28/07/2025
"گرمی کا دن، تنہائی کا لمس، اور لسی کا وعدہ"
کبھی کبھار کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر عام سے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی اندرونی خامشی اور ہلکی ہلکی گونج انسان کے دل پر دیر تک دستک دیتی رہتی ہے۔ آج بھی ایسا ہی ایک دن تھا۔ سورج اپنے جلال میں تھا، جیسے زمین پر موجود ہر ذرے کو جلا دینے کا ارادہ رکھتا ہو۔ کمرے کی دیواریں، جو کبھی تحفظ کا احساس دیتی تھیں، آج تند و تیز گرمی میں قید جیسی محسوس ہو رہی تھیں۔ پنکھا چل رہا تھا، مگر اس کی ہوا صرف جسم کو چھوتی تھی، دل کو سکون نہ دے پاتی تھی۔
سارا دن یوں ہی تنہائی اور گرمی کی آمیزش میں بیت گیا۔ نہ کوئی ملاقات، نہ کوئی مصروفیت۔ انسان کبھی کبھی خود سے بھی تھک جاتا ہے — شاید وہی کیفیت آج دل میں سرایت کیے ہوئے تھی۔
شام کے سائے لمبے ہونے لگے تو دل نے بغاوت کی۔ ذہن نے کہا، باہر نکلو، خود کو تازہ کرو۔ اور یوں، جیسے ایک تھکا ہوا پرندہ شام کے وقت اپنی پہچان کی شاخ پر بیٹھنے نکلتا ہے، ویسے ہی میں فیصل مسجد کی جانب نکل پڑا۔ وہاں کی فضا، وہاں کی خاموشی، اور وہ روحانی کشش — سب کچھ دل کو بھا گیا۔ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر اپنے اندر کی ہلچل کو تھاما، جیسے روح نے تھوڑی دیر کے لیے سکون کا لباس اوڑھ لیا ہو۔
واپسی پر تھکن بھی تھی، اور ایک ہلکی سی بھوک بھی۔ کمرے میں آ کر آرام کیا، پھر صبح کے کپڑے استری کیے۔ مگر دل اب بھی کچھ چاہتا تھا — کچھ ایسا جو زبان کو تسکین دے اور دماغ کو کچھ لمحے کی خوشی۔ خیال آیا کہ کیوں نہ لسی پی جائے؟ وہی مٹیالی سی ٹھنڈک، جو اندر تک اتر جائے۔
نیچے جا کر لسی کا آرڈر دیا۔ دکاندار سے کہا کہ پارسل کر دے، تو وہ کچھ تذبذب سے بولا:
"سر، ڈسپوزیبل گلاس تیس روپے کا ہے۔ آپ ایسا کریں، اپنا کوئی شناختی کارڈ دے دیں، لسی لے جائیں، بعد میں کارڈ اور گلاس واپس لے لیجیے گا۔"
اس کی بات سادہ تھی، مگر میرے لیے پیچیدہ ہو گئی۔ یاد آیا کہ میرا شناختی کارڈ تو پانچ ماہ پہلے ایک ٹریفک وارڈن کے پاس رہ گیا تھا۔ ایک معمولی چالان کے وقت، جب اُس نے ہمدردی دکھاتے ہوئے کہا تھا:
"بس کارڈ رکھ لیتا ہوں، چالان نہیں کرتا۔ آپ لائسنس بنوا لیں۔"
میں نے اثبات میں سر ہلایا تھا، مگر وقت کی گرد میں وہ بات کہیں رہ گئی۔ نہ لائسنس بنوایا، نہ کارڈ لینے گیا۔ اُس وارڈن نے کہا تھا، رات گیارہ بجے تک دفتر کھلا رہتا ہے، آ جانا — مگر میرے قدم وہاں تک نہ جا سکے۔
اور جو ایمپلائی کارڈ تھا، وہ کمرے میں رکھا تھا۔ دل میں ایک لمحے کو الجھن سی پیدا ہوئی۔ پھر سوچا، کسی نہ کسی چیز پر بھروسہ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ سو اپنا HBL کا ڈیبٹ کارڈ دکاندار کے حوالے کیا اور لسی لے لی۔
دکان سے باہر آیا تو پاس والی دکان سے رِیو بسکٹ بھی خرید لیے — جیسے یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں اس دن کی تلخی میں میٹھا پن گھولنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ تھکے قدموں سے واپس کمرے آیا، ہاتھ میں لسی، دل میں کئی خیال — اور ایک خاموش مسکراہٹ، جو شاید اس بات پر تھی کہ زندگی انہی چھوٹے چھوٹے لمحوں میں اپنے رنگ بکھیرتی ہے۔