Hamza Shaikh

Hamza Shaikh Hi My Name Is Hamza ! Insta/

03/07/2026

2020 میں جب میں نے اپنا پہلا آن لائن ای کامرس کام سٹارٹ کیا آن لائن پروڈکٹ سیلنگ کا تو موبائل کے بعد مجھے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی وہ تھا لیپ ٹاپ کیونکہ سب کام ایک ساتھ موبائل پر کرنےمیں بہت مشکل پیش آتی تھی کبھی کورئیر پورٹل نہیں کھلتا تھا تو اگر وہ کام کرو تو واٹس ایپ بند کرنا پڑتی تھی فیس بک انسٹاگرام پر کام کرو تو باقی کام رک جاتا تھا تو ایک لیپ ٹاپ بہت صروری تھا اب ہم نے اپنی صرورت پوری کرنے کے لئے مارکیٹ کا رخ کیا مختلف سٹورز وزٹ کئے ماڈل دیکھے جو بجٹ میں آتا وہ کسی کام کا نہیں تھا جو کام کا تھا وہ بجٹ سے بہت باہر ہو جاتا تھا خیر اسکا ایک حل ایک دوست کے مشورے پر یہ نکلا کہ کیوں نہ سیکنڈ ہینڈ لے لیا جائے آئیڈیا برا نہیں تھا تو اس کے لئے ہم نے آن لائن سرچ شروع کی کس ماڈل میں تلاش کیا جائے جو اچھا بھی ہو اور بجٹ میں بھی ہو اور کام بھی ٹھیک چل جائے تو ڈھونڈتے رہے کبھی یہاں کبھی وہاں پھر ایک دن OLX پر ڈھونڈتے ہوئے ہمیں کروم بک کے بارے میں پتا چلا تھوڑی ریسرچ سے جو دنیا سامنے کھلی اسنے ہلا کر رکھ دیا.
قیمت میں سب سے سستا
آن لائن ای کامرس میں کارآمد
واٹس ایپ اور سوشل استعمال کرنے میں سب سے مزیدار
بیٹری ٹائمنگ 1.5 سے 2 گھنٹے آسانی سے چلتا تھا
تو فیصلہ ہوا کہ کروم بک ہی لی جائے اور باقی پیسہ اپنی پروڈکٹ پر لگایا جائے.
سب سے پہلا ماڈل جو میں نے لیا وہ تھا Acer C740 قیمت 9500 .
پلے سٹور کیمرہ 16 جی بی میموری مطلب بنیادی سہولیات کے لئے سب سے اعلیٰ چیز تھی
2 سال استعمال کے پھر Dell N23 لیا پھر 2.5 سال کے بعد اب جو ماڈل میں استعمال کر رہا ہوں وہ ہے Acer C732 اور کام سہی چل رہا ہے 5 6 سال میں مجھے پروفیشنل لیپ ٹاپ کی صرورت محسوس نہیں ہوئی کبھی ابھی تک .
یہ ساری کہانی آپ کو سنانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کبھی کبھی نارمل چیزوں سے بھی بڑے بڑے کام لئے جا سکتے ہیں بس اپ کی نالج اور ورکنگ سٹرونگ ہو. آج کے دور میں سوشل میڈیا پر ای کامرس کرنے کے لئے آپ کو بہت بنیادی سہولیات کی صرورت ہوتی ہے.
ایک موبائل سوشل میڈیا کی سمجھ بیچنے کے لئے پروڈکٹ اور صرف محنت کوئی فینسی مہنگے موبائل لیپ ٹاپ کیمروں یا بہت زیادہ انویسٹمنٹ کی صرورت نہیں بس کرنے کا حوصلہ چاہئے اور علم چاہئے.
آپ میں سے کون کون ای کامرس کر رہا ہے کمنٹ میں لوگوں کو کے ساتھ اپنا تجربہ اور ان کی رہنمائی
صرور کریں.

وقتِ فجر ایک چھوٹا سا سوال ہے ؟ پورا دن میں آپ اپنے آپ کو کتنا وقت دیتے ہیں جواب,  کچھ بھی نہیں ایک وقت تھا میں بھی عام ...
29/06/2026

وقتِ فجر

ایک چھوٹا سا سوال ہے ؟
پورا دن میں آپ اپنے آپ کو کتنا وقت دیتے ہیں
جواب, کچھ بھی نہیں
ایک وقت تھا میں بھی عام لوگوں کی طرح تھا بس اس دنیا کی بھاگ ڈور میں لگا ہوا نا سونے کی فکر نا اٹھنے کی کوئی ترتیب بس زندگی کی بھاگ ڈور چل رہی تھی پھر ایک دن ایسے ہی فجر میں آنکھ کھولی نماز پڑھی باہر گیا کالونی کا چکر لگانے لگا ہلکی ہلکی دن کی روشنی اہستہ اہستہ بکھر رہی تھی چڑیوں کی چہچہاہٹ ,وہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا جب چہرے سے لگتا تھا تو ایسے لگتا تھا جیسے دنیا کی ساری فکر پریشانی کہیں دور چلی گئی ہو اس دن احساس ہوا کہ ہم زندگی کی بھاگ ڈور میں اپنے آپ کو کہیں دور چھوڑ آئے ہیں,
اس دن کے بعد آج تک دن میں صبح کے وقت دو گھنٹے میں صرف خود کو دیتا ہوں سوشل میڈیا سے دور موبائل کی تیز روشنی سے دور وہ صبح کی نماز کا سرور وہ تازہ ہواؤں کے ساتھ چڑیوں کی چہچہاہٹ دنیا کے شور سے پرے سکون کی فضا میں وہ ہلکا ہلکا درختوں کی سرسراہٹ کے ساتھ پتوں کا ٹوٹ کے ہوا کے ساتھ بہنا . اگر آپ آج بھی کبھی فجر کے بعد کسی پارک کا رخ کرے تو وہاں آپ کو آج بھی بڑی عمر کے بزرگوں کی محفلیں سجی ملیں گی وہ بزرگ یا بڑی عمر کے افراد جو آج بھی اس چکاچوند دنیا سے اس نفسا نفسی کے عالم سے دور کھلکھلاتے ہوئے نظر آئیں گے.
آج ہی اپنی زندگی میں خود اپنی زات کے لئے وقت نکالے چاہےوہ آدھا گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو خاص طور پر صبح کا وقت نماز کے بعد کسی پارک میں جائیں یا گھر میں چھت پر بیٹھے تازہ آب و ہوا لیں وہ اہستہ اہستہ دن کا نکلنا محسوس کریں آسمان کو دیکھیں اور جو نعمتیں آپ کے پاس ہیں اس پر خدا کا شکر ادا کریں آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے آپ کا سارا دن خوشگوار گزرے گا
جو اس بات سے اتفاق کرتے ہیں وہ اپنی رائے کمنٹ میں صرور دیں .

یہ تصویر صبح چار بج کر چالیس منٹ پر گھر کی بالکونی سے لی گئی ہے

#اردو #اردولکھاری

27/05/2026

تمام مسلمانوں کو عیدالاضحیٰ مبارک ہو
♥️♥️

جب ساری عوام اس ٹرینڈ کے پیچھے پڑ گئی ہے تو سوچا بہتی گنگا میں ہم بھی ہاتھ دھو لیں.  باقی اپ بتائیں کیسی بنی ہے ؟ پرامٹ ...
26/05/2026

جب ساری عوام اس ٹرینڈ کے پیچھے پڑ گئی ہے تو سوچا بہتی گنگا میں ہم بھی ہاتھ دھو لیں.
باقی اپ بتائیں کیسی بنی ہے ؟
پرامٹ کے لئے کمینٹ کریں

#اردو #اردولکھاری

یہ نسل وقت سے پہلے بوڑھی ہو رہی ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ اُن کے بچے ٹھیک ہیں، جبکہ بچے اُن کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے ...
23/05/2026

یہ نسل وقت سے پہلے بوڑھی ہو رہی ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ اُن کے بچے ٹھیک ہیں، جبکہ بچے اُن کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے خود کو ختم کر رہے ہیں۔ کچھ چھوٹی عمروں میں محبت کا روگ لگا بیٹھے ہیں، اور کچھ والدین کے جھگڑوں میں ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔

اور کچھ صرف اس لیے جی رہے ہیں کیونکہ خودکشی حرام ہے۔

17/05/2026

کبھی آپ نے کسی انگلش فلم میں ایسا سین دیکھا ہے جس میں ایکٹر باتھ روم میں ٹوتھ برش کررہا ہے؟

آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ دانتوں میں برش کرتے وقت بیسن کا پانی بند ہوتا ہے جبکہ دانت صاف کرنے کیلئے اس کے پاس ایک چھوٹا سا گلاس رکھا ہوگا جس میں وہ پانی بھر کر کلی کرتا ہے۔

اسی طرح جب کچن میں برتن دھوئے جاتے ہیں تو سنک کا ڈرینج فلو بند کرکے اس میں پانی بھر لیا جاتا ہے، پھر اس پانی میں برتن دھوئے جاتے ہیں۔

یہ پریکٹس تقریباً تمام مغربی ممالک میں یکساں پائی جاتی ہے۔ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب، وہ پانی ضائع نہیں کرتا۔ دوسری طرف پاکستان میں جب ہم دانتوں میں برش کررہے ہوتے ہیں تو اس دوران واش بیسن کا نلکا مکمل کھلا ہوتا ہے اور پانی سیدھا نالی میں جارہا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ برتن دھوتے وقت بھی یہی کچھ کیا جاتا ہے، نلکا پورا کھلا ہوتا ہے اور پانی مسلسل نالی میں جارہا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اور تو اور، وضو جیسا اہم ترین رکن ادا کرتے وقت بھی ہم کئی گیلن پانی نالی میں بہا دیتے ہیں۔

چونکہ پاکستان میں عام طور پانی انتہائی ارزاں چیز سمجھی جاتی ہے، اسلئے ہم دل کھول کر اسے ضائع کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ ہمارے پاس نہ تو مغربی ممالک جتنے وسائل ہیں اور نہ ہی پانی کے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت۔

اس رویئے کی کیا وجوہات ہیں؟ تعلیم کی کمی کو ہم موردالزام نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ یہ رویہ آپ کو ڈاکٹرز، انجینئرز اور ایم اے پاس لوگوں کے ہاں بھی ملے گا۔
دین سے دوری بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ سب سے زیادہ پانی کا ضیاع مساجد میں ہی ہوتا ہے۔

اسے ہم مجموعی معاشرتی جہالت کہیں یا ضد ، جو ہمیں اپنی سال ہا سال پرانی روش ترک کرنے سے روکے رکھتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں اپنی کوئی خراب عادت اس لئے نہیں بدلنی چاہیئے کیونکہ دوسروں نے نہیں بدلی۔



13/02/2026

میں نے طب کی پریکٹس کے 53 سالوں میں 4000 سے زیادہ لوگوں کو مرتے دیکھا۔
5میں نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے۔ میں نے ان کے آخری لمحوں میں ان کا ہاتھ تھاما۔ میں نے ان کے خاندانوں کو خبر دی۔ اور اب میں آپ کو ایک ایسی بات بتانے جا رہا ہوں جو ان میں سے زیادہ تر لوگوں میں مشترک تھی۔ وہ جینیات کی وجہ سے نہیں مرے۔ نہ بدقسمتی کی وجہ سے۔ وہ انتخاب کی وجہ سے مرے۔ ایسے رویے، ایسے اندازِ زندگی—جن کے نمونے میں نے 1972 میں پہچان لیے تھے۔ میں نے دہائیوں تک اپنے مریضوں کو خبردار کیا۔ زیادہ تر نے بات نہیں مانی۔ اور اب وہ سب جا چکے ہیں۔

میں 102 سال کا ہوں۔ میں یہ بات نہ تو ہمدردی کے لیے بتا رہا ہوں، نہ حیران کرنے کے لیے۔ میں یہ اس لیے بتا رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سمجھیں:

میں نے مرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اتنا وقت گزارا ہے جتنا آج زمین پر کوئی زندہ انسان نہیں گزار سکا۔ اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو 100 تک پہنچے، اور وہ جو 68 پر اچانک مر گئے—ان میں فرق کیا تھا۔ ممکن ہے آپ اس وقت، آج ہی، ان میں سے کم از کم دو کام کر رہے ہوں اور آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ وہ آپ کی زندگی کے سال کم کر رہے ہیں۔

پہلی چیز:

جو چیز سب سے تیزی سے انسان کو مارتی ہے—ہر چیز سے زیادہ—وہ ہے زیادہ دیر بیٹھنا۔ یہ مبالغہ نہیں ہے۔ میں نے یہ اپنی آنکھوں سے بار بار ہوتے دیکھا۔

1981 میں میں نے الگ نوٹس رکھنے شروع کیے: وہ مریض جو کام کے دوران بیٹھے رہتے تھے اور وہ جو دن بھر حرکت میں رہتے تھے۔ اکاؤنٹنٹ، سیکرٹریاں، ایگزیکٹو۔ وہ مختلف انداز میں بوڑھے ہوتے تھے۔ ان کے خون کے ٹیسٹ مختلف ہوتے تھے۔ ان کے دل جلدی فیل ہوتے تھے۔

1990 تک میرے پاس اتنا ڈیٹا تھا کہ میں یقین سے کہہ سکوں: جو شخص روزانہ 8–9 گھنٹے بیٹھتا ہے، وہ اندرونی طور پر اُس شخص سے 40٪ زیادہ تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے جو دن میں حرکت کرتا رہتا ہے۔ بعد میں میڈیکل ریسرچ نے اس کی تصدیق کی۔ لیکن میں نے یہ سب اپنے مریضوں کے جسموں میں پہلے دیکھا۔

کیا ہوتا ہے؟

خون کی گردش سست ہو جاتی ہے۔ خون ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ لمفی نظام—جو حرکت پر منحصر ہوتا ہے—جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔ 60 کے بعد، اگر استعمال کم ہو جائے، تو پٹھے چند دنوں میں کمزور ہونے لگتے ہیں

اور یہ عمل بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔

میرے پاس ایک ریٹائرڈ جج مریض تھا۔ وہ ہر صبح 45 منٹ ورزش کرتا تھا—باقاعدگی سے۔ اسے لگتا تھا وہ محفوظ ہے۔ لیکن ورزش کے بعد وہ 10–11 گھنٹے بیٹھ کر پڑھتا یا ٹی وی دیکھتا تھا۔ 71 سال کی عمر میں وہ فالج سے مر گیا۔

صبح کی ورزش نے اسے دوپہر کی بے حرکتی سے نہیں بچایا۔

حل مشکل نہیں: ہر گھنٹے حرکت کریں۔ کھڑے ہوں۔ کسی دوسرے کمرے تک چلیں۔ ایسا کچھ کریں جس میں ٹانگیں استعمال ہوں۔ میں 1974 سے ایسا کر رہا ہوں۔ ٹائمر لگائیں۔ میں 102 سال کا ہوں—اور آج بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔

دوسری چیز: نیند

صرف زیادہ نیند نہیں بلکہ صحیح قسم کی نیند۔

کتنے ہی مریض فخر سے کہتے تھے: “مجھے صرف 5 یا 6 گھنٹے کی نیند کافی ہے۔”

یہ طاقت کی علامت نہیں تھی۔ یہ خود فریبی تھی۔

دماغ کو 7 سے 8 گھنٹے درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ گہری نیند میں اپنی مرمت مکمل کر سکے۔ اسی دوران دماغ کا صفائی نظام وہ فاضل مادے خارج کرتا ہے جو یادداشت کی خرابی سے جڑے ہوتے ہیں۔

جب آپ مسلسل نیند کم کرتے ہیں، تو یہ زہریلے مادے ہر رات جمع ہوتے جاتے ہیں۔

میں نے دیکھا: جو لوگ اچھی نیند نہیں لیتے تھے وہ 10 سال پہلے یادداشت کے مسائل کا شکار ہو جاتے تھے۔ اتنا مضبوط تعلق تھا کہ میں 60 کی عمر میں ہی اندازہ لگا لیتا تھا کہ کون کب زوال کا شکار ہوگا—صرف نیند کی بنیاد پر۔

اور ایک بات: ٹکڑوں میں نیند۔ کم نیند سے بھی بدتر ہے۔ رات میں بار بار جاگنا۔ گہری نیند تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ بہت سے مریضوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ رات میں جاگ رہے ہیں ان کے شریکِ حیات جانتے تھے، وہ نہیں۔ اگر آپ 8 گھنٹے بستر پر گزار کر بھی تھکے ہوئے اٹھتے ہیں، تو کچھ غلط ہے۔

تیسری چیز: تنہائی

یہ نرم بات لگتی ہے۔ لیکن ہے نہیں۔

تنہائی جسم میں مسلسل دباؤ پیدا کرتی ہے۔ اسٹریس ہارمون بڑھ جاتے ہیں۔ مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔سوزش بڑھتی ہے۔

میں نے ایسے مریض دیکھے جو بظاہر صحت مند تھے لیکن اکیلے رہتے تھے کوئی قریبی تعلق نہیں۔ وہ ان لوگوں سے زیادہ تیزی سے بگڑے جنہیں شدید بیماریاں تھیں مگر مضبوط سماجی تعلقات تھے۔

60 کے بعد جب شریکِ حیات یا دوست بچھڑنے لگتے ہیں۔ تو تنہائی کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔آپ کو اس کے خلاف لڑنا ہوگا:کسی گروپ میں شامل ہوں۔کسی کو فون کریں۔ہفتوں تک بغیر بات چیت کے نہ رہیں۔

چوتھی چیز: خوراک

اور یہ مجھے غصہ دلاتی ہےکیونکہ ہماری میڈیکل برادری نے40 سال تک غلط مشورے دیے۔

ہم نے کہا: کم چکنائی کھائیں۔

ہم نے کہا: سارا اناج صحت مند ہے۔

ہم نے کہا: اورنج جوس اچھا ہے۔

اور ہم نے ایک ایسی نسل پیدا کی جو بڑھاپے میں ٹوست، جام اور سیریلز کھا رہی تھیاور حیران تھی کہ شوگر کیوں بڑھ رہی ہے۔60 کے بعد میٹابولزم بدل جاتا ہے۔انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔کاربوہائیڈریٹس ہضم کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔جو 40 پر ٹھیک تھاوہ 70 پر سوزش پیدا کرتا ہے۔

میں نے 65 پر اپنی خوراک بدلی۔پروسیسڈ کاربوہائیڈریٹس کم کیے۔صحت مند چکنائی بڑھائی۔ سبزیاں اور پروٹین پر توجہ دی۔ تین ماہ میں میری سوزش کے ٹیسٹ بہتر ہو گئے۔میں نے یہی مریضوں کو کہا۔ جنہوں نے مانا، فائدہ ہوا۔زیادہ تر نے نہیں مانا۔وہ اب نہیں رہے۔

پانچویں چیز: مستقل فکر

یہ خطرناک ہے کیونکہ۔ یہ بیماری نہیں لگتی یہ عادت لگتی ہے۔مگر مسلسل پریشانی اسٹریس ہارمونز کو بلند رکھتی ہے جو پورے جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔میں نے ایسے ریٹائرڈ مریض دیکھےجو مالی طور پر محفوظ تھےخاندان کے درمیان تھےپھر بھی دن بھر بے قابو فکروں میں مبتلا رہتے تھے۔ان کا جسم تیزی سے بوڑھا ہوا۔نیند خراب ہوئی۔مدافعتی نظام کمزور ہوا۔جو چیز آپ کے قابو میں نہیں اسے چھوڑنا

صرف ذہنی سکون نہیں زندہ رہنے کا ذریعہ ہے۔

میں آپ کو اپنی بیوی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔وہ آٹھ سال پہلے فوت ہو گئیں۔ہماری شادی کو 61 سال ہو چکے تھے۔انہوں نے میری کسی بات پر عمل نہیں کیا۔گھٹنوں کے درد کی وجہ سے وہ بیٹھتی رہیں۔نیند خراب تھی، مگر علاج سے انکار کیا۔خوراک وہی پرانی—روٹی، مٹھائیاں، کم چکنائی۔اور وہ ہر دن بچوں اور پوتوں کی فکر کرتی رہیں۔وہ 94 سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔94 ایک اچھی عمر لگتی ہے—لیکن میں نے ان کے آخری 15 سالآہستہ آہستہ ختم ہوتے دیکھے۔وہ حرکت، ذہانت اور خودمختاری کھو بیٹھی تھیں۔وہ سال نعمت نہیں تھے—وہ مسلسل کمی تھے۔وہ بہتر زندگی کے مزید 10 سال پا سکتی تھیں۔انہوں نے بدلنے کا انتخاب نہیں کیا۔

میں 102 سال کا ہوں۔میں اکیلا رہتا ہوں۔خود کھانا پکاتا ہوں۔ہر دن چلتا ہوں۔

پڑھتا ہوں۔اپنے پوتوں کو فون کرتا ہوں۔ہر رات 7½ گھنٹے سوتا ہوں۔میں خاص نہیں ہوں۔میں خوش قسمت نہیں ہوں۔میں انتخاب کرتا ہوں۔اور آپ بھی

اسی لمحےانتخاب کر رہے ہیں۔آپ کو سب کچھ بدلنے کی ضرورت نہیں۔

صرف ایک چیز چنیں:

نیند،

تنہائی،

خوراک،

یا فکر۔

ایک ٹھیک کریں باقی خود آسان ہو جائیں گی۔

میں نے اپنے تین میں سے دو بچے دفن کیے۔میں نے اپنی بیوی دفن کی۔میں نے 4000 مریض دفن کیے۔میں اب بھی یہاں ہوں۔اور میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ جن میں سے زیادہ تر کو میں نے دفن کیا—انہیں اس وقت نہیں جانا چاہیے تھا۔آپ ابھی یہاں ہیں۔اب سوال یہ ہے:

آپ اس کے بارے میں کیا کرنے والے ہیں؟

منقول

کاپی پیسٹ

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamza Shaikh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Hamza Shaikh:

Shortcuts

Share