02/08/2026
ہار جیت تو قسمت و مقدر کی بات ہے، وہ لوگ، شخصیات، بزرگ ہستیاں، علمائے کرام اور دین دار طبقے یاد رہیں گے، جنہوں نے ایک دینی جماعت کو چھوڑ کر صرف نون لیگ کی حمایت ہی نہیں کی، بلکہ لوگوں کو زبردستی قائل و فاعل کیا کہ ایک مرد ذات یعنی مسلم بھائی کو چھوڑ کر عورت ذات یعنی مریم جاوید کو ووٹ کاسٹ کیا جائے،
ایسے لوگوں کے لئے ویسے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ جنہوں نے صرف اور صرف اپنی ذاتیاں و جماعتی تعصبات کی وجہ سے مرکزی مسلم لیگ کی حمایت نہیں کی۔
سپوٹ اور ووٹ تو بڑی دور کی بات ہے، بعض دین کے ٹھیکیداروں نے ان کے اوپر طرح طرح کی آوازیں کسیں اور برا بھلا کہا۔۔۔۔۔ او اللہ کے بندو ۔۔۔ اگر تمہارے ایک ووٹ یا سپورٹ کی وجہ سے اگر اگر نوجوان جو عوام کا درد دل میں رکھتا ہے، اور بلاشبہ رکھتا ہے، جیت جاتا ہے تو اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
ایک نام نہاد سیاسی جماعت نے انتہا درجے کی دھاندلی کی بلکہ اس کو دھاندلہ کا نام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔۔۔۔۔۔
اس نام نہاد جماعت کا نعرہ تھا----- امن، تعلیم، ترقی
کیا یہ امن ہے ؟؟؟؟
کیا یہ تعلیم دی ہے ضلع نارووال کو ؟؟؟
ہمیں ایسی ترقی کی کوئی ضرورت نہیں ؟؟؟
ہمیں ایسے امن، تعلیم اور ترقی کی کوئی ضرورت نہیں ...........
اس سے بہتر تھا کہ ہم ویسے ہی زندگی بسر کرلیتے ۔۔۔۔
پورے پاکستان کی نظریں شہر نارووال کی طرف تھیں، لیکن جب لوگوں نے آج کی کرپشن اور دھاندلی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں بلکہ مشاہدہ کیا تو لوگوں نے شہر نارووال کے بارے طرح طرح کہ باتیں کیں۔۔۔۔
الفاظ و معنی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور
اس شعر کا معانی و مفہوم آج کے ملاؤں کی دینی و سیاسی غیرت دیکھ کر سمجھ آگیا۔
نوٹ: میں سیاسی طور پر کسی بھی جماعت کا حمایتی نہیں ہوں، البتہ دینی جماعت ہماری اولاً ترجیع ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ العزیز
خواہ وہ مرکزیہ ہو،قرآن و سنہ ہو یا پھر جمیعت اہل حدیث پاکستان
والسلام علیکم---------------
یاسر مسعود بھٹی