Abais writes

Abais writes یہ پیج بہترین شاعری کے لیے ہے

29/09/2025

سوداؔ جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ
کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

محمد رفیع سودا

14/09/2025

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

شوق بہرائچی

06/09/2025

آپؐ آئے تو خدا نے وقت کو روشن کِیا
آج بھی دُنیا کے سینے میں سحر موجود ہے

شکر ہے میں اُمَّتی ہوں اس جہاں میں آپؐ کا
شکر میری زندگی میں یہ ثمر موجود ہے

امجد عادِس

22/07/2025

تجھے زندگی کا شعور تھا، تیرا کیا بنا؟
تُو خاموش کیوں ہے مجھے بتا، تیرا کیا بنا؟

نئی منزلوں کی تلاش تھی سو تُو بچھڑ گیا
میں بچھڑ کے تجھ سے بھٹک گیا، تیرا کیا بنا؟

مجھے علم تھا کہ شکست میرا نصیب ہے
تُو امیدوار تھا جیت کا، تیرا کیا بنا؟

میں مقابلے میں شریک تھا فقط اس لئے
کوئی آتا مجھ سے یہ پُوچھتا، تیرا کیا بنا؟

جو نصیب سے میری جنگ تھی وہ تیری بھی تھی
میں تو کامیاب نہ ہو سکا، تیرا کیا بنا؟

تجھے دیکھ کر تو مجھے لگا کہ خوش ہے تُو
تیرے بولنے سے پتہ چلا، تیرا کیا بنا؟

میں الگ تھا اس لئے مجھے سزا ملی
تُو بھی دوسروں سے تھا کچھ جُدا، تیرا کیا بنا؟

تیمور حسن تیمور

قسمیں ڈاھڈی حیرت اےدھی دا قتل وی غیرت اےنبیل نجم
20/07/2025

قسمیں ڈاھڈی حیرت اے
دھی دا قتل وی غیرت اے

نبیل نجم

07/07/2025

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا

احمد سلیمان
30/06/2025

احمد سلیمان

18/06/2025

روپ تو اس کو ایسا دیتے دنیا دیکھتی لیکن ہم
‎بت سازی ہی چھوڑ چکے تھے جب وہ پتھر نرم ہوا

‎ظہور نظر


31/05/2025

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

تمام رشتوں کو میں گھر پہ چھوڑ آیا تھا
پھر اس کے بعد مجھے کوئی اجنبی نہ ملا

خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے
بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

بہت عجیب ہے یہ قربتوں کی دوری بھی
وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے کبھی نہ ملا

بشیر بدر

29/05/2025

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

میر تقی میر

27/05/2025

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
مرزا غالب

25/05/2025

خرید کر جو پرندے اُڑائے جاتے ہیں‌
ہمارے شہر میں کثرت سے پائے جاتے ہیں

میں دیکھ آیا ہوں اِک ایسا کارخانہ جہاں
چراغ توڑ کے سورج بنائے جاتے ہیں‌

یہ کون لوگ ہیں پہلے کبھی نہيں دیکھے
جو کھینچ تان کے منظر پہ لائے جاتے ہیں

اے آسماں تجھے اُن کی خبر بھی ہے کہ نہيں
جو دن دیہاڑے زمیں سے اٹھائے جاتے ہیں

یہ ساری فِــلم ہی اچّھـی طـــرح بنی ہوئی ہے
مگر جو سِِــین اچانک دکھائے جاتے ہیں

میں اِس لیے بھی ســمندر سے خوف کھاتا ہوں
مجھـے نصاب میں دریـا پڑھائے جاتے ہیں

کہیں مِلیں گے تو پھر جان جاؤ گے عامیؔ
ہـم ایسـے ہیـں نہيـں جیسـے بتائے جاتے ہیں

عمران عامیؔ

Address

Abid Majeed Road Near Mehran Book Depot
Rawalpindi
POETRYY

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abais writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Abais writes:

Share

Category