JB خود سے ملا تو بہت پریشان تھا وہ!!..اک اس جیسا اسی سے ہاتھ کر گیا

25/07/2020

وہ جو بو گیا ہے، ہے مجھے کاٹنا
مجھے یہ بتا کر پھر وہ کھو گیا

میں پھر زخم اپنے کرید کر
پھر مرہم لگا کر سو گیا

11/07/2020

وہ اک راہبر جس کی تلاش میں تھا میں
وہ ملا مجھ میں ہی دربدر بھٹکنے کے بعد

10/07/2020

یہی دل تھا ترستا تھا مراسم کے لیے

اب یہی ترک تعلق کےبہانے مانگتا ہے

01/05/2020

کس سمت سے آئو گے اتنا تو بتا دو

میں آج سے بچھا دوں اس راہ پہ نگاہیں

25/06/2019

جو نہ تھا دیکھا تجھے تو نہ تھی چاہت تیری..

ہاۓ...! پھر جو دیکھا تجھے تو تیرے طلبگار ہو گئے......

25/06/2019

بلاعنوان و بلاتحقیق۔۔۔۔۔😂😂 لیکن اسے پڑھنا شرط ہے!

حاجی صاحب کے بڑے بیٹے کا بیان ہے کہ میرا یقین تو جمہوریت سے سنہ 1988 ہی میں اٹھ گیا تھا۔

کہنے لگا کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ایک جمعرات کو میں اور میرے باقی تینوں بہن بھائی، امی ابو کے ساتھ مل کر رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ ابا جان نے ہم سب سے پوچھا: بچو، کل تمھارے چچا کے گھر چلیں یا ماموں کے گھر۔

ہم سب بہن بھائیوں نے بہت شور مچاکر چچا کے گھر جانے کا کہا، ماسوائے امی کے جن کی رائے تھی کہ ماموں کے گھر جایا جائے۔

بات اکثریت کے مطالبے کی تھی اور رائے شماری سے طے پا گیا تھا کہ چچا کے گھر جانا ہے۔ امی کا موقف ہار گیا تھا۔ ابا جان نے بھی ہماری رائے کے احترام میں چچا کے گھر جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ ہم سب بہن بھائی چچا کے گھر جانے کی خوشی دل میں دبائے جا سوئے۔

جمعہ کے دن صبح اٹھے تو امی نے گیلے بالوں کو تولیہ سے صاف کرتے ہوئے بمشکل اپنی ہنسی دبائے ہمیں کہا کہ سب جلدی سے کپڑے بدلو، ہم لوگ تمھارے ماموں کے گھر جا رہے ہیں۔

میں نے ابا جان کی طرف دیکھا جو خاموش اور توجہ سے اخبار پڑھنے کی ایکٹنگ فرما رہے تھے۔ میں غریب کا بال ان کا منہ تکتا رہ گیا۔

بس جی، میں نے تو اسی دن سے جان لیا ہے کہ جمہوریت، اکثریت کی رائے کا احترم اور ووٹ کو عزت دو وغیرہ تو ایک سے ایک ڈھکوسلہ ہے۔ اصل فیصلے تو بند کمروں میں اس وقت ہوتے ہیں جب غریب عوام سو رہی ہوتی ہے....!^پاگل

22/06/2019

آپ سے ناراض ہو کر بھلا کہاں جائیں گے ۔۔

روئیں گے, تڑپیں گے, اور پھر لوٹ آئیں گے۔۔

Send a message to learn more

20/06/2019

جانتا ہوں میں بھی اک ایسے شخص کو

غم سے پتھر ہو گیا مگر رویا نہیں

20/06/2019

اے کاش تم سمجھ سکتے محبت کے اصولوں کو...!

کسی کی سانسوں میں سما کر اُسے تنہا نہیں کرتے.....!!

19/06/2019

خود سے ملا تو بہت پریشان تھا وہ!!
اک اس جیسا اسی سے ہاتھ کر گیا..💔

19/06/2019

لوگ ہر موڑ پر رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں

نہ میں جگنوں نہ میں دیہ نہ میں کوئ تارا
روشنی والے پھر میرے نام سے اتنا جلتے کیوں ہیں

18/06/2019

لگتا ہے اب نہیں ہو گی ملاقات دوبارہ

لگتا ہے سچ میں بھول گیا مجھ کو

Address

Nehal Chand Street House No:19/101
Sialkot
31510

Telephone

+923138644200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to JB:

Share