15/02/2026
Today , 15th February marks the 157th death anniversary of evergreen poet Mirza Ghalib!
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
تیرے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کے خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے،
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا،
ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نا بادہ خوار ہوتا،🌞
((مرزا غالب))