Positive Picture مثبت تصویر

Positive Picture مثبت تصویر انسان کی سوچ اور کردار جتنا مثبت ہوگا اتنا ہی اس کی زند?

02/04/2023
بلا عنوان ھمارے معاشرے کا المیہ ہیے کہ بہنون اور بیٹیوں کو وراثتی جائداد میں بلکل بھی حصہ نہیں دیا جاتا ھے اور اگر کوئی ...
10/09/2019

بلا عنوان
ھمارے معاشرے کا المیہ ہیے کہ بہنون اور بیٹیوں کو وراثتی جائداد میں بلکل بھی حصہ نہیں دیا جاتا ھے اور اگر کوئی بہن جائداد میں اپنا حصہ مانگنے کی غلطی کر لیں ۔تو حصہ دینا تو دور کی بات ہے بلکہ بہن کے دروازے کے اگے دیوار کھڑی کرکے انکا راستہ بھی بند کردیا جاتا ھے ۔اللہ پاک ھمارے حال پر رحم فرماے امین

سوچ بدلو کیونکہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔
28/07/2019

سوچ بدلو کیونکہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

غیرت😢ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﺳﯽ ﺍﭨﮭﯽ ﺩﺭﺩ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ۔ ﺍﻣﯽ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﻣﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﺍﺉ ﺩﯼ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺍﻓﺎ...
28/07/2019

غیرت😢

ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﺳﯽ ﺍﭨﮭﯽ ﺩﺭﺩ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ۔ ﺍﻣﯽ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﻣﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﺍﺉ ﺩﯼ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺍﻓﺎﻗﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﭘﮭﺮ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﻧﮧ ﺣﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺗﮭﺎ۔ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﺗﻮ ﺍﻟﭩﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺷﮏ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﭘﯿﭧ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﯽ۔ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺘﺎ ﮐﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻨﮧ ﮐﺎﻻ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺉ ﮨﮯ۔ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯼ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺍﮐﻠﻮﺗﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﮐﻠﻮﺗﯽ ﺑﮩﻦ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻧﺎﺯ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﺝ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻣﯽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﭘﺮ ﺗﮍﭖ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺁﺝ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻗﺼﻮﺭ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻗﺼﻮﺭ ﺍﺱ ﺳﻮﭺ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ﻭﮦ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺗﮍﭘﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎ۔ ﻇﻠﻢ ﺍﺱ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺟﻮ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮐﺮﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﺗﻠﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﺣﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻭﮨﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ۔ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﻣﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﻼ ﺩﯾﺎ۔ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﻮ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎ ﺭﮨﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺁﭘﮑﯽ ﺁﻏﻮﺵِ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﺩﻡ ﺗﻮﮌ ﺩﮮ۔ﭘﺮ ﻣﺎﮞ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻦ ﮐﮯ ﺁﺱ ﭘﮍﻭﺱ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺷﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮏ ﮔﺌﮯ۔ ﺷﺮﻡ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ﺳﺐ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮨﺎﺳﭙﭩﻞ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﺫﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﯾﭩﯿﮑﻞ ﮐﻨﮉﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﭨﺴﭧ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ۔ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺫﺭﺍ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﭘﮍﮪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺟﺎﮨﻞ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻟﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺑﮍﮪ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮯ ﺯﮨﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻻﭘﺮﻭﺍﮨﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺮﺗﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻮﺵ ﺍﮌ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺊ ﺗﮭﯽ۔ﯾﺎ ﺧﺪﺍ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ۔ ﺯﮨﺮ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻞ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﻓﻮﺭًﺍ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮨﻢ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ۔ﺑﺲ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﭻ ﺟﺎﺋﮯ. ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺗﮭﯿﭩﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺎﮞ ﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﺘﻨﮯ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺗﮏ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺉ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﺗﮭﯽ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺯﯼ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﯽ ﻭﮦ ﻧﺎﮐﺮﺩﮦ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﭘﺎ ﮐﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﺊ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺩﮮ ﮔﺊ۔😭
منقول

کیا خیال ہے ؟
17/07/2019

کیا خیال ہے ؟

17/07/2019

اچھی تعلیم لڑکی کو اچھے رشتے کے لیے اور لڑکے کو اچھی نوکری کے لیے دلوائی جاتی ہے شعور گیا تیل لینے۔

12/07/2019

5000 روپے میں پورے ٹبر کے ووٹ بیچنے کے بعد لوگ مسجد میں جاکے دعا کرتے ہیں کہ یااللہ حضرت عمرؓ جیسا حکمران دے

ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉﺭﯼ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ کہ میں نے اسکول کے باھر لکھوا دیا کہ " اسکول کی عمارت پر لکھائی کرنا منع ھے" ﺍﯾﮏ ...
28/06/2019

ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉﺭﯼ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ کہ میں نے اسکول کے باھر لکھوا دیا کہ " اسکول کی عمارت پر لکھائی کرنا منع ھے" ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻝ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮯ ﺩﺭﺩﯼ ﺳﮯ ﺳﭙﺮﮮ ﭘﯿﻨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﻧﻘﺶ ﻭ ﻧﮕﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ھے۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﭘﮩﻼ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺳﻨﺎﮎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎکر ﮐﭽﮫ ﺳﭩﺎﻑ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼﺋﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﻭ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺎ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮔﭽﮫ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮں گا ، ﮐﻞ ﺁﭖ ﺳﮑﻮﻝ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯿﮟ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻗﺼﮧ ﮐﮩﮧ ﮈﺍﻻ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﺩھیمے ﺳﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ۔ لڑﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮕﺴﺎﺯ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ، ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ، ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺩﮬﯿﻤﯽ ﺳﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔
" ﺑﯿﭩﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﺎ ﮐﺮﻭ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﺎ ﮨﻮ" ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻭﺍﺿﺢ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ھﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﯾﺴﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺗﻮ ﻣﺎﺭ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﭽﮯ، ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﺑﮩﺖ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﺍﻧﺴﺎﻥ ھے ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺳﺮﺯﻧﺶ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ، ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﺎ ﺁﺭﮨﺎ ھے؟
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺳﺮ ، ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﺎ ﺁ ﺭﮨﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﭖ ﮐﯿﺎ۔
ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮧ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎھیئے ﻧﺎ ﮐﮧ ﮈﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﯾﺎ ﮔﺎﻟﻢ ﮔﻠﻮﭺ ﺳﮯ ۔
اسلیئے میں اپنی تحریروں میں بار بار اس بات پر زور دیتا ھوں کہ اپنی اولاد کو اچھا دوست بنا کر رکھو ورنہ بُرے لوگ ان سے دوستی کر کے انہیں بُرا بنا دینگے۔۔۔

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے اوازیں نکالنےلگاگھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے ب...
26/06/2019

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے اوازیں نکالنےلگا
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے
وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے
گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا
کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے
ہماری کردار کشی کی جائے
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں 🌹💞🌹
مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا ..

انگریز افسران ، جنہوں نے ھندوستان میں ملازمت کی، جب واپس انگلینڈ جاتے تو انہیں وھاں پبلک پوسٹ/ ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دلیل...
26/06/2019

انگریز افسران ، جنہوں نے ھندوستان میں ملازمت کی، جب واپس انگلینڈ جاتے تو انہیں وھاں پبلک پوسٹ/ ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دلیل یہ تھی کہ تم نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ھے جس سے تمہارے اطوار اور روئے میں فرق آیاھوگا۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کروگے۔
اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھئے

ایک انگریز خاتون ۔ جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا۔ خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اپنی یاداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی۔

خاتون نے لکھا ہے کہ میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے۔ ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے۔ روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پرواگرام بنتے ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے، اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا۔ ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ برطانیہ میں ملکہ اور شاھی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے۔

ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے آخر دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا۔ اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا۔ اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی۔

ایک بار ایسا ہوا کہ ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی۔ اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا۔ اُس نے ڈرائیور سے کہا کہ ٹرین نہیں چلانی۔ ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ جو حکم چھوٹے صاحب۔ کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا، لیکن بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا۔ بلآخر بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہوا۔

چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی۔ ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے، ہماری منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا۔ بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی، قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی، جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیا۔ جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا۔ وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا۔ ’’ وہ زور زور سے کہہ رہا تھا، یہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہے۔ ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے۔ میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواوں گا۔‘‘ میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ ’’یہ اُس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکے‘‘۔

آج یہ واضع ہے کہ ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہے۔ البتہ غلامی کو دیس نکالا نہیں دے سکے۔ یہاں آج بھی کئی ڈپٹی کمشنرز، ایس پیز، وزرا مشیران اور سیاست دان صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سٹرکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ اس غلامی سے نجاعت کی واحد صورت یہی ہے کہ ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالا طاق رکھ ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہئیے۔
ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئیے کہ ہم ازاد ہیں

آپ بھی شاید جانتے ہیں/ہونگے!!!مگر بات ہے رسوائی کی،،،
25/06/2019

آپ بھی شاید جانتے ہیں/ہونگے!!!

مگر بات ہے رسوائی کی،،،

اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم شیئر تو کریں، کیا پتہ  آپ کے شیئر کرنے سے  کسی کی زندگی سنور جائے۔
25/06/2019

اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم شیئر تو کریں، کیا پتہ آپ کے شیئر کرنے سے کسی کی زندگی سنور جائے۔

Address

Maneri Bala Swabi
Swabi
23430

Telephone

+923349286588

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Positive Picture مثبت تصویر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share