01/05/2026
تقریب به یاد وزیر حمایت حسین
سکردو (پ۔ر): گلگت بلتستان کی ممتاز علمی، ادبی و ثقافتی شخصیت اور ریڈیو پاکستان سکردو کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر وزیر حمایت حسین مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جامعہ بلتستان کے شعبہ لسانیات و ثقافتی مطالعہ کے زیرِ اہتمام ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں مرحوم کے لواحقین سمیت علاقے کی نامور علمی و سماجی شخصیات اور بی ایس اردو کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔دو درجن سے زائد تحقیقی کتابوں کے مصنف و معروف مورخ محمد حسن حسرت نے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر حمایت حسین نے اپنی عمر تحقیق کے لیے وقف کر رکھی تھی، جس کا منہ بولتا ثبوت ان کی شاہکار تصنیف "بلتستان کا تہذیبی و ثقافتی ورثہ" ہے۔ انہوں نے جاپانی اور یورپی اسکالرز پروفیسر کلاز سیگاسٹر ، ارزولا سیگاستر ، رینائی سوہنن اور توموکوفیوجی کے ساتھ مل کر بلتستان کی کلاسیکی موسیقی اور قدیم مرثیوں کو محفوظ کرنے کا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا۔ معروف کالم نگار و شاعر عاشق فراز نے اپنے مقالے میں مرحوم اپنی ذات میں انجمن تھے، انہوں نے جنگِ آزادی کے مجاہدین کے انٹرویوز کے ذریعے تاریخ کے اہم واقعات کو اگلی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ تقریب میں معروف براڈ کاسٹر غلام عباس سودے کا مقالہ منظور امین نے جبکہ شاعر و مقالہ نگار عارف سحاب کا مقالہ کاچو بشارت مقپون نے پیش کیا جن میں مرحوم کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا گیا تھا۔ جامعہ کی لیکچرر ماریہ اکبر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مرحوم خواتین کی ترقی کے بڑے حامی تھے جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب اپنی اہلیہ کے نام منسوب کر دیا ہے جبکہ کتاب میں بارہا اپنی اہلیہ کا ذکر کیا ہے۔ سماجی شخصیت و چیئرمین بی سی ڈی ایف ظہیر منڈوق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر حمایت حسین کا شمار ان شخصیات میں ہوتا تھا جو اپنی منفرد سوچ کے ذریعے قوم کی رہنمائی کرتے تھے ، ان کی خدمات کو برسوں یاد رکھا جائے گا۔ مرحوم کے فرزندان وزیر حمایت حسین مرحوم کے فرزند وزیر آفتاب اور وزیر افراسیاب نے تقریب سے خباب کرتے ہوئے حاضرین اور مقالہ نگاروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیر حمایت حسین کے غیر مطبوع کتابوں کو شائع کر کے ان کے چاہنے والوں تک پہنچایا جائے گا۔ تقریب کی نظامت معروف شاعر و استاد شعبہ اردو یونیورسٹی آف بلتستان ذیشان مہدی نے کی انہوں نے وائس چانسلر جامعہ بلتستان ، ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر اشفاق احمد اور ایچ او ڈی شعبہ لسانیات و ثقافتی مطالعہ ڈاکٹر سفیر حسین کی طرف سے شرکا کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پروگرام کے آخر میں بی ایس اردو کے طلبہ و طالبات نے مقالہ نگار وں سے علمی و ادبی نوعیت کے سوالات کیے جبکہ طلبہ و طالبات کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر حمایت حسین کی کاوشوں کی قدر کرتے ہوئے انہیں صدارتی اعزاز سے نوازا جائے۔