MuzInfo Tv

MuzInfo Tv Inbox For Paid Promotion brands And Deals or collaboration MuzInfo Tv

19/06/2026

سعودی پورے خاندان کو بچانے والا یہ پاکستانی اس کے پورے سعودیہ میں چرچے ہورہے ہیں

عبدالوحید اور فائزہ کی کہانی : ایک دوسرے کو تو پا لیا لیکن زندگی گنوا بیٹھے ۔۔ دو روز قبل گجرانوالہ میں پیش آیا اندوہناک...
19/06/2026

عبدالوحید اور فائزہ کی کہانی : ایک دوسرے کو تو پا لیا لیکن زندگی گنوا بیٹھے ۔۔ دو روز قبل گجرانوالہ میں پیش آیا اندوہناک واقعہ ۔۔۔۔ حافظ آباد کے علاقہ کالیکی منڈی کا نوجوان عبدالوحید گوجرانوالہ کی فائزہ سے محبت کر بیٹھا ، ان دونوں نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھا لیں جب دیکھا کہ سماج انہیں ایک نہیں ہونے دے گا تو دونوں نے چوری چھپے عدالت جا کر شادی و نکاح کر لیا ۔۔۔ عبدالوحید فائزہ کو اپنے گھر کالیکی منڈی لے آیا ، یہ تین ماہ قبل یعنی عید الفطر سے چند روز پہلے کی بات ہے ۔ فائزہ سے غلطی یہ ہوئی کہ اپنی بہن سے رابطے میں رہی اور اسکی منت سماجت کرتی رہی کہ وہ ابا کو منالے اور مجھے معافی دے دیں ۔ بہن کے کہنے پر ابا جی راضی ہو گئے دونوں خاندانوں میں صلح ہو گئی ، عدالاضحیٰ سے کچھ روز قبل فائزہ کے والد نے بیٹی کو پیغام بھجوایا کہ تم گھر آجاؤ میں عید کے بعد تمہیں باقاعدہ جہیز دے کر وحید کے ساتھ رخصت کرونگا ۔۔۔ فائزہ اپنے والد کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھی وہ اکیلی گھر واپس جانے سے انکاری تھی لیکن وحید نے اسے تسلی دی اور کہا میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں اگر تمہارے والد راضی اور خوش ہو جائیں تو اس سے اچھی بات کوئی نہیں ، خدشات اور ڈر دل میں لیے فائزہ اپنے شوہر عبدالوحید کے ساتھ کچھ روز پہلے گوجرانوالہ آگئی ، والد چند دن تو خاموش رہا اور پھر ایک روز موقع پاکر پہلے اپنے داماد کو گو۔لیاں ماریں بیٹی بچانے آئی تو اسے بھی بھون ڈالا ، اس دوران والد کا ملازم اسے روکنے کے لیے آگے بڑھا کہ یہ کیا ظلم کررہے ہو تو ظالم شخص نے اپنے وفادار نوکر کو بھی گو۔لی مار دی ۔۔ تینوں زخمی یعنی عبدالوحید فائزہ اور نوکر زخموں کی تاب نہ لاکر جان بحق ہو گئے ۔۔۔۔۔ عبدالوحید اور فائزہ کی محبت کی کہانی بس اتنی ہی تھی ، ایک دوسرے کو پالیا ، تین مہینے اور دو عیدیں ساتھ گزار لیں اور قصہ ختم ۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم ان میاں بیوی اور ایک بے گناہ گھریلو ملازم کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین

ہمارا مجرم ایک نہیں چار ہیں ۔۔۔۔ پاکستان میں انصاف ملنا مشکل ہے ، میں اسٹریلیا جاؤں گا اور وہاں حکومت کے ذریعے انصاف لوں...
18/06/2026

ہمارا مجرم ایک نہیں چار ہیں ۔۔۔۔ پاکستان میں انصاف ملنا مشکل ہے ، میں اسٹریلیا جاؤں گا اور وہاں حکومت کے ذریعے انصاف لوں گا ۔۔۔۔ سی سی ڈی چکوال کے ہاتھوں بے گناہ ما.ری جانیوالی ہانیہ کے زخمی والد کا ایک اور بیان سامنے آگیا ۔۔۔ راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال میں زیرِ علاج، آسٹریلیا کے شہری عدیل احمد نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی فیملی کے ساتھ 10 جون کو حج کی سعادت حاصل کرکے پاکستان لوٹے، وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے چکوال گئے ہوئے تھے کہ گھر کے باہر دو ڈا۔کوؤں نے گھیرلیا، ہم ڈا۔کوؤں کو اپنی قیمتی اشیاء پرامن طور پر تھما رہے تھے کہ اچانک فائ.یر۔نگ شروع ہوگئی لیکن ڈا۔کوؤں نے پہلے گو۔لی نہیں چلائی، بلکہ موٹر سائیکلوں پر سوار 4 سی سی ڈی اہلکاروں نے ہماری گاڑی پر اندھا دھند گو۔ل.یاں برسا دیں، پولیس کی فائیرنگ کے بعد ڈا۔کوؤں نے صرف دو ہوائی فا۔ئیر کیے اور بھاگ نکلے، سی سی ڈی اہلکاروں کی فا۔ئیرنگ اتنی شدید تھی کہ 9 سالہ بیٹی ہانیہ کو 3 سے 4 گو۔لیاں لگیں اور وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی، 11 سالہ بیٹے افنان کو 2 گو۔ل.یاں لگیں اور خود میرے بازو سمیت جسم میں 2 گو۔لیاں لگیں ۔ عدیل نے روتے ہوئے بتایا کہ گو۔لیوں کی بوچھاڑ سے میری گاڑی کے بریک فیل ہو گئے تھے، لیکن میں نے زخمی حالت میں بھی کسی طرح گاڑی بھگائی، اگر میں وہاں سے نہ نکلتا تو پولیس اہلکار ہم سب کو وہیں ڈھیر کر دیتے، اگر وہ ڈا۔کوؤں کو جانے دیتے اور بعد میں ان کا پیچھا کرتے تو میری معصوم بیٹی آج زندہ ہوتی۔ عدیل احمد نے حکومتِ پاکستان اور مقامی بیوروکریسی کے رویئے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ چکوال پولیس اپنے پیٹی بھائیوں یعنی سی سی ڈی اہلکاروں کو بچانے کے لیے کیس کو خراب کرنے اور حقائق چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، نہ تو حکومتِ پاکستان اور نہ ہی پنجاب حکومت کے کسی نمائندے نے ہم سے کوئی رابطہ کیا یا دلاسا دیا، مجھے کوئی مالی امداد نہیں چاہیے، میں صرف ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری چاہتا ہوں، آسٹریلوی ہائی کمیشن کے حکام نے ہسپتال میں مجھ سے ملاقات کی اور وہ دوبارہ بھی آئیں گے، میں آسٹریلوی حکومت کے ذریعے اپنی بیٹی کے خ.ون کا انصاف مانگوں گا۔

مجھے لوگوں کو مار کر مزہ آتا تھا : 1980 کی دہائی میں لاہوریوں کی نیندیں حرام کرنے والے سیریل کلر ڈاکٹر سہراب اسلم خان نا...
09/06/2026

مجھے لوگوں کو مار کر مزہ آتا تھا : 1980 کی دہائی میں لاہوریوں کی نیندیں حرام کرنے والے سیریل کلر ڈاکٹر سہراب اسلم خان نامی ایک پراسرار مجرم کا احوال اور انجام : ڈاکٹر سہراب اسلم کا خاندان 1970 کی دہائی میں لاہور سے امریکہ شفٹ ہوا ، سہراب اسلم ایک لائق طالبعلم تھا ، اس نے وہاں کے اچھے سکولوں اور پھر اچھے میڈیکل کالج میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی ، 1981 میں اس نے واپس پاکستان آنے اور لاہور میں بطور ڈاکٹر کام کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔ لاہور میں اسکی زندگی اچھی تھی ، گھر تھا بیوی بچے تھے مگر اس ڈاکٹر کے دماغ میں کچھ خلل تھا ، دن کو ڈاکٹری کرتا اور اکثر رات کو ایک پس۔تو۔ل لے کر موٹرسائیکل پر لاہور کی سڑکوں پر نکل جاتا اور راہ چلتے لوگوں کو سر کا نشانہ لے کر ق۔ت۔ل کر ڈالتا ، روزانہ ایک دو ، وارداتیں کرتا اور چپ چاپ گھر آکر سو جاتا ۔۔۔ جب اسکی خوفناک وارداتوں کا پولیس نے سراغ لگانا شروع کیا تو ہر واردات میں ایک ہی کیلیبر کی گو۔لی کا استعمال کیا گیا، پولیس اس خونی کو ڈھونڈتی رہی مگر یہ چھپ کر اپنا کام کرتا رہا ، آخر جب اسکے ہاتھوں بے گناہ ق۔ت۔ل ہونیوالوں کی تعداد 14 ہو گئی تو ایک ناکے پر پولیس نے اسے مشکوک سمجھ کر پکڑ لیا اور اسے سے پس۔تو۔ل بھی برآمد ہوا ، پولیس نے تفتیش کی تو اس خوفناک قا۔تل نے جرم کا اقرار کر لیا اور صرف اتنا کہا مجھے یہ کام کرکے مزہ آتا تھا ۔۔۔ اسے عدالت نے سز۔ائے موت سنا دی جس پر کچھ عرصہ بعد عمل درآمد کردیا گیا ۔۔۔ خس کم جہاں پاک

01/06/2026

سعودی عرب میں اس پاکستانی نوجوان نے ایسا کارنامہ کیا کہ سعودیہ میں پورا خاندان اس کو انعامات سے نوازنا شروع ہو گیا ں

🌙❤️ قربانی صرف جانور کی نہیں، احساس اور انسانیت کی بھی ہوتی ہے۔عیدالاضحیٰ سے قبل ایک صاحبِ خیر نے خاموشی سے کئی مستحق خا...
01/06/2026

🌙❤️ قربانی صرف جانور کی نہیں، احساس اور انسانیت کی بھی ہوتی ہے۔
عیدالاضحیٰ سے قبل ایک صاحبِ خیر نے خاموشی سے کئی مستحق خاندانوں کی مدد کرکے حقیقی خوشیوں کا سامان کیا۔ مقامی سماجی کارکن جاوید جٹو کے تعاون سے ضرورت مند گھروں تک قربانی کے جانور، راشن اور دیگر بنیادی ضروریات پہنچائی گئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بعض خاندانوں کے گھریلو مسائل حل کرنے میں بھی مدد فراہم کی گئی تاکہ وہ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ مدد صرف ایک دن یا ایک موقع تک محدود نہیں رکھی گئی بلکہ کچھ خاندانوں کی مستقل معاونت کا بھی بندوبست کیا گیا تاکہ بچوں کی تعلیم اور گھریلو ضروریات متاثر نہ ہوں۔
ایسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت، ہمدردی اور خدمتِ خلق ہی معاشرے کی اصل طاقت ہیں۔ ❤️
اللہ تعالیٰ تمام صاحبِ خیر افراد کو ان کی نیکیوں کا بہترین اجر عطا فرمائے اور ہمیں بھی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

علی پور کی سرزمین آج سوگوار ہے۔معصوم زہرہ بی بی کئی ماہ تک کینسر جیسے موذی مرض سے بہادری کے ساتھ لڑتی رہی۔ بیماری اور عل...
30/05/2026

علی پور کی سرزمین آج سوگوار ہے۔
معصوم زہرہ بی بی کئی ماہ تک کینسر جیسے موذی مرض سے بہادری کے ساتھ لڑتی رہی۔ بیماری اور علاج کے طویل اور کٹھن مراحل نے اسے اور اس کے خاندان کو شدید آزمائش میں مبتلا رکھا۔ اس دوران اس کے والد اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کے لیے مختلف شہروں کے اسپتالوں اور متعلقہ اداروں سے رجوع کرتے رہے اور ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ اسے بہتر علاج میسر آ سکے۔
بیماری کی شدت بڑھنے پر ڈاکٹروں کو اس کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی، مگر اس کے باوجود زہرہ کی صحت بہتر نہ ہو سکی۔ اس مشکل وقت میں علی پور کے نوجوان ساجد عرف سجو نے قابلِ تحسین کردار ادا کیا۔ انہوں نے دن رات کوشش کی، لوگوں سے مدد کی اپیل کی اور زہرہ کے علاج کے لیے ہر ممکن تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایسے نوجوان معاشرے کا قیمتی سرمایہ اور انسانیت کی خدمت کی روشن مثال ہوتے ہیں۔
آج زہرہ بی بی اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہے۔ اس کی جدائی نے اہلِ خانہ، دوستوں اور علاقے کے لوگوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔ اس واقعے نے صحت کی سہولیات، ضرورت مند مریضوں کی مدد اور معاشرتی ذمہ داری کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو بھی اجاگر کیا ہے، جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ زہرہ بی بی کی کامل مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور اس کے والدین و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 💔🥀

انا للّٰہ وانا الیہ راجعونفرض کی راہوں میں چلتے چلتے ایک اور بہادر سپاہی اپنے وطن پر قربان ہوگیا۔پنجاب پولیس کے نوجوان، ...
27/05/2026

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
فرض کی راہوں میں چلتے چلتے ایک اور بہادر سپاہی اپنے وطن پر قربان ہوگیا۔
پنجاب پولیس کے نوجوان، عبد الخالق گوپانگ اے ایس آئی، جو تھانہ روہیلانوالی میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے، نور واہ نالہ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثے کا شکار ہوگئے۔ شدید زخمی حالت میں انہیں ٹی ایچ کیو ہسپتال علی پور منتقل کیا گیا، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے۔

💔
“جو اپنے فرض کی خاطر جان لٹا دیتے ہیں،
وہ کبھی مرتے نہیں، دلوں میں زندہ رہ جاتے ہیں۔”

آج پنجاب پولیس ایک بہادر، فرض شناس اور نڈر سپاہی سے محروم ہوگئی۔
اللہ تعالیٰ شہید عبد الخالق گوپانگ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ آمین۔

رپورٹ: مزمل حسین
روہیلانوالی پریس کل

❤️❤️❤️
27/05/2026

❤️❤️❤️

Address

Sarai Alamgir
50000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MuzInfo Tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share