کیجئیے ۔اور ذندگی کے چند حسین ، پُرمسرت لمحات اس وادی کے نام کیجئیے ۔

آرٹیکل کی تیاری میں گوجر گبرال کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت ناظم ملک زبیر کسانہ صاحب نے خصوصی معاونت فرمائ ۔ اور ضروری معلومات باہم پہنچائیں ۔ گوجر گبرال کی خوبصورت تصاویر بھی انہی کے توسط سے فراہم ہوئیں۔ جس پر میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔

تلاشِ ماضی ۔ ۔ ۔ ۔
Rahman Malak

31/05/2023

Gujjary songs

24/04/2023

*بســــــــــم اللــــہ الرحـــــمن الرحیــــم*


𝗣𝗥𝗢𝗣𝗛𝗘𝗧 𝗠𝗢𝗛𝗔𝗠𝗠𝗔𝗗 ﷺ 𝗕𝗜𝗢𝗚𝗥𝗔𝗣𝗛𝗬

Name : Muhammad ﷺ
Father : Abdullah
Mother : Aminah
Date of Birth : 12th Rabi Al - Awwal
Date of Death : 08 Jun 632 11 after Hijra
Age : 63 yrs
Place of Birth : Makkah
Place of Death : Madinah
Residence : Makkah then moved to Madina
Profession : Businessman , then a Prophet
Age : 63 years
Lived in Makkah : 50 years
Nabowat Age : 40 years
Lived in Madinah :13 years
Yrs of Preaching : 23 years

Merchant : 26 years 583–609 CE
Preacher : 23 years 609–632 CE

End of Worldly Life : 08 June 632. (11th after Hijra)

𝗔𝗖𝗧𝗜𝗢𝗡𝗦

☾Virtue
☾Preaching
☾Jihad in Islam

𝗕𝗘𝗛𝗔𝗩𝗜𝗢𝗨𝗥

✔︎Peace and Justice
✔︎Loving every body
✔︎Liking of Muslims
✔︎Philanthropic
✔︎Respectful of any organ (animals?)

𝗪𝗜𝗩𝗘𝗦 & 𝗠𝗔𝗥𝗥𝗜𝗘𝗗 𝗣𝗘𝗥𝗜𝗢𝗗

♥︎Khadijabint Khuwaylid 595–619
♥︎Sawda bint Zamʿa 619–632
♥︎Aisha bint Abi Bakr 619–632
♥︎Hafsa bint Umar 624–632
♥︎Zaynab bint Khuzayma 625–627
♥︎Hind bint Abi Umayya 625–632
♥︎Zaynab bint Jahsh 627–632
♥︎Juwayriyya bint al-Harith 628–632
♥︎Ramla bint Abi Sufyan 628–632
♥︎Rayhana bint Zayd 629–631
♥︎Safiyya bint Huyayy 629–632
♥︎Maymunah bint al-Harith 630–632
♥︎Maria al-Qibtiyya 630–632

𝗖𝗛𝗜𝗟𝗗𝗥𝗘𝗡

𝗕𝗢𝗬𝗦

❣︎Al-Qassem
❣︎Abdullah
❣︎Ibrahim

𝗚𝗜𝗥𝗟

❣︎Syeda Fatima Zahra SA


--------------------
◾ Hazrat Imam Ali AS


----------------------------
◾Imam Hassan AS
◾Imam Hussain AS
◾Syeda Zainab SA
◾Syeda Kulsoom SA


*❂▬▬▬๑۩☆۩๑▬▬❂*

24/04/2023

30/03/2023

*🌱مُخْتَـــصَـر پُر اَثَــر🌱*

*چیزوں کی اہمیت نہیـں ہوتی وہ کبھی نا کبھی مِل ہی جاتی ہیں صرف اِنسـان ہی ہیں جِن کا کوئی نعم البدل نہیـں ہوتا وہ دوبارہ نہیں ملتے.*

*🍂ارشـاد نـوری🍂*

29/03/2023

معاشی لحاظ سے سب سے مضبوط ممالک دو ہیں
1 امریکہ
2 چین
اور یہ دونوں کرکٹ جیسی فضول چیزوں پر وقت اور دولت ضایع نہیں کرتے۔

29/03/2023

گندم کا ریٹ کم کیا جائے2500سےاوپر من نہیں ہونا چاہیے
غریب بہت پرشان ہے

Address

Swat

Telephone

+923439097022

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malak kasana status posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Malak kasana status:

Share