Bazm e Saibaan

17/02/2026

Celebrating my 1st year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

17/07/2025

وہ مجھ کو دستیاب بڑی دیر تک رہا
میں اس کا انتخاب بڑی دیر تک رہا"

یہ صرف ایک شعر نہیں، بلکہ ایک مکمل غزل ہے جو دل کی تہوں کو چُھو جاتی ہے۔
سائبان راجپوت کی خوبصورت آواز میں یہ ویڈیو آپ کے احساسات کو لفظوں کی زبان دیتی ہے۔

🌿 اس غزل میں آپ کو محبت، جدائی، اور انتخاب کے لمحوں کا عکس ملے گا۔
🎙️ اگر آپ اردو ادب، شاعری اور درد کی زبان سے محبت رکھتے ہیں، تو یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے۔

پسند آئے تو لائک، کمنٹ، شئیر ضرور کریں اور چینل "بزمِ سائبان" کو سبسکرائب کریں۔




#محبت
#جدائی

#احساس
#اشعار







16/07/2025

موبائل فون اور ہم
✍️ سائبان راجپوت

ایک وقت تھا… جب بچے باپ کی انگلی تھام کر چلنا سیکھتے تھے،
جب بیویاں شوہر کے ساتھ بیٹھ کر دن بھر کی باتیں کرتی تھیں،
جب کھانے کی میز پر صرف نوالے نہیں، محبت کے قصے بھی بٹتے تھے…

مگر آج؟
آج باپ ہے… مگر آنکھیں موبائل کی اسکرین میں گم ہیں،
بچہ ہے… دو تین سال کا، آس پاس کھیل رہا ہے،
کبھی کسی کھلونے سے بات کرتا ہے،
کبھی دروازے کو دیکھتا ہے…
شاید وہ سمجھتا ہے کہ دروازہ اس سے بات کر لے گا…
کیونکہ باپ تو مصروف ہے… فون کے اندر۔

اور وہ بیوی؟
جو سارا دن کام میں جُٹی رہتی ہے،
بچوں کو سنبھالتی ہے، کھانا پکاتی ہے،
شام کو جب شوہر آتا ہے،
تو دل چاہتا ہے کہ وہ دو بول بولے،
مگر شوہر... شوہر ایک اسکرول میں گم ہے،
انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب…
بس انگلیاں چل رہی ہیں…
اور دلوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے…

رات کو جب بیوی خاموشی سے اپنے شوہر کو دیکھتی ہے،
تو اُس کی آنکھیں کہتی ہیں:
"کاش میں بھی تمہاری اسکرین پر آجاتی…
تو شاید تم مجھے بھی تھوڑا دیکھ لیتے…"

ہم اپنے رشتے موبائل کے پیچھے کیوں چھوڑ آئے ہیں؟
یہ فون تھا… سہولت کے لیے،
یہ رشتے تھے… سکون کے لیے۔

کب آخر بار اپنے بچے کو غور سے دیکھا تھا؟
کب آخری بار بیوی کی بات دھیان سے سنی تھی؟
کب آخری بار بغیر موبائل کے ساتھ بیٹھے تھے؟

یاد رکھیے…
فون میں گُم ہو کر جو وقت ہم گنوا رہے ہیں،
کل یہی وقت…
ہمیں پچھتاوے کی صورت میں یاد آئے گا۔

اپنے موبائل سے نظریں ہٹائیے…
اپنے بچوں کی آنکھوں میں جھانکیے…
اپنی بیوی کی خاموشی کو سنیے…
رشتوں کو وقت دیجیے،
کیونکہ محبت لفظوں سے نہیں…
توجہ سے جیتی جاتی ہے۔

11/07/2025

سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے؟
ایک خوبصورت نظم..
آواز: سائبان راجپوت
پیشکش: بزمِ سائبان

# #محبت #اردوشاعری

10/07/2025

محبت صرف ساتھ نبھانے کا نام نہیں…
کبھی کبھی محبت چھوڑ دینے کا بھی تقاضا کرتی ہے۔

کیا واقعی محبت کا مطلب ہمیشہ ساتھ رہنا ہے؟
نہیں… بعض اوقات دوری ہی وہ قربانی ہوتی ہے
جو سچی محبت مانگتی ہے۔

یہ ویڈیو اُن لوگوں کے لیے ہے
جو کسی کو دل سے چاہنے کے باوجود،
اسے خود سے دور چھوڑ دینے پر مجبور ہو گئے…
اور آج بھی اُس کی خوشی کی دعا کرتے ہیں…
آمین کی طرح… بے ساختہ، بے اختیار…

❤️ اگر آپ نے کبھی دل سے کسی کو چاہا ہے،
تو یہ ویڈیو ضرور آپ کو محسوس ہوگی۔

🎥 مکمل ویڈیو دیکھنے کے بعد اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں
👇
#محبت #اردوویڈیو #جدائی

09/07/2025

بڑھاپا محض جسمانی کمزوری کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی تنہائی ہے جو ہر رشتے کے ہوتے ہوئے بھی دل کو چیر دیتی ہے۔
یہ ویڈیو صرف ایک احساس کی نہیں، ایک ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ والدین ہماری زندگی کی وہ بنیادیں ہیں جنہوں نے ہمیں کھڑے ہونے کے قابل بنایا۔
بیٹیاں، بیٹے، بہوئیں، داماد سب کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ بڑھاپے میں والدین کی خدمت صرف اخلاقی نہیں، روحانی فرض ہے۔
🌿 اگر اس ویڈیو نے دل کو چھو لیا ہو، تو شیئر ضرور کیجیے تاکہ احساس کا یہ پیغام ہر دل تک پہنچے۔

✍🏻 تحریر : بنت نصیر
آواز: سائبان راجپوت

#بڑھاپا #والدین #تنہائی #احساس

08/07/2025

کبھی کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ اگر میں اس دنیا میں نہ رہا تو؟
تحریر: رانا جاوید
آواز: سائبان راجپوت

سنیں اور اگر پسند آئے تو فالو کریں

حسین یادیں..رمضان المبارک کی یہ رات اور میں اکیلا بیٹھا گاؤں میں سوچ رہا ہوں کہ یہ وہی گاؤں ہے جہاں کا ہر پتھر، ہر درخت،...
19/03/2025

حسین یادیں..

رمضان المبارک کی یہ رات اور میں اکیلا بیٹھا گاؤں میں سوچ رہا ہوں کہ یہ وہی گاؤں ہے جہاں کا ہر پتھر، ہر درخت، ہر گلی، ہر موڑ میری آنکھوں کے سامنے کسی کہانی کی طرح چل رہا ہے... یہ وہی گاؤں ہے جہاں کی چوپڑی ہوئی روٹی، خالص دودھ، اور مکھن سے لبریز نوالے کبھی زبان پر ایسے ذائقے چھوڑ جاتے تھے جو شہر کی رنگینیوں میں بھی کبھی نہیں ملتے۔ تب ہر ایک لقمہ، ہر ایک گھونٹ میں سکون کا ایک دریا بہتا تھا، ایک سادگی، ایک خلوص تھا جو ہر ذائقے میں گھلا ہوا تھا۔ وہ کزنز کے ساتھ بے فکری کی گپ شپ، وہ بے مطلب کی نوک جھونک، وہ شامیں جب ہم سب مل کر اکٹھے بیٹھتے اور رات گئے تک ہنسی کا شور گونجتا تھا۔ آج دل چاہتا ہے کہ وقت کا پہیہ وہیں رک جائے، وہیں جم جائے جہاں ہم سب کے چہرے مسکراہٹوں سے دمکتے تھے۔ مگر یہ وقت! یہ بے رحم وقت... کبھی تھم کر بھی کیوں نہیں دیکھتا؟ اب جب اس گاؤں میں آیا ہوں، تو سب کچھ ویسا ہی ہے، مگر پھر بھی کچھ تو بدل گیا ہے۔ وہ محبت جو ہر چہرے سے چھلکتی تھی، وہ جو ہر ملنے والے کے ماتھے پر خلوص کی طرح لکھی ہوتی تھی، اب کہیں گم سی لگتی ہے... کچھ چہرے اس دنیا کی بھیڑ میں کھو گئے، کچھ اپنوں کی چاہتوں سے بیگانہ ہوگئے.. دل چاہتا ہے کہ وہ سب لمحے، وہ سب لوگ واپس مل جائیں، لیکن یادیں ہیں کہ بے قابو سمندر کی طرح بار بار دل کے ساحل سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہیں... کبھی کبھی یہ یادیں کسی شہہ میں ڈوبی پن سی چبھتی ہیں، کبھی زہر میں بجھی تلوار بن کر دل کو کاٹتی ہیں۔ وقت کا یہ کرب کیوں اتنا بے حس ہے؟ کیوں یہ پلٹ کر نہیں دیکھتا؟ کیوں ہمیں ان یادوں کے خمار میں ہی تڑپاتا رہتا ہے؟ شاید یہی زندگی کی حقیقت ہے کچھ لمحے جو گزر کر بھی نہیں گزرتے، کچھ یادیں جو بچھڑ کر بھی نہیں بچھڑتیں....

میں ہوں، دل ہے، تنہائی ہے...
تم بھی ہوتے اچھا ہوتا......

بےنیاز لوگ..جن کے پاس متبادل موجود ہوں، انہیں نہ کسی کے روٹھنے کی پرواہ ہوتی ہے، نہ کسی کے ٹوٹنے کا درد، اور نہ ہی کسی ک...
17/03/2025

بےنیاز لوگ..

جن کے پاس متبادل موجود ہوں، انہیں نہ کسی کے روٹھنے کی پرواہ ہوتی ہے، نہ کسی کے ٹوٹنے کا درد، اور نہ ہی کسی کے بچھڑ جانے کا غم۔ وہ اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں، جیسے درخت سے گرتے پتے کو ہوا کی پرواہ نہ ہو، جیسے جلتے چراغ کی لو کو اندھیرے کی کوئی فکر نہ ہو۔
آپ چاہے کتنی ہی شدت سے چاہیں، کتنی ہی خلوص سے نبھائیں، مگر ان کے پاس ہمیشہ کوئی اور ہوتا ہے.. کوئی اور جو آپ کی جگہ لے سکتا ہے، جو آپ کی غیر موجودگی کو بھر سکتا ہے۔ وہ آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے بےنیاز ہوتے ہیں، جیسے کسی دریا کو ایک قطرے کی کمی کا غم نہ ہو، جیسے صحرا کو ایک ذرہ خاک کی پرواہ نہ ہو....
آپ تڑپتے ہیں، سسکتے ہیں، یہ سوچ کر کہ آپ کی کمی انہیں محسوس ہوگی، مگر انہیں تو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلا کیسے پُر کرنے ہیں۔ وہ پہلے ہی اگلی شطرنج کی چال سوچ کر بیٹھے ہوتے ہیں، جیسے آپ کوئی مہرہ ہوں جسے کسی بھی وقت بدلا جا سکتا ہے۔
اور آپ؟ آپ اپنی ہر سانس میں ان کے ہونے کا یقین رکھتے ہیں، اپنی ہر دعا میں ان کا نام دہراتے ہیں، اپنی ہر خوشی میں ان کا سایہ تلاش کرتے ہیں..
بدلے میں مگر وہ؟ وہ آپ کو ایک بےنام کہانی کی طرح چھوڑ دیتے ہیں، جیسے پرانے اخبار کو کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے، جیسے بجھتے دیے کی آخری لو سے کسی کو سروکار نہیں ہوتا۔ آپ اپنی تکلیف میں تڑپتے رہتے ہیں، یہ سوچ کر کہ شاید انہیں کبھی احساس ہو، شاید وہ پلٹ کر دیکھیں، شاید انہیں احساس ہو کہ آپ نے کس حد تک انہیں چاہا تھا۔ مگر وہ کبھی پلٹ کر نہیں دیکھتے۔ کیونکہ انہیں ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ انہیں آپ کی جگہ لینے کے لیے کوئی اور مل چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے پاس ہمیشہ متبادل ہوتا ہے....

اور آپ؟ آپ ٹوٹ کر بھی کسی کی جگہ نہیں لے پاتے، کیونکہ محبت کرنے والے متبادل نہیں رکھتے۔ وہ ایک بار کسی کو دل میں بسا لیں تو پھر وہ جگہ ہمیشہ ویسی ہی خالی رہتی ہے، جیسے خزاں میں بچھڑے ہوئے پتوں کی جگہ کبھی نہیں بھرتی، جیسے بادلوں کے بچھڑنے سے آسمان میں پیدا ہونے والا خلا کبھی پورا نہیں ہوتا۔ بس یہی فرق ہوتا ہے بےنیاز لوگوں اور چاہنے والوں میں۔ چاہنے والے ٹوٹ جاتے ہیں، مگر بدل نہیں پاتے۔ اور بےنیاز لوگ بدل جاتے ہیں، مگر ٹوٹتے نہیں...

17/3/2025 Monday
16 Ramazan Mubarak 1446 Hijri
5:20am

#اردوادب #بزمسائبان #پوسٹ

15/03/2025

📚 سلسلہ: آؤ مطالعہ کریں 📚
👈 پیشکش بزمِ سائبان 🍀

✅ ناول: اے شب تاریک گزر
✍️ صدف ریحان گیلانی
👈 ( قسط نمبر: 1️⃣ )

کھڑکیاں دروازے بند کرلینے سے اگر زندگی کے ہارے ہوئے لمحوں کا آسیب اپنی ہیبت ناکی سمیت کہیں فنا ہوجاتا تو پھر بھلا دنیا میں دکھ ہی کیا رہ جاتا مگر مصیبت تو یہی ہے کہ چاہے خود کو کسی اونچی فصیلوں والے قلعے میں بھی محصور کرلو۔ یہ آسیب وہاں پر بھی پھڑپھڑاتا ہوا پہنچ جاتا ہے۔
بہتیرا جھٹکو، نظریں چراؤ، منہ پھیرلو۔
لیکن یہ کم بخت کچھ یوں اپنے خونی پنجوں میں دبو چتا ہے کہ پور پور نیلی پڑجاتی ہے۔ ساری آہیں،کراہیں پن کر سینے میں سر پٹخنے لگتی ہیں۔ مارے نالے حلق میں گھٹ گھٹ جاتے ہیں۔ روح صحراؤں کے سفر پر نکل پڑتی ہے۔
کہنے کوتو وہ دو گھنٹوں سے کمرہ بند ہوئے سورہی تھی لیکن کیا وہ واقعی سورہی تھی؟
آہ… نیند !! جس کی وہ کبھی بے حد رسیا تھی۔ خوب سوتی مزے سے جی بھر کر بے فکری کے جھولوں میں نہ صرف اپنے بستر پر بلکہ وہ تو کہیں بھی پڑ کر سوجاتی ہیں۔ نیند تو آنکھ بندکرنے کی محتاج ہوتی یوں آکر پلکوں پر بسیرا کرتی کہ پھر کوئی سر پر آکر ڈھول پیٹتا رہے اس کی بلا سے۔ ہک ہاہ۔ کیادن تھے وہ بھی جب زندگی پورے رنگوں کے ساتھ اس کے اندر جیتی لیتی تھی اور … اب تو جیسے دمے کے جھٹکے لگتے تھے سانس بھی کھینچ کھینچ کر لینا پڑتا تھا۔
آخر ہمارے ہاتھ کی لکیریں ویسی ہی کیوں نہیں رہتیں جیسی ہم چاہتے ہیں۔ صاف ستھری سیدھی سڑک کے جیسی جس پر خوابوں کی رتھ دوڑتی چلی جائے۔ بغیر رکے، بنا جھٹکا کھائے، کوئی اسپیڈ بریکر نہ روکے، کوئی اشارہ نہ ٹوکے، ہر راستہ ہوا کے پروں کے ساتھ ساتھ طے ہوتا چلا جائے۔ مگر… اوف یہ سب خواب، خیال، تصورانہی ہاتھوں کی الجھی، گنجلک لکیروں میں گم ہوگیا تھاجی تو چاہتا تھا اپنی ہی ہتھیلیوں کو کھرچ ڈالے، لیکن کیاہوتا پھر؟…
آخر چاہا ہی تھا کیا اس تقدیر سے؟
صرف ایک خواب؟
فقط اک آرزو؟
اک تمنا…
اک خواہش…جو یو ں لاحاصل قرار دی گئی کہ بدلے میں آنکھیں ہی بے خواب کردی گئیں۔ ابھی تو تتلیوں، پھولوں کے رنگ آنچل میں سمیٹنا چاہے تھے کہ جانے کہاں سے کانٹے اگ آئے۔

سامنے قیمتی مشروب سے بھرا پیالہ رکھا ہو اور پیاس لگی ہوپانی کی۔ تو پھر وہ پیالہ نظروں میں جچتا نہیں۔ جی ہی نہیں کرتا اسے ہونٹوں تک لے جانے کو… پانی … پانی… روم روم سے آواز آتی ہے۔
بڑھتی تشنگی جان کو جھلسانے لگتی ہے روح تڑک کر نڈھال پڑجاتی ہے۔ وہ بھی خار خار ہوگئی تھی۔ زخم تازہ تھے سوداد بھی اسی قدر تھا اور پھر اپنے ایسے زخم پرانے ہو بھی جائیں تو ان پر کھرنڈ آتا ہی کہاں ہے وہ تو ہمیشہ اسی طرح رہتے ہیں۔ پانی پر جمی کاٹی کی طرح۔ ذرا سا چھولو تو پر درد وہی اذیت رسانی۔ جو رگ رگ کو کاٹتی چلی جائے۔ کنپٹیوں سے ہوکر بہتا مائع آج پھر تکیہ بھگورہا تھا۔ اندھیرے کمرے میں یک لخت روشنی کی کرن سی پھوٹنے لگی سائڈ ٹیبل پر رکھا سیل فون تھر تھرارہا تھا۔
دونوں ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑتے ذرا سا سراٹھا کر چمکتی اسکرین پر نظر ڈالی ”عروج کالنگ” اوہنوں۔ اس نے کوفت سے سرپھر تکیے پر ڈالا۔ وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور اس وقت پھر عروج؟ حلق تک میں کرواہٹ گل گئی تھی۔
بندکمرے میں دم گھٹنے لگا تھا اس نے بڑھ کر کھڑکیاں کھول دیں۔
اک اور شام غم ڈھل رہی تھی اک اور شب تاریک کو صدا دے کر افق کی لالی اور اس کی آنکھوں کی سرخی میں کوئی خاص فرقا نہ دکھتا تھا۔ عارض نرگس سے ہورہے تھے۔ طبیعت پر عجب کسل مندی سی چھائی تھی۔ جو کھلے پٹ سے اندر آتی تازہ ہوا سے بھی دور نہ ہوئی اور شاید دور ہو بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ جب خزاں اندر بہت دور تک اپنا خیمہ گاڑلے تو پھر باہر کے سب موسم بے اثر ہوجاتے ہیں۔
کتنی دیر وہ چوکھٹ پر ہتھیلیاں ٹکائے سورج کو گگن کے پار اترتے دیکھتی رہی۔ فون وقفے وقفے سے تھرتھراتا رہا اس کی صرف اک نظر عنایت کو جو وہ ہر گز بخشنے پر تیار نہ تھی۔ واش روم جاکر جلتی آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کے کتنے ہی چھینٹے مارے لیکن لگتا تھا کہیں چنگاری سی اب بھی دبی ہے۔ دوپٹے کے پلوسے چہرہ تھپتھپاتی لاؤنج میں چلی آئی۔
خیر نال اٹھ گئی دھی رانی ۔ میں تمہارے ہی پاس آرہی تھی۔ چائے لے آؤں پتر۔ اسے دیکھتے ہی صفیہ بوا کچن سے نکلیں۔
ہاں بوا چائے لے آئیں اور ہاں میرے سر میں بہت درد ہے۔ ساتھ کوئی پین کلر بھی لادیں پلیز۔
اور وہ نہ بھی بتاتی تب بھی انہوں نے دیکھ لیا تھا۔ بے رونق ستا ہوا چہرہ، سوجی آنکھیں، جو صاف چغلی کھا رہی تھیں۔ بے اختیار ان کا ہاتھ اس کے ماتھے پر ٹکا۔
سر میں درد کیوں ہے پتر۔ خیرتے ہے ناں اور یہ روز روز سر میں درد کیوں ہونے لگاہے پتر۔ پھر تمہارا بنا مشورے گولیاں پھنکنا اور تو ٹھیک نہیں ہے بچے۔ دیکھو تو یہ رنگ کیساپیلا پھٹک ہورہا ہے۔ میں تو کہتی ہوں کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھاؤ۔
ڈاکٹر… اف سینیسے اک ہوک سی اٹھی۔ جوروگ جو نک بن کر اس کی روح کو چمٹ گئے تھے ان کا علاج اب کسی ڈاکٹر کے پاس تھا کیا؟ اگر کہو تو سر میں تیل ڈال دوں لگتا ہے کئی دن سے کنگھا ہی نہیں کیا۔
دیکھو تو کیا حشر ہورہا ہے۔ ان کی انگلیاں اس کے الجھے بالوں میں پھنس گئی تھیں۔ اچھا آپ تیل بھی لگادیجئے گا کیا فرق پڑتا ہے۔ ابھی تو جائیں چائے اور پین کلر لے آئیں پلیز… زرتاشہ نے صوفے کی بیک سے سرٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ بوا کچن کی جانب مڑگئیں۔
ارے بھئی تم خود ادھرہو۔ فون کہاں ہے تمہارا۔ عروج کب سے کال کررہی ہے تمہیں حد ہوتی ہے لاپروائی کی۔ یہ لو عروج ڈارلنگ بات کرلو اس سے۔
نفیسہ اچانک جانے کدھر سے نکلیں تھیں اور قبل اس کے کہ وہ کچھ سمجھتی یا منع کرپاتی انہوں نے اپنا قیمتی سیل فون اس کے کان سے چپکا دیا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق اب کیا ہوسکتا تھا علاوہ بات کرنے کے۔
خواہ مخواہ کی خوش اخلاقی بگھارنا اس کے نزدیک ہمیشہ سے منافقت کے زمرے میں آتا تھا اور غضب یہ کہ اب اسی منافقت کے سہارے سفر زیست طے کرنا ہوگا۔کبھی بہت زعم سے ہم کئی باتوں پر کاندھے اچکاکر ”آئی ڈونٹ کیئر” کہہ دیتے ہیں اور پھر یوں ہوتا ہے کہوہی باتیں کسی وقت پلٹ کر منہ چڑانے لگتی ہیں تب ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے سوائے خود سے ہی نظریں چرانے کے۔ عروج سدا کی باتونی، ہنوز،کتنی خوش باش رہتی ہے ناں وہ اور اسے تو ہنستے لوگوں سے جیسے چڑ سی ہونے لگی تھی دو چار باتوں پر ہوں ہاں کرکے اس نے فون واپس ماں کی جانب بڑھایا جو بغور اس کے انداز دیکھ رہی تھیں۔ ان کی لاڈلی سے اس نے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی سو اس جرم کی پاداش میں کلاس بھی لگ سکتی تھی اور فی الوقت کسی بھی طرح کی نصیحت سننے کا موڈ نہ تھا فوری کھسکنے کا سوچا مگر بھلا ہو بوا کا جو چائے لے آئیں تھیں مطلوبہ لوازم سمیت…
یہ کیا ہے ؟ نفیسہ کی نظر ٹرے میں رکھی دوا پر تھی۔
بیٹی کے سر میں درد ہے۔ میں نے تو کہا اسے مت کھایا کرو الٹی پلٹی دوائیں۔ کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھالو۔ دیکھو تو حالت کیا ہوگئی ہے اس کی۔ بوا فکر مند ہورہی تھیں۔ انہوں نے بھی اس کا چہرہ جانچا۔
ہاں تو درد تو ہوگا ناں جب سارا سارا دن کمرے میں بند رہوگی۔ پتہ نہیں کیا ہوتا جارہا ہے تمہیں۔ سب مینرز بھولنے لگی ہو کتنا کہا اسے اپنا خیال رکھا کرو۔ فریش رہا کرو۔ آخر ٹینشن کیا ہے۔ تمہیں تو اب کسی سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں۔ کیا سوچتی ہوگی عروج ارے اسے کس لئے اگنور کررہی ہو۔ کیوں بات نہیں کرنا چاہتی اس سے پتہ ہے ناں کون ہے وہ۔ اس سے ایک نہیں دو دو رشتے ہیں تمہارے اور دونوں ہی توجہ اور عزت کے متقاضی ۔ کیا سوچتی ہوگی وہ بچی۔ تم لوگوں نے ہر مقام پر مجھے بس تنگ کرنے کی قسم کھائی ہے اور ایک وہ جلاد ہے کم بخت ۔ اس کا علیحدہ نخرہ ہے۔ وہ بھی بات نہیں کرتا اس سے فون تک نہیں اٹھاتااس کا اور اس کی وجہ سے کتنی اپ سیٹ رہتی ہے بے چاری۔ اب اگر تم بھی یوں ایٹی ٹیوڈ دکھاؤ گی تو سمجھ لو کہ یہ تمہارے ہی حق میں اچھا نہیں ہوگا۔ ارے تمہیں تو چاہیے کہ تم اس کے ساتھ نہیں بولو دوستی بڑھاؤ اسے ابھی سے اپنی مٹھی میں کرنے کی کوشش کروگی تو کل کو…
پلیز مام لیو اٹ۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ جی نہیں چاہا بات کرنے کو پھر کبھی کرلونگی ابھی چھوڑ دیں یہ قصہ حلق میں اترا گھونٹ کونین گھلا ہوگیا تھا کپ ٹیبل پر پٹخ دیا۔
ہاں تو کیوں ٹھیک نہیں ہے طبیعت ؟ کیا ہوگیا ہے؟
”ہر وقت منہ پھلائے پھرتی رہتی ہو۔ جب گونگے کا گڑ کھائے رہوگی تو یہی ہوگا۔ شکل دیکھی ہے آئینے میں اپنی۔ برسوں کی بیمار لگ رہی ہو حلیہ دیکھو ذرا اپنا کتنے روز ہوگئے ڈریس چینج نہیں کیا تم نے؟ کتنی بار میں نے کہا پارلر سے ہو آؤ۔ حالت سدھار لو اپنی مگر تم نے تو جیسے کوئی بھی بات نہ ماننے کا تہیہ کررکھا ہے۔” اور اس نے بے اختیار سراٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔
اب بھی یہ الزام؟؟ ان کے کہنے پر اس نے چپ چاپ اپنی پوری زندگی داؤ پر لگادی پھر بھی وہ خوش نہیں تھیں۔ اک کندچھری تھی جو عین شہ رگ کے اوپر رکھی گئی تھی۔ کرب کے مارے پلکیں بیچ لیں۔
ستا ڈالا ہے تم دونوں نے تو مجھے۔ ایک وہ ہے جسے رتی بھر میرا احساس نہیں اتنا لاڈ پیار کیا اس دل کے لئے دیا تھاکہ میرے ہی مقابلے پر اتر آوؑ۔ میرے ہی فیصلوں کو رد کرنے کی جرات کرو۔ حد ہوگئی اور تمہیں تو میرا کہا اپنا بھی خیال نہیں ہے۔ ایسا کیا ہوگیا ہے آخر اس چپ کی وجہ جان سکتی ہوں میں کیا ثابت کرنا چاہتی ہو اس رویے سے۔ میں نے کوئی ظلم کردیا ہے تمہارے اوپر؟
کیا بات ہے؟ کیوں ڈانٹ رہی ہو میری گڑیا کو؟ وہ عادتاً نان اسٹاپ شروع ہوچکی تھیں کسی کی پراہ کئے بغیر۔ غیاث ہمدانی ابھی آفس سے لوٹے تھے سیدھا وہی چلے آئے۔
ارے میری ایسی قسمت کہاں کہ میں انہیں ڈانٹ سکوں۔ یہ تو آپ کی شہہ ہے جو انہوں نے میری زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں مسز علیم کی بیٹی کی مہندی ہے آج اور میں نے چار روز پہلے سے بتارکھا ہے۔ لیکن ذرا صورت دیکھیں اس کی یہ ہے کہیں لے جانے کے لائق۔ میں نے شرمندہ ہونا ہے وہاں۔ اس کا پورا سسرال انوائیٹڈ ہوگا وہ سب کیا دیکھیں گے۔ دنیا تو پل میں رائی کا پہاڑ کھڑا کرتی ہے۔ اسے تو کسی سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں رہا۔ اس کی بدمزاجی کی کیا کیا وضاحتیں دونگی میں لوگوں کو۔ آج عروج کا فون آیا تھا۔ اب وہ پوری تفصیل بیان کررہی تھیں اور غیاث ہمدانی کی نظر بیٹی کے جھکے چہرے اور لرزتی پلکوں پر تھی۔
اچھا سب باتیں چھوڑ و تم جاؤ میرے لئے اچھی سی چائے بنواؤ اور ساتھ میں کچھ کھانے کو بھی بہت بھوک لگی ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئے اور اسے بازو کے گھیرے میں لے لیا گویا اپنی شفقت بھری پناہ میں اور یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا۔ جب کہیں نفیسہ بیگم اپنی جلالی طبیعت کی دھوپ سے بچوں کو گرمانا شروع کرتیں وہیں وہ ان کے لئے گھنی چھایا بن جاتے۔ ماں کی عتاب بھری سختیوں سے وہی تو بچاتے آئے تھے انہیںَ بلا کے نرم مزاج غیاث ہمدانی جب کسی اور کے ساتھ تلخی نہیں برت سکتے تھے تو پھر اپنی اولاد کے معاملے میں تو وہ بالکل ہی موم کا دل رکھتے تھے خصوصاً اس سے تو انہیں بے پناہ محبت تھی اکثر گھرانوں میں باپ کی سخت گیری کے آگے ماں بچوں کے لئے ڈھال بن جاتی ہے جبکہ یہاں معاملہ یکسر الٹ تھا بچپن سے ہی وہ ماں سے زیادہ ان کے قریب رہی تھی۔ ماں کا شعلہ مزاج اسے ہمیشہ ان سے دور اور خائف رکھتا تھا۔
اور اب تو وہ ان سے بالکل ہی خفا ہوگئی تھی مگر اظہار کی جرات نہ تھی۔
اب بھی وہی ہمیشہ کی طرح جی چاہ رہا تھا باپ کے سینے میں منہ چھپا کر ایک بار تو خوب سارا رولے تاکہ اندر جمع ہوتی کثافت کچھ تو بہہ جائے گوکہ اسے یہ بھی علم تھا۔ جو پھول نوچ کر تپتی ریت پر پھینک دیئے جائیں وہ پھر سے خوشبو نہیں دیتے۔
ہاں بیٹا اب بتاؤ کیا بات ہے؟ کیوں تنگ کررہی ہو اپنی ماں کو؟ طریقے سے نفیسہ بیگم کو وہاں سے ہٹانے کے بعد وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
میں کیوں تنگ کرونگی ماما کو وہ تو میں یونہی… تیزی سے پلکیں جھپکا جھپکا کر آنسو اندر اتارتی وہ انہیں بالکل وہی چھوٹی سی گڑیا لگی جب وہ ماں کے غصے سے بچنے کو ان کے دامن میں پناہڈھونڈا کرتی تھی وہ سہمی، گھبرائی ہوئی ذرتاشہ اب اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ اسے اپنے آپ کو سنبھالنا بھی آگیا تھا۔
اور اچھا اس کا مطلب آپ نہیں آپ کی مام آپ کو تنگ کررہی ہیں۔ ناٹ گڈ۔ انہوں نے جیسے کچھ سمجھتے سرہلایا۔

جاری ہے

#ناول #اردوناول

Address

Shahdadpur
68030

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm e Saibaan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category