16/01/2026
دوہرا معیار یا تضادِ بیان؟
سید زیشان ایک پوڈکاسٹ میں کہتے ہیں کہ 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے کا سہرا کپتان کو جاتا ہے کیونکہ ٹیم کی جیت لیڈر شپ کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔
لیکن دوسری جانب ایک اور پوڈکاسٹ میں اقرار الحسن صاحب یہ کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی کے کچھ کارکن گالم گلوچ کرتے ہیں تو اُس کا سہرا بھی عمران خان کو جاتا ہے۔
اور جب اسی بات پر سوال کیا جائے تو فوراً کہا جاتا ہے:
"نہیں، لیڈر کا کسی سے کیا تعلق؟"
یہ کیسا انصاف ہے؟
کامیابی ہو تو کپتان ذمہ دار،
اور غلطی ہو تو لیڈر بری الذمہ؟
اصول ایک ہونا چاہیے۔