hamna,s world

hamna,s world blogs
arts
music
fashion designer

06/07/2026
06/07/2026

ڈاکو رانی

قسط 3: زندہ لوٹا ہوا سایہ

جنگل کی فضا بارود کی بو سے بھر چکی تھی۔

چاروں طرف دھواں ہی دھواں تھا۔

درختوں کے درمیان ڈاکو رانی کے ساتھی مورچے سنبھال چکے تھے، مگر خود ڈاکو رانی جیسے وقت میں منجمد ہو گئی تھی۔

اس کی نظریں صرف ایک شخص پر جمی تھیں۔

وہی آنکھیں...

وہی پیشانی...

وہی دائیں بھنو کے اوپر بچپن کا زخم...

"حارث...؟"

اس کے ہونٹ کانپ اٹھے۔

سامنے کھڑے نوجوان کی آنکھیں بھی نم تھیں۔

"آپا... میں ہی ہوں۔"

یہ سنتے ہی ڈاکو رانی کے ہاتھ سے بندوق زمین پر گر گئی۔

اس کے ذہن میں دس سال پرانی وہ رات بجلی کی طرح کوند گئی۔

وہ جلتا ہوا گھر...

ماں کی چیخیں...

باپ کی آخری آواز...

اور ننھا حارث، جو شعلوں میں کہیں گم ہو گیا تھا۔

ڈاکو رانی بے اختیار دوڑ کر اس کے قریب پہنچی، مگر آخری قدم پر رک گئی۔

"نہیں... یہ دھوکا بھی ہو سکتا ہے۔"

"اگر تم واقعی حارث ہو... تو بتاؤ، بچپن میں تم مجھے کس نام سے بلاتے تھے؟"

حارث کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

وہ دھیرے سے بولا...

"میں تمہیں 'زینی آپا' کہتا تھا... اور جب مجھے ڈر لگتا تھا تو تم لوری سنائے بغیر مجھے نیند نہیں آتی تھی۔"

ڈاکو رانی مزید خود کو روک نہ سکی۔

وہ لپک کر اپنے بھائی سے لپٹ گئی۔

دس سال کا درد آنسوؤں میں بہنے لگا۔

پورا جنگل چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔

ارمان یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔

جس عورت کو پورا ملک پتھر دل ڈاکو سمجھتا تھا...

وہ اس وقت صرف ایک بے بس بہن تھی۔

کچھ دیر بعد ڈاکو رانی نے خود کو سنبھالا۔

"مجھے سب کچھ سچ سچ بتاؤ، حارث۔"

"اس رات کیا ہوا تھا؟"

حارث نے گہرا سانس لیا۔

"جب گھر جل رہا تھا، میں بے ہوش ہو گیا تھا۔"

"ملک خاندان کے آدمیوں نے مجھے ملبے سے نکالا۔"

"انہوں نے کہا کہ تم مر چکی ہو، اور اگر میں زندہ رہنا چاہتا ہوں تو ان کے ساتھ چلوں۔"

"انہوں نے مجھے اپنے فارم ہاؤس میں رکھا، تربیت دی، ہتھیار چلانا سکھایا، اور برسوں تک میرے ذہن میں صرف ایک بات بھرتے رہے..."

"'ڈاکو رانی تمہارے ماں باپ کی قاتل ہے۔'"

ڈاکو رانی کی آنکھوں میں آنسو پھر اتر آئے۔

"انہوں نے ایک بھائی کو اپنی بہن کے خلاف استعمال کیا..."

حارث نے سر جھکا لیا۔

"میں بھی یہی سمجھتا رہا۔"

"لیکن دو دن پہلے مجھے ایک ایسی چیز ملی جس نے سب کچھ بدل دیا۔"

اس نے اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے ایک پرانا لاکٹ نکالا۔

لاکٹ آدھا جلا ہوا تھا۔

اس کے اندر ایک تصویر تھی۔

زینب...

حارث...

اور ان کے والد کے ساتھ ایک اجنبی شخص۔

تصویر کے نیچے صرف ایک نام پڑھا جا سکتا تھا۔

ڈاکٹر فرید ملک

ارمان چونک گیا۔

"ملک؟"

"کیا وہ بھی اسی خاندان کا فرد تھا؟"

حارث نے آہستہ سے کہا...

"ہاں... مگر وہ ان جیسا نہیں تھا۔"

"وہ ابو کا دوست تھا۔"

"اور شاید وہی واحد شخص ہے جو اس رات کی پوری حقیقت جانتا ہے۔"

ڈاکو رانی نے بے چینی سے پوچھا...

"وہ کہاں ہے؟"

حارث نے خاموشی سے غار کی طرف اشارہ کیا۔

"یہیں..."

سب تیزی سے غار کے اندر داخل ہوئے۔

اندر اندھیرا تھا۔

دیواروں پر پرانی لالٹینیں جل رہی تھیں۔

ایک کونے میں سفید داڑھی والا بوڑھا شخص زنجیروں سے بندھا بیٹھا تھا۔

اس نے زینب کو دیکھا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔

"آخرکار... تم آ ہی گئیں۔"

ڈاکو رانی حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی۔

"آپ... ڈاکٹر فرید؟"

بوڑھے نے سر ہلایا۔

"مجھے دس سال سے قید رکھا گیا... صرف اس لیے کہ میں سچ جانتا تھا۔"

ارمان فوراً آگے بڑھا اور زنجیریں کھول دیں۔

ڈاکٹر فرید نے کانپتے ہاتھوں سے ایک موٹی فائل نکالی۔

"اس میں وہ سب ثبوت ہیں جن سے ثابت ہو جائے گا کہ تمہارے ماں باپ غدار نہیں تھے..."

"بلکہ ملک خاندان نے ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے کے لیے پورا گاؤں جلایا تھا۔"

یہ سنتے ہی ڈاکو رانی کی آنکھوں میں غصے کے شعلے بھڑک اٹھے۔

"میں آج ہی ان سب کو ختم کر دوں گی!"

ڈاکٹر فرید نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"غصے سے نہیں... ثبوت سے جنگ جیتی جاتی ہے۔"

اسی لمحے غار کے باہر زور دار دھماکہ ہوا۔

پوری غار لرز اٹھی۔

ایک محافظ دوڑتا ہوا اندر آیا۔

"رانی!"

"ہمیں کسی نے بیچ دیا ہے!"

"دشمن غار کے دروازے تک پہنچ چکا ہے!"

سب نے فوراً ہتھیار سنبھال لیے۔

اچانک...

غار کے اندر ایک گولی گونجی۔

دھائیں!

ڈاکٹر فرید کے سینے سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔

فائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر بکھر گئی۔

ڈاکو رانی چیخ اٹھی۔

"نہیں!"

دھویں کے درمیان ایک سیاہ لباس میں ملبوس شخص آہستہ آہستہ سامنے آیا۔

اس کے چہرے پر نقاب تھا۔

مگر اس کی آواز انتہائی پرسکون تھی۔

"زینب..."

"تم دس سال پہلے بھی ہار گئی تھیں..."

"اور آج بھی ہار جاؤ گی۔"

ڈاکو رانی نے بندوق سیدھی اس کی طرف تان دی۔

"کون ہو تم؟"

نقاب پوش شخص ہلکا سا ہنسا۔

پھر اس نے اپنا نقاب آہستہ آہستہ اتارنا شروع کیا...

اور جو چہرہ سامنے آیا...

اسے دیکھ کر نہ صرف ڈاکو رانی بلکہ حارث اور ارمان کے بھی ہوش اڑ گئے۔

"یہ... ناممکن ہے!"

جاری ہے...

04/07/2026

ڈاکو رانی

قسط 2: خون سے لکھی ہوئی قسم

ارمان کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں۔

وہ بار بار اس چہرے کو دیکھ رہا تھا۔

"یہ... یہ کیسے ممکن ہے؟"

اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

"دس سال پہلے تو تمہارے جنازے کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی تھی۔"

ڈاکو رانی ہلکا سا مسکرائی، مگر اس کی آنکھوں میں برسوں کا درد چھپا ہوا تھا۔

"مرنے والی وہ لڑکی تھی... جس کا نام زینب تھا۔"

"آج صرف ڈاکو رانی زندہ ہے۔"

اتنا کہہ کر وہ مڑی اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا۔

"اسے میرے ساتھ آنے دو۔"

ارمان کو جنگل کے اندر ایک خفیہ ٹھکانے پر لے جایا گیا۔

وہاں جو منظر اس نے دیکھا، اس نے اس کی سوچ بدل دی۔

درجنوں یتیم بچے...

بوڑھے لوگ...

بیمار عورتیں...

سب کی دیکھ بھال کی جا رہی تھی۔

"یہ سب...؟"

ارمان نے حیرت سے پوچھا۔

ڈاکو رانی نے آہستہ سے جواب دیا۔

"انہیں وہ لوگ بھول گئے جن کے پاس دولت کے انبار ہیں۔"

"میں نے صرف ان سے واپس لیا ہے... جو دوسروں کا حق کھا گئے تھے۔"

ارمان خاموش ہو گیا۔

تبھی ایک زخمی نوجوان دوڑتا ہوا اندر آیا۔

"رانی!"

"خبر اچھی نہیں ہے..."

"ملک خاندان کو پتہ چل گیا ہے کہ آپ زندہ ہیں۔"

یہ سنتے ہی ڈاکو رانی کا چہرہ بدل گیا۔

اس نے مٹھی بھینچ لی۔

"آخرکار..."

"وہ دن آ ہی گیا۔"

ارمان نے پہلی بار یہ نام سنا۔

"ملک خاندان؟"

ڈاکو رانی نے گہرا سانس لیا۔

"دس سال پہلے انہوں نے صرف میرے ماں باپ کو نہیں مارا تھا..."

"بلکہ پورے گاؤں کو آگ لگا دی تھی..."

"اور دنیا کو بتا دیا کہ آگ میں صرف ایک یتیم لڑکی مری ہے۔"

اسی لمحے جنگل کے باہر زوردار دھماکہ ہوا۔

زمین ہل گئی۔

ایک محافظ چیختا ہوا اندر آیا۔

"رانی!"

"پولیس نہیں... ملک خاندان کی نجی فوج حملہ کر چکی ہے!"

ڈاکو رانی نے بندوق اٹھائی۔

"آج فیصلہ ہو جائے گا..."

مگر جیسے ہی وہ باہر نکلی، سامنے کھڑا شخص دیکھ کر اس کے قدم رک گئے۔

"تم...؟"

اس کی آنکھوں میں پہلی بار خوف دکھائی دیا۔

کیونکہ سامنے کھڑا شخص کوئی دشمن نہیں...

بلکہ اس کا اپنا بھائی تھا...

جسے وہ دس سال سے مردہ سمجھتی آئی تھی۔

جاری ہے...

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ڈاکو رانی کا بھائی زندہ کیسے نکلا، اور ملک خاندان کا اصل راز کیا ہے، تو ابھی اس پیج کو فالو کریں تاکہ آپ کو آسانی سے تمام اقساط بروقت مل سکیں۔

03/07/2026

ڈاکو رانی

قسط 1: جنگل کی ملکہ

"اگر آج رات بارہ بجے تک پانچ کروڑ نہ پہنچے... تو صبح سورج تمہارے لیے نہیں نکلے گا۔"

یہ آواز سنتے ہی پورے شہر میں خوف پھیل گیا۔

ہر نیوز چینل پر ایک ہی نام گونج رہا تھا...

"ڈاکو رانی واپس آ گئی!"

کہتے تھے وہ صرف امیروں کو لوٹتی تھی، مگر کسی غریب کے گھر سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتی تھی۔

پولیس نے اس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے رکھ دی تھی، لیکن دس سال گزرنے کے باوجود کوئی اسے پکڑ نہ سکا۔

اسی رات نوجوان صحافی ارمان نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈاکو رانی کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لائے گا۔

وہ اکیلا جنگل کی طرف نکل پڑا۔

گھنا اندھیرا...

ہوا کی سیٹیاں...

اور اچانک...

چاروں طرف سے بندوقوں کے رخ اس کی طرف اٹھ گئے۔

"ہاتھ اوپر!"

ارمان نے آہستہ آہستہ ہاتھ اٹھا دیے۔

تبھی سیاہ لباس میں ملبوس ایک عورت گھوڑے سے اتری۔

اس کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا، مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سا اعتماد اور درد جھلک رہا تھا۔

"تم جانتے ہو تم کس کے سامنے کھڑے ہو؟"

عورت نے پرسکون لہجے میں پوچھا۔

"ہاں..."

ارمان نے جواب دیا۔

"تم... ڈاکو رانی ہو۔"

وہ ہلکا سا مسکرائی۔

"غلط..."

اس نے اپنا نقاب آہستہ آہستہ ہٹایا۔

ارمان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

کیونکہ اس کے سامنے کوئی خطرناک مجرم نہیں...

بلکہ وہی لڑکی کھڑی تھی جسے دس سال پہلے پورا شہر مردہ سمجھ چکا تھا۔

اور اس کے ہونٹوں سے صرف ایک جملہ نکلا...

"میری کہانی ابھی شروع ہوئی ہے..." :::**

" اگلی قسط میں معلوم ہوگا کہ ایک معصوم لڑکی آخر ڈاکو رانی کیسے بنی، اور وہ کس طاقتور خاندان سے بدلہ لینے نکلی ہے۔"

03/07/2026

سانپ کی رونے کی آواز اس سے پہلے کبھی نہیں سنی 😨

28/06/2026

تقدیر کا ٹھیہ

صبح کے صرف سات بجے تھے۔

شہر کی مصروف ترین سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا ٹھیہ لگا ہوا تھا، جس پر لکڑی کا بورڈ رکھا تھا۔

"سائرہ کے دال چاول — صرف 120 روپے پلیٹ"

دھویں سے اٹھتی دال کی خوشبو لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی، مگر اس خوشبو کے پیچھے ایک ایسی کہانی تھی جسے کوئی نہیں جانتا تھا۔

صرف بائیس سال کی سائرہ، سر پر دوپٹہ باندھے، پسینے میں بھیگی ہوئی، ایک ہاتھ سے دال نکالتی اور دوسرے ہاتھ سے چاول پلیٹ میں ڈالتی جا رہی تھی۔

ہر گاہک کے جانے کے بعد وہ خاموشی سے ایک پرانی ڈائری میں پیسے لکھتی۔

اسے ہر روپے کا حساب رکھنا پڑتا تھا...

کیونکہ گھر میں اس کی ماں بستر پر پڑی تھی، جس کے گردے خراب ہو چکے تھے۔

باپ ستر سال کا بوڑھا آدمی تھا، جو چند قدم چلتا تو سانس پھول جاتی۔

گھر کا چولہا...

ماں کی دوائیں...

باپ کے ٹیسٹ...

بجلی کا بل...

اور گھر کا کرایہ...

سب کچھ سائرہ کے اسی چھوٹے سے دال چاول کے ٹھیے پر ٹکا ہوا تھا۔

مگر پریشانیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔

کبھی بارش آتی تو سارا ٹھیہ بند کرنا پڑتا۔

کبھی میونسپل والے آ کر سامان اٹھانے کی دھمکی دیتے۔

کبھی کوئی گاہک کھانا کھا کر بغیر پیسے دیے چلا جاتا۔

اور کبھی کچھ اوباش لڑکے اسے تنگ کرتے۔

لیکن سائرہ ہر بار صرف ایک جملہ کہتی...

"رزق دینے والا اللہ ہے، میں ہار نہیں مانوں گی۔"

ایک دن صبح جب وہ ٹھیہ لگانے پہنچی تو دیکھا...

رات کسی نے اس کی پوری ریڑھی توڑ دی تھی۔

دیگ زمین پر الٹی پڑی تھی۔

دال مٹی میں بہہ چکی تھی۔

چاول خراب ہو گئے تھے۔

سائرہ وہیں سڑک کنارے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

اس کی جیب میں صرف 180 روپے تھے...

اور آج ماں کی دوا بھی لانی تھی۔

اسی وقت ایک سفید گاڑی آ کر رکی۔

ایک درمیانی عمر کا شخص اترا۔

اس نے خاموشی سے ٹوٹی ہوئی ریڑھی دیکھی، پھر سائرہ سے پوچھا،

"بیٹی... یہ تمہارا کام ہے؟"

سائرہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے صرف اتنا کہا...

"جی... اگر آج دال چاول نہ بیچے تو گھر میں رات کا کھانا بھی نہیں بنے گا۔"

وہ شخص کچھ کہے بغیر چلا گیا۔

سائرہ نے سوچا...

"شاید ایک اور تماشائی تھا۔"

مگر صرف ایک گھنٹے بعد...

وہی شخص واپس آیا۔

اس کے ساتھ بڑھئی، ویلڈر اور چند مزدور تھے۔

شام ہونے سے پہلے نئی ریڑھی تیار ہو چکی تھی۔

نیا شیڈ...

نیا بورڈ...

نئے برتن...

اور دو بڑی دیگیں بھی۔

سائرہ حیرت سے سب دیکھتی رہی۔

پھر اس شخص نے ایک لفافہ اس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا،

"میں کئی دنوں سے تمہیں دیکھ رہا تھا۔ تم محنت بیچتی ہو، مجبوری نہیں۔ ایسے لوگوں کا ساتھ دینا میرا فرض ہے۔"

لفافے میں ایک سال کی دکان کا کرایہ، ماں کے علاج کے پیسے اور ایک فوڈ کمپنی کی طرف سے مستقل سپلائی کا معاہدہ تھا۔

سائرہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا،

"یا اللہ... تو دیر ضرور کرتا ہے، مگر اندھیر کبھی نہیں کرتا۔"

چند سال بعد...

اسی سڑک پر ایک چھوٹا سا ٹھیہ ایک مشہور ریسٹورنٹ بن چکا تھا۔

دروازے پر آج بھی ایک بورڈ لگا تھا۔

"اگر کوئی بھوکا ہو اور پیسے نہ ہوں... تو اندر آ کر عزت سے کھانا کھا سکتا ہے۔"

کیونکہ سائرہ غربت کبھی نہیں بھولی تھی۔

27/06/2026

آخری وائس نوٹ — سیزن 2

آخری قسط: آخری وائس نوٹ

کاؤنٹ ڈاؤن...

00:00:10

پورا شہر کانپ رہا تھا۔

آسمان پر ایک عجیب نیلی دراڑ کھل چکی تھی۔

عمارتیں جیسے وقت کے اندر گھل رہی تھیں۔

عائشہ نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا۔

"حمزہ... اب کیا کریں؟"

میں نے ٹائم کی کو دیکھا۔

اس کی اسکرین پر صرف ایک آخری آپشن تھا۔

RESET TIMELINE

نیچے ایک وارننگ لکھی تھی۔

"اگر وقت کو ری سیٹ کیا گیا تو تمہارا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا... مگر دنیا بچ جائے گی۔"

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"اور مریم؟"

اسی لمحے میری جیب میں رکھی وہ تصویر خود بخود چمکنے لگی۔

تصویر میں موجود چھوٹی مریم مسکرا رہی تھی...

جیسے وہ مجھے اجازت دے رہی ہو۔

عائشہ روتے ہوئے بولی،

"میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی..."

میں نے اس کے ماتھے کو چوما۔

"اگر میری قربانی سے تم زندہ رہو...

اگر مریم کبھی اس دنیا میں آ سکے...

تو یہی میری جیت ہوگی۔"

کاؤنٹ ڈاؤن...

00:00:03

00:00:02

00:00:01

میں نے ری سیٹ کا بٹن دبا دیا۔

ایک زوردار سفید روشنی پورے آسمان پر پھیل گئی۔

پھر...

ہر چیز خاموش ہو گئی۔
..

ایک سال بعد۔

عائشہ ایک چھوٹے سے پارک میں بینچ پر بیٹھی تھی۔

اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ ہر روز اسی جگہ کیوں آ جاتی ہے۔

بس دل کہتا تھا کہ کوئی اس کا انتظار کر رہا ہے۔

اچانک ایک چھوٹی بچی دوڑتی ہوئی آئی۔

اس نے عائشہ کا ہاتھ پکڑا۔

"آنٹی..."

"یہ آپ کا ہے۔"

بچی نے ایک پرانا موبائل اس کے ہاتھ میں رکھا۔

عائشہ نے حیرت سے موبائل آن کیا۔

اس میں صرف ایک وائس نوٹ موجود تھا۔

"آخری وائس نوٹ"

اس نے پلے دبایا۔

میری آواز سنائی دی۔

"اگر تم یہ آواز سن رہی ہو...

تو اس کا مطلب ہے دنیا بچ گئی۔

شاید تم مجھے کبھی یاد نہ رکھ سکو۔

شاید اس نئی دنیا میں میرا کوئی وجود ہی نہ ہو۔

لیکن محبت...

وقت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

اور اگر کسی دن تمہیں بغیر وجہ کے ایسا محسوس ہو کہ کوئی تمہیں بہت چاہتا تھا...

تو سمجھ لینا...

وہ میں تھا۔"

عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اسی لمحے وہ چھوٹی بچی مسکرا کر بولی،

"امی... چلیں؟"

عائشہ چونک گئی۔

"تم نے... کیا کہا؟"

بچی مسکرائی۔

"امی۔"

عائشہ نے اسے سینے سے لگا لیا۔

اسے کچھ یاد نہیں آیا...

مگر دل نے پہلی بار سکون محسوس کیا۔

کیمرا آہستہ آہستہ آسمان کی طرف بلند ہوا۔

بادلوں کے درمیان ایک دھندلا سا عکس نظر آیا۔

میں...

مسکرا رہا تھا۔

اور پھر...

سب کچھ روشنی میں گم ہو گیا۔

اختتام

"کچھ لوگ تاریخ میں زندہ نہیں رہتے... وہ اُن لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں جن کے لیے وہ اپنی پوری زندگی قربان کر دیتے ہیں۔"

27/06/2026

آخری وائس نوٹ — سیزن 2

قسط 3: مستقبل کا قاتل

میری سانس رک گئی۔

میرے سامنے کھڑا شخص...

میں ہی تھا۔

مگر پندرہ سال بڑا۔

چہرے پر گہرا زخم۔

بال سفید۔

اور آنکھوں میں ایسا درد... جیسے اس نے پوری دنیا کو مرتے دیکھا ہو۔

عائشہ خوف سے میرے پیچھے چھپ گئی۔

"یہ... یہ کیسے ممکن ہے؟"

اس شخص نے آہستہ سے کہا،

"وقت بہت کم ہے، حمزہ۔"

"میرے پاس صرف دس منٹ ہیں۔"

میں نے کانپتی آواز میں پوچھا،

"تم... واقعی میں ہو؟"

اس نے اپنی جیب سے ایک پرانی گھڑی نکالی۔

وہی گھڑی...

جو میرے والد نے بچپن میں مجھے دی تھی۔

اور جس کے اندر صرف ایک خفیہ جملہ لکھا تھا...

"ہمت والا ہی وقت بدل سکتا ہے۔"

یہ راز دنیا میں صرف مجھے معلوم تھا۔

میرے قدم لڑکھڑا گئے۔

"تم واقعی... میں ہی ہو۔"

اس نے سر ہلایا۔

"اور میں تمہیں بچانے نہیں آیا..."

"میں پوری انسانیت کو بچانے آیا ہوں۔"

اچانک پورا کمرہ لرزنے لگا۔

کمپیوٹر خود بخود آن ہو گیا۔

اسکرین پر صرف ایک لفظ چمکا۔

TARGET FOUND

اسی لمحے دیواروں کے اندر سے خطرناک سائرن بج اٹھا۔

سرخ روشنیاں پورے بیسمنٹ میں گھومنے لگیں۔

مستقبل والے حمزہ نے زور سے چیخا،

"وہ آ گئے!"

"کون؟"

اس نے میری طرف دیکھ کر کہا،

"کرونوس..."

"وقت کے محافظ۔"

"اگر انہیں معلوم ہو گیا کہ تم نے مستقبل کا راز جان لیا ہے..."

"تو وہ صرف تمہیں نہیں..."

"تمہارا پورا وجود وقت سے مٹا دیں گے۔"

میری آنکھیں پھیل گئیں۔

اچانک بیسمنٹ کی دیوار میں ایک لمبی دراڑ پڑی۔

اس دراڑ کے اندر سے سیاہ لباس پہنے چار انسان نما سائے باہر نکلے۔

ان کے چہروں پر کوئی آنکھیں نہیں تھیں...

صرف نیلی چمکتی ہوئی روشنی۔

ان میں سے ایک نے سرد آواز میں کہا،

"حمزہ..."

"تمہیں زندہ رہنے کی اجازت نہیں۔"

مستقبل والے حمزہ نے فوراً میری طرف ایک چھوٹا سا دھاتی آلہ پھینکا۔

"یہ ٹائم کی ہے!"

"اگر میں مر جاؤں..."

"تو اسے ہر قیمت پر بچا کر رکھنا!"

میں نے آلہ پکڑا ہی تھا کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

پورا کمرہ آگ سے بھر گیا۔

عائشہ زور سے چیخی۔

"حمزہ... پیچھے دیکھو!"

میں نے مڑ کر دیکھا...

کرونوس کے ایک سپاہی نے مستقبل والے حمزہ کے سینے میں نیلی روشنی کا نیزہ گھونپ دیا تھا۔

اس کے ہونٹوں سے آخری الفاظ نکلے...

"مریم کو بچا لینا..."

اور اگلے ہی لمحے...

اس کا جسم ہزاروں روشنی کے ذروں میں بکھر گیا۔

لیکن اسی وقت...

میرے ہاتھ میں موجود ٹائم کی اچانک روشن ہونے لگی۔

اس کی سکرین پر ایک نیا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا تھا۔

00:09:59

اور اس کے نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا...

"نو منٹ بعد سب ختم ہو جائے گا۔"

جاری ہے...

24/06/2026

آخری وائس نوٹ — سیزن 2

قسط 2: مردہ آدمی کی واپسی

میری نظریں فون کی سکرین پر جمی ہوئی تھیں۔

48:00:00

کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا تھا۔

ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔

عائشہ نے خاموشی توڑی۔

"اگر ڈاکٹر سلیمان واقعی زندہ ہے... تو وہ اب تک کہاں تھا؟"

میں جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک فون دوبارہ بج اٹھا۔

اس بار کوئی نمبر نہیں تھا۔

صرف ایک لفظ لکھا تھا۔

"نیچے آؤ۔"

میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔

"یہ ہمیں دیکھ رہا ہے..."

عائشہ نے آہستہ سے کہا۔

ہم فوراً کمرے سے نکلے۔

ہسپتال کے کوریڈور ویران تھے۔

نہ کوئی نرس۔

نہ کوئی مریض۔

نہ کوئی ڈاکٹر۔

صرف خاموشی۔

اور پھر...

ٹھک...

ٹھک...

ٹھک...

وہی قدموں کی آواز۔

میں نے ٹارچ جلائی۔

آواز بیسمنٹ کی طرف جا رہی تھی۔

ہم سیڑھیاں اترتے گئے۔

نیچے پہنچ کر ایک زنگ آلود دروازہ نظر آیا۔

دروازے پر سرخ رنگ سے لکھا تھا:

"صرف ان لوگوں کے لیے جو سچ برداشت کر سکتے ہیں۔"

دروازہ دھکیلتے ہی اندر اندھیرا چھا گیا۔

کمرے کے بیچوں بیچ ایک پرانا کمپیوٹر روشن تھا۔

اس کی سکرین پر ایک ویڈیو خود بخود چلنے لگی۔

ویڈیو میں ڈاکٹر سلیمان بیٹھا تھا۔

لیکن اس بار اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔

اس نے کہا:

"حمزہ... اگر تم یہاں تک پہنچ گئے ہو تو اس کا مطلب ہے میں نے تمہیں صحیح منتخب کیا تھا۔"

میرا دل دھڑک اٹھا۔

"منتخب کیا تھا؟"

ویڈیو جاری رہی۔

"تم سمجھتے ہو کہ تم ایک تجربہ تھے..."

"لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔"

اچانک ویڈیو میں ایک تصویر نمودار ہوئی۔

میں نے تصویر دیکھتے ہی سانس روک لی۔

وہ میری تھی۔

مگر عمر تقریباً پندرہ سال زیادہ تھی۔

سفید بال۔

تھکا ہوا چہرہ۔

اور آنکھوں میں خوف۔

میں چیخ اٹھا۔

"یہ کیا ہے؟!"

ڈاکٹر سلیمان کی آواز گونجی۔

"یہ تم ہو..."

"پندرہ سال بعد۔"

عائشہ پیچھے ہٹ گئی۔

"ناممکن..."

ڈاکٹر سلیمان بولا:

"پروجیکٹ زیرو انسانوں کی نقل بنانے کا منصوبہ نہیں تھا۔"

"یہ وقت کو تبدیل کرنے کا منصوبہ تھا۔"

میرے ہاتھ کانپنے لگے۔

"کیا مطلب؟"

اچانک ویڈیو رک گئی۔

سکرین پر صرف ایک جملہ ظاہر ہوا۔

"تم مستقبل سے آئے ہو، حمزہ۔"

میری ٹانگوں سے جیسے جان نکل گئی۔

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

پھر کمپیوٹر کے ساتھ رکھی ایک فائل خود بخود نیچے گر گئی۔

میں نے اسے کھولا۔

پہلے صفحے پر صرف ایک تصویر تھی۔

تصویر میں میں اور عائشہ کھڑے تھے۔

لیکن ہمارے درمیان ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی۔

نیچے تاریخ لکھی تھی:

12 اگست 2041

اور بچی کے نام کے نیچے لکھا تھا:

"مریم حمزہ"

عائشہ کے ہاتھ سے فائل گر گئی۔

"یہ... یہ ہماری بیٹی ہے؟"

اسی لمحے پورے بیسمنٹ کی لائٹس بند ہو گئیں۔

اندھیرے میں ایک آواز سنائی دی۔

بالکل قریب سے۔

"ہاں..."

"اور اگر تم نے مجھے نہ روکا..."

"تو وہ مر جائے گی۔"

میں نے فوراً مڑ کر دیکھا۔

کمرے کے کونے میں ایک سایہ کھڑا تھا۔

اور جب اس نے روشنی میں قدم رکھا...

میرے جسم کا خون منجمد ہو گیا۔

کیونکہ وہ کوئی اور نہیں...

بلکہ مستقبل کا میں خود تھا۔

جاری ہے... 🔥

Address

Rawalpindi West Ridge

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when hamna,s world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category