Ardish Bhatti

  • Home
  • Ardish Bhatti

Ardish Bhatti Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ardish Bhatti, .

*دو لاہور: ایک جدید، ایک قدیم*لاہور، جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے، آج دو مختلف روپ پیش کرتا ہے۔ ایک طرف جدید لاہور ہے، ...
10/07/2025

*دو لاہور: ایک جدید، ایک قدیم*

لاہور، جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے، آج دو مختلف روپ پیش کرتا ہے۔ ایک طرف جدید لاہور ہے، جہاں ترقی اور روشن خیالی کا دور دورہ ہے، اور دوسری طرف پرانا لاہور ہے، جہاں آج بھی روایات اور توہم پرستی کی جڑیں گہری ہیں۔
جدید لاہور بلند و بالا عمارتوں، چمکتی سڑکوں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا شہر ہے۔ یہاں کے باسی تعلیم یافتہ، باشعور اور دنیاوی معاملات سے باخبر ہیں۔ بین الاقوامی رجحانات کی پیروی کرتے ہیں اور ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ وہ لاہور ہے جہاں نوجوان نسل سائنس، ٹیکنالوجی اور کاروبار میں دلچسپی لے رہی ہے۔ یہاں کافی شاپس، جدید ریسٹورنٹس اور شاپنگ مالز کی بھرمار ہے، جو ایک مصروف اور متحرک طرز زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، پرانا لاہور اپنی تنگ گلیوں، صدیوں پرانی عمارتوں اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ یہاں کے لوگ آج بھی اپنی پرانی روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔ توہم پرستی، پیروں اور مزاروں پر حاضری، اور جہالت جیسی چیزیں آج بھی یہاں عام ہیں۔ لوگ چھوٹی چھوٹی مشکلات کے لیے بھی پیروں اور فقیروں کا رخ کرتے ہیں، اور تعویز گنڈوں پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لاہور ہے جہاں تعلیم کی کمی اور غربت کے سائے گہرے ہیں، اور لوگ آسانی سے فرسودہ خیالات اور سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ دو لاہور ایک ہی شہر میں ساتھ ساتھ موجود ہیں، ایک دوسرے سے بہت مختلف ہونے کے باوجود۔ جدید لاہور آگے بڑھنے کی علامت ہے، جبکہ پرانا لاہور اپنی جڑوں اور ماضی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہی لاہور کی حقیقی ترقی
کی ضمانت ہے۔
Ardish Bhatti

وطن پاکستان کی جانب سے لاکھوں فلسطینی بچوں اور ایرانیوں کے قتل کے ماسٹر مائنڈ کو امن کا نوبل انعام دینے کے لیے سفارش کی ...
21/06/2025

وطن پاکستان کی جانب سے لاکھوں فلسطینی بچوں اور ایرانیوں کے قتل کے ماسٹر مائنڈ کو امن کا نوبل انعام دینے کے لیے سفارش کی جا رہی۔ یہ انسانیت کے لیے ایک شرمناک بات ہے۔ امن کے نوبل انعام کا مقصد امن و امان اور انسانی حقوق کو فروغ دینے والے افراد کو اعزاز دینا ہے۔ ایسے مظالم کے ذمہ دار کو یہ انعام دینا ایک سنگین ناانصافی ہو گی اور یہ امن کی حقیقی اقدار کو تسلیم کرنے کے لیے انسانی حقوق کے خلاف ہے۔امن کے چیمپئن، وہ نہیں جنہوں نے معصوم جانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ذرا سوچیے۔۔۔

ڈیجیٹل دور، اپنی تمام تر افادیت کے باوجود اکثر انسانیت کے تاریک ترین رجحانات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ایک ہولناک سانحہ پیش ...
06/06/2025

ڈیجیٹل دور، اپنی تمام تر افادیت کے باوجود اکثر انسانیت کے تاریک ترین رجحانات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
ایک ہولناک سانحہ پیش آتا ہے،ایک جواں سالہ لڑکی کو بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے، اس کی زندگی کا چراغ جو ابھی روشن ہوا ہی تھا کہ اسے بے حسی کے ساتھ بجھا دیا جاتا ہے، پھر بھی لوگ مجرم کو مجرم کہنے کی بجائے، سوشل میڈیا پر ایک زہریلی آواز بلند کرتے ہیں"وہ ایک ٹک ٹوکر تھی،"
ایک سرگوشی سنائی دیتی ہے، "اس کا کردار قابل اعتراض تھا،" ایک واویلا مچتا ہے "وہ بہت بولڈ تھی۔"
اس کی آن لائن موجودگی کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ کسی طرح اس پر کیے گئے گھناؤنے ظلم کو کم کر دے۔
یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ قتل کو کبھی بھی جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا. کوئی سوشل میڈیا سرگرمی، یا طرز زندگی کا کوئی فیصلہ انسانی جان لینے کی ضمانت نہیں دیتا۔
کیا یہ قتل جیسا جرم قاتل سے مقتول کی طرف منتقل کرنا ایک شدید نا انصافی اور بے حسی نہیں ہے؟ یہ تشدد کی خطرناک حمایت نہیں ہے؟
یہ معاشرے کو بتاتا ہے کہ متاثرین، خاص طور پر خواتین، اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے لیے بھی خود ہی جوابدہ ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اور قتل کی ذمہ داری صرف اور صرف قاتل پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی خیال کوئی بھی وضاحت انصاف اور انسانیت کے ساتھ غداری ہے۔
آردش بھٹی

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ardish Bhatti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share