Sooraj JaipaL

Sooraj JaipaL Human Rights activist ,having interest in Politics, History, Philosophy, Reading Books,travling,Writing and Music Secular, Humanist

15/02/2026

Today , 15th February marks the 157th death anniversary of evergreen poet Mirza Ghalib!

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
تیرے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کے خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے،
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا،
ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نا بادہ خوار ہوتا،🌞
((مرزا غالب))

هڪ سچو ۽ بهادر ڪارڪن، سنڌ جي هر سڏ تي سڏ ڏيندڙ، جلسن ۾ سنڌي ۾ تقرير سان گڏ پنهنجي ماءُ ٻولي "ڪولهي" ٻولي تقرير ڪرڻ جو نر...
13/02/2026

هڪ سچو ۽ بهادر ڪارڪن، سنڌ جي هر سڏ تي سڏ ڏيندڙ، جلسن ۾ سنڌي ۾ تقرير سان گڏ پنهنجي ماءُ ٻولي "ڪولهي" ٻولي تقرير ڪرڻ جو نرالو آنداز رکندڙ ، پنهنجي سڄي زندگي پارٽي، نظريي ۽ استاد رسول بخش پليجي صاحب وقف ڪندڙ ڪامريڊ مگهنو ڪولهي پنهنجو پورو ڪري ويو.

13/02/2026

تیرے ﻏﻢ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺟﺎﮞ ﻧﺜﺎﺭ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﺮ ﻃﻠﺐ، ﺳﺮِ ﺭﮨﮕﺰﺍﺭ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ

ﻧﮧ ﺭﮨﺎ ﺟﻨﻮﻥِ ﻭﻓﺎ، ﯾﮧ ﺭﺳﻦ ﯾﮧ ﺩﺍﺭ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﮐﯿﺎ
ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺟﺮﻡِ ﻋﺸﻖ ﭘﮧ ﻧﺎﺯ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ

ﯾﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﺮ ﺳﺮِ ﺭﮦ ﺳﯿﺎﮨﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﮔﺌﯽ
ﯾﮩﯽ ﺩﺍﻍ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺳﺠﺎ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺳﺮِ ﺑﺰﻡِ ﯾﺎﺭ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ! 🖤

((ﻓﻴﺾ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﻴﺾؔ))
❤️

26/01/2026

رنجش ہی سہی ،دل ہی دکھانے کے لیے آ.

20/01/2026

Somebody asked what was Palijo ..?? I replied He was Sindh ..
Unrested free spirit, intellectual, witty and wise, Brave ,bold and Blunt .an absolute ,immortal and unconditional love for sindh ..
This was nobody but our beloved Rasool Buksh Palijo..
Hats off for you sir..
(unknown)



04/01/2026

یہ عُمر بَھر کی مسافت ہے دِل بڑا رکھنا۔۔🌞

18/12/2025

تون جهُڪين ٿي سانوري ۽ ڳِلن تي والڙو..🌞
#والڙو

سندھ کا سچ محبت ہےمٹھی کی صبح بہت میٹھی ہے۔ گلی کے ایک کونے میں مسجد کی اذان گونج رہی ہے دوسرے کونے میں مندر کا گھنٹہ بج...
25/11/2025

سندھ کا سچ محبت ہے

مٹھی کی صبح بہت میٹھی ہے۔ گلی کے ایک کونے میں مسجد کی اذان گونج رہی ہے دوسرے کونے میں مندر کا گھنٹہ بج رہا ہے۔ دونوں عبادت گاہوں سے نکلنے والے نمازیوں اور پجاریوں کے چہروں پر سکون ہے۔ ہندو مسلم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے ہیں اور حال احوال کرکے اچھی انرجی کے ساتھ گھروں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

صبح کے چھ بج رہے ہیں۔ بازار بند ہے۔ سرمئی رنگ کی محرابی سینگوں والی سات خوبصورت گائیں یہاں وہاں بیٹھی جگالی کر رہی ہیں۔ ایک کتا قصاب کے پھٹے کے نیچے اپنے کیوٹو سے بچوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہا ہے۔ سامنے قدیم طرز کے ایک گھر کی ٹنکی پر مور بیٹھا ہے۔ دیسی رنگوں اور مہکوں میں بسا ہوا ایک چائے خانہ کھل رہا ہے۔ جو پہلی چائے بن رہی ہے اسی سے انکی اور میری صبح کا آغاز ہونے والا ہے۔ تین نوجوان سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں۔ بازو تک سفید چوڑیاں اور رنگین گھاگرو پہنی کچھ خواتین گزر رہی ہیں۔ پرندے گھونسلوں سے اڑان بھر رہے ہیں اور اب سات بج رہے ہیں۔

بچے بستے لٹکائے خوشی خوشی اسکول جا رہے ہیں۔ میں چائے خانے کی سیڑھیوں پر بیٹھا تیز پتی والی چائے سے طبیعت کی گرہیں کھول رہا ہوں۔ دو پھرتیلے جوان گلاب کے پھول بند چائے خانوں اور دکانوں کے باہر لٹکا رہے ہیں۔ ہر لڑی میں ایک پھول گیندے کا بھی اٹکا ہوا ہے۔

جوان! یہ لٹکانے کا مقصد کیا ہے؟ بھائی یوں سمجھو یہ ہماری عبادت کا حصہ ہے۔ یہ ہم ہندوؤں کی دکانوں کے باہر لٹکاتے ہیں۔ مگر کچھ مسلمان ہیں جنہوں نے کہا ہے ہماری دکانوں کے باہر بھی رکھ دیا کرو۔ عبادت نہ سہی، روایت ہی سہی۔ یہ کہہ کر جوان اگلی دکان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ میں انکی اجازت سے انکی وڈیو بنا رہا ہوں۔ پورے بازار کو گلاب کرکے ایک جوان واپس میری طرف آتا ہے۔ بھائی جان یہ وڈیوآپ مجھے بھی بھیج دو گے؟ وٹس ایپ نمبر دو مجھے۔ میرے پاس بٹنوں والا فون ہے۔ تو پھر کیسے بھیجوں؟ چائے والے کو بھیج دو اس کے پاس ٹچ والا فون ہے۔

ایک کے بعد ایک دکان کھلتی چلی جا رہی ہے۔ ایک دکان والا پھول چڑھا کر دیوی دیوتا کی آرتی اتار رہا ہے۔ دوسری دکان والا پھول شوکیس پر رکھ کر قرآن کی تلاوت کر رہا ہے۔ صحتمند قصائی گرم لچھے دار پراٹھے کے ساتھ ملائی والی چائے سوڑ رہا ہے۔ پنواڑی صبح کی پہلی گلوری منہ میں رکھ کر اگربتی جلا رہا ہے۔

سندھی رلی سے بنی ٹوپی پہنے ایک ملنگ چلا آتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں صلیبی لکڑی ہے جس پر تین فولادی کٹوریاں اٹکی ہوئی ہیں۔ سفوف کی ایک چٹکی کٹوری میں چھڑکتا ہے اور لوبان کا دھواں سورج کی تازہ سنہری کرنوں میں مل جاتا ہے۔ حق حق کہتا ہوا ملنگ ایک دکان سے دوسری دکان کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ یہ رلی، اجرک، چادر، شعر، موسیقی، اگربتی اور لوبان میں بندھے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ سائیں لوگ ہیں۔ ان کا علی بھی سائیں ہے وشنو بھی سائیں ہے۔ اللہ بھی سائیں ہے بھگوان بھی سائیں ہے۔ یہ ہر چیز کو مقامی کرکے اپنا لیتے ہیں اور پھر آپس میں برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یوسف فقیر مندر میں بھگت کبیر کے بھجن گاتا ہے تو مسلمان جھوم اٹھتے ہیں۔ حضرت محمد سائیں کی نعت پڑھتا ہے تو ہندوؤں پرکیف طاری ہو جاتا ہے۔

یہاں چرند پرند الگ سے کوئی مخلوق نہیں ہے۔ یہ انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ لوگ صبح نکلتے ہیں تو گائے کو چارہ ڈالتے ہیں۔ کتوں کو پیار کرتے ہیں۔ پرندوں کے لئے پانی اور دانہ دنکا رکھتے ہیں۔ دسترخوان پہ جوبچ جائے وہ بھی جانور کیلئے الگ کر دیتے ہیں۔

یہ لوگ جانوروں کے آگے ہڈی روٹی اور باجرہ پھینکتے نہیں ہیں، ڈالتے بھی نہیں ہیں، جھک کر وقار کے ساتھ رکھتے ہیں۔ رکھ کر آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ یقینا اپنے خدا سے مادری زبان میں کوئی بات کرتے ہیں۔ کہیں یہی وجہ تو نہیں کہ یہاں جانوروں کی آنکھوں میں خوف اور بیگانگی نہیں ہے؟ یہاں کے کتے بلی انسان کو دیکھ کر ڈرتے نہیں ہیں۔ قریب آکر پیار مانگتے ہیں۔

گائے چلتے چلتے کسی بھی گھر میں جھانک لیتی ہے۔ سیوا ہو جائے تو خوب ہے ورنہ جگالی کرتی ہوئی آگے بڑھ جاتی ہے۔ کہیں بھی بیٹھ جائے تو ساتھ والے کسی گھر کی مالکن لگتی ہے۔ راستہ لینے کیلئے کوئی اسے لات نہیں مارتا۔ دم نہیں مروڑتا۔ ہش ہش بھی نہیں کرتا۔ خود ذرا سائیڈ سے ہو کر نکل جاتا ہے ورنہ رک کر ایک طرح کی عرضی ڈالتا ہے۔ گائے کہتی ہے، ارے گزر بھی جاؤ میں وہ والی گائے نہیں ہوں۔

تھر والوں کا تو قومی پرندہ بھی مور ہے۔ مور کا حوالہ پلٹنا جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا نہیں ہے۔ مور کا حوالہ گیت ہے، ناچ ہے، رنگ ہے اور روحانی تسکین ہے۔ یہ شاہ لطیف اور سچل سرمست کی شاعری میں بھی ناچتے گاتے ہیں۔ مور یہاں فقیروں کی طرح عام گھومتے ہیں۔ کسی بھی گھر میں تسلی سے گھس جاتے ہیں۔ ہر چیز پہ اپنا حق جتاتے ہیں۔ گھر میں اس کا آنا مبارک ہوتاہے۔ مور مر جائے تو بچے رو پڑتے ہیں اور شاعر اداس ہو جاتے ہیں۔ میں نے بچپن میں ماں جی اور نانی کے قرآن میں مورپنکھ دیکھا تھا۔ پھر مزاروں اور مندروں میں دیکھا۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا۔ کہیں یہ روایت تھرکی تہذیب سے تو نہیں چلی آرہی؟ ہو سکتا ہے۔

وہ رات دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے جب مٹھی میں ہولی منائی جاتی ہے۔ پورا شہرخوشی کے ایک ہی رنگ میں رنگا ہوا ہوتا ہے۔اس رات تارے ستارے زمین پر اتر آتے ہیں۔ یقین نہ آئے تویوٹیوب پردیکھ لیں۔ اس بار ہولی رمضان میں آرہی تھی توہندو یہ رسم رمضان کے احترام میں خاموشی سے ادا کرنے کا سوچ رہے تھے۔ مسلمانوں نے کہا، ارے کھل کرہولی مناؤ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ ہم شریک نہیں ہو پائیں گے۔ ہندوؤں نے کہا، تم نہیں ہوگے تو پھر مزا ہی کیاہے۔ یہ جبر نہیں ہے،یہ بری نظر سے بچی ہوئی سندھو تہذیب ہے۔ اسی تہذیب سے مٹھی کے مسلمانوں نے سیکھا ہے کہ گائے ذبح کرکے کسی کادل نہیں دکھانا چاہیے۔ مٹھی میں بڑے کا گوشت نہیں ملتا۔ واقعی نہیں ملتا۔

یہاں کے چوک چوراہوں پرتوپ طیاروں جیسی خونریز علامتیں نصب نہیں ہیں۔ سڑکوں کےنام 'غیرت مند' بزرگوں کے ناموں پرنہیں ہیں۔ ابھی کچھ دیرپہلے جہاں بیٹھ کرچائے پی رہا تھا اس جگہ کا نام مائی بھاگی چوک ہے۔ تھر کی مائی بھاگی سندھ کی نمائندہ سریلی آواز ہے۔لوک گیت 'ہو جمالو' یاد ہے؟یہ اصلٔا مائی بھاگی نے گایا تھا۔ اب پرانے مندر کی طرف جانے کیلئے جہاں سے گزر رہا ہوں یہ صادق چوک ہے۔یہ چوک صوفی موسیقار صادق فقیر کے نام سے منسوب ہے۔ اس چوک پر صادق فقیر کی ایک مورتی پورے اہتمام کے ساتھ نصب ہے۔

آگے چلتے جائیں توزندگی کے یہی حوالے ساتھ چلیں گے۔ چلتے ہوئے ایک جگہ اونٹوں کے دو ایسے مجسمے اگر نظر آجائیں جن پر دو بندوق بردار سپاہی بیٹھے ہوں تو اسے سندھ کامزاج مت سمجھیے گا۔ غور سے دیکھیے گا ساتھ ہی کوئی توپخانہ ہوگا۔

مٹھی میں گھومتے ہوئے ناصرکاظمی کی طرح دل کوایک ہی دھڑکا لگارہتا ہے۔ حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں۔اس دھڑکے میں تب شدت آتی ہے جب شہر کے بل بورڈزپر کوئی ایسی تصویر نظر آجائے جو نفرت کی اسپانسرڈ علامت ہو۔ مگر ساتھ ہی ایک تسلی بھی ہوتی ہے کہ یہ سندھ ہے۔ سندھ کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں مگر راستے سیدھے ہوتے ہیں۔ سندھ نفرت کی اسپانسرڈ سرگرمیوں کے خلاف یکجان ہو کر مزاحمت کرتا ہے۔ کوئی ڈاکٹر شاہنواز کی لاش جلانا چاہے تو رویلو کولہی ساری رات اس کی حفاظت کرتا ہے۔ طاقت اپنا بیانیہ آزماتی ہے اورسندھ اپناسچ آزماتا ہے۔ سندھ کا سچ محبت ہے!!!

فرنود عالم/ روزنامہ جنگ

آج کی روزنامہ جنگ اخبار میں شائع ہوا فرنود عالم کے کالم کا سندھی ترجمہ. یہ کالم مٹھی تھرپارکر کا حسین خاکہ ہے. اردو پڑھنے والے نیچے لنک پہ کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں!

سنڌ جو سچ محبت آهي!
فرنود عالم
سنڌي ترجمو :

مٺيءَ جي صبح نهايت ئي مٺي آهي! گلي جي هڪڙي ڪنڊ ۾ مسجد مان اذان پئي گونجي، ته ٻي ڪُنڊ مان مندر جو گهنڊ وڄي رهيو آهي. ٻنهي عبادتگاهن مان نڪرندڙ نمازين ۽ پوڄارين جا چهرا پُرسڪون آھن. هندو مسلم هڪ ٻئي کي ڏسي مسڪرائي رهيا آهن، حال احوال اوري خوش خير عافيت سان گهر وڃي رهيا آهن. هن مهل صبح جا ڇھ ٿي رهيا آهن ۽ بازار بند آهي.
سرمئي رنگت سان وريل سڱن واريون ست خوبصورت ڍڳيون اوڳر واري رهيون آهن. هڪڙو ڪتو پنهنجي معصوم ٻچڙن سان راند ڪري رهيو آهي. سامهون قديم طرز جي هڪڙي گهر مٿان ٺهيل پاڻي جي ٽانڪي تي مور ويٺو آهي. ديسي رنگن ۽ خوشبو سان مهڪندڙ چانهن جو ڍاٻو کُلي رهيو آهي. جيڪا پهرين چانھ ڪَڙهي پئي ان سان هُن جي ۽ مُنهنجي صبح جو آغاز ٿيڻ وارو آهي. ٽي نوجوان رستي تي پاڻي ڇنڊي رهيا آهن. ٻانهن تائين سفيد چوُڙا ۽ رنگين گهاگهرو پاتل ڪجهه عورتون گُذري رهيون آهن. پکي آکيرن کان اڏري رهيا آهن ۽ هاڻي ست ٿي رهيا آهن.
ٻارڙا ڪلهن ۾ ٿيلهڙا لٽڪايو خوشي وچان ٽپندا ڪُڏندا اسڪول وڃي رهيا آهن. آئون چانھ جي ڍاٻي تي سيڙهين تي ويھي تيز پتيءَ واري چانهن سان طبعيت جون ٻَڌَل ڳنڍيون کولي رهيو آهيان. ٻه ڦڙتيلا نوجوان گلاب جا گل بند هوٽلن ۽ دڪانن ٻاهران لٽڪائي رهيا آهن. هر لڙي ۾ هڪڙو گل ميري گولڊ جو به آهي.
جوان! هي گل لٽڪائڻ جو مقصد ڇا آهي؟ ڀائو ائين سمجهو هي اسان جي عبادت جو حصو آهي! هي اسان هندن جي دڪان ٻاهران لٽڪايون ٿا پر ڪجهه مسلمان دڪاندارن جو به چيل آهي ته اسان جي دڪان ٻاهران به گل لٽڪائي ويندا ڪريو. عبادت نه ئي کڻي پر روايت ئي سهي! اهو چئي نوجوان اڳئين گهٽي طرف نڪري ويا.
آئون سندن اجازت سان وڊيو ٺاهي رهيو آهيان. پوري بازار کي گلاب ڪري هڪڙو نوجوان واپسي مون وٽ اچي ٿو. ڀائي جان! هي وڊيو مونکي موڪلي ڏيندا؟! واٽس ايپ نمبر ڏيو مونکي. مون وٽ بٽڻن وارو فون آهي. ته پوءِ ڪيئن موڪليان؟ چانھ واري کي موڪلي ڇڏيو ان وٽ ٽچ فون آهي. هڪ هڪ ٿيندي سڀ دڪان کُلندا ويا. هڪڙو دڪاندار گُل چاڙهي ديوي ديوتائن جي آرتي ڪري رهيو آهي. ٻئي دڪان وارو گل شوڪيس ۾ رکي قرآن پاڪ جي تلاوت ڪري رهيو آهي. صحتمند ڪاسائي گرما گرم لڇيدار پراٺي سان مَلائي واري چانھ ڏوڪي رهيو آهي. سنڌي رلي مان ٺهيل ٽوپي پاتل هڪڙو ملنگ اچي ٿو. ان جي هٿ ۾ صليبي لڪڙي آهي جنهن مٿان ٽي فولادي ڪٽوريون لڳل آهن.
سفوف جي چِپٽي ڪٽوري ۾ ڇَڙڪي ٿو ۽ لوبان جو دونهون سورج جي تازين سنهري ڪرڻن ۾ ملي وڃي ٿو. حق حق چوندو ملنگ هڪڙي کان ٻئي دڪان طرف پنهنجو سفر جاري رکي ٿو. هي رلي، چادر، اجرڪ، شعر، موسيقي، اگربتي ۽ لوبان سان ٻَڌل ماڻهو آهن! هي سائين ماڻهو آهن! اُنهن جو حضرت علي رضي الله به سائين آهي، وشنو به سائين آهي، الله به سائين آهي ۽ ڀڳوان به سائين آهي. هي هر شيءَ کي پنهنجي بڻائي اپنائين ٿا ۽ پوءِ پاڻ ۾ برابر ونڊين ۽ ورڇين ٿا.
يوسف فقير مندر ۾ ڀڳت ڪبير جا ڀڄن ڳائي ته مسلمان جهُومي اٿن ٿا. حضرت محمد ﷺ جي نعت پڙهي ته هندوئن تي پرڪيف طاري ٿئي ٿو. هتي پکي پکڻ، جيت جانور الڳ سان ڪا مخلوق ڪونهن. اهي انسانن سان گڏ ملي جلي رهن ٿا. ماڻهو صبح جو نڪرن ٿا ته ڍڳين کي چارو/اَهار ڏين ٿا. ڪُتن سان پيار ڪن ٿا. پکين لاءِ پاڻي ۽ داڻا رکن ٿا. دسترخوان تي جيڪو بَچي پوي ٿو اهو به جانورن لاءِ الڳ ڪري رکن ٿا. هي ماڻهو جانورن اڳيان هڏي، ماني ۽ ٻاجهري ڪونه اُڇلائين! پر جهُڪي وقار ۽ احترام سان رکن ٿا ۽ رکي وري آسمان طرف ڏسن ٿا. يقينن پنهنجي الله سائين سان مادري ٻولي ۾ ڪا ڳالھ ٻولهه ڪندا هوندا. ڪٿي اهو ڪارڻ ته ڪونهي جو جانورن جي اکين ۾ خوف ۽ بيگانگي ناهي! هتان جا ڪتا ۽ ٻليون انسان کي ڏسي خوف نٿا ڪن، پر ويجهو اچي پيار گهُرن ٿا. ڍڳي رستي ويندي ڪنهن به گهر ۾ جهاتي پائي ٿي، شيوا ٿي وڃي ته ڀلو ورنہ اوڳر واريندي اڳتي هلي ويندي آهي. هو ڪٿي به وڃي ويهي رهي ته ڀر واري گهر جي مالڪڻ لڳندي آهي. رستو وٺڻ لاءِ ڪير به لت ناهي هَڻندو، پُڇ مان جهلي ناهي ڇڪيندو، هُش هُش ناهي ڪندو. پاڻ ئي ٿورو سائيڊ ٿي نڪري ويندو آهي ورنہ بيهي عرض ڪبو ته، ڍڳي چوندي، اڙي گذري وڃ آئون ته ان قسم جي ناهيان با...!! ٿر وارن جو قومي پکي به مور آهي! مور جو حوالو "پلٹنا جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا" ناهي. مور جو حوالو گيت آهي، ناچ آهي، رنگ آهي ۽ روحاني تسڪين آهي. هي سچل سرمست ۽ لطيف سائين جي شاعريءَ تي به نچن ۽ ڳائين. مور هتي فقيرن وانگر عام گهمن ٿا. ڪنهن جي به گهر ۾ تسلي سان هليا وڃن ٿا. هر شيءَ ۾ پنھنجو حق جتائين ٿا. گهر ۾ مورن جو اچڻ مبارڪ آهي، سٺو سونئڻ آهي. مور مري وڃن ته ٻارڙا روئي پون ٿا ۽ شاعر اداس ٿي وڃن ٿا.
مون ننڍپڻ ۾ اَمان ۽ نانيءَ جي قرآن شريف ۾ مور جا پنک ڏٺا هئا. پوءِ مزارن ۽ مندرن ۾ ڏٺا. اوهان به ڏٺا ھوندا. ڪٿان هي روايت ٿر جي تهذيب مان ته نه پئي اچي!؟ ممڪن آهي ته ايئن هجي! اها رات ڏسڻ وٽان هوندي آهي جڏهن مٺيءَ ۾ هولي ملهائي ويندي آهي. پورو شهر خوشيءَ جي رنگ ۾ رڱيل هوندو آهي. انهي رات تارا زمين تي لهي ايندا آهن. يقين نه اچي ته يوٽيوب تان ڏسي وٺو. هن ڀيري هولي رمضان شريف جي مهيني ۾ آئي ته هندو اها رسم رمضان جي احترام سبب خاموشيءَ سان ادا ڪرڻ جو سوچي رهيا هئا. مسلمانن چيو ته، اڙي ڀائي مزي سان ملهايو، وڌ کان وڌ اهو ٿيندو جو اسان شريڪ نه ٿي سگهنداسين. هندوئن چيو، اوهين نه هوندا ته مزو ئي ڪهڙو! هي جبر ناهي، پر بُري نظر کان بچيل سنڌو تهذيب آهي.
هتان جي چوڪ چوراهن تي توپ طيارن جهڙيون خونريز علامتون ناهن. روڊن جا نالا 'غيرتمند' بزرگن جي نالن سان ناهن. ڪجهه دير اڳ جتي ويهي چانھ پي رهيو هئس ان جڳھ جو نالو مائي ڀاڳي چوڪ آهي. ٿر جي مائي ڀاڳي سنڌ جو نرالو ۽ نمايان سريلو آواز آهي. لوڪ گيت 'هو جمالو' ياد آهي؟ هي اصل ۾ مائي ڀاڳي ڳايو هو.
هاڻي پراڻي مندر ڏانهن وڃڻ لاءِ جنهن رستي تان گذري رهيو آهيان اهو صادق چوڪ آهي. هي چوڪ صوفي موسيقار صادق فقير جي نالي سان منسوب ڪيل آهي. انهي چوڪ تي صادق فقير جي مورتي پوري اهتمام سان نصب ٿيل آهي. اڳتي وڌندا ويندا ته زندگيءَ جا اهي ئي حوالا گڏ هلندا. هلندي ڦرندي هڪڙي جڳھ اُٺن جا ٻه مجسما نظر اچي وڃن، جنهن تي بندوق بردار سپاهي ويٺل هجن ته ان کي سنڌ جو مزاج نه سمجهجو! غور سان ڏسجو برابر ۾ ڪوئي توپخانو ضرور هوندو.
مٺيءَ ۾ گهُمندي ڦرندي ناصر ڪاظمي وانگر دل کي هڪڙو ڌڙڪو لڳل رهندو آهي. "حسن تیرا بکھر جائے نا کہیں" انهي ڌڙڪي ۾ شدت تڏهن اچي ٿي جڏهن شهر جي ڪنهن بل بورڊ تي اهڙي تصوير نظر اچي وڃي جيڪا نفرت جي اسپانسرڊ علامت هجي. پر ان سان گڏ اها تسلي به ٿئي ٿي ته اها سنڌ آهي. جيتوڻيڪ سنڌ جا روڊ رستا ته ٽٽل ڦٽل ضرور آهن پر سڌا آهن. سنڌ نفرت جي اسپانسرڊ سرگرمين خلاف گڏجي هڪ آواز بڻجي مزاحمت ڪري ٿي. ڪوئي ڊاڪٽر شاهنواز ڪنڀار جي لاش کي باھ ڏئي ٿو ته روي ڪولهي پوري رات ان جي حفاظت ڪري ٿو. طاقت پنهنجو بيانيو آزمائي ٿي ۽ سنڌ پنهنجو سچ آزمائي ٿي، ۽ سنڌ جو سچ محبت آهي!

18/10/2025

سب سے خوبصورت جذبات وہ ہوتے ہیں جن کی آپ وضاحت نہیں کر سکتے..🌞
((چارلس باؤڈلئیر))

23/09/2025

تیرے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے
🌞
((احمدفراز))

بہت آرزو تھی گلی کی تیری، سو یہاں سے لہو میں نہا کر چلے. 🌞
29/07/2025

بہت آرزو تھی گلی کی تیری،
سو یہاں سے لہو میں نہا کر چلے. 🌞

Address

Islamkot, Tharparkar
Sindh

Telephone

+923443355005

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sooraj JaipaL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Sooraj JaipaL:

Share