SAYA

SAYA Marketing, Investment, Town planer, Builder

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرادانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تُوآہ، کس کی جُستجو آوارہ رکھتی ہے تجھےر...
20/02/2026

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تُو
آہ، کس کی جُستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تُو، رہرو بھی تُو، رہبر بھی تُو، منزل بھی تُو
کانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیا
ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تُو
دیکھ آ کر کوچۂ چاکِ گریباں میں کبھی
قیس تو، لیلیٰ بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تُو
وائے نادانی کہ تُو محتاجِ ساقی ہو گیا
مے بھی تو، مِینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تُو
شُعلہ بن کر پھُونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو
خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تُو
بے خبر! تُو جوہرِ آئینۂ ایّام ہے
تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

نظم :شمع اور شاعر
(فروری ۱۹۱۲ء)

17/01/2026

غصہ صرف ہمیں ہی نہیں آتا بلکہ سامنے والے انسان کو بھی اتنا ہی آ سکتا ہے جتنا ہمیں محسوس ہوتا ہے، اصل فرق غصہ آنے میں نہیں بلکہ اس غصے کو سمجھنے میں ہے۔

ایک سطح پر اینگر مینجمنٹ ہوتی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اینگر انڈرسٹینڈنگ ہے، یعنی یہ جان لینا کہ مجھے غصہ کیوں آ رہا ہے اور میں اسے کس سمت میں لے جا رہا ہوں۔

اسلام ہمیں صرف غصے کو دبانے کا نہیں بلکہ اسے سمجھنے اور درست طریقے سے چینلائز کرنے کا درس دیتا ہے، اسی لیے حدیث میں ہمیں عملی رہنمائی دی گئی ہے کہ اگر غصہ آئے اور ہم کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو جگہ بدل لیں، اور اگر پھر بھی غصہ کم نہ ہو تو پانی پی لیں، کیونکہ یہ اعمال دراصل ذہن اور جذبات کو ری سیٹ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

جب بچے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں یہ حقیقت سمجھ آتی ہے کہ زندگی کی چیزیں سو فیصد ان کے مطابق نہیں ہوتیں، اور یہی احساس اکثر غصے کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ معاملات میری مرضی کے مطابق کیوں نہیں چل رہے۔ حالانکہ ہر انسان کا ذہن، مزاج اور جذبات الگ ہوتے ہیں، اور یہی اصول بڑوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ بڑے اکثر اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم صرف اپنے جذبات کے ساتھ نہیں بلکہ دوسرے انسانوں کے جذبات کے ساتھ بھی ڈیل کر رہے ہوتے ہیں، اور سامنے والا بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ معاملات اس کے مطابق ہوں۔

جو انسان اس مرحلے پر اپنے غصے اور جذبات پر قابو پا لیتا ہے، وہ نہ صرف ٹکراؤ سے بچ جاتا ہے بلکہ غصے کے نقصانات سے بھی محفوظ رہتا ہے، اور یہی اصل ذہنی بلوغت اور دانائی کی علامت ہے۔

14/01/2026

Check out Bin suliman Travels’s video.

2039 میں ایک ہی عیسوی سال میں دو حج ہوں گے: ایک نایاب فلکیاتی واقعہریاض: اسلامی قمری کیلنڈر اور عیسوی شمسی کیلنڈر کے درم...
14/01/2026

2039 میں ایک ہی عیسوی سال میں دو حج ہوں گے: ایک نایاب فلکیاتی واقعہ
ریاض: اسلامی قمری کیلنڈر اور عیسوی شمسی کیلنڈر کے درمیان فرق کی وجہ سے 2039 میں ایک نایاب فلکیاتی واقعہ پیش آئے گا، جس میں ایک ہی عیسوی سال کے دوران دو بار حج ادا کیا جائے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق، پہلا حج جنوری کے آغاز (تقریباً 3 سے 6 جنوری) میں ہوگا اور دوسرا دسمبر کے آخر میں۔ یہ عمل تقریباً ہر 33 سال بعد دہرایا جاتا ہے کیونکہ قمری سال (354 یا 355 دن) چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسلامی مہینے عیسوی کیلنڈر میں پیچھے کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
مسلمان ایک ہی عیسوی سال میں تین عیدیں بھی منائیں گے: دو عید الاضحٰی اور ایک عید الفطر۔ ایک عید الاضحٰی جنوری میں، عید الفطر سال کے وسط میں، اور دوسری عید الاضحٰی دسمبر میں آئے گی۔ یہ واقعہ اسلامی دنیا میں امید اور حیرت کا باعث بن رہا ہے، جو قمری کیلنڈر کی خوبصورتی اور الٰہی حکمت کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی حکام نے ابھی تک سرکاری شیڈول جاری نہیں کیا ہے، لیکن فلکیاتی حسابات نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔

نظام لوہار : پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادر سپوت جسکا جنازہ 18 ہزار لوگوں نے پیسے دے کر پڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ نظام لوہار 1835ء میں...
10/01/2026

نظام لوہار : پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادر سپوت جسکا جنازہ 18 ہزار لوگوں نے پیسے دے کر پڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ نظام لوہار 1835ء میں امرتسر کے نواحی علاقے ”ترن تارن“ میں پیدا ہوئے۔ بنیادی اعتبار سے نظام کا تعلق ایک غریب لوہار خاندان سے تھا۔بوڑھی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنے بیٹے نظام کو تعلیم دلوا رہی تھی۔گھر میں نظام کی ایک جوان بہن بھی تھی،انگریز حکومت کے اہلکاروں کا مفلس کسانوں پر ظلم دیکھ کر نظام اکثر اسی سوچ میں گم رہتا کہ عام لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ چنانچہ وہ انگریز کا ایک خاموش مخالف بن گیا اور ابتدائی طور پر اپنی ہی بھٹی میں ہتھیار بنانا شروع کر دیے ۔تلواریں ، برچھیاںا ور چھرے بناتا اور جمع کرتا رہا ۔ ایک رات جب وہ کہیں سے واپس آیا تو دیکھا کہ اس کی ماں مرچکی ہے اور جوان بہن کے کپڑے تارتار ہیں۔ استفسار پربہن نے بتایا کہ تمہارے بعد انگریز پولیس افسر سپاہیوں کے ساتھ آیا تھا،اس نے گھر کی تلاشی لی اور تمہارے ہتھیار ڈھونڈ لیے ،ماں کو اس قدر مارا کہ وہ مرگئی۔ میں نے مزاحمت کی کوشش کی، تو مجھے بھی بری طرح زودکوب کیا۔نظام کے لئے یہ واقعہ اس کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ تھا۔اسی رات اس نے اپنی بہن کو ساتھ لے جا کے اپنے دوست محمد شفیع سے شادی کردی اور خود گھر بار چھوڑ کر ایک ویران حویلی میں پناہ لے لی جو آج بھی ککراں والی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔دوسری رات نظام تھانے پہنچا اور انگریز پولیس افسر کو ق۔ت۔ل کردیا جس نے اس کی ماں کا خون کیا تھا اور اسکی بہن کی بے عزتی کی تھی ، پھر یہ فرار ہوگیا۔اگلی صبح جب انگریز پولیس افسر کے ق۔ت۔ل کی خبر علاقے میں پھیلی تو لوگ خوشی سے دیوانے ہو گئے،کیونکہ یہ انگریز پولیس افسر عورتوں کی بے حرمتی کرتا اور غریب کسانوں سے بیگار لیتا تھا۔انگریز پولیس افسر کے ق۔ت۔ل پر ابھی لوگ خوش ہورہے تھے کہ سینئر سپرٹنڈنٹ پولیس رونالڈ کے ق۔ت۔ل کی اطلاع آگئی ۔اس کے بعد انگریز حکومت کے لئے نظام لوہارایک چیلنج بن گیا۔پولیس اسکے پیچھے تھی ۔انہی دنوں ایک روز نظام لوہار کی ملاقات اپنے علاقے کے مشہور باغی سوجا سنگھ کی ماں سے ہوئی جو بین کرتی جا رہی تھی۔ نظام نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سوجھا سنگھ کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہے۔نظام نے تسلی دی اور خود سوجھا سنگھ کو چھڑانے کے لئے ”ٹبہ کمال چشتی“کی طرف چل پڑا۔ پولیس سے مقابلے کے بعد نظام لوہار نے سوجھا سنگھ کو چھڑا لیا۔اس پر سوجھا سنگھ کی ماں نے نظام لوہار کو اپنا بیٹا بنا لیا ا ور وہ اسی کے پاس رہنے لگا۔اس کے بعد نظام لوہار اور سوجھا سنگھ نے مل کر اوپر تلے انگریزوں کے چار اعلیٰ افسروں کو ق۔ت۔ل کر ڈالا۔ دونوں نے انگریز حکومت کے خلاف منصوبہ بنایا اور علاقے کو بانٹ کر کسانوں کو ساتھ ملانے کے لئے راتوں کو گاؤں گاؤں پھرنے لگے۔آخر کار فیصلہ ہوا کہ میلوں اور عرسوں میں جاکر انگریز پولیس افسروں کو یہ کہہ کر ق۔ت۔ل کیا جائے گا کہ پنجاب سے نکل جاؤ۔اب نظام لوہار انگریز پولیس کے لئے ایک خوف کی علامت بن چکا تھا،مگر سوجاسنگھ کی ماں کی بیماری کا سن کر واپس حویلی آگیا۔وہاں پہنچ کر نظام کو معلوم ہوا کہ سوجھا سنگھ ساتھ والے گاؤں ”جٹاں دا کھوہ“ کی ایک لڑکی چھیما ماچھن سے پیار کرنے لگا ہے۔نظام کو یہ بات پسند نہ آئی اس نے چھیماماچھن کو بلا کر سمجھایا کہ توسوجھاسنگھ سے پیارکرنا چھوڑ دے، کہ پیار محبت انسان کو بزدل بنا دیتے ہیں اس پر چھیما نے سوجھا سنگھ کو نظام لوہار کے خلاف بھڑکایا تو وہ نظام کے خلاف ہوگیا۔اس نے دس ہزار روپے اور چار مربع زمین کے لالچ میں تھانہ بھیڑیالہ میں اطلاع کردی کہ نظام لوہار آج ہمارے گھر میں ہوگا اور کل واپس کالا کھوہ چلا جائے گا۔نظام لوہار جس کمرے میں سویا ہوا تھا پولیس نے چاروں طرف سے اسے گھیر لیا اور چند سپاہی چھت پر چڑھ کمرے کی چھت کو توڑنے لگے۔ نظام کو پتہ چل گیا،اس نے خوب مقابلہ کیا مگر اسکے پاس گو۔لیاں بہت کم تھیں چنانچہ جلد وہ انگریز پولیس کی گو۔لیوں کا نشانہ بن گیا ۔یہ 1877 کا سال تھا پنجاب کے بہادر اور دلیرہیرو کے آخری دیدار کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔حکومت نے اعلان کر دیا،جو مسلمان نظام کے جنازے میں شریک ہو گااسے دو روپے ادا کرنے ہوں گے۔اس طرح 35ہزار روپے اکٹھے ہوگئے۔نظام کی قبر پر لوگوں نے اتنے پھول ڈالے کہ قبر پھولوں کاپہاڑ بن گئی۔نظام قصور شہر کے بڑے قبرستان میں دفن ہے۔جب سوجھا سنگھ کی ماں کو پتہ چلا کہ اس کے بیٹے نے مخبری کرکے نظام لوہار کو مروایا ہے تو اس ماں نے سوجھا سنگھ کو خود اپنے ہاتھ سے برچھی مار کر ق۔ت۔ل کر ڈالا اور کہا میں تمہیں کبھی اپنا دودھ نہیں بخشوں گی،تم نے نظام کی مخبری کرکے پنجاب کے ساتھ غداری کی ہے۔

29/12/2025

ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔
حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔

"انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے —
یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے،
جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔

1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔
آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔
لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں —
تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔

2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔
اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔
لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔
عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔

3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔
آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔
اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے —
جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔

4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے
اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی —
تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا
اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر —
یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔

5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے —
جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔
ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے
اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔
یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔

ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ —
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔
یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔
اور یہی عدل ہے۔

📖
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"

"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورہ النحل، آیت 90)

جب اسکرین کا ’خدا‘ حقیقت کے ’خدا‘ سے ٹکرایا: مفتی شمائل بمقابلہ جاوید اختر, ایک عظیم علمیاتی آپریشن! - از قلم: بلال شوکت...
21/12/2025

جب اسکرین کا ’خدا‘ حقیقت کے ’خدا‘ سے ٹکرایا: مفتی
شمائل بمقابلہ جاوید اختر, ایک عظیم علمیاتی آپریشن! -

از قلم: بلال شوکت آزاد

میں پچھلے کئی دنوں سے جس ”تہذیبی اور علمی تبدیلی“ کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہوں، جس میں میں نے بار بار کہا کہ ”مناظرے کے اکھاڑے“ کو چھوڑ کر ”مکالمے کی میز“ پر آؤ، آج قدرت نے میری اس بات پر ایک عملی مہر ثبت کر دی ہے۔ سرزمینِ ہند میں ہونے والا یہ ”گریٹ ڈائیلاگ“ (Great Dialogue) دراصل دو شخصیات کا ٹکراؤ نہیں تھا، یہ دو ”نظریاتی کائناتوں“ (Worldviews) کا ٹکراؤ تھا۔

ایک طرف بالی وڈ کی چکا چوند، 60 سالہ فنی ریاضت اور الفاظ کی جادوگری کا بادشاہ جاوید اختر تھا، اور دوسری طرف قرآن، منطق اور فلسفے کے ہتھیاروں سے لیس، دھیمے لہجے والا ایک مردِ قلندر، مفتی شمائل ندوی۔

اس مکالمے نے ثابت کر دیا کہ جب ”حق“ مکمل تیاری اور ”علمی وقار“ کے ساتھ باطل کے سامنے آتا ہے، تو باطل کی چرب زبانی، اس کا اورا (Aura) اور اس کی شہرت سب دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔

آئیے!

اس تاریخی نشست کا ایک ”علمیاتی پوسٹ مارٹم“ (Epistemological Post-mortem) کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسے ایک مسلمان اسکالر نے بغیر آواز اونچی کیے، الحاد کے غبارے سے ہوا نکالی۔

1۔ نفسیاتی جنگ: توحید بمقابلہ سلیبریٹی اورا (The Psychology of Aura):

سب سے پہلے اس منظر نامے کی نفسیات کو سمجھیں۔

جاوید اختر کوئی عام ملحد نہیں ہے۔ وہ برصغیر کا وہ ”دانشور“ ہے جس کے لکھے ہوئے مکالموں پر کروڑوں لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔

وہ میڈیا کا ”گاڈ فادر“ ہے۔

ایسے لوگ جب بات کرتے ہیں تو ان کے پاس دلائل ہوں نہ ہوں، ان کا ”پریشر“ اور ”شخصیت کا رعب“ (Charisma) اگلے کو نگل لیتا ہے۔

عام مولوی ایسے لوگوں کے سامنے یا تو مرعوب ہو کر ”معذرت خواہانہ“ (Apologetic) ہو جاتا ہے یا پھر غصے میں آ کر بدتمیزی کر بیٹھتا ہے (جو دراصل خوف کا ردعمل ہوتا ہے)۔

لیکن مفتی شمائل ندوی یہاں ایک چٹان کی طرح نظر آئے۔

کیوں؟

یہ ہے ”توحید کی طاقت“۔

جب آپ کے دل میں یہ یقین راسخ ہو جائے کہ عزت، ذلت، موت اور حیات صرف اس ”رب“ کے ہاتھ میں ہے جس کا مقدمہ آپ لڑ رہے ہیں، تو پھر سامنے جاوید اختر ہو یا وقت کا فرعون، وہ آپ کو ایک ”عام انسان“ سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔

مفتی صاحب نے جاوید اختر کے ”سلیبریٹی سٹیٹس“ کو یکسر نظر انداز کر کے ان سے ایسے بات کی جیسے وہ ایک عام طالب علم سے مخاطب ہوں۔

انہوں نے جاوید اختر کی ”انا“ (Ego) کو چیلنج نہیں کیا، بلکہ ان کی ”عقل“ کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔

یہ پہلی نفسیاتی فتح تھی!

2۔ سقراطی طریقہِ واردات: جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانا:

میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ملحد کو ڈیفنس (Defense) پر مت کھیلو، اسے ڈیفنس پر لاؤ۔

مفتی شمائل نے یہاں کمال مہارت سے ”Socratic Method“ (سقراطی طریقہ) استعمال کیا۔

جاوید اختر کی پوری گفتگو کا لبِ لباب یہ تھا:

"میں خدا کو نہیں مانتا کیونکہ مجھے سمجھ نہیں آتا یا نظر نہیں آتا۔"

عام مناظر یہاں ”خدا کے وجود کے ثبوت“ دینے لگتا۔ مگر مفتی صاحب نے ”علمیات“ (Epistemology) کا وار کیا۔

انہوں نے بنیادی سوال اٹھایا:

”کیا کسی چیز کا آپ کے علم میں نہ ہونا، اس کے وجود نہ ہونے کی دلیل بن سکتا ہے؟“

(Absence of Evidence is not Evidence of Absence).

یہ وہ منطقی پھندا ہے جس میں جاوید اختر جیسا زیرک انسان بھی پھنس گیا۔

مفتی صاحب نے بڑے پیار سے یہ سمجھایا کہ جاوید صاحب!

آپ کا ”نہ جاننا“ (Ignorance) صرف آپ کی لاعلمی کا ثبوت ہے، کائنات کے خالی ہونے کا ثبوت نہیں۔

اگر ایک اندھا کہے کہ

”سورج نہیں ہے کیونکہ مجھے نظر نہیں آتا“،

تو اس سے سورج غائب نہیں ہو جاتا، صرف اندھے کی بینائی کا نقص ثابت ہوتا ہے۔

مفتی صاحب نے جاوید اختر کو یہ آئینہ دکھایا کہ آپ

”سائنس“ پر نہیں، اپنی ”ذاتی سمجھ“ کی بنیاد پر خدا کا انکار کر رہے ہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک غیر سائنسی رویہ ہے۔

3۔ مسئلہ خیر و شر اور بالی وڈ کی ”فکشن“:

جاوید اختر نے، ہر روایتی ملحد کی طرح، آخر میں اپنے ترکش کا سب سے گھسا پٹا تیر نکالا:

”مسئلہ خیر و شر“ (Problem of Evil)۔

انہوں نے خدا پر طنز کیا کہ اگر وہ ہے تو دنیا میں اتنا دکھ کیوں ہے؟

یہ دلیل جذباتیت پر مبنی تھی، منطق پر نہیں۔

مفتی شمائل کا جواب یہاں ”فلسفیانہ شاہکار“ تھا۔

انہوں نے سمجھایا کہ ”شر“ (Evil) کا وجود ”خدا کے نہ ہونے“ کی دلیل نہیں، بلکہ ”انسان کے بااختیار ہونے“ (Free Will) کی دلیل ہے۔

اگر دنیا میں دکھ نہ ہوتا، تو یہ دنیا ”امتحان گاہ“ نہ ہوتی، جنت ہوتی۔

اور فلمی دنیا کے بادشاہ کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ اگر کہانی میں ”ولن“ (Villain) نہ ہو اور ہیرو کے لیے مشکلات نہ ہوں، تو کہانی کا ”مقصد“ فوت ہو جاتا ہے۔

مفتی صاحب نے جاوید اختر کو انھی کے میدان (کہانی اور اسکرپٹ) کی منطق سے سمجھایا کہ اللہ نے یہ کائنات ”Comfort Zone“ کے طور پر نہیں، بلکہ ”Testing Zone“ کے طور پر بنائی ہے۔ مشین کی خرابی اور مشین کے امتحان میں فرق ہوتا ہے۔

4۔ طنز کا جواب مسکراہٹ: اخلاقی فتح:

جاوید اختر کی گفتگو میں جگہ جگہ ”طنز“ (Sarcasm)، ”استہزاء“ اور مذہب کو دقیانوسی ثابت کرنے کی کوشش تھی۔

وہ بار بار موضوع سے ہٹ کر ادھر ادھر کی باتیں (Red Herrings) کر رہے تھے تاکہ مفتی صاحب کو الجھا سکیں۔

لیکن سلام ہے مفتی شمائل کے اعصاب پر!

انہوں نے بدتمیزی کا جواب دلیل سے اور طنز کا جواب مسکراہٹ سے دیا۔

یہی وہ ”مکالمے کی طاقت“ ہے جس کا میں پرچارک ہوں۔

جب آپ گالی کا جواب گالی سے دیتے ہیں، تو تماشائیوں کو ”دنگل“ نظر آتا ہے۔

لیکن جب آپ طنز کا جواب سنجیدہ دلیل سے دیتے ہیں، تو تماشائیوں کو ”حق اور باطل کا فرق“ نظر آتا ہے۔

مفتی صاحب نے ثابت کیا کہ مسلمان ”جذباتی جنونی“ نہیں ہوتا، بلکہ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کے پاس ”حقیقت کا اطمینان“ (Tranquility of Truth) ہوتا ہے۔ جو سچا ہوتا ہے، وہ چیختا نہیں ہے۔

خلاصہ کلام اور ہمارا لائحہ عمل:

میرے نوجوانو!

میرے دوستو!

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کا یہ مکالمہ ہمارے لیے ایک ”کیس اسٹڈی“ ہے۔

یہ ثابت کرتا ہے کہ:

علم ہی اصل طاقت ہے: اگر آپ کے پاس منطق اور فلسفے کا علم ہے علاوہ توحید، تو آپ بڑے سے بڑے ملحد کو چاروں شانے چت کر سکتے ہیں۔

اسلوب (Style) اہمیت رکھتا ہے: آپ کیا کہہ رہے ہیں، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ ”کیسے“ کہہ رہے ہیں۔ شائستگی کمزوری نہیں، سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

مرعوبیت سے نجات: جاوید اختر ہو یا رچرڈ ڈاکنز، یہ سب انسان ہیں۔ ان کے پاس صرف ”الفاظ کی بازی گری“ ہے، جبکہ آپ کے پاس ”کائنات کی حتمی سچائی“ ہے۔

میں مفتی شمائل ندوی کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے نظریے کی عملی تفسیر پیش کر دی۔

انہوں نے جاوید اختر کو ہرایا نہیں، بلکہ اسے ”بے نقاب“ (Expose) کیا۔

انہوں نے دکھا دیا کہ جب اسکرین کا اسکرپٹ رائٹر، کائنات کے اسکرپٹ رائٹر (اللہ) کے وکیل کے سامنے بیٹھتا ہے، تو اس کے پاس ”لا علمی“ کے سوا کوئی دلیل نہیں بچتی۔

یہی ہمارا راستہ ہے۔

مناظرے چھوڑیں، مکالمے اپنائیں۔
گالیاں چھوڑیں، دلیل اپنائیں۔

اور یاد رکھیں، فتح ہمیشہ ”حق“ کی ہوتی ہے، بشرطیکہ حق کو پیش کرنے والا ”حق شناس“ ہو۔

دلچسپ و عجیب تاریخ

20/12/2025
25/11/2025

‏*لیپڈ پروفائل کیا ہے؟*
ایک مشہور ڈاکٹر نے لیپڈ پروفائل کو بہت اچھے طریقے سے سمجھایا اور اسے ایک منفرد کہانی کے ذریعے بیان کیا۔
تصور کریں کہ ہمارا جسم ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ اس شہر کا سب سے بڑا بد معاش ہے – *کولیسٹرول*۔
اس کے کچھ ساتھی بھی ہیں۔ اس کا اہم ساتھی ہے – *ٹرائی گلیسرائیڈ*۔
ان کا کام گلیوں میں گھومنا، شرارت کرنا اور سڑکوں کو بلاک کرنا ہے۔
*دل* اس شہر کا مرکزی چوک ہے۔ تمام سڑکیں دل تک جاتی ہیں۔
جب یہ بدمعاش تعداد میں بڑھنے لگتے ہیں، تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ یہ دل کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن ہمارے جسم-شہر میں ایک پولیس فورس بھی تعینات ہے – *HDL*۔
اچھا پولیس والا ان بد معاشو ں کو پکڑتا ہے اور جیل یعنی *(جگر)* میں ڈال دیتا ہے۔
پھر جگر انہیں جسم سے نکال دیتا ہے – ہمارے نکاسی کے نظام کے ذریعے۔
لیکن ایک برا پولیس والا بھی ہے – *LDL* جو طاقت کا بھوکا ہے۔
LDL ان غنڈوں کو جیل سے نکال کر دوبارہ گلیوں میں چھوڑ دیتا ہے۔
جب اچھا پولیس والا *HDL* کم ہو جاتا ہے، تو پورا شہر تہ و بالا ہو جاتا ہے۔
کیا آپ ایسے شہر میں رہنا چاہیں گے؟
کیا آپ ان غنڈوں کو کم کرنا اور اچھے پولیس والوں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں؟
تو چہل قدمی شروع کردیں!*
ہر قدم کے ساتھ *HDL* بڑھے گا، اور بدمعاش جیسے *کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈ* اور *LDL* کم ہوں گے۔
آپ کا جسم (شہر) دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔
آپ کا دل – شہر کا مرکز – لفنگوں کی بندش کی وجہ سے یعنی (ہارٹ بلاک)* سے محفوظ رہے گا۔
اور جب دل صحت مند ہوگا، تو آپ بھی صحت مند ہوں گے۔
اس لیے جب بھی موقع ملے – چلنا شروع کریں!
*صحت مند رہیں...* اور *آپ کی صحت کے لیے دعا گو ہیں*
*یہ مضمون آپ کو HDL (اچھا کولیسٹرول) بڑھانے اور LDL (برا کولیسٹرول) کم کرنے کا بہترین طریقہ بتاتا ہے، یعنی چلنا۔*
ہر قدم HDL کو بڑھاتا ہے۔ اس لیے – *آگے بڑھیں اور چلتے رہیں۔*
*سینئر سٹیزنز ویک مبارک ہو*
ان چیزوں کو کم کریں:
1. نمک
2. چینی
3. بلیچڈ ریفائنڈ آٹا
4. ڈیری مصنوعات
5. پروسیسڈ غذائیں
*یہ چیزیں روزانہ کھائیں:*
1. سبزیاں
2. دالیں
3. پھلیاں
4. گری دار میوے
5. کولڈ پریسڈ تیل
6. پھل
*تین چیزیں بھولنے کی کوشش کریں:*
1. آپ کی عمر
2. آپ کا ماضی
3. آپ کی شکایات
*چار اہم چیزیں اپنائیں:*
1. آپ کا خاندان
2. آپ کے دوست
3. مثبت سوچ
4. صاف اور خوش آئند گھر
*تین بنیادی چیزیں اپنائیں:*
1. ہمیشہ مسکرائیں
2. اپنی رفتار سے باقاعدہ جسمانی سرگرمی کریں
3. اپنا وزن چیک اور کنٹرول کریں
*چھ ضروری زندگی کے عادات جو آپ کو اپنانی چاہئیں:*
1. پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں، پانی پئیں۔
2. تھک جانے کا انتظار نہ کریں، آرام کریں۔
3. بیمار ہونے کا انتظار نہ کریں، میڈیکل چیک اپ کروائیں۔
4. معجزوں کا انتظار نہ کریں، اللہ پر بھروسہ کریں۔
5. کبھی اپنے آپ پر سے بھروسہ نہ ٹوٹنے دیں۔
6. مثبت رہیں اور ہمیشہ بہتر کل کی امید رکھیں۔
اگر آپ کے دوست اس عمری گروپ *(45-80 سال)* میں ہیں، تو براہ کرم یہ ان تک پہنچائیں۔

بھٹو کا واحد کارنامہ یہ متفقہ آئین تھا ،اب کیونکہ وہ آئین ختم ہو چکا تو بھٹو کے مکروہ اقدامات پر بحث شروع ہونی چاہیئے بھ...
09/11/2025

بھٹو کا واحد کارنامہ یہ متفقہ آئین تھا ،اب کیونکہ وہ آئین ختم ہو چکا تو بھٹو کے مکروہ اقدامات پر بحث شروع ہونی چاہیئے
بھٹو کے بطور سیاستدان گھٹیا اقدامات پر صرف اس لیے بات نہیں ہوتی تھی کہ اس نے متفقہ آئین دیا ،اب وہ آئین ختم ہوا ،اب بھٹو کے سیاسی کرتوتوں پر بات ہونی چاہیے

ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا آئین تو بنا دیا لیکن پھر اسی آئین کو اپنا ہتھیار بنا لیا
بھٹو نے اپنے ہی تشکیل کردہ آئین میں چار سیاہ ترین ترامیم کروائیں اور سیاسی ورکرز اور میڈیا پر زمین تنگ کردی
☆ تیسری آئینی ترمیم میں بھٹو نے حفاظتی حراست کے نام پر ایک سال تک قید جو کہ بغیر مقدمہ اور بغیر جرم تھی کو قانونی سایہ دلوا دیا
جس کے نتیجے میں ولی خان، اکبر بگٹی اور ہزاروں بلوچوں پر آسمان گرایا گیا

☆بھٹو نے چوتھی آئینی ترمیم کے ذریعے سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کا اختیار خود حاصل کرلیا
جس کے ساتھ ہی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا بٹن بھی گورنرز کے ذریعے بھٹو کے ہاتھ میں آگیا، اور پھر بلوچستان کی منتخب حکومت اسی ترمیم کی بھینٹ چڑھی

بھٹو ہی تھا جس نے " جسٹس حمود الرحمٰن " کو گھر بھیجا اور اپنے چمچوں کو جج لگا دیا

پھر اسی آئین میں ترمیم کرکے بھٹو نے ہی فوج کو شہروں میں طلب کرنے کا قانون بنایا۔
لاہور، کراچی میں گولیاں چلیں،
اور پھر اسی افراتفری نے ضیاء کا راستہ ہموار کیا کہ وہ مارشل لاء نافذ کر سکے،

بھٹو نے اپنے ہی بنائے آئین کو اس طرح سے مروڑا کہ وہ آئین آمریت کا ہتھیار بن گیا

حسن الإغدرلیؒ، بیت المقدس کا آخری عثمانی سپاہیتاریخ کے صفحات میں کچھ نام ایسے ہیں جو خاموشی سے امر ہو جاتے ہیں۔ وہ نہ ت...
29/10/2025

حسن الإغدرلیؒ، بیت المقدس کا آخری عثمانی سپاہی
تاریخ کے صفحات میں کچھ نام ایسے ہیں جو خاموشی سے امر ہو جاتے ہیں۔ وہ نہ تخت کے وارث ہوتے ہیں، نہ تاج کے۔ مگر اُن کی وفا، ایمان اور فرض شناسی اُنہیں اُن بادشاہوں سے بھی زیادہ بلند کر دیتی ہے جن کے پاس سلطنتیں ہوتی ہیں۔ ایسا ہی ایک نام ہے۔ حسن الإغدرلیؒ ، جو المسجد الأقصیٰ کے آخری عثمانی محافظ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
عثمانی سلطنت اور القدس کا پس منظر
1917ء میں جب سلطنتِ عثمانیہ کمزور پڑنے لگی اور پہلی جنگِ عظیم اپنے آخری مرحلے میں تھی،
تو برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے (ف ل س ط ی ن) پر قبضہ کر لیا۔ عثمانی فوج کو حکم ملا کہ وہ القدس سے پسپا ہو جائے اور واپس ترکی لوٹ جائے۔ مگر اُس فوج میں ایک سپاہی ایسا تھا جس نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کا نام تھا حسن الإغدرلی۔
وہ کہتا تھا:
"القدس حکم سے بڑی ہے، میں اسے چھوڑ نہیں سکتا!"
جب تمام عثمانی فوجی اپنے وطن لوٹ گئے، تو حسن الإغدرلی اکیلا المسجد الأقصیٰ کے دروازے پر پہرہ دیتا رہا۔ دن گزرتے گئے، سلطنتیں بدل گئیں، لیکن وہ وہیں کھڑا رہا، جیسے وقت رُک گیا ہو اور ایک سپاہی اپنے رب کے حضور عہد پر قائم ہو۔جب لوگوں نے اُس سے پوچھا:
"تم واپس ترکی کیوں نہیں گئے؟"
تو اُس نے دلگیر لہجے میں کہا:
"مجھے ڈر تھا کہ اگر میں القدس چھوڑ دوں،
تو رسولِ اکرم ﷺ کو دکھ ہوگا
کہ میں نے اُن کی پہلی قبلہ گاہ کو تنہا چھوڑ دیا۔"
حسن الإغدرلی نے اپنی پوری زندگی بیت المقدس کی خدمت میں گزاری۔ وہ 1982ء تک وہاں موجود رہا یہاں تک کہ 93 سال کی عمر میں وہیں وفات پا گئے۔
حسن الإغدرلیؒ نے اپنی خاموش زندگی سے وفاداری، ایمان اور عشقِ رسول ﷺ کا وہ درس دیا جو ہزاروں تقریریں نہیں دے سکتیں۔ اُس نے دکھایا کہ حفاظت صرف بندوق سے نہیں، بلکہ نیت سے ہوتی ہے۔
"اگر ایمان زندہ ہو تو ایک تنہا سپاہی بھی پوری امت کا محافظ بن جاتا ہے۔"
اللہ تعالیٰ اس وفادار مجاہد پر اپنی بےپایاں رحمتیں نازل فرمائے، اُسے جنت الفردوس میں اُن کے ساتھ جگہ دے جنہوں نے اللہ، اُس کے رسول ﷺ اور امت کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کر دی۔
رحمہُ اللہ، حسن الإغدرلیؒ، آخری عثمانی سپاہی اور محافظِ الاقصیٰ۔

‏ہائے میری سیاہ رات!عربی حکایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص (بدو) نے اپنی چچازاد سے شادی کی اور اللہ نے اسے یکے بعد دیگرے نو بیٹ...
25/10/2025

‏ہائے میری سیاہ رات!
عربی حکایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص (بدو) نے اپنی چچازاد سے شادی کی اور اللہ نے اسے یکے بعد دیگرے نو بیٹے عطا کیے۔ قبیلے میں اس کی شان بلند ہو گئی، کیونکہ اس زمانے میں بیٹے طاقت، عزت اور فخر کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
مگر جب دسویں بار اس کی بیوی نے ایک بیٹی کو جنم دیا، تو گویا اس پر بجلی گر گئی۔ بجائے شکر کے، اس کے چہرے پر غصے اور ناگواری کے آثار پھیل گئے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر چیخ اٹھا:
"یا لیلی الأسود! یا لیلی الأسود!"
(ہائے میری سیاہ رات، اے میرے بدنصیب دن!)
اس نے اپنی بے چاری بیوی سے منہ موڑ لیا اور اس ننھی کلی کو اپنی لیے منحوس سمجھ بیٹھا۔ اس کی نگاہ میں بیٹی جرم بن گئی اور اس کی ماں مجرم۔ بیٹی کے وجود کو گویا اپنے لیے عار سمجھا۔
وقت گزرتا گیا۔ مہ و سال کی گردش جاری رہی۔ بیٹے جوان ہوئے، شادیاں ہوئیں، ان کے نئے خیمے آباد ہوئے اور پھر ایک دن وہ باپ، جو کبھی قبیلے کا فخر سمجھا جاتا تھا، اندھا ہو گیا۔ آنکھوں کی روشنی جاتی رہی، طاقت کا غرور مٹ گیا اور وہ بوڑھا اپنے خیمے میں تنہا رہ گیا۔
نو بیٹے، جن پر اس نے ناز کیا تھا، اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے۔ کسی نے پلٹ کر نہ دیکھا، نہ اس کے دکھ کا مداوا کیا۔ وہ سب جو کبھی اس کی طاقت تھے، اس کی کمزوری بن گئے۔
مگر وہ بیٹی، وہی جسے اس نے "لیلی الأسود" (سیاہ رات) کہا تھا، جب یہ خبر سنی کہ اس کا باپ نابینا ہو گیا ہے، دل تھام کر دوڑ پڑی۔ اس نے نہ شکایت کی، نہ ماضی کو یاد کیا، بس خاموشی سے باپ کے خیمے میں داخل ہوئی۔
اس نے اس بوڑھے، کمزور جسم کو نہلایا، خیمہ صاف کیا، کھانا پکایا، پانی رکھا۔ اس کے ہاتھوں کی نرمی، اُس کی سانسوں کی خوشبو، اس کی خدمت کا خلوص، سب کچھ اس باپ کے دل میں ایک اجنبی سی راحت پیدا کر گیا۔
کھانا کھلانے کے بعد جب اس نے دوا دینے کے لیے باپ کا ہاتھ تھاما، تو اس نے اس کی کلائی کو تھام کر لرزتی آواز میں پوچھا:
"بتاؤ اے بیٹی، تُو کون ہے؟ تُو کون ہے، جس نے میرے اندھیرے میں یہ روشنی بھر دی ہے؟"
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:
"میں ہوں، تمہاری لیلی الأسود، تمہاری سیاہ رات!"
یہ سننا تھا کہ اس بوڑھے کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ نکلے۔ وہ زار و قطار رو پڑا۔ اس کے دل پر ندامت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس نے بیٹی کے ہاتھ تھام کر کہا:
"بیٹی! مجھے معاف کر دو... کاش میری ساری راتیں سیاہ ہوتیں اور ان کی سیاہی تمہارے نور جیسی ہوتی!"
پھر اس نے اپنے دل کی آگ کو اِن اشعار میں ڈھالا، جو مشہور ہوگئے:
ليت الليالي كلها سود
دام الهناء بسود الليالي
لو الزمان بعمري يعود
لأحبها أول وتالي
ما غيرها يبرني ويعود
ينشد عن سواتي وحالي
تسعة رجالٍ كلهم جحود
تباعدوا عن سؤالي
ما غير ريح المسك والعود
إبنتي بكل يومٍ قبالي
ترجمہ:
کاش تمام راتیں سیاہ ہوتیں
اگر خوشی ان سیاہ راتوں میں ہی چھپی ہے
اگر وقت واپس آ جائے
تو میں اسے (بیٹی کو) سب سے پہلے اور سب سے آخر تک چاہوں
میرے زخموں کا مرہم کوئی نہیں
سوائے اُس کے جو میرا حال پوچھتی ہے
نو بیٹے، سب سرکش، سب بے وفا
کسی نے میری خیر نہ پوچھی
مگر ایک ہے جو ہر دن میرے سامنے آتی ہے
جس کی خوشبو کستوری اور عود کی طرح میرے خیمے کو مہکاتی ہے۔
یہ ہے اس بدوی باپ کی کہانی، جس نے بیٹی کی قدر دیر سے سمجھی، مگر جب سمجھی تو اپنی دنیا اور اندھی آنکھوں دونوں میں روشنی بھر لی۔
بیٹیاں عار نہیں ہوتیں، رحمت ہوتی ہیں۔ وہی دلوں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہیں، وہی بوڑھوں کی تنہائیوں کو جنت بنا دیتی ہیں۔
(بحوالہ: روزنامہ عکاظ، سعودی عرب)

‎ #عتیقیات

Address

Hidayat Market Jehangira Road
Swabi

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 07:00 - 17:30
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Telephone

+923149880099

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SAYA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share