Hamza Shaikh

Hamza Shaikh Hi My Name Is Hamza ! Insta/

17/05/2026

کبھی آپ نے کسی انگلش فلم میں ایسا سین دیکھا ہے جس میں ایکٹر باتھ روم میں ٹوتھ برش کررہا ہے؟

آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ دانتوں میں برش کرتے وقت بیسن کا پانی بند ہوتا ہے جبکہ دانت صاف کرنے کیلئے اس کے پاس ایک چھوٹا سا گلاس رکھا ہوگا جس میں وہ پانی بھر کر کلی کرتا ہے۔

اسی طرح جب کچن میں برتن دھوئے جاتے ہیں تو سنک کا ڈرینج فلو بند کرکے اس میں پانی بھر لیا جاتا ہے، پھر اس پانی میں برتن دھوئے جاتے ہیں۔

یہ پریکٹس تقریباً تمام مغربی ممالک میں یکساں پائی جاتی ہے۔ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب، وہ پانی ضائع نہیں کرتا۔ دوسری طرف پاکستان میں جب ہم دانتوں میں برش کررہے ہوتے ہیں تو اس دوران واش بیسن کا نلکا مکمل کھلا ہوتا ہے اور پانی سیدھا نالی میں جارہا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ برتن دھوتے وقت بھی یہی کچھ کیا جاتا ہے، نلکا پورا کھلا ہوتا ہے اور پانی مسلسل نالی میں جارہا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اور تو اور، وضو جیسا اہم ترین رکن ادا کرتے وقت بھی ہم کئی گیلن پانی نالی میں بہا دیتے ہیں۔

چونکہ پاکستان میں عام طور پانی انتہائی ارزاں چیز سمجھی جاتی ہے، اسلئے ہم دل کھول کر اسے ضائع کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ ہمارے پاس نہ تو مغربی ممالک جتنے وسائل ہیں اور نہ ہی پانی کے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت۔

اس رویئے کی کیا وجوہات ہیں؟ تعلیم کی کمی کو ہم موردالزام نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ یہ رویہ آپ کو ڈاکٹرز، انجینئرز اور ایم اے پاس لوگوں کے ہاں بھی ملے گا۔
دین سے دوری بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ سب سے زیادہ پانی کا ضیاع مساجد میں ہی ہوتا ہے۔

اسے ہم مجموعی معاشرتی جہالت کہیں یا ضد ، جو ہمیں اپنی سال ہا سال پرانی روش ترک کرنے سے روکے رکھتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں اپنی کوئی خراب عادت اس لئے نہیں بدلنی چاہیئے کیونکہ دوسروں نے نہیں بدلی۔



13/02/2026

میں نے طب کی پریکٹس کے 53 سالوں میں 4000 سے زیادہ لوگوں کو مرتے دیکھا۔
5میں نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے۔ میں نے ان کے آخری لمحوں میں ان کا ہاتھ تھاما۔ میں نے ان کے خاندانوں کو خبر دی۔ اور اب میں آپ کو ایک ایسی بات بتانے جا رہا ہوں جو ان میں سے زیادہ تر لوگوں میں مشترک تھی۔ وہ جینیات کی وجہ سے نہیں مرے۔ نہ بدقسمتی کی وجہ سے۔ وہ انتخاب کی وجہ سے مرے۔ ایسے رویے، ایسے اندازِ زندگی—جن کے نمونے میں نے 1972 میں پہچان لیے تھے۔ میں نے دہائیوں تک اپنے مریضوں کو خبردار کیا۔ زیادہ تر نے بات نہیں مانی۔ اور اب وہ سب جا چکے ہیں۔

میں 102 سال کا ہوں۔ میں یہ بات نہ تو ہمدردی کے لیے بتا رہا ہوں، نہ حیران کرنے کے لیے۔ میں یہ اس لیے بتا رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سمجھیں:

میں نے مرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اتنا وقت گزارا ہے جتنا آج زمین پر کوئی زندہ انسان نہیں گزار سکا۔ اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو 100 تک پہنچے، اور وہ جو 68 پر اچانک مر گئے—ان میں فرق کیا تھا۔ ممکن ہے آپ اس وقت، آج ہی، ان میں سے کم از کم دو کام کر رہے ہوں اور آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ وہ آپ کی زندگی کے سال کم کر رہے ہیں۔

پہلی چیز:

جو چیز سب سے تیزی سے انسان کو مارتی ہے—ہر چیز سے زیادہ—وہ ہے زیادہ دیر بیٹھنا۔ یہ مبالغہ نہیں ہے۔ میں نے یہ اپنی آنکھوں سے بار بار ہوتے دیکھا۔

1981 میں میں نے الگ نوٹس رکھنے شروع کیے: وہ مریض جو کام کے دوران بیٹھے رہتے تھے اور وہ جو دن بھر حرکت میں رہتے تھے۔ اکاؤنٹنٹ، سیکرٹریاں، ایگزیکٹو۔ وہ مختلف انداز میں بوڑھے ہوتے تھے۔ ان کے خون کے ٹیسٹ مختلف ہوتے تھے۔ ان کے دل جلدی فیل ہوتے تھے۔

1990 تک میرے پاس اتنا ڈیٹا تھا کہ میں یقین سے کہہ سکوں: جو شخص روزانہ 8–9 گھنٹے بیٹھتا ہے، وہ اندرونی طور پر اُس شخص سے 40٪ زیادہ تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے جو دن میں حرکت کرتا رہتا ہے۔ بعد میں میڈیکل ریسرچ نے اس کی تصدیق کی۔ لیکن میں نے یہ سب اپنے مریضوں کے جسموں میں پہلے دیکھا۔

کیا ہوتا ہے؟

خون کی گردش سست ہو جاتی ہے۔ خون ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ لمفی نظام—جو حرکت پر منحصر ہوتا ہے—جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔ 60 کے بعد، اگر استعمال کم ہو جائے، تو پٹھے چند دنوں میں کمزور ہونے لگتے ہیں

اور یہ عمل بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔

میرے پاس ایک ریٹائرڈ جج مریض تھا۔ وہ ہر صبح 45 منٹ ورزش کرتا تھا—باقاعدگی سے۔ اسے لگتا تھا وہ محفوظ ہے۔ لیکن ورزش کے بعد وہ 10–11 گھنٹے بیٹھ کر پڑھتا یا ٹی وی دیکھتا تھا۔ 71 سال کی عمر میں وہ فالج سے مر گیا۔

صبح کی ورزش نے اسے دوپہر کی بے حرکتی سے نہیں بچایا۔

حل مشکل نہیں: ہر گھنٹے حرکت کریں۔ کھڑے ہوں۔ کسی دوسرے کمرے تک چلیں۔ ایسا کچھ کریں جس میں ٹانگیں استعمال ہوں۔ میں 1974 سے ایسا کر رہا ہوں۔ ٹائمر لگائیں۔ میں 102 سال کا ہوں—اور آج بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔

دوسری چیز: نیند

صرف زیادہ نیند نہیں بلکہ صحیح قسم کی نیند۔

کتنے ہی مریض فخر سے کہتے تھے: “مجھے صرف 5 یا 6 گھنٹے کی نیند کافی ہے۔”

یہ طاقت کی علامت نہیں تھی۔ یہ خود فریبی تھی۔

دماغ کو 7 سے 8 گھنٹے درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ گہری نیند میں اپنی مرمت مکمل کر سکے۔ اسی دوران دماغ کا صفائی نظام وہ فاضل مادے خارج کرتا ہے جو یادداشت کی خرابی سے جڑے ہوتے ہیں۔

جب آپ مسلسل نیند کم کرتے ہیں، تو یہ زہریلے مادے ہر رات جمع ہوتے جاتے ہیں۔

میں نے دیکھا: جو لوگ اچھی نیند نہیں لیتے تھے وہ 10 سال پہلے یادداشت کے مسائل کا شکار ہو جاتے تھے۔ اتنا مضبوط تعلق تھا کہ میں 60 کی عمر میں ہی اندازہ لگا لیتا تھا کہ کون کب زوال کا شکار ہوگا—صرف نیند کی بنیاد پر۔

اور ایک بات: ٹکڑوں میں نیند۔ کم نیند سے بھی بدتر ہے۔ رات میں بار بار جاگنا۔ گہری نیند تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ بہت سے مریضوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ رات میں جاگ رہے ہیں ان کے شریکِ حیات جانتے تھے، وہ نہیں۔ اگر آپ 8 گھنٹے بستر پر گزار کر بھی تھکے ہوئے اٹھتے ہیں، تو کچھ غلط ہے۔

تیسری چیز: تنہائی

یہ نرم بات لگتی ہے۔ لیکن ہے نہیں۔

تنہائی جسم میں مسلسل دباؤ پیدا کرتی ہے۔ اسٹریس ہارمون بڑھ جاتے ہیں۔ مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔سوزش بڑھتی ہے۔

میں نے ایسے مریض دیکھے جو بظاہر صحت مند تھے لیکن اکیلے رہتے تھے کوئی قریبی تعلق نہیں۔ وہ ان لوگوں سے زیادہ تیزی سے بگڑے جنہیں شدید بیماریاں تھیں مگر مضبوط سماجی تعلقات تھے۔

60 کے بعد جب شریکِ حیات یا دوست بچھڑنے لگتے ہیں۔ تو تنہائی کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔آپ کو اس کے خلاف لڑنا ہوگا:کسی گروپ میں شامل ہوں۔کسی کو فون کریں۔ہفتوں تک بغیر بات چیت کے نہ رہیں۔

چوتھی چیز: خوراک

اور یہ مجھے غصہ دلاتی ہےکیونکہ ہماری میڈیکل برادری نے40 سال تک غلط مشورے دیے۔

ہم نے کہا: کم چکنائی کھائیں۔

ہم نے کہا: سارا اناج صحت مند ہے۔

ہم نے کہا: اورنج جوس اچھا ہے۔

اور ہم نے ایک ایسی نسل پیدا کی جو بڑھاپے میں ٹوست، جام اور سیریلز کھا رہی تھیاور حیران تھی کہ شوگر کیوں بڑھ رہی ہے۔60 کے بعد میٹابولزم بدل جاتا ہے۔انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔کاربوہائیڈریٹس ہضم کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔جو 40 پر ٹھیک تھاوہ 70 پر سوزش پیدا کرتا ہے۔

میں نے 65 پر اپنی خوراک بدلی۔پروسیسڈ کاربوہائیڈریٹس کم کیے۔صحت مند چکنائی بڑھائی۔ سبزیاں اور پروٹین پر توجہ دی۔ تین ماہ میں میری سوزش کے ٹیسٹ بہتر ہو گئے۔میں نے یہی مریضوں کو کہا۔ جنہوں نے مانا، فائدہ ہوا۔زیادہ تر نے نہیں مانا۔وہ اب نہیں رہے۔

پانچویں چیز: مستقل فکر

یہ خطرناک ہے کیونکہ۔ یہ بیماری نہیں لگتی یہ عادت لگتی ہے۔مگر مسلسل پریشانی اسٹریس ہارمونز کو بلند رکھتی ہے جو پورے جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔میں نے ایسے ریٹائرڈ مریض دیکھےجو مالی طور پر محفوظ تھےخاندان کے درمیان تھےپھر بھی دن بھر بے قابو فکروں میں مبتلا رہتے تھے۔ان کا جسم تیزی سے بوڑھا ہوا۔نیند خراب ہوئی۔مدافعتی نظام کمزور ہوا۔جو چیز آپ کے قابو میں نہیں اسے چھوڑنا

صرف ذہنی سکون نہیں زندہ رہنے کا ذریعہ ہے۔

میں آپ کو اپنی بیوی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔وہ آٹھ سال پہلے فوت ہو گئیں۔ہماری شادی کو 61 سال ہو چکے تھے۔انہوں نے میری کسی بات پر عمل نہیں کیا۔گھٹنوں کے درد کی وجہ سے وہ بیٹھتی رہیں۔نیند خراب تھی، مگر علاج سے انکار کیا۔خوراک وہی پرانی—روٹی، مٹھائیاں، کم چکنائی۔اور وہ ہر دن بچوں اور پوتوں کی فکر کرتی رہیں۔وہ 94 سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔94 ایک اچھی عمر لگتی ہے—لیکن میں نے ان کے آخری 15 سالآہستہ آہستہ ختم ہوتے دیکھے۔وہ حرکت، ذہانت اور خودمختاری کھو بیٹھی تھیں۔وہ سال نعمت نہیں تھے—وہ مسلسل کمی تھے۔وہ بہتر زندگی کے مزید 10 سال پا سکتی تھیں۔انہوں نے بدلنے کا انتخاب نہیں کیا۔

میں 102 سال کا ہوں۔میں اکیلا رہتا ہوں۔خود کھانا پکاتا ہوں۔ہر دن چلتا ہوں۔

پڑھتا ہوں۔اپنے پوتوں کو فون کرتا ہوں۔ہر رات 7½ گھنٹے سوتا ہوں۔میں خاص نہیں ہوں۔میں خوش قسمت نہیں ہوں۔میں انتخاب کرتا ہوں۔اور آپ بھی

اسی لمحےانتخاب کر رہے ہیں۔آپ کو سب کچھ بدلنے کی ضرورت نہیں۔

صرف ایک چیز چنیں:

نیند،

تنہائی،

خوراک،

یا فکر۔

ایک ٹھیک کریں باقی خود آسان ہو جائیں گی۔

میں نے اپنے تین میں سے دو بچے دفن کیے۔میں نے اپنی بیوی دفن کی۔میں نے 4000 مریض دفن کیے۔میں اب بھی یہاں ہوں۔اور میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ جن میں سے زیادہ تر کو میں نے دفن کیا—انہیں اس وقت نہیں جانا چاہیے تھا۔آپ ابھی یہاں ہیں۔اب سوال یہ ہے:

آپ اس کے بارے میں کیا کرنے والے ہیں؟

منقول

کاپی پیسٹ

انیس سال کا ایک لڑکا… جس نے موسیقی کی دنیا ہلا دیاور پھر خود تاریخ کے شور میں کہیں گم ہو گیاوہ صرف 18 سال کا تھا جب اس ن...
19/01/2026

انیس سال کا ایک لڑکا… جس نے موسیقی کی دنیا ہلا دی
اور پھر خود تاریخ کے شور میں کہیں گم ہو گیا
وہ صرف 18 سال کا تھا جب اس نے نیپسٹر بنایا۔
موسیقی کی طاقتور صنعت نے پہلے اسے تباہ کیا…
پھر اسی کے خواب پر اپنی سلطنت کھڑی کر لی۔
یہ کہانی ہے شان فیننگ کی۔
امریکہ، 1999
نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کا ایک خاموش سا طالبعلم، جسے موسیقی سے عشق تھا۔ شان فیننگ ہر روز ایک ہی مسئلے سے تنگ آ چکا تھا:
انٹرنیٹ پر گانے ڈھونڈنا ناممکن تھا۔
کبھی سرور بند، کبھی ڈاؤن لوڈ فیل، کبھی فائل خراب۔
وہ سلطنت گرانے نہیں نکلا تھا۔
وہ بس ایک مسئلہ حل کرنا چاہتا تھا۔
اور پھر اس نے کوڈ لکھنا شروع کیا۔
راتوں کو جاگ جاگ کر، ہاسٹل کے کمرے میں بیٹھ کر، اس نے ایک سادہ مگر انقلابی خیال بنایا:
Peer-to-Peer شیئرنگ
نہ کوئی مرکزی سرور
نہ کوئی گیٹ کیپر
بس لوگ… اور ان کی موسیقی
اس نے اسے نام دیا: Napster
اپنا بچپن کا لقب۔
جون 1999 میں نیپسٹر لانچ ہوا۔
چند ہفتوں میں ہزاروں صارف
چند مہینوں میں لاکھوں
کالج کے طلبہ راتوں رات پوری میوزک لائبریری ڈاؤن لوڈ کرنے لگے۔
نوجوان وہ بینڈ سننے لگے جن کا نام کبھی ریڈیو پر نہیں آیا تھا۔
پہلی بار موسیقی آزاد ہو گئی۔
لیکن صنعت گھبرا گئی۔
یہ صرف piracy نہیں تھا…
یہ piracy کا انفراسٹرکچر تھا۔
میٹلِکا، ڈاکٹر ڈرے، ریکارڈ کمپنیاں، RIAA
سب عدالت پہنچ گئے۔
شان ابھی 20 کا بھی نہیں ہوا تھا
اور اس کے سامنے قانونی لشکر کھڑا تھا۔
2001 میں نیپسٹر بند کر دیا گیا۔
کمپنی ٹوٹ گئی۔
شان سب کچھ ہار گیا۔
اسے چور کہا گیا۔
نادان نوجوان کہا گیا۔
ایک سبق بنا دیا گیا۔
مگر پھر صنعت نے غور کیا۔
انہیں سمجھ آیا:
مسئلہ چوری نہیں تھی
مسئلہ نیا طریقہ تھا
لوگ ملکیت نہیں چاہتے تھے
وہ رسائی چاہتے تھے
فوری
سستی
لامحدود
2003 میں آیا iTunes
99 سینٹ فی گانا
نیپسٹر، مگر قیمت کے ساتھ
2008 میں آیا Spotify
ماہانہ فیس، لامحدود اسٹریمنگ
نیپسٹر، مگر لائسنس کے ساتھ
پھر Apple Music
YouTube Music
Amazon Music
Pandora
پوری صنعت نے وہی ماڈل اپنایا جو شان نے 1999 میں دکھایا تھا۔
قانونی طریقے سے
منافع کے ساتھ
نیپسٹر ختم ہو گیا
مگر اس کا DNA زندہ رہا
آج ایک کھرب ڈالر کی اسٹریمنگ انڈسٹری
اسی لڑکے کے خواب پر کھڑی ہے
شان فیننگ خاموشی میں چلا گیا
اور وہ کمپنیاں جنہوں نے اسے عدالتوں میں گھسیٹا
اسی کے نقشے پر اربوں کما رہی ہیں
آج کے نوجوان دس ڈالر میں لاکھوں گانے سنتے ہیں
اور سمجھتے ہیں یہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا
انہیں نہیں معلوم
کہ اس دنیا کے لیے
ایک لڑکے کو قربان کرنا پڑا تھا
تاریخ اکثر مستقبل دکھانے والوں کو یاد نہیں رکھتی
تاریخ انہیں یاد رکھتی ہے جو مستقبل کو بیچنا جانتے ہیں
شان فیننگ نے ثابت کیا
ملکیت مر چکی ہے
رسائی سب کچھ ہے
پرانا نظام ختم ہو چکا ہے
صنعت نے اسے مٹا دیا
پھر اسی کے نقش قدم پر چل پڑی
کبھی کبھی تاریخ آپ کو غلط ہونے پر سزا نہیں دیتی
بلکہ بہت جلد درست ہونے پر دیتی ہے
پھر آپ کے خواب کو اپنا لیتی ہے
اور ایسے ظاہر کرتی ہے جیسے آپ کبھی تھے ہی نہیں
تحقیق و ترجمہ: حسین


#نیپسٹر #ٹیکنالوجی
مزید دلچسپ اور انوکھی کہانیوں کے لیے ہمیں فالو کریں

ایک ارب روپے کتنے ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟پہلی مثال:اگر کسی کو ایک ارب روپے، ایک ایک روپیہ  کی شکل میں دیئے جائیں اور کہا جائے کہ ...
27/12/2025

ایک ارب روپے کتنے ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟
پہلی مثال:
اگر کسی کو ایک ارب روپے، ایک ایک روپیہ کی شکل میں دیئے جائیں اور کہا جائے کہ انہیں گنو۔۔۔
اور وہ شخص بغیر کسی وقفے کے دن رات بغیر کھائے، پیے، سوئے۔۔۔ گننا شروع کرے۔۔۔ اور فی سیکنڈ ایک روپیہ گنے۔۔۔تو یہ رقم گنتے گنتے تقریباً 32 سال لگ جائیں گے۔۔۔😮😮

دوسری مثال:
فرض کیجیے۔۔۔ایک شخص یکم جنوری سن ایک عیسوی کو پیدا ہوا اور اس نے روزانہ ایک ہزار (1000) روپے خرچ کرنا شروع کیے تو وہ تقریباً 2740 سال تک روزانہ یہ رقم خرچ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔
یعنی سن ایک عیسوی سے لیکر 31 دسمبر 2019 تک اس نے 726,840,000 روپے خرچ کیے۔۔۔
اور بقیہ رقم سے مزید 721 سال تک روزانہ ایک ہزار کے اخراجات کر سکتا ہے۔۔۔۔😲😲😲

اب تیسری مثال لیجیے۔۔۔۔
فرض کیجیے ایک 10 سال کی عمر کے بچے کے اکاونٹ میں ایک ارب روپے جمع کروا دیے جائیں۔۔۔
اور وہ بچہ روزانہ تیس ہزار روپے (30,000) روپے اکاونٹ سے نکلوا کر کھائے پیے، کھلونے خریدے، رشتہ داروں میں بانٹے یا ان نوٹوں سے چڑیاں طوطے بنا کر اڑا دے۔۔۔
پھر دوسرے دن تیس ہزار نکلوائے اور دل کھول کر خرچ کرے۔۔۔ اور پھر تیسرے۔۔۔ چوتھے۔۔۔ اسی طرح روزانہ تیس ہزار روپے خرچ کرنے کا عمل مسلسل جاری رکھے۔

حتی کہ جوان ہو، ادھیڑ عمری اور پھر بڑھاپے تک پہنچ جائے۔۔۔ اور پھر 100 سال کی عمر تک پہنچ کر دنیا سے رخصت ہوجائے۔
تب بھی اس کے اکاونٹ میں تقریباً، ڈیڑھ کروڑ روپے باقی بچ رہیں گے۔۔۔😲😲😲😲

اور اب ایک موٹی سی مثال حاضر ہے۔۔۔
ایک بندہ پیدا ہونے کے دن سے لے 55 سال تک روزانہ 50,000 روپے خرچ کرے تب بھی ایک ارب روپے میں سے ایک کروڑ روپے باقی بچ ہی جائیں گے۔
50,000x30x12x55= 99,00,00,000 ننانوے کروڑ
باقی۔۔۔ 1,00,00,000 ایک کروڑ روپے۔

سمجھ میں آئی کوئی بات ؟؟؟
ذرا نہیں پورا سوچیے۔۔۔
یہ تو صرف ایک ارب روپے کی بات تھی۔۔۔

اب پاکستان میں کئی سو اربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں کے بارے میں آپ خود سوچ لیں۔۔۔

ہے نا حیرانی اور پریشانی والی بات۔۔۔ کیا یہ اتنے روپے کفن میں ڈال کر قبروں میں ساتھ لے جائیں گے؟؟؟
غیر سیاسی پوسٹ.

21/12/2025

2026 قریب آ رہا ہے…
ایک اور سال ضائع کرنے کے بجائے یہ 50 کام کریں

→ روزانہ جرنل لکھنا شروع کریں
→ جلدی جاگنے کی عادت ڈالیں
→ کوئی نئی زبان سیکھیں
→ اکیلے سفر پر جائیں
→ کھانا پکانے کی 5 خاص ڈشز میں مہارت حاصل کریں
→ کم از کم ایک بار رضاکارانہ کام کریں
→ ایمرجنسی فنڈ بنائیں
→ اسکن کیئر اور ہیئر کیئر روٹین بہتر کریں
→ اپنے مستقبل کے لیے خط لکھیں
→ پبلک اسپیکنگ سیکھیں
→ کیپسول وارڈروب بنائیں
→ فٹنس روٹین شروع کریں
→ آن لائن بزنس شروع کریں
→ 20 زندگی بدل دینے والی کتابیں پڑھیں
ڈیجیٹل ڈیٹاکس آزمائیں

ایک بزرگ خاتون ایک بینک میں داخل ہوئیں اور نہایت ادب سے کہا کہ وہ ایک پانچ سو روپے نکالنا چاہتی ہیں۔کیشئر نے شیشے کے پیچ...
13/12/2025

ایک بزرگ خاتون ایک بینک میں داخل ہوئیں اور نہایت ادب سے کہا کہ وہ ایک پانچ سو روپے نکالنا چاہتی ہیں۔
کیشئر نے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں سرسری نظر ڈالتے ہوئے رُکھے لہجے میں کہا:
"پانچ ہزار سے کم رقم نکالنے کے لیے اے ٹی ایم استعمال کریں۔ اگر آپ کا کوئی اور سوال نہیں تو مہربانی کرکے ایک طرف ہو جائیں—لوگ انتظار کر رہے ہیں۔"

خاتون چند لمحے خاموش رہیں، پھر پر سکون انداز میں اپنا نیا چیک کاؤنٹر پر سرکاتے ہوئے بولیں:
"اچھا، تو پھر میں اپنے اکاؤنٹ کی ساری رقم نکلوانا چاہوں گی۔"

کیشئر نے اس کا بیلنس چیک کیا تو گھبرا گیا۔
"میڈم، آپ کے اکاؤنٹ میں دس لاکھ سے زیادہ ہیں! معذرت، ہم اتنی بڑی رقم فوراً کیش میں نہیں دے سکتے۔ اس کے لیے درخواست دینا پڑے گی اور آپ کو کل آنا ہوگا۔"

خاتون نے پوچھا:
"تو ابھی میں کتنی رقم نکال سکتی ہوں؟"

کیشئر نے فوراً نرم لہجے میں جواب دیا:
"آپ پچاس ہزار روپے تک نکال سکتی ہیں۔"

"بہت خوب۔ تو پھر مجھے 15735 روپے نکالنے ہیں۔" اور تیسرا چیک آگے کر دیا۔

کیشئر نے نوٹوں کی گڈی اٹھائی۔ ہزار، پانچ سو اور سو روپے کے نوٹوں کو گنتے ہوئے کافی وقت لگایا۔ آخر میں زبردستی مسکراتے ہوئے خاتون کو رقم دیتے ھوئے بولا:
"کیا آج آپ کو مزید کسی چیز کی ضرورت ہے؟"

خاتون نے پر سکون انداز میں اس رقم میں سے تین سو روپے نکالے، پرس میں رکھے، اور کہا:
"جی ہاں۔ میں 15435 روپے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروانا چاہتی ہوں
🤣🤣🤣

سبق؟
بلا وجہ کسی کی زندگی مشکل مت بنائیں۔
کیونکہ سامنے والا بھی اتنی ہی آسانی سے آپ کی زندگی مشکل بنا سکتا ہے۔
Follow our page ➡️ 👍

08/12/2025

پیدائش سے لے کر تقریباً 7 سال تک بچے کا دماغ سیکھ نہیں رہا ہوتا —
وہ ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے۔

ہر آواز
ہر لمس
ہر چیخ
ہر نظر انداز
ہر محبت
ہر ڈانٹ
ہر تعریف
ہر بے توجہی
ہر لاڈ
ہر سزا

یہ سب اس کے دماغ پر ایسے ثبت ہوتے ہیں
جیسے گیلی مٹی پر انگلیوں کے نشان۔

اسی لیے سائنس اسے کہتی ہے:

The Absorption Stage (جذب ہونے کا دور)

بچہ:

سوچتا کم ہے
محسوس زیادہ کرتا ہے
سوال کم کرتا ہے
نتیجہ خود بنا لیتا ہے
دنیا کو خود پر مرکوز سمجھتا ہے

نیوروسائنس کے مطابق:

انسان کی 80% ذہنی wiring پہلے سات سال میں مکمل ہو جاتی ہے۔

یعنی:

خوف
محبت کا انداز
اعتماد
خود شک
رویے
ردعمل
حساسیت
غصہ
تعلقات کے اصول

یہ سب بچپن میں طے ہو جاتے ہیں۔

مثلاً:

❖ اگر بچہ محبت کو مشروط پاتا ہے →
وہ بڑا ہو کر ہر تعلق میں خود کو ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔

❖ اگر بچہ نظر انداز ہوتا رہے →
وہ بڑا ہو کر ہر اس شخص سے چمٹے گا جو ذرا سی توجہ دے۔

❖ اگر بچہ تنقید کا شکار رہے →
وہ بڑا ہو کر تعریف کا addicted ہو جائے گا۔

❖ اگر بچہ خوف میں پلے →
وہ بڑا ہو کر overthinker بنے گا۔

❖ اگر بچہ بہت کنٹرول میں رکھا گیا →
وہ بڑا ہو کر یا تو حد سے زیادہ تابع ہو گا
یا حد سے زیادہ باغی۔

یہ پروگرامنگ کبھی غلط نہیں ہوتی —
یہ ہمیشہ survival-based ہوتی ہے۔

بچپن کی programming بالغ ذہن کے لئے نقصان دہ بن جاتی ہے۔

وہ بچانے کے لیے بنی تھی…
لیکن اب وہی نظام آپ کو نقصان پہنچاتا ہے

اٹیچمنٹ سائنس کے مطابق بچے کے ذہن میں ایک سادہ سا سوال ہوتا ہے:

**کیا دنیا محفوظ ہے؟

یا مجھے خود کو بچانا پڑے گا؟**

اگر بچپن میں:

محبت مسلسل

توجہ مستحکم

احساس کا اظہار واضح

تو بچہ Secure Attachment سیکھتا ہے۔

ایسے لوگ بڑے ہو کر:

پُراعتماد

متوازن

وفادار

مضبوط

تعلقات میں مستحکم

ہوتے ہیں۔

لیکن اگر بچپن میں:کبھی محبت، کبھی سردمہری کبھی نزدیک، کبھی دور کبھی تعریف، کبھی غصہ تو بچہ سیکھتا ہے:

Love is unpredictable.

یہ بناتا ہے:

Anxious Attachment — وہ لوگ جو محبت میں حد سے زیادہ invest کرتے ہیں،

جلدی ٹوٹ جاتے ہیں،
اور ہر وقت کھونے کا خوف رکھتے ہیں۔

اگر بچپن میں:

جذبات کا اظہار نہیں
سننے والا کوئی نہیں
حد سے زیادہ تنقید
سخت ماحول
تو بنتی ہے:

Avoidant Attachment —

وہ لوگ جو نزدیک آتے ہوئے گھبراتے ہیں،
قریب آکر بھاگ جاتے ہیں۔

یہ سب بچپن کے ذہنی نقشے ہیں
جو پوری زندگی انسان کے تعلقات کو چلانے لگتے ہیں۔

Trauma صرف یہ نہیں کہ کسی نے مارا ہو یا چھوڑ دیا ہو۔
Trauma وہ بھی ہے:

جس توجہ کی ضرورت تھی، وہ نہ ملی

جو بات سنی جانی تھی، وہ دب گئی

جس محبت کا حق تھا، وہ نہ ملی

جس امن کی ضرورت تھی، وہ خوف نے کھا لیا

سائنس کہتی ہے:

Trauma is not the event.

Trauma is the internal wound that never healed.

کیا ہوتا ہے؟

Amygdala (fear center) overactive

Hippocampus (memory center) کمزور

Prefrontal cortex (logic) کمزور

یعنی:

صدمہ عقل کو کمزور، خوف کو طاقتور اور یادوں کو مسخ کر دیتا ہے۔

اور صدمہ انسان کو دنیا کو ایسے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے جیسے اس کا بچپن تھا —
نہ کہ جیسی دنیا واقعی ہے۔

بالغ لوگ بچّوں جیسا برتاؤ کیوں کرتے ہیں؟

کیونکہ:

بڑا جسم ہے… مگر اندر اب بھی وہی بچہ بیٹھا ہے۔

جو:

نظر انداز ہونے سے ڈرتا ہے

چھوڑے جانے سے ڈرتا ہے

غلط ثابت ہونے سے ڈرتا ہے

ناکامی سے ڈرتا ہے

محبت کھونے سے ڈرتا ہے

بالغ انسان کا 70% جذباتی ردعمل
اصل میں اسی بچے کا ردعمل ہوتا ہے
جو کبھی محفوظ محسوس نہیں کر سکا۔

اسی لیے:

کچھ لوگ حد سے زیادہ حساس

کچھ حد سے زیادہ غصہ آور

کچھ حد سے زیادہ خاموش

کچھ حد سے زیادہ محتاط

کچھ حد سے زیادہ مانوسیت کے بھوکے

کچھ حد سے زیادہ دور رہنے والے

ہو جاتے ہیں۔

یہ سب بچپن کے خوف ہیں
جو بڑے ہو کر رویے بن گئے۔

دماغ جذباتی تکلیف کو کیسے منجمد کرتا ہے

جب بچپن میں تکلیف ملتی ہے
اور بچہ اسے برداشت نہیں کر سکتا
تو دماغ ایک حکمت عملی بناتا ہے:

Freeze the emotion. Hide it. Save the child.

دماغ جذبات کو:

دبا دیتا ہے

دفن کر دیتا ہے

جسم میں سٹور کر دیتا ہے

غلط معنی دے دیتا ہے

خاموش عادتوں میں بدل دیتا ہے

اسی لیے:

anxiety

depression

overthinking

addiction

toxic relationships

emotional numbness

یہ سب جذبات کی چھپی ہوئی لاشیں ہیں
جو کبھی مناسب طریقے سے دفن نہیں کی گئیں۔

ہم سب اپنے اندر بچپن کو اٹھائے پھرتے ہیں)

انسان بالغ ہو جاتا ہے
مگر اس کا دماغ نہیں ہوتا۔

بچپن کے نقشے
بچپن کے زخم
بچپن کے خوف
بچپن کی کمی
بچپن کی محبت
بچپن کی یادیں

یہ سب انسان کے اندر رہتی ہیں
اور اسے بتاتی رہتی ہیں:

کون قابلِ بھروسہ ہے
کون خطرہ ہے
کون محبت ہے
کون دشمن ہے
کون اپنا ہے
کون غیر

انسان کی آج کی شخصیت
کل کے بچپن کی گونج ہی تو ہے۔

پروفیسر اسامہ رضا

"Wrong Train Theory" زندگی کا ایک خوبصورت استعارہ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کبھی کبھی ہم کسی ایسے راستے پر چل پڑتے ہیں—چاہے وہ ...
30/11/2025

"Wrong Train Theory"
زندگی کا ایک خوبصورت استعارہ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کبھی کبھی ہم کسی ایسے راستے پر چل پڑتے ہیں—چاہے وہ کیریئر کا ہو، رشتوں کا، یا ذاتی زندگی کا—جو شروع میں بالکل ٹھیک لگتا ہے، مگر آہستہ آہستہ احساس ہوتا ہے کہ یہ راستہ ہمیں ہماری اصل منزل تک نہیں لے جا رہا۔

یہ کسی ناکامی کی علامت نہیں بلکہ ایک ری ڈائریکشن ہے، جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحیح راستہ کیسا ہونا چاہیے اور یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ راستہ بدلنے کی ہمت ہمارے اندر موجود ہے۔

اس سے ملتا جلتا ایک جاپانی کہاوت بھی یہی مشورہ دیتی ہے کہ غلط ٹرین سے جتنی جلدی اتر جاؤ، اتنا ہی بہتر ہے—کیونکہ زیادہ دیر تک اس میں بیٹھے رہنے کی قیمت ہمیشہ زیادہ پڑتی ہے۔

آپ کس بات سے اتفاق کرتے ہیں ؟

ہزاروں سالوں سے ان پڑھ نائی بچوں کی ختنے کرتے ا رہےہیں ۔کسی نے بچے کا عضو نیہں کاٹا ۔ گجرات کے مشہور سرجن نے بچے کا عضو ...
16/11/2025

ہزاروں سالوں سے ان پڑھ نائی بچوں کی ختنے کرتے ا رہے
ہیں ۔کسی نے بچے کا عضو نیہں کاٹا ۔ گجرات کے مشہور سرجن نے بچے کا عضو کاٹ دیا۔

ہزاروں سالوں سے ان پڑھ دایاں زچگی سے نارمل کروڑوں بچے نارمل پیدا کروا چکی ہیں ۔ پھر پڑھی لکھی ڈاکٹرز آ گئیں اور عورتوں کے پیٹ کا کر بچے پیدا کرنے شروع کر دئے۔
ہزاروں سالوں سے ان پڑھ جراح ٹوٹی ہڈیوں کو ٹھیک کرتے اور جوڑتے آ رہے ہیں ۔ پھر آرتھوپیڈک سرجن آ گئے۔ اور لوگوں کی ٹانگیں اور پاوں کاٹنے شروع کر دئے۔
ہزاروں سالوں سے لوگ سرما لگاتے آ رہے تھے ۔اور 90 سال تک بنا عینک کے دیکھتے تھے۔ پھر پڑھے لکھے ڈاکٹر آئی سپیشلسٹ آ گئے۔اور 5 سال کے بچوں کو عینک لگ گئی۔
ہزاروں سال سے لوگ منوں کے حساب سے گڑ کھاتے آ رہے ہیں۔ اور فٹ پاتھ پہ بیٹھے ان پڑھ بندے سے دانت لگاتے رہتے تھے۔ کسی کو کینسر نیہں ہوا۔
آج لاکھوں روپے لگا کر جدید مشینری سے علاج ہوتا ہے۔ اور پھر بھی دانتوں کا کینسر بن جاتا ہے۔
ہزاروں سالوں سے گردے اور پتے کی پھتری کو حکیم ایک پڑی سے نکال لیتے تھے۔ اب جدید ترین ٹیکنالوجی سے پتہ اور گردہ ہی نکال لیا جاتا ہے۔
ہزاروں سالوں سے بچے ماں کا دودھ یا اوپر والا دودھ پیتے ائے ہیں اور بغیر ڈبے کے صحت مند رہے ہیں ماشاءاللہ
لیکن اب ڈبہ لگا دیا گیا ہے جو کہ والدین کے لیے بوجھ بن چکا ہے اور کمپنیوں کے لیے چاندی۔

اب میڈیکل سائنس نے کیا ترقی کی ہے۔
سمجھ سے بالا تر ہے۔
ہر سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال میں پاؤں رکھنے کی جگہ نیہں ۔ 1 سال کے بچے سے لے کر 90 سال تک سب مریض بنے ہوۓ ھیں

ٹام ایک برطانوی صحافی ہے افغانستان جنگ میں اسے پاکستان میں رہنے کا اتفاق ہوا اس نے پاکستان کے طول وعرض میں سفر کیا اور پ...
16/11/2025

ٹام ایک برطانوی صحافی ہے افغانستان جنگ میں اسے پاکستان میں رہنے کا اتفاق ہوا اس نے پاکستان کے طول وعرض میں سفر کیا اور پاکستانیوں کو قریب سے دیکھا ۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر اس نے پاکستانیوں کے بارے میں ایک خوبصورت تبصرہ کیا۔ ٹام نےکہا کہ پاکستانیوں میں حرکت بہت زیادہ ہے یہ دن میں 24 گھنٹے اپنی جان پر کھیلتےرہتے ہیں لیکن اس حرکت کاانہیں حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا۔ ٹام نے اس سلسلے میں ایک خوبصورت مثال بھی دی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک بار اندرون ملک سفر کر رہاتھا، ایک جگہ ریلوے پھاٹک بند ہوگیا، دونوں اطراف ٹریفک رکی ہوئی تھی میں نے دیکھا ایک نوجوان سائیکل کے پیڈل مارتا ہوا پھاٹک تک آیا، سائیکل سے اترا، سائیکل کندھے پر اٹھائی اور پھاٹک کی بغل میں موجود ایک فٹ کی جگہ سے گھسٹتا ہوا دوسری طرف نکل گیا، جب وہ اس جدوجہد میں مصروف تھا تو ٹرین تقریبا اس کے سر پر آچکی تھی اور وہ پھرتی سے پھاٹک عبور کر گیا دوسری سمت اس نے سائیکل اتاری چھلانگ لگا کر اس کی گدی پر بیٹھا اور گاڑیوں میں راستہ بناتے ہوئے غائب ہوگیا، مجھے اس کی بہادری نے حیران کردیا میں بے اختیار تالیاں بجانے لگا میں نے سوچا اس شخص کو لازما اپنے کام کی جلدی ہوگی اس نے اپنے کام پر وقت پر پہنچنا ہوگا ، پھاٹک کھل گیا ٹریفک چل پڑی ذرا دور ایک مجمع لگا تھا میں نے دیکھا وہی بہادر شخص اپنے سائیکل کے کیریئرپر کھڑا ہوکر مجمع میں جھانک رہا تھا میں نے رک تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ وہاں مداری کا تماشہ ہورہا ہے اور میرا بہادر ہیرو بڑے انہماک سے وہ کھیل دیکھ رہا ہے ، میں حیران رہ گیا اور سوچنے لگا کہ اس شخص نے اس کھیل میں ہی وقت برباد کرنا تھا تو پھر اسے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی تب مجھے اندازہ ہوا یہ شخص اس پوری قوم کا نفسیاتی نمائندہ ہے یہاں لوگ بہت تیز بھاگتے ہیں ان کی زندگی میں بہت حرکت ہے لیکن اس حرکت ، افراتفری اور بھاگ دوڑ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ۔ آپ بھی ٹام سے سو فیصد اتفاق کریں گے واقعی ہم لوگ اشارے توڑ کر گھر پہنچ جائیں گے لیکن پھر دھوتی باندھ کر، بنیان پہن کر پیٹ پر خارش کرتے رہیں گے اور ہمارے پاس کرنے کے یے کچھ نہیں ہوگا۔

بحیثیتِ استاد اور کیرئیر کاونسلر میرے پاس گریجویٹس نوجوان آتے رہتے ہیں۔یہ اتنے جلد باز ہوتے ہیں کہ یہ دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں لیکن جب ان سے کسی بھی ٹاپک پر بات کی جائے تو ایک محدود تعداد میں نوجوان طلباء اور طالبات کی سیاست ، معیشت،ادب،مذہب، معاشرت اور جدید علوم پر دسترس دیکھ کردل کھل اٹھتا ہے۔ گنے چنے ہونہار طلباء کے پاس معلوماتِ ہوتی ہیں لیکن تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ایسا کیوں ہیں؟ کیوں کہ جلد بازی اور صرف رٹی رٹائی چیزیں ہیں۔بدقسمتی سے اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہے جن سے بات چیت کر کے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنے مضمون کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتے۔
نوجوان اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو وہ یہ کام اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں۔

1۔ نوجوان کتب کا مطالعہ باقاعدگی سے کریں۔

2۔ اپنے علم دوست اساتذہ کے پاس بیٹھ کر سوالات کریں۔

3۔ دوستوں کے حلقوں میں بیٹھ کرآئیڈیاز اور معلومات کا تبادلہ کریں۔ ہماری سوسائٹی میں آئیڈیاز اور مستند معلومات کا بہت فقدان ہے۔

4۔ اپنے گھر میں اپنے عزیزو اقارب کے علم اور تجربے سے استفادہ حاصل کریں۔

5۔ ادبی حلقوں میں جایا کریں۔

6۔ جستجو اور تحقیق کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔

7۔ زندگی میں چھوٹے چھوٹے گول سیٹ کریں۔

8۔ دوسروں کا نکتہ نظر جاننے اور سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

9۔ اختلاف رائے کو خندہ پیشانی سے برداشت کیجئے۔

10۔ دلیل کا جواب دلیل سے دینا سیکھیے۔

11۔ ہمارے نوجوان دوسروں سے بات کرتے وقت اپنی آواز اونچی کر لیتے ہیں اور جب کسی دلیل کا جواب نہیں بن پاتا تو گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔اس سے نہ صرف ان کی اپنی شخصیت سازی کا عمل رک جاتا ہے بلکہ پورے معاشرے پر اسکے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

12۔ اور آخری بات جلد بازی کسی کام میں ہرگز نہ کریں، ہر کام کو اپنا وقت دیں۔

ٹیلنٹ ڈسکوری اور کیرئیر کاؤنسلنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔

*‏وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛**لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔* *وہ ڈیم ...
09/11/2025

*‏وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*

*وہ ڈیم بنا کر، نہروں پر ٹربائن لگا کر سستی بجلی پیدا کرکے آپکو دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں دیتے۔*

*وہ ایران سے سستا تیل و گیس لے کر آپکی مشکلات کم کر سکتے ہیں؛*

*لیکن وہ نہیں کرتے۔*

*وہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کر کے آپ کو پرسکون زندگی دے سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ کر کے نہیں دیتے۔*

*وہ ٹوورزم کو بہتر بنا کر اور امن و امان قائم کر کے فی کس آمدنی بڑھا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ نہیں بڑھاتے۔*

*وہ بہتر اور معیاری نظام تعلیم لا کر قوم کا شمار مہذب قوموں میں کرا سکتے ہیں؛*
*لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔*

*وہ غربت اور جہالت کا خاتمہ کر کے ریاست کو* *خوشحال بنا سکتے ہیں؛*

*لیکن وہ نہیں بناتے۔*

*وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟*
*وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ھے۔*

*ان کا مقصد صرف اور صرف دولت سمیٹنا ھے،*
*جس کے لیے ضروری ھے کہ عوام کو نان نفقہ کا محتاج رکھا جائے،*
*جس میں فی الحال وہ کامیاب ہیں۔*
*انہوں نے ہر قیمت پر تمہیں غلام ہی رکھنا ہے۔*
*اس طرح ہم سب قید میں ہیں۔*

*عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا؟*
*عوام کی زندگی کیوں نہیں بدلتی؟*
*کیونکہ غلام کے اتنے ہی حقوق ہوتے ہیں جتنے ہمیں مل رہے ہیں۔*
*اس سے زیادہ سہولتیں آزاد قوموں کیلئے ہوتی ہیں۔*

*آپ محنت کرکے اپنا رہن سہن بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو پچھلی پوزیشن پر پہنچا دیتے ہیں۔*
*آپ مزید محنت کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں۔*
*آپ کو وہ مصیبتوں سے نکلنے نہیں دیتے بلکہ آئے روز مزید پریشانیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔*
*ان سب نکات کو آپ کسی سیاسی جماعت کا سپورٹر بن کر نہیں*
*بلکہ ایک پاکستانی بن کرسوچیں!*
*آپ کو سب کچھ واضع نظر آئے گا*
*یہاں تک کہ غلامی کا وہ طوق بھی جو آپ کے گلے میں ہے مگر آپ کو نظر نہیں آتا۔*
اور اس "وہ" میں وہ سارے شامل ہیں جو ہمارے اوپر حکمرانی کرتے ہیں ۔۔۔

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamza Shaikh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Hamza Shaikh:

Share