22/05/2026
یہ کہانی ہے ایک ایسے کچے انگن کی، جہاں کبھی ہنسی کے قہقہے گونجتے تھے اور تین بھائی—اسلم، اکرم اور ساجد—ایک ہی تھالی میں کھانا کھاتے تھے۔ ان کے والد نے مرتے وقت ہاتھ جوڑ کر کہا تھا، "بیٹا، جب تک تم ایک رہو گے، کوئی تمہیں توڑ نہیں سکے گا۔"
لیکن وقت گزرا، شادیاں ہوئیں، بچے بڑے ہوئے، اور رفتہ رفتہ اس انگن میں خواہشوں، غلط فہمیوں اور انا (Ego) کی دیواریں کھڑی ہونے لگیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں، گھر کے جھگڑے اور عورتوں کی ضد نے دلوں میں ایسی نفرت پیدا کر دی کہ ایک دن فیصلہ ہوا: "اب سب کچھ الگ ہوگا۔"
بات صرف گھر کے اندر دیوار اٹھانے تک رہتی تو شاید ٹھیک تھا، لیکن نفرت اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے باہر آنے جانے کا راستہ بھی تقسیم کر دیا۔ ایک ہی گلی کے اندر اینٹیں رکھ کر تین تنگ اور باریک راستے بنا دیے گئے، تاکہ کوئی ایک دوسرے کا سایہ بھی نہ دیکھ سکے۔ لوگ گزرتے اور اس عجیب و غریب بٹوارے کو دیکھ کر افسوس کرتے، پر بھائیوں کی انا ان دیواروں سے بھی زیادہ اونچی تھی۔
پھر وقت نے کروٹ بدلی...
کچھ سال گزرے، اور سب سے بڑے بھائی اسلم کا وقتِ رخصت آ گیا۔ لمبی بیماری کے بعد جب اس کی روح پرواز کر گئی، تو گھر میں کہرام مچ گیا۔
اب آخری سفر کی تیاری تھی۔ اسلم کو چارپائی پر لٹایا گیا تاکہ اس کا جنازہ باہر نکالا جا سکے۔ لیکن جیسے ہی چار کاندھا دینے والے اس کی چارپائی اٹھا کر باہر گلی کی طرف بڑھے، تو اچانک سب کے قدم رک گئے...
راستہ بہت تنگ تھا۔
وہ گالیاں اور دیواریں جو انہوں نے ایک دوسرے سے نفرت میں، ناپ تول کر بڑی ضد کے ساتھ بنائی تھیں، آج ان ہی کے سگے بھائی کے جنازے کے لیے چھوٹی پڑ گئی تھیں۔ چارپائی سیدھی گزر ہی نہیں سکتی تھی۔
اکرم اور ساجد، جو برسوں سے اپنے بڑے بھائی سے بات تک نہیں کرتے تھے، انہوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ جنازے کو باہر نکالنے کے لیے چارپائی کو ٹیڑھا کرنا پڑا، لکڑی کے پائے دیواروں سے ٹکرانے لگے، اور یوں لگا جیسے اسلم کا آخری سفر بھی ان کی نفرت کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو گیا ہو۔
ایک تلخ سبق
بھائی کا بے جان جسم جب ان تنگ دیواروں کے درمیان سے بڑی مشکل اور بے بسی سے گزرا، تو دونوں چھوٹے بھائیوں کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا۔ وہ وہیں گلی میں بیٹھ کر چیخ چیخ کر رونے لگے۔
انہیں سمجھ آ گیا تھا کہ:
جو دیواریں انہوں نے زندہ رہتے ہوئے دوسروں کو نیچا دکھانے اور راستے روکنے کے لیے کھڑی کی تھیں، آج ان ہی دیواروں نے ان کے اپنے بھائی کے جنازے کا راستہ روک کر انہیں دنیا کے سامنے رسوا کر دیا تھا۔
زمین کا بٹوارہ تو ہو گیا، راستے بھی الگ ہو گئے، لیکن اس نفرت نے انہیں جیتے جی بھی اور مرتے دم بھی تنہا کر دیا۔ افسوس، کہ جب تک یہ بات سمجھ آئی، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور بڑا بھائی مٹی تلے جا سویا تھا۔
سبق: رشتوں میں کبھی اتنی اونچی دیواریں کھڑی مت کرو کہ کل کو آخری سفر کے لیے چار کاندھے اور جنازہ نکالنے کی جگہ بھی نہ بچے۔ اینٹوں کی دیواریں تو بن جاتی ہیں، مگر وہ ہمیشہ انسانوں کے دلوں اور نصیب کو چھوٹا کر دیتی ہیں۔