04/03/2026
"بات صرف محبت کی نہیں، میں ذہنی عادی ہوں تمہارا"
اقبال بلوچ 🧡
کمرے میں ہلکی سی خاموشی تھی، جیسے وقت بھی اپنے قدم روکے کھڑا ہو۔ کھڑکی کے باہر شام کا سرمئی رنگ پھیل رہا تھا۔ وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
وہ (مسکراتے ہوئے):
"تم ہمیشہ کہتی ہو محبت سب سے بڑی حقیقت ہے، مگر مجھے لگتا ہے میری حالت محبت سے بھی آگے جا چکی ہے۔"
وہ (حیرانی سے):
"محبت سے آگے؟ اور کیا ہو سکتا ہے؟"
وہ (آہستہ، نظریں جھکائے):
"بات صرف محبت کی نہیں، میں ذہنی عادی ہوں تمہارا۔ تمہارے لفظوں کا، تمہارے سکوت کا، حتیٰ کہ تمہاری ناراضگی کا بھی۔ جیسے دماغ میں ہر خیال تمہارے وجود کی قید میں ہے۔"
وہ (خاموشی کے بعد):
"عادت…؟ عادت تو کبھی اچھی نہیں ہوتی۔ عادت انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔"
وہ (گہری سانس لیتے ہوئے):
"ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کمزوری بھی مجھے طاقت دیتی ہے۔ تمہاری یاد مجھے ٹوٹنے نہیں دیتی، تمہاری موجودگی مجھے جینے پر مجبور کرتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے میں اپنے دماغ کو تمہارے بغیر سوچنے پر مجبور ہی نہیں کر سکتا۔"
وہ (مدھم آواز میں):
"اور اگر ایک دن میں نہ رہوں؟ اگر تمہارے دماغ کی یہ قید ٹوٹ جائے تو؟"
وہ (چہرہ اوپر اٹھا کر، نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے):
"پھر میرا دماغ ایک خالی کمرہ ہوگا، جس کی دیواروں پر تمہارے عکس کی گونج ہمیشہ زندہ رہے گی۔ میں چاہوں بھی تو آزاد نہیں ہو سکوں گا، کیونکہ یہ محبت نہیں، ذہنی اسیری ہے۔"
وہ لمحہ دونوں پر بھاری ہو گیا۔ ایک لمحے کے سکوت میں وہ دونوں سمجھے کہ کچھ رشتے محبت کے لفظ سے بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ وہ انسان کو صرف دل میں نہیں، ذہن کی ہر دیوار پر قید کر دیتے ہیں۔
🤍🥀