Dur-E-Aima Official

Dur-E-Aima Official book lovers,Art lovers

14/08/2025

رضیہ اپنی ہتھیلی پر رکھے سونے کے جھمکوں کو غور سے دیکھ رہی تھی انتہائی خوبصورت نازک سے ي جھمکے لال چھوٹے چھوٹے نگوں سے سجے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔رضیہ اکثر اکیلی بیٹھی اپنی ہتھیلی پر ان جھمکوں کو رکھ لیتی اور گھنٹوں انہیں تکتی رہتی۔۔۔۔۔۔۔امّاں امّاں ۔۔۔را شد چیختا ہوا گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔ ہائے ہائے کیا ہو گیا خدا خیر کرے ۔۔۔رضیہ نے گھبرا کے راشد کی طرف دیکھا ۔۔۔اور جھمکے اپنی ساڑھی کے پلوں میں باندھنے لگی ـ۔ امّاں وہ حاجی صاحب کہتے ہیں اپنا ضروری سامان باندھ لو رات کو بڑی سڑک سے قافلہ گزرے گا اس کے سا تھ شامل ہو جانا۔۔ ہا ے میرے سونے رب خیر کر۔۔۔۔ کیا یہاں بھی آگئے وہ ظالم ؟۔ ہاں امّاں ۔۔حاجی صاحب نے کہا ہے کہ یہ علاقہ بھی ہندو کے حصے میں آیا ہے وہ کہتے ہیں قافلے کے ساتھ چلے چلو تم رب خیر کرے گا ۔۔۔۔ رضیہ نے ایک پیار بھری نظر سے راشد کی طرف دیکھا پھر راشد کے معصوم سے بیٹے کی طرف جو ابھی صرف دو ماہ کا تھا اور اپنی ماں کے ساتھ اُسکی لال لال چوڑیوں سے کھیل رہا تھا ۔۔۔راشد کی دلہن تو ابھی جوان ہے ابھی تو اس کے ہسنے کھیلنے کے دن ہیں اور یہ معصوم بچہ ۔۔ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے اسے دنیا میں آئے ۔۔۔ ہائے میرا جگر کا ٹکڑا راشد ۔۔۔ہم سب ہے گھر ہوجائیں گے۔۔۔۔۔ ہائے میرے خدا سنا ہے قافلے میں سبکو ما ر دیتے ہیں جوان لڑکیوں کو اغواء کر لیتے ہیں ۔۔۔ہائے میرے خدا دلہن تو جوان ہے میرا راشد میرا شیر پُتر ۔۔کہیں راشد کو تو نہیں قتل کر دیں گے یہ ظالم۔۔۔۔اور اور میرا لال میرا پوتا ۔۔۔۔ہائے رب یہ نہ کر۔۔۔رضیہ کا ذہن عجیب عجیب سوچوں میں اُلجھا ہوا تھا۔۔۔ امّاں کیا سوچے جارہی ہے وقت نہیں ہے جلدی جلدی سامان با ندھ ۔۔ رضیہ کو ایک دم عینی کا خیال آیا ۔۔۔اپنی بیٹی عینی جو بیاہ کے دوسرے شہر رخصت ہوگئی تھی۔۔۔۔ راشد عینی کا کیا ہوگا ۔۔خدا جانے وہ بھی قافلے والوں کے ساتھ شامل ہوگی یا نہیں ۔۔۔۔ امّاں اب کچھ نہیں کر سکتے رب حفاظت کرے گا عینی کی ۔۔تو بس جلدی کر ۔۔۔۔ رات کے اندھیرے میں رضیہ اور اس کے بچے قافلے میں شامل ہونے کے لیے گھر سے نکلے سارا سامان گھر میں سجا تھا رضیہ کے جہیز کے برتن ،چارپائیاں ،رضیہ کے پودے جو اُسنے بڑے شوق سے لگائے تھے ۔۔۔رضیہ حسرت بھری نظروں سے گھر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔اے خدا یہ تو ظلم ہے نہ اب تو یہ سب چھين رہا ہے مجھ سے حالانکہ تُجھے پتہ ہے کس محنت سے بنایا ہے یہ میں نے۔۔ اب اگر تو یہ واپس لے رہا ہے تو وعدہ کر مجھے میرے پیارے وطن میں اس سے اچھا دے گا سب کچھ اور میرے سوہنے رب میری عینی کی بھی خیر کرنا۔۔۔۔۔رضیہ نے آنسو پونچے اور اپنی ساڑھی کے پلوں جسمیں جھمکیاں با ندھ رکھیں تھیں کو اپنے ہاتھ میں زور سے دبا لیا۔۔ رات کے اخری پہر بڑی سڑک سے قافلہ گزرا رضیہ اور اس کے بچے بھی قافلے میں شامل ہو گئے قافلے والوں سے رضیہ کو بہت کچھ سننے کو ملا کسی نے بتایا کہ ان کا جوان بیٹا ان کی نظروں کے سامنے مار دیا گیا تو کسی نے بتایا کہ ان کی جوان بیٹیوں کو اغواء کر کے لے گئے ۔۔۔۔ رضیہ کا دل ما رےگھبراہٹ کے زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔رضیہ کبھی۔راشد کی طرف دیکھتی تو کبھی اس کی دلہن کی طرف اور کبھی اپنے معصوم پوتے کی طرف کبھی اس کو اپنی عینی کا خیال اتا کبھی وہ اپنے پلوں میں بند ہے جھمکوں کو زور سے اپنی ہتھیلی میں دبا لیتی۔ ۔ ایک دم قافلے میں افراتفری مچ گئی ہر طرف سے لوگوں کی چیخیں سنائی دینے لگی کہیں پہ بچوں کے رونے کی اواز تو کہیں لوگوں کی چیخنے کی اوازیں ا رہی تھی رضیہ بہت پریشان ہو گئی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے یہ اچانک سے کیا ہوگیا ہے ابھی تو سب امن تھا ۔۔۔۔اُسنے آنکھیں بند کیں اور آیت لکرسی پڑھنے لگی اسکے علاوہ اسے اور کچھ سمجھ نہ آیا۔۔۔۔ او امّاں جو کچھ ہے نکال دے جلدی جلدی۔۔۔۔میرے پاس کچھ نہیں ہے پُتر ۔۔یہ بس روٹیاں ہیں تھوڑی سی ۔۔۔رضیہ نے رومال میں بندھی روٹیاں سپاہی کے آگے کر دیں۔۔ او بڑھیا کوئی سونا چاندی ہے تو بتا ۔۔۔۔۔نہیں نہیں پُتر مجھ غریب کے پاس کچھ نہیں ہے۔۔۔۔رضیہ نے ساڑھی کے پلوں کو زور سے مٹھی میں دباتے ہوئے بولا۔۔۔۔ارے بڑھیا اور کچھ ہے تو جلدی جلدی نکال دے ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں۔۔۔۔اور وہ بس میری بہو کے پاس کچھ چاندی کے برتن ہیں اگر چاہو تو وہ لے جاؤ ۔۔۔رضیہ نے۔گھبراتے ہوئے اواز دی دلہن دلہن وہ چاندی کے برتن نکال کے ان کو دے دے۔۔۔۔۔۔رضیہ نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی موجود نہ تھا کچھ دور اس کے بیٹے کی لاش پڑی تھی ۔۔۔سر دھڑ سے الگ دور پڑا تھا۔۔۔۔رضیہ نے غور سے دیکھا وہ راشد کا ہے سر تھا ہاں اسکے لال راشد کا سر تھا ۔۔۔وہ سکتے میں آگئی ۔۔۔یہ کب ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ اُسے کچھ سمجھ نہ آرہا تھا ابھی تو راشد اسکے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ۔۔۔۔۔اوۓ بڑھیا یہ پلوں میں کیا چھپا رکھا ہے ۔۔ایک سپاہی نے زور سے اسکی ساڑھی کا پلوں کھینچا۔۔۔۔رضیہ ابھی تک راشد کی لاش کو دیکھ رہی تھی وہ چاہتی تھی کے یہ اُسکا وہم ہو اور یہ لاش راشد کی نہ ہو پر وہ تو راشد ہی تھا ۔۔۔۔رضیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔سپاہی نے اسکی ساڑھی کے پلوں سے سونے کے جھمکے نکال لیے اور ایک زوردار تھپڑ رضیہ کے چہرے پہ لگایا۔۔۔رضیہ دور زمین پہ جا گری ۔۔۔۔۔۔ہم سے جھوٹ بولتی ہے کے میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔رضیہ کی نظر ایک دم راشد کے دھڑ پے پڑی اسکے بازؤں میں اُسکا معصوم بیٹا بے سد پڑ ا تھا۔۔۔۔۔رضیہ کے منہ سے زور دار چیخ نکلی ۔۔۔۔ہا ے ظالموں تم نے میرے پوتے کی بھی جان لے لی۔۔۔۔۔۔دلہن دلہن کہاں ہے رضیہ کو ایک دم خیال آیا ۔۔۔۔وہ اپنی پوری ہمت جمع کر کے کّھڑی ہوئی اُسنے اپنے ارد گرد نظر دوڑ ائی ہر طرف خون میں لپٹی جوان مردوں کی لاشیں ہی لاشیں تھیں تو کہیں معصوم بچے بےجان پڑے تھے ۔۔۔۔۔کچھ فاصلے پے ایک ٹرک کھڑا تھا جسمیں جوان لڑکیوں کو قید کیا ہوا تھا ۔۔۔رضیہ ٹرک کی طرف دوڑی کے شاید راشد کی دلہن بھی وہاں ہو ۔۔۔۔اور اُسکا خدشہ ٹھیک تھا راشد کی دلہن اسی ٹرک میں موجود تھی۔۔۔۔۔۔رضیہ نے ایک سپاہی سے روتے ہوئے التجا کی ۔۔۔پُتر اس بچی کا کوئی قصور نہیں تو اسے چھوڑ دے تیری بہت مہربانی ہوگی۔۔۔۔سپاہی نے بےحیائی سے ہستے ہوئے کہا۔۔۔۔ارے بڑھیا اسکا قصور یہ ہے کہ یہ جوان ہے اور اب یہ ہماری ہے تو فکر نہ کرہم اسکا بہت خیال رکھیں گے ۔۔۔چل اب تو جا ۔۔۔۔۔رضیہ نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔ظالموں مجھے بھی ما ر دو اب میں کہاں جاؤں ۔۔۔۔ وہ زمین پہ بیٹھ کے زور زور سے چیخنے لگی۔۔۔رب یہ تونے کیا کر دیا ۔۔۔ہائے رب الگ وطن کیا تونے ہمیں اسلئے دیا ہے کے ہم وہاں اپنی جوان اولاد کی لاشیں لے کے جائیں۔۔۔۔۔۔وہ مسلسل رو رہی تھی اور رب سے شکوے کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اُسنے اپنی ساڑھی کا پلوں پکڑا تو اسے پتہ چلا ظالم اسکے جھمکے بھی لے گے ہیں۔۔۔ساڑھی کے پلوں میں ایک لال چھوٹا سا نگ چپکا ہوا تھا ۔۔۔شاید زور سے کھینچنے کی وجہ سے وہ نگ جھمکے سے الگ ہوگیا تھا ۔۔۔رضیہ نے نگ کو اپنی مٹھی میں دبا لیا۔۔ ۱۴اگست۱۹۵۳ رضیہ اپنی بڑی سی حویلی میں تنہا بیٹھی تھی اپنی ہتھیلی میں لال نگ کو سجائے مسلسل گھور رہی تھی۔۔۔۔ ۔رضیہ دیکھ میں تیرے لیے کیا لا یا ہوں۔۔۔۔کیا لے آئے جی آپ ۔۔۔۔رضیہ نے شرماتے ہوئے اپنے شوہر سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔یہ دیکھ میں تیرے لیے سونے کے جھمکے لا یا ہوں لال نگوں والے ۔۔تجھے شوق تھا نہ بہت جھمکے لینے کا۔۔۔۔۔ہائے رب ۔۔۔۔سونے کے جھمکے ۔۔۔کیسے لیے ؟کہا ں سے لیے؟ اتنے پیسے کہاں سے اے جی آپ کے پاس ؟ رضیہ نے سوالوں کی بھرمار کر دی ۔۔۔۔۔۔بس چھوڑ ان سب باتوں کو لے یہ جھمکے پہن لے اور پہنے رکھنا اتارنا نہ انہیں ۔۔۔۔رضیہ نے بہت شوق سے وہ جھمکے پہن لیے ۔۔۔دو دن بعد رضیہ کے شوہر کا انتقال ہوگیا کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ دل کا دورہ پڑا تو کچھ کا کہنا تھا کسی زہریلے جانور نے کا ٹا ہے۔۔۔۔خدا بہتر جانے ۔۔۔اسکی لاش کھیتوں سے ملی تھی ۔۔۔۔اس دن کے بعد رضیہ نے کبھی وہ جھمکے نہیں پہنے بس اپنی ساڑھی کے پلوں میں با ندھے رکھتی اور کبھی کبھی جھمکوں سے باتیں کرتی۔۔ آج بھی وہ بیٹھی اس لال نگ کو اپنے دکھ سنا رہی تھی آج ۱۴ اگست تھی پاکستان کو آزاد ہوئے ۶ سال ہوگئے تھے۔۔جب وہ پاکستان آئی تھی تو اسے ایک حویلی الاٹ ہوئی تھی اُسنے جب حویلی میں قدم رکھا تو سامنے صحن میں چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں ۔۔۔برآمدے میں برتن سجے تھے ۔۔۔صحن میں گلاب کے پودے لگے تھے ۔۔۔۔رضیہ کو اپنا گھر یاد آگیا وہ سوچنے لگی کے یہ بھی کسی ہندو عورت کی جہیز کی چارپائیاں ہونگی،یہ اسکے جہیز کے برتن ہونگے ،اُسنے بھی بڑے شوق سے یہ گلاب لگائے ہونگے۔۔۔۔۔۔پھر اسے اپنی دعا یاد آئی۔۔۔اسکے رب نے اسے سب کچھ واپس کر دیا تھا۔۔۔۔۔ہے رب میں یہ تو مانگنا بھول گئی کے یہ سب مجھے اپنے بچوں کے ساتھ چاہیے تھا۔۔۔اُسنے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔ آج اسکے ذہن میں ساری پرانی یادیں گھوم رہیں تھی۔ اچانک اُسے گلی سے آواز آئی۔۔۔۔۔ارے سمجھ نہیں آتی تم لوگوی کو زمین پے مت گراو یہ سبز پرچم ۔۔۔۔رضیہ نے دروازے سے باہر جھانکا تو ایک بزرگ آدمی پاکستانی پرچم کو سینے سے لگائے بچوں کو ڈانٹ رہا تھا۔۔۔۔۔بچے شرارتوں میں مصروف تھے ۔۔۔ گلی پاکستانی پرچم والی جھنڈیوں سے سجی ہوئی تھی اور چھوٹے بچے آن جھنڈیوں کو اتار رہے تھے ۔۔کچھ جھنڈیاں زمین پر گر جاتیں جن کی بچوں کو کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن وہ بزرگ جھنڈیاں زمین سے اٹھا اٹھا کے اپنے پاس جمع کیے جاتے تھے۔۔۔۔۔رضیہ یہ سارا منظر دیکھ کے سوچ رہی تھی ۔۔۔اس بزرگ نے بھی یقیناً بہت کچھ کھویا ہوگا تبھی تو پاکستانی پرچم کو سینے سے لگائے پھرتا ہے ۔۔۔ہائے افسوس ان معصوم بچوں کو کیا معلوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بھی گلی میں جا کر زمین سے ایک جھنڈی اٹھا لائی ۔۔اپنے سینے سے لگایا تو ۔۔راشد کی سر کٹی لاش۔۔۔اسکی گود میں بے سد پڑا اُسکا پوتا اور ظالموں کی قید میں اسکی بہو۔۔۔۔سارے منظر اسکی آنکھوں کے سامنے آگئے۔۔۔۔رضیہ نے پاکستانی پرچم والی جھنڈی کو اپنے سامنے رکھا اور اُسپے بنے ستارے کے درمیان اپنے پلوں سے لال نگ کو نکال کے سجا دیا۔۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے ۔۔۔اپنے پلوں سے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔یوم آذادی مبارک میرے پیارے پاکستان۔۔ درِآئمہ۔

Giveaway winner insha'Allah kal announce hoga........... Nawaz khusa ,Hina Rizwan, Aleena Ammar, Mehwish Syed, جمیل آزاد
05/04/2025

Giveaway winner insha'Allah kal announce hoga........... Nawaz khusa ,Hina Rizwan, Aleena Ammar, Mehwish Syed, جمیل آزاد

عید مبارک 😇۰۰۰۰۰۰ "Kitabon ke shauqeen! Hum de rahe hai ڈپٹی نذیر احمد ki Kitab ki muft copy. Hissa lene ke liye, is pos...
31/03/2025

عید مبارک 😇۰۰۰۰۰۰

"Kitabon ke shauqeen! Hum de rahe hai ڈپٹی نذیر احمد ki Kitab ki muft copy. Hissa lene ke liye, is post ko like karein aur apne ek kitabi dost ko tag karein..

"عزت کی تلاش میں"(خواجہ سراؤں کی حقوق کیلئے لکھی گئی ایک کہانی) ۰۰۰۰۰قیمت:550۔ ڈسکاؤنٹ کے بعد:400۔
17/02/2025

"عزت کی تلاش میں"(خواجہ سراؤں کی حقوق کیلئے لکھی گئی ایک کہانی) ۰۰۰۰۰قیمت:550۔ ڈسکاؤنٹ کے بعد:400۔

اپنے روزِ پیدائش پر کچھ کتابوں کا آرڈر دیا تھا جومجھے آج موصول ہوا ۔اپنے آپکو تحفے دینا بھی ضروری ہے ۔ہماری استاتذہ کہتی...
11/02/2025

اپنے روزِ پیدائش پر کچھ کتابوں کا آرڈر دیا تھا جومجھے آج موصول ہوا ۔اپنے آپکو تحفے دینا بھی ضروری ہے ۔ہماری استاتذہ کہتی ہیں کہ انسان کو خود سے اتنی محبت تو ہونی چاہیے کہ وہ خود کو جہنم سے بچانے کیلئے کوششوں میں لگا رہے اور جنت کو حاصل کرنے کے لیے جدوجھد کرے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب انسان کو خود سے محبت ہوگی۔۔ زندگی بہت مختصر ہے خود کو وقت دیا کریں ،تحفے دیا کریں۔آپ سے بہتر آپکو کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔اپنے مسائل اپنے آپکو بتائیں انکا حل پوچھیں ۔۔۔آپ سے بہتر مشورہ آپکو کوئی اور نہیں دے سکتا ۔۔۔۔ اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کو وقت دینا یا محبت کرنا چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔پر ضروری ہے کہ اس مختصر سی زندگی میں اپنے لیے بھی وقت نکا لیں ۔

ایک بہترین کتاب ۰۰۰۰اس کتاب سے میں نے سیکھا کے دنیا چاہے جتنا بھی ظلم کرے تم پر ۰۰۰تم حق پر ڈٹے رہو رب سے نا اُمید نہ ہو...
07/02/2025

ایک بہترین کتاب ۰۰۰۰اس کتاب سے میں نے سیکھا کے دنیا چاہے جتنا بھی ظلم کرے تم پر ۰۰۰تم حق پر ڈٹے رہو رب سے نا اُمید نہ ہو ۰۰۰۰۰۰ چاہے ساری دنیا کہے کے تم گناہگار ہو پر تم سر اُٹھا کر حو صلے سے کہو میرا رب جانتا ہے میں بے گناہ ہوں۰۰۰۰۰کبھی ہار مت مانو۰۰۰۰۰۰۰۰۰

01/02/2025
خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے لکھی گئی ایک کہانی ۰۰۰۰ اُمید ہے پڑھنے والوں کو پسند آۓ گی ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۔   قی...
31/01/2025

خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے لکھی گئی ایک کہانی ۰۰۰۰ اُمید ہے پڑھنے والوں کو پسند آۓ گی ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۔ قیمت: 550

Inshallah….. بہت جلد
27/01/2025

Inshallah….. بہت جلد

Address

Near Awan Chok
Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dur-E-Aima Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share