Kainat shafique novel

Kainat shafique novel all novel here

02/11/2025

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

26/08/2025
04/04/2025

اسلام علیکم!
ریڈرز میں ایک نیا ناول شروع کرنے لگی ہوں جس کے لیے مجھے آپ لوگ
ہیرو اور ہیروئن کے نام بتائیں کے ہیرو کا کیا نام ہونا چاہیے اور ہیروئن کا
کمنٹ بکس میں ضرور بتائیے گا
شکریہ

19/12/2024

تم کہاں تک کرو گے دلجوئی؟
میں تو اکثر اداس رہتا ہوں۔💔🥲

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Sariki Doll, Rana Abu Bakar, Miftah Ahmad, Sahar Gillani
24/08/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Sariki Doll, Rana Abu Bakar, Miftah Ahmad, Sahar Gillani

12/09/2021

Coming soon
ہادی تو جو مرضی کہہ اس لڑکی سے تو میں۔ بدلہ کے کر رہوں گا۔اس نے مجھے تھپڑ مارا تھا نہ۔مجھے ارسلان گیلانی کواسے تو میں چھوڑوں گا نہیں سمجھتی کیا ہے خود کو ۔بڑی پارسا بنی پھرتی ہے نہ بڑا غرور ہے نہ اسے اپنے پاکباز ہونے پر۔اگر اسے اسی کی نظروں میں نہ گرایا تو میرا نام بھی ارسلان گیلانی نہیں۔
ارسلان دیکھ اس میں غلطی تیری تھی تجھے اس کا ہاتھ نہیں پکڑنا چاہئے تھا۔تو نے اس کا ہاتھ پکڑا تو اس نے تجھے تھپڑ مارا اگر تو اس کا ہاتھ نہیں پکڑتا تو کیوں مارتی وہ تجھے تھپڑ۔تو پہلے ہی ایک غلطی کر چکا ہے۔دوسری غلطی میں تمھیں نہیں کرنے دوں گا۔یار کسی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے میں تمھیں نہیں دوں گا۔
ہادی میں تیری ایک بات بھی نہیں سنو گا۔بدلہ تو میں اس لڑکی سے لے کے رہوں گا۔تو جو مرضی کر لے۔
تو ٹھیک ہے۔ارسلان اس سب میں میں تمھارا ساتھ نہیں دوں گا۔جو کرنا ہے اکیلے کرنا ہو گا تجھے۔مجھ سے امید مت رکھنا کہ اس طرح کے گھٹیا کام میں میں تیری مدد کروں گا۔یاد رکھنا یہ بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے رسپانس پر ناول بہت جلد
جلدی سے حاضری لگوائیں۔

آپ نے بالکل بھی اچھا نہیں کیا وصی آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کی قابل نہیں ہوں پھر بھی آپ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی یہ سب سوچ ...
03/08/2021

آپ نے بالکل بھی اچھا نہیں کیا وصی آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کی قابل نہیں ہوں پھر بھی آپ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی یہ سب سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اور آپ ایک ساتھ
یہ ناممکن ہے۔
کیوں ناممکن ہے۔میں تم سے پیار کرتا ہوں۔اور تم بھی تو تومجھ سے پیار کرتی ہو۔تو ہم ایک کیون نہیں ہو سکتے۔
آپ سے کس نے کہا کہ میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔میں آپ سے پیار نہیں کرتی۔آپ کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آرہی۔
وشہ جھوٹ بولنے سے پہلے کم ازکم جھوٹ بولنا تو سیکھ لو۔تمہاری زبان تو مجھ سے کچھ اور کہہ رہی ہے۔اور تمھاری یہ آنکھیں مجھ سے کچھ اور تم شاید جانتی نہیں ہو ان آنکھوں کی زبان تو میں بچپن سے سنتا آرہا ہوں۔اور یہ تمھاری طرح مجھ سے جھوٹ نہیں بولتی۔اس لیے میں کہہ رہا ہوں۔جاؤاوع جا کر تیاری کرو میری دلہن بننے کی۔مجھے اپنی دلہن روتی بسورتی نہیں چاہیے۔
ٹھیک ہے کرو جو کرنا ہے۔لیکن میں بھی نکاح کے عین وقت انکار کر دوں گی۔
اگر تم نے ایسا کچھ بھی کیا تو اس کا انجام بھی سوچ لینا۔کونکہ جتنا اچھا میں ہوں اس سے بھی کہیں زیادہ بتا ہوں
Coming soon...

ناول:محبت روشن ستارہاز قلم: کائنات شفیقآخری قسط قسط نمبر21زارا کیا تم مجھے سچ میں کنزی کے قابل نہیں سمجھتی؟تمھیں کیا لگت...
13/03/2021

ناول:محبت روشن ستارہ
از قلم: کائنات شفیق
آخری قسط
قسط نمبر21
زارا کیا تم مجھے سچ میں کنزی کے قابل نہیں سمجھتی؟
تمھیں کیا لگتا احد؟
تمھاری باتوں سے تو یہی لگ رہا کہ تم مجھے اس قابل نہیں سمجھتی کہ میں تمھاری بہن کو خوش رکھ سکوں۔
احد تمھیں مجھے غلط سمجھ رہے ہو۔
تو اود کیا سمجھوں تمھاری باتوں سے۔
احد میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم اپنی زندگی کا ہی اہم فیصلہ سوچ سمجھ کرکرو۔محبت تو ہر کوئی کر لیتا ہے۔لیکن اس محبت کو نبھا سو میں سے صرف چند لوگ ہی سکتے۔میں نہیں چاہتی کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے۔وہ سب کنزی کہ ساتھ نہ ہو۔اس لیے میں چاہتی ہوں کہ تم ایک دفعہ پھر سوچ لواگر پھر بھی تمھارا جواب یہی ہوا تو میں تمھارے ساتھ ہوں۔لیکن میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا اگر تمھاری کنزی سے شادی ہو گئی تو اس پر ہمیشہ اعتبار کرنا۔اسے کبھی یہ احساس نہ ہونے دینا کہ تمھیں اس پر اعتبار یاں بھروسا نہیں ہے۔کیونکہ ایک عورت محبت کے بغیر تو رہ سکتی ہے۔لیکن اگر اسے کسی رشتے میں سے اعتبار اور عزت نہ ملے تو وہ تمھارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی تمھاری نہی ہوتی۔ کیونکہ وہ تو اندر سے مر چکی ہوتی ہے۔ اسلیے میں تمھیں پھر کہہ رہی ہوں ایک دفعہ سوچ لو کنزی سے بات کرو۔پھر مجھے اپنا فیصلہ سنانا۔
زارا میری طرف سے تمھیں کبھی کوئی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔میں اب بھی اپنے فیصلے پہ قائم ہوں۔ تم ایک دفعہ کنزی سے بات کر لواگر وہ راضی ہے تو میں موم ڈیڈ کو بیجھو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زرار بھائی آپی سے کیا بات ہوئی ہے آپ کی؟کیا آپی گھر آنے کے لیے مان گئی ہیں۔کیا انھوں نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔
کنزی سانس تو لے لو گڑیا۔
سانس کو چھوڑیں اور مجھے بتائیں کیا آپی اس دفعہ ہمیشہ کے لیے گھر آجائیں گی؟
مجھے تو لگتا ہے کنزی کہ وہ بہت جلد ہم سب کے ساتھ ہو گی۔
بلکل بھائی میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ وہ اب ہم سب کے ساتھ رہیں انھوں نے بہت رہ لیا اکیلےارے بھائی ان کا بھی تو حق ہے نہ خوشیوں پہ
بلکل اور اب میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری آپی کو اس دنیا کی ساری خوشیاں دوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دنوں بعد۔۔
احد کہاں ہو تم؟تمھیں پتا ہے نہ کہ آج میں گھر واپس جا رہی ہوں۔
ہاں جانتاہوں کہ تم واپس جا رہی ہو۔تو میں کیا کروں بھنگڑے ڈالوں کیا؟
نہیں تم بھنگڑے نہ ڈالوبس ابھی اور اسی وقت یہاں آؤں مجھے تم سے بات کرنی ہے۔
نوکر نہیں ہوں تمھارا کہ جب تم بلاؤ ڈورےا ہوا تمھاری پاس پہنچ جاؤں تمھیں بات کرنی ہے۔تو تم آ جاؤں۔
احدتوتم نہیں آؤں گے۔
نہیں آؤں گا۔
تو ٹھیک ہے بعد میں مجھے نہ کہنا کہ میں نے تمھاری ہیلپ نہیں کی۔
او ہیلو کونسی ہیلپ کر رہی ہو تم میری ایک کام کہا تھا وہ تو تم سے ہوا نہیں آئی بڑی بعد میں نہ کہنا کہ میں نے تمھاری ہیلپ نہیں کی احد نے زارا کی نقل اتارتے ہوئے کہا
تو ٹھیک ہے نہ کرو اب اپنی ہیلپ خود کرو مجھے نہ کہنا میں تمھاری کوئی ہیلپ نہی کروں گی کنزی کو منانے کے لیے خود کرو جو کرنا ہے۔بائےیہ کہتے ہوئے زارا نے فون بند کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نایاب ہو گئی پیکنگ تمھاری۔۔
جی آپی میری پیکنگ تو ہو گئی ہے لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے۔اپ کے گھر والے کیا سوچیں گے۔کہ ایک انجان لڑکی کو آپ اپنے ساتھ لے کر آ گئی ہیں آپ ۔
نایاب کیا تم پہلے نہی گئی تھی۔تو کسی نے کچھ کہا تھا۔نہی نہ تو پھر۔۔۔۔
تب آپی ایک دو دن کی بات تھی۔لیکن اب ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔
چپ کر جاؤ تم۔۔۔پتا نہی کیا کیا سوچتی رہتی ہو۔چپ چاپ پیکنگ کرو اپنی میں تھوڑی دیر آرام کر لوں۔پھر شام میں چلیں گے۔اور تم بھی پیکنگ کر کہ ریسٹ کر لو۔
جی آپی
ایک اور بات نایاب کچھ بھی نہ سوچو ساری دنیا ایک جیسی نہیں ہوتی۔
یہ کہتے ہوئے زارا چلی جاتی ہے۔
وہ جب گھر میں داخل ہوٸ تواس نے دیکھا کہ پورا گھر دلہن کی طرحسجا ہوا تھا۔وہ خان بابا سے ملی جوان کے گھر کے پرانے ملازم تھے۔
اسلام وعلیکم خان بابا
واعلیکم اسلام
کیسے آپ خان بابا
اللہ کا کرم ہے بیٹا تم سناٶ
میں ہمیشہ کی طرح perfect
جیتی رہو میری بچی۔
خان باباگھرمیں کوٸ فنکشن ہے کیا
ہاں بیٹا نور بی بی کی شادی ہے
کیا نور کی شادی کس سے چلیں چھوڑیں
میں خود پوچھ لیتی ہوں…….
وہ جب اندر داخل ہوٸ تو اسے لگا کہاس کے پیروں تلےزمین نکل گٸ ہو اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ جنبش کی زار تو کیا نور کی شادی زار سے ہو رہی تھی۔ نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہےزار آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔
کیوں زارا میں کیوں نہی ایسا کر سکتا میں نے چار سال تمھارا انتظار کیا کہ تم لوٹ آؤ گی لیکن تم نے آنے میں دیر کر دی اور نور بھی تو مجھ سے محبت کرتی ہے اگر میں نے چار سال تمھارا انتظار کیا ہے تو نور نے بھی تو میرا انتظار کیا ہے اور میں تمھاری طرح پتھر دل نہی ہوں۔
زار آپ نور سے شادی کبھی کر ہی نہیں سکتے۔اپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں نہ۔اپ میرے ہیں میرے تھے اور میرے ہی رہیں گے۔اس بار نور کی بچی کو میں جیتنے نہیں دو گی۔نور تم تو اج میرے ہاتھوں سے قتل ہو گی۔یہ کہتے ہوئے زارا نورکا گلہ دبانے کے لیے نور کی طرف بڑھتی ہے۔
خبردارزارا اگر تم نے نور کی طرف ایک قدم بھی بڑھایا تو مجھ برا کوئی نہی ہو گا۔
زار آپ سے برا You know what
کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔زار آپ جانتے ہیں ان چار سالوں میں ایک ایک لمحہ میں نے آپ کو یاد کیا ہے۔اج تک زندک تھی تو اس امید پر کہ جب میں واپس جاؤں گی تو زار میرا انتظار کر رہے ہوں گیں۔مجھے دیکھتے ہی گلے لگائیں گے۔لیکن دیکھیں یہاں تو سب الٹ ہو گیا نہ تو زار کو میرا انتظار تھا۔ اورنج ہی۔۔۔۔۔۔ چھوڑیں اس بات کو میں توسوچا تھا کہ آپ سب کو سرپرائزدوں گی ۔لیکن مجھے کیا پتا تھا کہ ایک سرپرائز میرا پہلے سے انتظار کر رہا ہو گا۔مجھے پتا ہوتا یہ سب ہونے والا ہے تو میں کبھی واپس نہیں آتی۔سب بھی دیر نہیں ہوئی آپ لوگ خوش رہیں اپنی زندگیوں میں میں چلتی ہوں۔
زارا رکو میری بات تو سنو نور نے کہا۔۔۔۔۔
نہیں نور تم اور زار اپنی نئی زندگی شروع کرو۔ایک اور بات زار بات نہی ایک گزارش سمجھ لیجئے زارا یہ کہتےہوئے تلخ سی مسکراہٹ زارا کے چہرے پر آئ تھی۔اس کے سینے میں درد شروع ہوا تھا جو بائیں بازو سے ہوتا ہوا دل تک پہنچا تھا۔اس تکلیف کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔لیکن اسے بولنا تھا۔اپنا نام کبھی میرے نام سے الگ مت کرئیے گا۔صرف یہ آخری خواہش سمجھ کر پوری کر دیں اس کے علاؤہ نہ زارا نے آپ سے کبھی کچھ مانگا ہے اور نہ مانگے گی۔مانگے گی کیسے مانگنے کا حق تو چھین لیا ہے آپ نے خوش رہیں۔اور ایک بات زار آج میں آپ سے ایک ایک حق چھین رہی ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ جب میں مر جاؤں تو نہ آپ میرا مرا ہوا منہ دیکھیں گے اور نہ ہی میرے جنازے میں شرکت کریں گے۔یہ کہتے ہی زارا نیچے زمین پہ گر جاتی ہے۔اور بے ہوش ہو جاتی ہے۔
زارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب سے پہلے احد کو ہوش آتا ہے جو ایک پلر کے پیچھے چھپا ہوا ہوتا ہے۔اور زارا کو پکارتا ہے۔
زارا زرار زارا کو پکارتے ہوئے آگے آتا ہے۔اور زارا کو اٹھانے لگتا ہے۔لیکن اس سے پہلے ہی احد اسے روک لیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ زرار میں نے آپ کو منع کیا تھانہ یہ ڈراما کرنے کے لیے لیکن آپ لوگوں نے میری ایک بات نہی سنی۔اور آپ لوگوں نے شائد سنا نہیں کہ زارا نے کیا کہا ہے۔ اور اب ہمارے پیچھے کوئی نہ آئے چلو نایاب یہ کہتے ہوئے احد زارا کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دار جی یہ کیا ہو گیا مجھ سے میں نے تو چھوٹا سا مذاق کیا تھا۔اور میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی زندگی کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔اور وہ جاتے ہوئے مجھ سے میرا سب سے بڑا حق چھین گئی۔اسے کتنا مان تھا مجھ پر اور میں نے کیا کیا ایک دفعہ پھر اسے خود سے دور کر دیا۔اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں کیسے رہوں گا۔
یہ سب تمھیں ڈرامہ کرنے سے پہلے سوچنا چاہیئے تھا ۔تمھیں احد نے منع کیا تھا۔لیکن تم نے کسی کی نہیں سنی۔۔۔
داد جی اب میں کیا کروں۔مجھے ہاسپٹل چلنا چاہیئے ابھی۔۔۔۔۔۔میں اس سے بات کروں گا وہ میری بات ضرور سنے گی۔یہ کہتے ہوئے زرار دوڑ لگاتے ہوئے گاڑی نکالتا ہے۔
رکو زرار ہم بھی تمھارے ساتھ چلتے ہیں۔اور آپ سب زارا کے لیے دعا کریں اللہ میری بچی کو زندگی دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صالح یہ کیا ہو گیا میری بچی زارا ابھی تو میں نے اسے گلے سے بھی نہیں لگایا تھا ابھی تو میں نے اس کی خوشبو کو بھی محسوس نہیں کیا۔اور اللہ نے ہمیں کس آزمائش میں ڈال دیا۔مجھ سے اب یہ دوری برداشت نہی ہوتی۔صالح میری زارا کو کچھ ہو گا تو نہیں۔
نہیں زرقہ کیسی باتیں کر رہی ہو۔ہماری بچی کو کچھ نہیں ہو گا۔
صالح پلیز مجھے میری بچی کہ پاس لے چلیں۔خدا کے لیے صالح لے چلیں مجھے میری بچی کے پاس۔۔۔۔۔
چلو زرقہ۔۔۔۔۔۔
بابا مجھے بھی میری آپی کے پاس لے چلیں۔۔۔۔۔
چلو۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احد زارا کو ساتھ لے کر ہاسپٹل لے کہ جاتا ہے اور نایاب سے کہتا ہے تم یہی رکو۔۔۔۔۔۔اور زارا کے لیے دعا کرو۔اور ایمرجنسی میں چلا جاتا ہے۔
نایاب زارا کیسی ہے؟؟؟کنزی نے آتے ہی نایاب سے پوچھا۔۔
مجھے نہیں پتا کنزی آپ پلیز دعا کریں کہ میری آپی ٹھیک ہو جائیں۔ان کے علاؤہ میرا کوئی نہی ہے اس دنیا میں۔۔۔۔اپ دعا کریں گی نہ نایاب نے آس سے کنزی سے کہا۔
آپ سب پلیز دعا کریں میری آپی کے لیے نایاب نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی پریئر روم میں چلی گئی۔
صالح صاحب زرقہ بیگم کے پاس آئے جنھیں آگے پیچھے کا کوئی ہوش نہیں تھا۔اور ان سے کہتے ہیں کہ زرقہ سنبھالیں خود کو۔
کیسے سنبھالوں خود کو میری بچی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔
زرقہ آپ ماں ہیں اور ماں کی دعا تو عرش کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہے۔اپ اپنی بیٹی کے لیے دعا کریں۔خدا آپ کی دعا کبھی رد نہیں کرے گا۔خدا اپنے بندوں کو بس اتنی دیر ہی آزماتا ہے۔جب تک اس کے بندے میں برداشت کرنے کا حوصلہ ہو۔اپ اپنی بیٹی کے لیے دعا کریں۔۔۔۔۔۔۔چلیں اٹھیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احد ایمرجنسی سے باہر آتا ہے توزرار اس سے پوچھتا ہے کہ۔۔۔
زارا کیسی ہے کیا ہوا ہے؟اسے وہ ٹھیک تو ہو جائے گی نہ۔۔۔۔۔۔
احد خاموشی سے اسے گھورتا رہتا ہے۔
احد تم کچھ بول کیوں نہیں رہے کچھ بولو تو۔۔۔۔۔زارا ٹھیک تو ہے نہ۔۔۔۔۔
صالح انکل کدھر ہیں؟
چاچو وہ ابھی تو یہیں تھے کہاں گئے ہیں۔تم پلیز مجھے بتاؤ ۔یری زارا کیسی ہے؟
زرار آپ بس دعا کریں کہ میری دوست کو کچھ نہ ہو ورنہ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔
لیکن احد اسے ہوا کیا ہے؟
ہارٹ اٹیک ہوا ہے میری دوست کووہ بھی آپ کی وجہ سے مسٹر زرار آپ کو اپنی اولاد ضد جو پوری کرنی تھی۔ان کے منہ سے اظہار محبت سننے کی میں نے آپ کو منع بھی کیا تھا۔لیکن آپ نے میری ایک بات نہ سنی۔۔۔۔۔۔۔۔خوش ہو جائیں آپ کی قد پوری ہوئی اور میری دوست آپ سے بات کرنا ہی بےکار ہے۔
سسٹر ڈاکٹر زایان کو ایمرجنسی میں بیجھیں۔
جی ڈاکٹر۔نرس یہ کہتے ہوئے چلی جاتی ہے۔
اور زرار صبح کہ بارے میں سوچنے لگتا ہے جب اس نے کنزی سے کہہ کر احد کو بلایا تھا۔
احد جب صبح ہاسپٹل کے لیے نکلنے لگا تھا۔کہ اسے کنزی کی کال آئی۔کنزی کا نمبر دیکھ کر احد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔اس نے کال یس کرتے ہوئے۔ کہا زہے نصیب زہے نصیب جو آج کنزی میڈم نے اس نا چیز کو یاد کیا۔
احد جلدی سے او میں تمھیں ایک اڈریس سند کر رہی ہوں جلدی سے پہنچو۔
لیکن کنزی خیریت۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ہاں خیریت ہی ہے۔ تم بس جلدی سے پہنچو۔
اچھا میں آتا ہوں۔
احد جب وہاں پہنچتا ہے۔تو کنزی اور زرار کو وہاں دیکھ کر ٹھٹھکتا ہے۔لیکن پھر جلدی سے ان کے پاس جاتا ہے۔
احد اچھا ہوا تم جلدی آ گئے زرار بھائی کو تم سے کام تھا۔
زرار کو مجھ سے کام تھا۔
دیکھو احد تم جانتے ہو کہ زارا آج گھر واپس آ جائے گی۔
ہاں تو۔۔۔۔۔
اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ زارا آپی اور زرار بھائی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
تو۔۔۔۔۔۔
احد پوری بات تو سن لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا سناؤ
تو ہم لوگ یہ چاہتے ہیں کہ زارا آپی زرار بھائی سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔
اور یہ کیسے ہو گا؟؟احد نے پوچھا۔
میرے پاس ایک پلین ہے اگر تم ہمارا ساتھ دو تو۔۔۔۔۔۔زرار نے کہا۔
کیسا پلین۔۔۔
دیکھو احد آج گھر میں نور کی مہندی ہے۔اور ہم زارا کے سامنے یہ شو کرائیں گے کہ نور اور میری شادی ہو رہی ہے۔
اس سے زارا آپ سے اظہار محبت کیسے کریں گی۔
جب زارا کو پتا چلے گا کہ میری اور نور کی شادی ہو رہی ہے تو وہ غصہ ہو جائے گی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا آپی غصے میں اپنے دل کی بات بول دیتی ہیں۔کنزی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو میں اس بات میں آپ لوگوں کا ساتھ نہیں دوں گا۔اور آپ لوگوں کو بھی منع کر رہا ہوں کہ یہ سب نہ کریں۔اس کا انجام بہت برا ہو گا۔میں پہلے ہی آپ کو آگاہ کر رہا ہوں۔ااحد نے کہا۔۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا۔احد تم مجھ پر بھروسا کرسکتے ہو۔
جیسے آپ لوگوں کی مرضی میں کیا کہہ سکتا ہوں احد نے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈالتے گھر والے زارا کے لیے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔اور سب کی دعائیں احداور ڈاکٹر زایان کی کوششیں رنگ لے آتی ہیں۔اور زارا کی طبیعت سنبھل جاتی ہے۔ڈاکٹر زایان ایمرجنسی سے باہر آتے ہیں۔تو زرار دوڑ کر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔اوراس سے زارا کے بارے میں پوچھتا ہے۔
زایان میری زارا کیسی ہے؟وہ ٹھییییییییک تو ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان تو کچھ بول کیوں نہیں رہا۔دیکھ زایان اگر تم نےکوئی بری خبر سنائی تو میں تیری جان لے لوں گا۔بتا نہ پلیز زارا کیسی ہے۔
ڈاکٹر زایان نے ایک نظر اپنے دوست کو دیکھا جو کچھ ہی لمحوں میں مرجھا سا گیاتھا۔دیکھ زرار میں جو بات کہنے جا رہا ہوں تحمل سے سننا۔۔۔۔ڈاکٹر زایان نےزرار سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے اپنے آنسو صاف کرو
کر لیے آنسوں صاف اب بتا زرار کسی چھوٹے بچے کی طرح زایان کی بات مانتے ہوئے کہتا ہے۔
زرار ڈاکٹر زارا اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زایان رکتا ہے۔
اب کیا بول نہ۔۔۔۔۔۔۔
یہی کہ ڈاکٹر زارا اب خطرے سے باہر ہیں۔اور انھیں تھوڑی دیر میں ہم وارڈ میں شفٹ کر رہے ہیں۔پھر تم ان سے مل لینا۔
زایان تم سچ کہہ رہے ہو میری زارا کو کچھ نہی ہوا۔وہ بالکل ٹھیک ہے۔میں تمھارا شکریہ کس طرح ادا کروں ت۔ نہیں جانتے تم نے مجھے یہ بات بتا کر مجھ میں نئی روح پھونک دی ہے۔
زرار شکریہ میرا نہیں اس رب کا کرو ہم ڈاکٹر تو صرف کوشش کر سکتے ہیں۔زندگی دینے اور لینے والی ذات اللہ کی ہے۔جاو اس کا شکر ادا کرو جس نے تمھیں تمھاری زندگی تمھیں لوٹا دی ہے۔
ہاں تم صحیح کہہ رہے ہو۔مجھے اس پاک ذات کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔میں آتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ گھنٹوں بعد زارا کو ہوش آتا ہے۔تو سب سے پہلےزرقہ بیگم زارا سے ملنے جاتی ہے۔
زارا اپنی ماں کو دیکھ کر ایک دفعہ پھر رو دیتی ہے۔
ماما میں کیوں ہوں زندہ؟کیا اللہ تعالیٰ کو مجھ پر رحم نہیں آتا۔کیوں بچایا انھوں نے مجھے میں مرنا چاہتی ہوں۔اب مجھ میں ہمت نہیں ہے ماما اور دکھ سہنے کی۔زار کی بے وفائی نے مجھے اندر سے مار دیا ہے۔پہلے ان کی بے اعتباری نے مجھے اندر سے کھوکھلا کیا اور اب ان کی بے وفائی نے تو میری جان ہی نکال دی ہے۔ماما میں زندہ لوگوں میں شمار تو ہوتی ہوں۔لیکن زندہ نہیں ہوں۔ ماما
نہیں میری بچی ایسا نہیں کہتے اگر تجھے کچھ ہو جاتا تو سوچو میرا تمھارے بابا اور کنزی کا کیا ہوتا۔بیٹا کسی ایک انسان کے آنے یاں چلے جانے سے زندگی ختم نہیں ہوتی۔اور زرار نے تمھارے ساتھ کوئی بے وفائی نہیں کی زرار اور نور کی نہیں بلکہ نور اور سعد کی شادی ہو رہی تھی۔وہ تو بس ایک ڈرامہ تھا تا کہ تم زرار سے اپنے دل کی بات کہہ سکو۔۔
ماما آپ سچ کہہ رہی ہیں زار اور نور کی شادی نہیں ہو رہی۔بلکہ زار صرف میرے ہیں۔
ہاں میرا بچہ۔۔۔۔۔
آنٹی کیا آپ تھوڑی دیر کے لیے باہر جا سکتی ہیں؟مجھے آپ کی بیٹی سے بات کرنی ہے۔احد نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا
ہاں تم زارا سے بات کرو میں شکرانے کے نوافل ادا کر لوں۔
کیا ہے کیوں گھور رہے ہو؟زارا نے احد سے کہا
تم۔۔۔۔۔۔تم پہ بہت غصہ ہے مجھے۔اس لیے چپ کر جاؤ
کیوں چپ کروں۔
زارا کبھی تم نے سوچا ہے اگر آج تمھیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا۔ابھی تو تم نے میری شادی بھی کرانی تھی۔
تمھیں ابھی بھی اپنی شادی کی پڑی ہے۔چاہے تمھاری شادی کہ بعد مر جاؤں۔ہے نہ
نہیں یار ایسی بات نہیں ہے۔
میں سچ میں پریشان ہو گیا تھا۔
اچھا بس بس ٹھیک ہوں میں۔جاو ماما کنزی بابا اور داد جی کو بلاؤ۔
کیوں بلاؤں کیا کرنے والی ہو تم؟
تم سے مطلب جاؤ جو کہا ہے وہ کرو۔
جا رہا ہوں۔ہر وقت حکم چلاتی رہتی ہو۔
تھوڑی دیر بعد احد سب کو بلا لاتا ہے۔کیسا ہے میرا بچہ؟اپ نے تو اس بوڑھی جان کو ڈرا ہی دیا تھا۔
داد جی آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔اپ فکر نہ کریں۔یہاں میں نے ایک ضروری بات کرنے کے لیے بلایا ہے۔
زارا تم بات کرو میں آتا ہوں۔احد نے کہا
نہیں احد رکو۔
ماما بابا داد جی اگر میں کنزی کے لیے کوئی فیصلہ لوں تو کیا آپ میرا ساتھ دیں گے۔
کیوں نہیں میرا بچہ آپ بتائیں تو آپ نے کیا فیصلہ لیا ہے۔دار جی نے کہا
کنزی اگر تمھیں اعتراض ہو تو مجھے بلا جھجک بتا سکتی ہو۔تمھاری مرضی کے بغیر کچھ نہی ہو گا۔
دار جی احد کی بہن ہونے کی حیثیت سے میں آپ سے آپ کی پوتی کنزی کا احد کے لیے ہاتھ مانگتی ہوں۔کیا آپ کو منظور ہے۔
نہیں آپی میں اپنا ہاتھ کسی کو نہیں دوں گی۔اگر احد میرا ہاتھ لے لیں گے تو میں کیا کروں گی؟
مجھے آپ کا ہاتھ چاہیے بھی نہیں۔ میرے پاس اپنے ہیں۔مجھے تو آپ پوری کی پوری چاہیے۔
ہاہاہاہا ہاہاہاہا ہاہاہاہا
سب نے قہقہہ لگایا۔
بیٹا ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔احد اپنے گھر والوں کو لے آئیں۔پھر ان سے بات چیت کر لیں گے۔دار جی نے کہا
کنزی تمھیں منظور ہے کیا بولو۔اگر کوئی اعتراض ہے تو بتاؤ۔
نہیں آپی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔جیسے سب کو ٹھیک لگے ۔
چلو پھر مٹھائی منگواو کنجوس آدمی۔زارا نے احد سے کہا۔
ابھی منگواتا ہوں۔احد یہ کہتے ہوئے چلا جاتا ہے۔
کیا میں اندر آ سکتا ہوں۔ڈاکٹر زایان نے کہا
ارے ڈاکٹر آ ئیے نہ۔ زارا نے کہا
اب کیسی طبیعت ہے آپ کی ذاکٹر زارا؟
بہتر ہوں اب۔زارا نے کہا۔
آپ لوگ پلیز ڈاکٹر زارا کو آرام کرنے دیجیے۔ڈاکٹر زایان نے کہا۔
جی ڈاکٹر سب باہر چلے جاتے ہیں۔
ویسے ڈاکٹر زارا آپ بہت لکی ہیں۔
وہ کیسے ڈاکٹر؟
آپ کو پتا سب آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔اپ کی پوری فیملی کو ان چند گھنٹوں میں میں نے دیکھا ہے۔کس طرح سب علیحدہ علیحدہ آپ کی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے۔اپ محبتوں کے معاملے میں بہت لکی ہیں۔
اور آپ کے شوہر بھی آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔
ڈاکٹر زایان ان محبتوں کو پانے کے لیے میں نے بہت کچھ گنوایا ہے۔
ویسے آپ اپنے شوہر کا بھی پوچھ سکتی ہیں۔وہ تو ان کچھ گھنٹوں میں بالکل بکھر کر رہ گیا ہے۔
ڈاکٹر جو زندگی کو چھیننا جانتے ہوں۔وہ کیا کسی کی زندگی کے لیے دعا کر سکتا ہے۔وہ تو چاہتے ہی نہیں تھے کہ میں زندہ رہوں۔یہ تو پتا نہیں کس کی دعاؤں نے میری زندگی بچا لی۔زارا نے زرار کو دیکھتے ہوئے کہا جس نے ابھی اندر آنے کے لیے دروازہ کھولا ہی تھاکہ زارا کی باتیں سن کر واپس چلا جاتا ہے۔
نہیں ڈاکٹر زارا ایسی بات نہیں ہے۔زرار آپ سے واقعی ہی جنون کی حد تک چاہتا ہے۔
میں جانتی ہوں ڈاکٹر زایان کہ وہ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔
چلیں آپ آرام کریں میں چلتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار نے سب کو گھر واپس بھیج دیا تھا۔لیکن خود ایک منٹ کے لیے بھی سکھ کا سانس نہیں لیا تھا۔زرار کو جب اندازہ ہو گیا کہ زارا سو گئی ہے تو وہ زارا سے ملنے آتا ہے۔
زرار زارا کے پاس آتے ہوئے کرسی پر بیٹھتا ہے۔اور زارا سے کہتا ہے کہ
زارا تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں ۔ور سے شادی کروں گا۔ارے زارا میں نے تو اس وقت سے تم سے محبت کی ہے جب میں اس لفظ کو جانتا بھی نہیں تھا۔بچپن سے میں نے صرف تمھیں سوچا ہے۔تم سے محبت کی ہے۔اسی لیے تو سب کام اپنے تم سے کرواتا تھا۔جانتی ہو جب تم میرے کام کہنے پہ الٹے سیدھے منہ بناتی تھی نہ تو مجھے کتنی پیاری لگتی تھی۔دل کرتا تھا تمھیں کہیں چھپا لوں۔لیکن میرے پاس کوئی حق نہیں تھا۔اور جب مجھے حق ملا تو تمھیں اپنے ہی ہاتھوں سے گنوا دیا۔اب جب تم دوبارہ میرے پاس آئی ہو تو میں کیوں اپنے ہی ہاتھوں سے تمھیں گنواؤ گا۔
اچھا اتنی محبت کرتے تھے اسی لیے نور سے شادی کر رہے تھے۔زارا نے کہا۔
نہیں زارا وہ تو صرف ایک ڈرامہ تھا۔تا کہ تمھیں غصہ آئے اور تم اپنی محبت کا اظہار کرومجھ سے۔لیکن تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔
زار آپ جانتے ہیں نہ کہ میں آپ سے محبت کرتی تھی۔پھر بھی آپ نے۔۔۔۔۔۔
اگر سچ میں میں مر جاتی تو۔۔۔۔
اششش۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زرار نے زارا کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔پلیز آئندہ مرنے کی بات نہ کرنا۔تمھارے دور جانے کے خیال سے ہی میری جان نکلنے لگتی ہے۔
اچھا نہیں کہتی کچھ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ گرل چلو اب مجھے بھی اپنے ساتھ جگہ دو۔میں ایک منٹ بھی سکون سے نہیں بیٹھا۔مجھے سکون چاہیے جو صرف تمھارے پاس ہے۔
زار ایک بات بتاؤ؟؟؟؟
ہممم بتاؤ ہم نے کنزی کا رشتہ پکا کر دیا ہے۔
ہاں پتا چلا تھا مجھے۔
آپ کو کس نے بتایا؟؟
تمھارے اس ہٹلر دوست نے اور کس نے۔جب رشتے کی بات ہوئی تو کیسے رس گلے کی طرح میٹھا بن گیا تھا۔ورنہ میری جان لینے کے در پر تھا۔
کیوں آپ میرے دوست کو ہٹلر کیوں بلا رہے ہیں۔وہ تو اتنا اچھا ہے۔
ہاں اتنا اچھا ہے کہ مجھے بول رہا تھا کہ اگر میری دوست کو کچھ ہوا تو تمھاری جان لے لوں گا۔بھائی یہ کہاں کا انصاف ہے؟
زار آپ نہیں جانتے وہ رشتوں کے معاملے میں ایسا ہی ہے۔
ہاں یہ تو اندازہ ہو گیا تھامجھے۔زرار نے زارا کے ساتھ لیٹتے ہوئے کہا۔
زارا جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ۔
کیوں۔
کیوں کا کیا مطلب ہے۔تم ٹھیک ہو گی تو ہماری شادی ہو گی نہ۔میرے بچے پتہ نہیں کب سے دنیا میں آنے کا انتظار کر رہیں ہیں۔
زار آپ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا اور زرار کی محبت ایک روشن ستارے کی طرح تھی۔انھوں نے اپنے رشتے میں بہت سی تکلیفیں سہیں تھی ۔لیکن ان کی محبت کا ستارہ ہمیشہ روشن رہا اور رہے گا۔
Agr novel main koi glti howi hai to us k liye mazrat khwa hn

ناول: محبت روشن ستارہاز قلم: کائنات شفیق قسط نمبر:20مجھے لگتا تم صحیح کہہ رہے ہو۔چلو چلتے ہیں۔کنزی ہمارا انتظار کر رہی ہ...
23/01/2021

ناول: محبت روشن ستارہ
از قلم: کائنات شفیق
قسط نمبر:20
مجھے لگتا تم صحیح کہہ رہے ہو۔چلو چلتے ہیں۔کنزی ہمارا انتظار کر رہی ہو گی۔
ہمم چلو۔۔۔۔
اسلام وعلیکم!آپی کیسی ہیں؟
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟اود ایسی کیا بات ہے کنزی جو تم نے مجھے اتنی ایمرجنسی میں بلایا ہے۔
وہ آپی ایک بہت ضروری بات ہے۔وہ ایکچوئیلی مجھے آپ کو کسی سے ملوانا ہے۔لہکن آپ پہلے وعدہ کرو آپ مجھ سے ناراض نہی ہوں گی اور نہ ہی ڈانٹیں گی۔کنزی نے کہا۔
تم تم یہاں کیا کر رہے ہو؟تم میرا پیچھا تو نہی کر رہے تھے کنزی نے احد کو دیکھ کر کہا۔
احد کنزی کو دیکھ کر ابھی تک شاک میں تھا۔
اوہ ہیلو میں تم سے بات کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
دیکھیں میں آپ کا پیچھا نہی کر رہا۔
اچھا تو آپ میرا پیچھا نہی کر رہے تو یہاں کیا کر رہے ہو۔
کیوں یہاں پر آپ نے بورڈ لگایا ہے کہ آپ کہ علاؤہ باقی سب کا اندر داخل ہو نا ممنوع ہے۔
تم ایک نہایت ہی بدتمیز لڑکے ہو۔کنزی نے کہا۔
اچھا تو میڈم اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔
بہت اچھے خیال ہیں۔
زارا جو ان دونوں کو بچوں کی طرح لڑتے دیکھ رہی تھی۔وہ بولی
ایک منٹ یہ کیا تم دونوں بچوں کی طرح لڑ رہے ہو؟
آپی میں نہیں یہ لڑ رہا ہے۔اس سے پوچھیں یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔
کنزی کیا ہوگیا ہے تمھیں اور یہ تم بات کس طرح کر رہی ہو۔
آپی آپ اسے نہی جانتی یہ بہت۔۔۔۔
بس کنزی تم جانتی ہو یہ کون ہے؟
نہیں آپی۔۔۔۔
تو پھر اس طرح لڑائی کرنے کا کیا جواز ہے۔
پر آپی میری بات توسنیں۔۔۔۔
بس کنزیبہت ہو گیا۔
زارا کیا کر رہی ہو۔بس کر دوکیوں ڈانٹ رہی ہو۔احد نے کہا۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔بتاو کنزی کیا بات ہے۔
آپی آپ اسے تو بیجھیں۔۔۔۔
کنزی یہ کہی۔ ہی جائے گا۔یہ میرا دوست ہے احد۔
کیا آپی یہ آپ کے دوست ہیں۔وہ احد بھائی۔۔۔
ہاں کنزی کیاہوگیا ہے۔
کچھ نہیں آپی۔ آئیں بیٹھ کہ بات کرتے ہیں۔
ہاں چلو۔
آپی آپ بیٹھیں میں آتی ہوں۔
لیکن تم جا کہاں رہی ہو۔
آپی ابھی آتی ہوں۔اپ میری بات سنیں گی۔کنزی نے احد سے کہا۔
میں۔۔۔احد نے پوچھا۔
جی آپ ہی۔
آپی ہم آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار بھائی آپ مل لیں آپی سے جا کروہ اندر ہیں۔
لیکن کنزی۔۔
بھائی کوئی لیکن ویکن نہیں جائیں۔
ٹھیک ہے جس رہا ہوں۔یہ کہتے ہوئے زرار چلا جاتا ہے۔
کنزی اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو ایک بات پوچھوں۔
جی پوچھیں۔
آپ یہ سب کیوں کر رہی ہیں۔جانتی ہیں نہ اس انسان نے کتنی تکلیف دی ہے زارا کو۔
جانتی ہوں میں سب۔
پھر بھی یہ سب۔۔۔۔
میں جانتی ہوں لیکن شاید آپ نہیں جانتے کہ زارا آپی اور زرار بھائی دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔جانتی زرار بھائی نے آپی کو بہت تکلیف دی تھی۔لیکن اگر آپی تکلیف میں تھیتو سکون میں بھائی بھی نہیں تھے۔اپ نہیں جانتے آپی کے جانے کی بعد تو زرار بھائی کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا۔انھوں نے خود کو مشین بنا لیا تھا۔لیکن اب ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری زارا آپی اور زرار بھائی دونوں ہمیں واپس مل جائیں
لیکن آپ کو نہیں لگتا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
نہیں بہت آسان ہے یہ میں جانتی ہوں۔اج کی ملاقات کے بعد سب پہلے جیسا ہو جائے گا میری آپی اور زرار بھائی بہت جلد ایک ہو جائیں گے۔
آپ کو اتنا یقین کیسے ہے۔
بس ہے۔
مجھے آپ سے بھی سوری کرنی ہے۔
سوری کس لیے۔
وہ میں نے آپ سے اتنی زیادہ بدتمیزی کی تھی اس لیے۔مجھے نہی پتا تھا کہ آپ احد بھائی ہیں۔
کنزی کے بھائی کہنے پہ احد کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔اور اسنے کنزی سے کہا۔
اوہ میں تمھارا کوئی بھائی وائی نہیں ہوں۔
کیوں ۔خیر چھوڑیں thanksاپ نے اتنے سال میری آپی کا خیال رکھا۔اپ ان کے ساتھ اس وقت تھے جب انھیں ہماری ضرورت تھی لیکن ہم نہیں تھے۔
کیسی باتیں کر رہی ہو کنزی وہ میری بھی تو بہن ہے۔لیکن اگر پھر بھی آپ تھینک یو کرنا چاہتی ہیں تو میری دوست بن جائیں حساب برابر۔
دوست اوکے سن friends کنزی نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا۔
Friends
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار اندر آیا تو اس نے زارا کو دیکھا جو اپنے موبائل میں مصروف تھی۔وہ آج زارا کو پورے چار سال بعد دیکھ رہا تھا اور اس کا دل کر رہا تھا کہ زارا یونہی اس کے سامنے رہے اور وہ اسے دیکھتا رہے۔
زرار زارا کے پاس گیا۔اور زارا کو اواز دی۔
زارا۔۔۔
زارا نے آواز سن کے اوپر دیکھا تو اسے لگا کہ وہ دوبارہ سانس نہیں لے سکے گی۔اس نے کپکپاتے ہوئے کہا
زرار آپ یہاں۔
زارا میں تم سے کچھ بات۔۔۔۔۔۔
لیکن زرار کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی زارا اس کے گلے لگ گئی اور زرار سے کہا زار آپ کو پتا میں نے آپ کو کتنا مس کیا میری ایسی کوئی رات نہی تھی جب میں نے آپ کو یاد نہ کیا ہو۔اور کوئی ایسی صبح نہی تھی جب آپ مجھے یاد ۔ہ آئے ہوں۔اپ کو پتا بہت مشکل تھا میرے لیے وہ سب۔میں نے آپ کا کتنا انتظار کیا کہ آپ مجھے لینے آئیں گے۔لیکن آپ نہی آئے۔
زارا میں نے بھی تو تمھیں بہت یاد کیا تمھارے گھر سے جانے کہ بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے تمھارے ساتھ کتنا غلط کیا تھا۔مجھے ایک بار تم سے پوچھ لینا چاہیے تھا۔لیکن۔۔۔۔
زار میں آپ سے بہت ناراض تھی۔سوچا تھا آپ ملیں گے تو کبھی آپ سے بات نہیں کروں گی۔لیکن دیکھیں آپ کے سامنے آتے ہی سب کچھ بھول گئی۔
زارا نے زرار سےالگ ہوتے ہوئے کہا۔
زارا پلیز مجھے معاف کر دو۔تمھارے جانے کے بعد ایک بھی دن ایسا نہیں تھا جب میں سکون سے رہا ہوں۔ہر روز لگتا تھا کہ میرا آخری دن ہے لیکن ایسا ہوا ہی نہیں۔زارا پلیز معاف کر دو اور ختم کر دو میری اور اپنی یہ سزا میں اب تمھارے بغیر ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتا۔پلیز چلو میرے ساتھ گھر چلتے ہیں گھر والے تمھیں دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔
نہی زار میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتی۔اسر رہی بات معاف کرنے کی تو میں نے آپ کو معاف کیا۔
لیکن زارا جب معاف کر دیا ہے تو گھرنہ جانے کا کیا مطلب ہے۔
زار پلیز میں آپ کے ساتھ نہی جا سکتی اور نہ ہی آپ مجھے فورس کریں گے۔
لیکن۔۔۔
زارا چلیں کافی لیٹ ہو گیا ہے۔نایاب جو بھی پک کرنا ہے ابھی۔احد نے آتے ہوئے کہا
ہاں چلو اوکے کنزی میں چلتی ہوں۔زار اپنا خیال رکھئیے گا۔
زارا چلو یار گھر چلتے ہیں نہ
نہی زار ابھی نہی۔
لیکن آپی کیوں نہیں گھر جانا آپ نے۔
کنزی میری گڑیا میں نے اپنا سامان بھی تو لینا ہےنہ اور نایاب کو بھی اور پیکنگ کرنے میں بھی تو وقت لگے گا نہ۔
تو آپی میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں نہ۔
نہیں کنزی تم گھر جاؤں۔
اور میں احد کے ساتھ ا جاؤں گی گھر
احد تم چلو میں ا رہی ہوں۔
اوکے۔احد نے کہا
بائے دوست پھر ملیں گے۔
بائے کنزی نے کہا۔
اچھا کنزی چلتی ہوں اپنا خیال رکھنا۔
زار آپ بھی بائے۔ یہ کہتے ہوئے زارا چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا کیا تم سچ میں واپس جارہی ہو۔احد نے زارا سے پوچھا
ہاں احد میں سچ میں واپس جا رہی ہوں۔اب مجھ سے اکیلے نہی رہا جاتا۔تم جانتے ہو میں آج بہت خوش ہوں ایک دو دن میں واپس گھر چلی جاؤں گی۔
چلو جیسا تمھیں ٹھیک لگے۔
مجھے تمھیں ایک اور بات بھی بتانی ہے زارا۔
کیا بات بتانی ہے احد
وہ ایکچوئیلی زارا وہ جو لڑکی مجھے مال میں ملی تھی نہ۔۔۔۔
وہی جس کے بارے میں تم نے بتایا تھا۔
ہاں وہی احد نے کہا
کیا ہوا اسے؟؟؟
اسے کچھ نہیں ہوا۔
پھر کیا بات ہے۔احد
وہ مجھے آج ملی تھی۔اسر تم جانتی ہو اسے۔
میں جانتی ہوں اسے کیسے۔
ارے وہ لڑکی تمھاری بہن ہے کنزی۔احد نے کہا۔
واٹ تمھارا مطلب ہے کہ وہ لڑکی جس سے تم شادی کرنا چاہتے ہو وہ کنزی ہے۔
ہاں زارا وہ کنزی ہے تمھاری بہن۔
لیکن مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔
زارا کیا مطلب ہے تمھارا؟؟؟
احد میرا مطلب بلکل صاف ہے کہ تم مجھے اپنی بہن کے لیے پسند نہی ہو۔زارا نے کہا
لیکن کیوں زارا کیا کمی ہے مجھ میں جو تمھیں میں تمھاری بہن کے لیے پسند نہی ہوں۔
اچھا تم میں ہے ہی کیا جو تمھیں میں اپنی بہن کے لیے پسند کروں۔
زارا یہ مت بھولو کہ میں بھی تمھارا بھائی ہوں۔اور کیا کمی ہے مجھ میں ہینڈسم ہوں سمارٹ ہوں ویل سیٹلڈ ہوں۔اور سب سے بڑھ کر تمھاری بہن سے محبت کرتا ہوں۔
مجھے پھر بھی نہی منظور۔زارا نے کہا
جاری

ناول:محبت روشن ستارہازقلم:کائنات شفیق کچھ دن بعد تانیہ کیا آپ مجھے زارا کا اڈریس دے سکتی ہیں۔نور نے تانیہ سے پوچھا کیوں ...
18/01/2021

ناول:محبت روشن ستارہ
ازقلم:کائنات شفیق
کچھ دن بعد
تانیہ کیا آپ مجھے زارا کا اڈریس دے سکتی ہیں۔نور نے تانیہ سے پوچھا کیوں تم نے کیا کرنا ہے زارا کا اڈریس
مجھے ان سے بات کرنی ہے۔
کیا بات کرنی ہے تمھیں نور
مجھے ان سے معافی مانگنی ہے اور ان کو گھر کے لے کہ آنا ہے۔
نور تم کب سے اس کی خیرخواہ بن گئی۔
تانیہ پلیز بتا دیں میں اب اور گلٹ میں نہی رہ سکتی۔اپ جانتی ہے میری شادی ہو ے والی ہے اور میں اپنی نئی زندگی کا آغاز سچے دل سے کرنا چاہتی ہوں۔
نور مجھے اس کے اڈریس کا تو نہی پتا لیکن ہاں ہاسپٹل کا نام بتا سکتی ہوں۔
پلیز بتا دیں۔
تانیہ نور کو ہاسپٹل کا نام بتا کر فون رکھ دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعد نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ نور سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اس کے گھر والے نور کا رشتہ لے کر آتے ہیں۔
تو دوسری طرف نور سب کو بتاتی ہے کہ اس رات سعد نے جو کچھ بھی کہا وہ میرے کہنے پر کہا تھا۔اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔اسنے یہ بھی بتایا کہ وہ سعد سے شادی کرنا چاہتی ہے۔
کچھ خیل وحجت کے بعد نور اور سعد کا رشتہ طے ہو جاتا ہے اور ایک مہینے بعد شادی طے پاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو زارا آپی مجھے آپ سے ملنا ہے۔
کنزی سب ٹھیک تو ہے نہ تم مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہو
جی آپی سب ٹھیک ہے۔بس میرا دل کر رہا ہے آپ سے ملنے کو۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم ایسا کرو شام میں مجھ سے ملنے آجانا
ٹھیک ہے آپی ۔
کیا ہوا زارا تم کچھ پریشان لگ رہی ہو۔احد نے زارا سے پوچھا
نہی احد ایسی کوئی بات نہیں ہے۔بس کنزی مجھ سے ملنا چاہتی ہے اور مجھے لگ رہا کہ ضرور کوئی بات ہے جو اس۔ ے مجھ سے ملنے کا کہا ہے۔
اس نے تمھیں کچھ بتایا ہے کہ وہ کیوں تم سے ملنا چاہتی ہے۔
نہی اس نے کچھ نہی بتایا۔
تو بس پھر چل کرو یار ویسے ہی دل کر رہا ہو گا
ہمممم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار بھائی آپ کا کام ہو گیا ہے۔کنزی نے زرار سے کہا
تھینک یو گڑیا۔
تھینک یو کی کوئی بات نہیں ہے بس آپ اپنا وعدہ یاد رکھیے گا کہ آپی کو کوئی دکھ نہ ہو۔
گڑیا میں بھی چاہتا ہوں کہ زارا مجھے اور خود کو بھی اس سزا سے آزاد کر دے جو۔۔۔۔۔
چھوڑو یہ بتاؤ تمھاری آپی مان کیسے گئی مجھ سے ملنے کے لیے
وہ آپ سے ملنے کے لیے نہی بلکہ مجھ سے ملنے کے لیے راضی ہوئی ہیں۔
یہ کہا کہہ رہی ہو کنزی وہ مجھ سے بات کرنے کے لیے نہی راضی تو۔۔۔
اوہو بھائی آپ بھی نہ آپ بس شام کو جانے کی تیاری کریں اور ہاں ایک بات اور اپنا یہ مجنوں والا حلیہ بھی درست کر لیجیے گا۔
جو حکم آپ کا سالی صاحبہ۔زرار نے مسکراتے ہوئے کہا
نہی اور کچھ نہی بس ایسے ہی مسکراتے رہا کریں اچھے لگتے ہیں۔
کنزی یہ کہتے ہوئے چکی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعد کیا تم مجھے زارا کے پاس لے کے جا سکتے ہو؟
کب جانا ہے؟
آج ہی جانا ہے تم بتاؤ فری ہو۔افر تم فری ہو تو ٹھیک نہی تو ڈرائیور کے ساتھ چلی جاتی ہوں۔
نہی آج تو میں فری ہوں۔تم مجھے ٹائم بتا دو میں تمھیں پک کرلوں گا۔
ٹھیک ہے تم ایک گھنٹے بعد مجھے پک کر لینا۔
Ok Noor bye
…………….,...........................
ڈاکٹر زارا کہاں ملیں گیExcuse me
نور نے ریسپشن سے پوچھا۔
ریسیشنسٹ نے نور کو زارا کے بارے میں بتایا۔
نور جب زارا کے روم میں آئی تو نور کی طرف زارا کی پیٹھ تھی۔
زارا نور نے زارا کو بلایا۔
زارا نے مڑ کے دیکھا تو حیران رہ گئی لیکن پھر اس نے خود کو بہت جلد نارمل کر لیا۔اور نور کو کہا
ارے نور تم آؤ نہ ا۔در وہاں کیوں کھڑی ہو۔
زارا کیسی ہو تم؟
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟
میں بھی ٹھیک ہوں۔
نور تم ہاسپٹل میں خیریت تم ٹھیک تو ہو۔
ہاں زارا میں ٹھیک ہوں۔میں یہاں صرف تم سے ملنے آئی ہوں۔
مجھ سے ملنے کوئی کام ہے کیا؟
نہی زارا کوئی کام نہیں ہے۔میں آج یہاں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔میری ایک غلطی کی وجہ سے تمھاری زندگی برباد ہو گئی۔تمھاری زندگی کے چار سال میری ایک غلطی کی وجہ سے اگر ہو سکے تو پلیز مجھے معاف کر دینا۔
کیسی باتیں کر رہی ہو نور۔میرے دل میں تمھارے لیے کوئی گلہ شکوہ نہی ہے۔ خیر یہ بتاؤ یہاں کیسے آنا ہوا۔
میں صرف تم سے معافی مانگنی تھی۔
میں نے تمھیں معاف کر رہا ہے۔
زارا اگر تم نے مجھے معاف کر دیا ہے تو پلیز ہمیشہ کے لیے گھر واپس آ جاؤ تمھارے بغیر وہ گھر گھر نہی لگتا۔جب سے تم نے اس گھر کو چھوڑا ہے۔۔۔چھوڑو مجھے تم یہ بتاؤ کیا تم واپس آ رہی ہو۔
دیکھو نور میں نے تمھیں معاف کر دیا ہے۔اور یہ بات بھی سچ ہے کہ میرے دل میں تمھارے لیے کوئی گلہ شکوہ نہی ہے۔لیکن گھر واپس جانے کے لیے ابھی میں تیار نہی ہوں مجھے کچھ وقت چاہیے۔تا کہ میں کوئی فیصلہ کر سکوں۔
زارا جلدی کوئی فیصلہ کر لو اور پلیز جتنی جلدی ہو سکے واپس آ جاؤ۔تمھارا احسان ہے مجھ پر۔۔۔۔۔۔۔
بس کر دو نور ہم لوگ کزنز ہے۔
اچھا زارا چلتی ہوں میں خدا حافظ۔
خداحافظ خیال رکھنا اپنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احد چلیں۔
کہاں جانا ہے۔
تمھیں بتایا تو تھا صبح کہ کنزی سے ملنے جانا ہے۔
اوہ ہاں سوری یار میں بھول گیا تھا۔بس دو منٹ دے دو۔میں بس ابھی تھوڑی دیر میں آیا۔ تم گاڑی میں بیٹھو۔
ٹھیک ہے میں جا رہی ہو گاڑی میں اور جلدی آنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا تم مجھے بلاوجہ کی ساتھ لے آئی ہو۔ میں کیا کروں گا تم دونوں بہنوں میں
احد ڈرامے نہ کرو۔چپ کر کے چلو میرے ساتھ۔مجھے پہلے ہی عجیب سا فیل ہو رہا ہے۔
کیوں ایسا کیا فیل ہو رہا ہے۔
پتا نہیں بس مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آج کچھ ہونے والاہے۔ایسا لگ رہا ہے جیسے زار یہی کہیں میرے آس پاس ہوں۔
زارا تم پریشاں نہ ہو۔سب ٹھیک ہو گا۔ہم یہاں کنزی سے ملنے آئے ہیں۔بس اس سے مل کہ چلے جائیں گے۔
جاری

Address

Sialkot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kainat shafique novel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Kainat shafique novel:

Share