All In One

All In One Mera Name Muhammad Asim ha.Our ma app logo ko page pa funny clips & interesting video upload karoga.

26/09/2021
22/07/2021
15/06/2021
07/06/2021

.

*زنا کی اتنی سخت سزا کیوں؟*

کئی بار ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں صرف زنا کی سزا ہی اتنی سخت کیوں رکھی گئی.

یہاں جب قرآن کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ جہاں صرف الله کے حق کا معاملہ ہوتا ہے تو الله نرمی کا رویہ اپناتے ہیں اور جہاں بندے کا حق الله کے حق سے مل جائے تو الله پاک سختی اختیار کرتے ہیں. دو افراد کے زنا کے متاثرین دو فرد ، دو خاندان، دو قومیں، دو گروہ یا دو قبیلے نہیں بلکہ پوری امت ہے.

زنا کی سزا یوں بھی اپنی شدت میں بڑھ کر ہے کہ یہ چھپ کر نہیں بلکہ سرِعام مجمع میں دینی ہے۔ اور ہر پتھر جسم پر ایک زخم بنائے گا جب تک جان نہ نکل جائے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ جیسے اس گناہ کے عمل میں اس کے جسم کے ہر ٹشو tissue نے لطف اٹھایا تو اب موت بھی لمحہ لمحہ اور پل پل کی اذیت کے بعد آئے، یعنی زانی جب تک اپنے خون میں غسل نہ کرے، اس کی توبہ قبول نہ ہوگی

*مگر کیا الله پاک اتنے بے انصاف ہیں کہ ایک گناہ کی اتنی بڑی سزا رکھ دی مگر اس سے بچنے کی کوئی ترکیب یا طریقہ نہ سکھایا؟ ایسا نہیں ہے... الله تعالٰی نے اس امت کو اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطے سے قرآن و حدیث کے ذریعے اس گناہ سے بچنے کے لیے پورا پلان پیش کیا ہے. احکامات کی پوری لسٹ ہے. Do’s اور Dont’s کی مکمل فہرست ہے.*

*آئیں ان سب کا جائزہ لیں*

*پہلا حکم : استیذان یعنی اجازت طلب کرنا*

کسی کے گھر یا کمرے میں بلا اجازت مت جاؤ.

بھائی بہن کے ، باپ بیٹی کے ، ماں بیٹے کے کمرے میں جانے سے پہلے اجازت طلب کریں.

شریعت اس طرح ہمیں سکھا رہی ہے. اور آج اس حکم پر عمل نہ کرنے سے محرم رشتوں میں بھی خرابی آ رہی ہے

*گھر میں دو حصے لازمی طور پر رکھیں*

1۔ پرائیویٹ (یعنی ذاتی) رومز
2۔ کامن (یعنی عام) رومز

پرائیویٹ کمروں میں محرم اجازت لیکر جائیں اور اجنبی بالکل مت جائیں، تاکہ ایک دوسرے کو نامناسب حالت میں نہ دیکھ لیں.

ڈرائنگ روم (Segregated Rooms) وغیرہ میں مرد ہی مردوں کو attend کریں، عورتیں بالکل نہ سرو کریں چاہے کزنز ہوں یا سسرالی رشتہ دار.

مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کزنز کھلم کھلا فیمیل کزنز کے کمروں میں جاتے ہیں ، چھیڑ خانی ہو رہی ہوتی ہے ، ہنسی مذاق اور آؤٹنگ چل رہی ہوتی ہے، اور اسی دوران شیطان اپنا وار کر دیتا ہے .

عورتیں یاد رکھیں مرد زبردست اور عورت زیردست ہوتی ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت پاک رہنا چاہے اور مرد اس کو پاک نہ رہنے دے؟

*دوسرا حکم : نظر کی حفاظت*

نظروں کو نیچا رکھیں اور اپنی حیا کی حفاظت کری۔ یہ حکم مرد عورت دونوں کے لئے ہے.

عورتوں کی شادی بیاہ اور مردوں کی بازاروں میں اکثر نظر بہکتی ہے. کوئی مہمان آئے تو عورتیں جھانکتی تاکتی ہیں. باپ، بھائیوں کے دوستوں سے ہنس ہنس کر ملنا اور Serving ہو رہی ہوتی ہے، جبکہ شریعت تو دیکھنے سے بھی منع کر رہی ہے. مردوں ، عورتوں کی یہ عادت شادی بیاہ میں کھل کر سامنے آتی ہے جب بے حیائی اپنے عروج پر ہوتی ہے.

دو اندھے اگر آمنے سامنے بیٹھے ہیں تو ان کو نہیں معلوم کہ سامنے والا کیسا ہے ، کتنی عمر کا ہے.؟ مگر شریعت ایک بینا اور اندھے کو بھی آمنے سامنے بیٹھنے سے منع کرتی ہے، جیسا کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ والی حدیث سے ثابت ہے.

عورتوں اور مردوں کو کئی بار مجبوری میں بات بھی کرنی پڑتی ہے جیسے بازار وغیرہ میں، تب شریعت چہرے پر نظر ڈالنے سے منع کرتی ہے. صرف پردہ کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ نظر بھی جھکانی ہے.

امام غزالی فرماتے ہیں،

“نظر سوچ کے اندر تصویر لے جاتی ہے، یہ تصویر خواہش میں بدل جاتی ہے اور پھر یہی خواہش بے حیائی کا راستہ دکھاتی ہے. “

*اگلا حکم : زینت کو چھپانا*

پردہ اور چیز ہے اور زینت اور چیز ، عورت کے اعضائے زینت نماز میں چھپانے والے اعضاء ہیں . کوشش کریں کہ اس فتنہ کے دور میں محرم مردوں سے بھی زینت والے اعضاء چھپائے جائیں. اپنے سینے اور گریبان کو خصوصاً ڈھانپیے. مرنے کے بعد اللہ تعالٰی چار کپڑوں میں عورت کو ڈھانک کر قبر میں بھیجنے کا کہتا ہے.

ہماری عورتوں نے زندگی میں دو کپڑوں کا لباس معمول بنا لیا ہے کہ اب تو بوتیکس بھی دوپٹے آرڈر پہ تیار کرتی ہیں. کیونکہ آج عورتیں تین کپڑے بھی پہننے پر راضی نہیں.

مسلمان عورت کا غیر محرم عورت اور غیر مسلم عورت سے بھی نماز والا پردہ ہے. یعنی سوائے چہرے، دونوں ہاتھ اور پاؤں کے باقی جسم چھپانا ہے. مگر یہاں تو ویکس بھی کروائی جاتی ہے اور فیشلز بھی.

مرد حضرات پبلک یا گھر میں شارٹس نہیں پہن سکتے. گھر کے مرد حیا دار ہوں گے تو گھر کی عورتیں بھی اپنی حیا کو مقدم رکھیں گی. ورنہ سب سے پہلے بگاڑ گھروں کے ماحول سے شروع ہوتا ہے. ماؤں اور بہنوں کے نامناسب لباس گھر کے مردوں میں حیا کی کمی کی وجہ بنتے ہیں.

*یاد رکھیں :*
جب عورت نے اپنے ستر کا خیال نہ رکھا تو محرم محرم کا دشمن بن گیا. جب اللہ کی مقرر کردہ حدود و قیود کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو باپ بیٹیوں کو خود پہ حلال کر لیں گے، اور بھائی بہنوں کو خود پر حلال کر لیں گے، اور بہنوئی سالیوں کو اور سالیاں بہنویوں کو حلال کر لیں گی۔ خدارا اپنے گھروں سے فسق کا ماحول ختم کریں.

*اگلا حکم: بیوہ اور مطلقہ کا نکاح*

ان کے نکاح کا مقصد معاشرے کو پاک رکھنا ہے. کیونکہ بیوہ یا مطلقہ ازدواجی زندگی کے دور سے گزر چکی ہوتی ہے اور ان کے نکاح میں تاخیر یا انکار معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے. یہی حکم اس مرد کے لیے بھی ہے جس کی بیوی مر جائے یا وہ طلاق دے دے

*یاد رکھیں :*
شادی پر اصرار وہی مرد کرتا ہے جو پاک رہ کر صرف بیوی سے سکون حاصل کرنا چاہے. ورنہ معاشرہ بھرا ہوا ہے ایسے غلیظ لوگوں سے جو شادی کو بوجھ سمجھتے ہیں، کیونکہ انہیں اس بوجھ کو گلے میں ڈالے بنا بھی سب کچھ مل رہا ہوتا ہے.

اللہ تعالٰی نے اجازت دی ہے کہ ایک سے خواہش پوری نہیں ہوتی تو دو شادیاں کرلو. تین کرلو ، چار کرلو؛ اور اس میں بیوی کی اجازت بھی شرط نہیں ہاں بیوی کے حقوق پورے کرنا فرض ہے۔ مگر کیا کریں آج کے اخلاقی طور پر دیوالیہ معاشرے کا۔منقول

30/05/2021
29/05/2021
28/05/2021
27/05/2021
26/05/2021
26/05/2021

Address


23340

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All In One posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to All In One:

Shortcuts

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share