Novel bank

Novel bank Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Novel bank, Arts and entertainment, punjab pakistan, Rajanpur.

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Atif Akhtar, Abdul Aziz, Arham Abid, Amjid Hussain, Gul B...
20/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Atif Akhtar, Abdul Aziz, Arham Abid, Amjid Hussain, Gul Baqar, Mohsin Riaz Hanjra, Maryam Naz, Jahanzaib Ahmad, Jaan Kabeer, Rana Ikram, Mirza Mirza, Kank Danger, Pyarii Khanii, Khan Zada, M Ali Jan, Sheraz Ali, Zain Durrani, Ishtiaque Jatt, Saim Mughal, Shahid Qadri, Mahnoor Khan

ناول: محبت کی سرزمینقسط نمبر: 13عنوان: “روشنی کا امتحان”تحریر: اسد ایان---پہلا منظر — زولفقار کی بیداریسرزمین پر ایک نیا...
18/10/2025

ناول: محبت کی سرزمین

قسط نمبر: 13

عنوان: “روشنی کا امتحان”

تحریر: اسد ایان

---

پہلا منظر — زولفقار کی بیداری

سرزمین پر ایک نیا اندھیرا اتر چکا تھا۔ آسمان سرخ ہو چکا تھا، جیسے سورج خود بھی جل اٹھا ہو۔
پہاڑوں کے اندر سے چیخوں جیسی گونج آ رہی تھی۔ زولفقار نے آنکھیں کھولیں — اب وہ مکمل طور پر آزاد تھا۔

"وقت آ گیا ہے روشنی کو ختم کرنے کا… اس بار قید نہیں، فنا!"
اُس کی آواز نے پوری وادی کو لرزا دیا۔
درخت سیاہ ہوئے، زمین پھٹنے لگی۔ اور فضا میں وہی راکھ، جو کبھی نگہبان کے زمانے میں دیکھی گئی تھی۔

---

دوسرا منظر — عالیہ کی حقیقت

عالیہ شمالی پہاڑوں کے ستون کے سامنے کھڑی تھی۔ روشنی اب اُس کے ہاتھوں سے خود بخود نکلنے لگی تھی — مگر اس بار وہ نرم نہیں، بھاری اور تیز تھی۔
ستون سے آواز آئی:
"عالیہ… تمہارا خون دو نسلوں کا امتزاج ہے۔ تم روشنی کی اولاد بھی ہو، اور اندھیرے کی وارث بھی۔ زولفقار تمہارے نانا تھے۔"

عالیہ پیچھے ہٹی، چہرہ زرد ہو گیا۔
"یہ… یہ جھوٹ ہے! وہ تباہی کا نشان ہے، میں اُس کی نسل نہیں ہو سکتی!"

"سچ کو انکار کرنے سے اندھیرا ختم نہیں ہوتا، عالیہ۔ تمہیں فیصلہ کرنا ہوگا — روشنی کو سنبھالنا ہے یا اسے زولفقار کے ہاتھوں مٹنے دینا ہے۔"

عالیہ زمین پر گری، آنکھوں سے آنسو اور روشنی ایک ساتھ بہنے لگے۔
وہ جان چکی تھی — جنگ صرف بیرونی نہیں، اس کے اندر بھی چل رہی ہے۔

---

تیسرا منظر — ریحان کا عزم

ریحان جھیل کے کنارے بیٹھا تھا، اپنے باپ کی ریکارڈنگ ختم ہونے کے بعد خاموش۔
پانی سے ایک نئی شبیہ ابھری — اس کی ماں کی۔

"ریحان… تمہارے باپ نے روشنی کو قید کیا، مگر میں نے اسے بچایا۔ تم دونوں کا خون متضاد تھا، مگر تم میں توازن پیدا ہوا۔ تم ہی وہ 'دل' ہو جس میں روشنی اور اندھیرا اکٹھا رہ سکتے ہیں۔"

ریحان نے آسمان کی طرف دیکھا:
"اگر یہی تقدیر ہے، تو میں اسے بدلنے آیا ہوں۔ میں زولفقار کو اُس کے ہی اندھیرے سے قید کروں گا۔"

پانی کے اندر سے روشنی کی ایک تلوار ابھری — ہلکی نیلی، مگر اس کے اندر سیاہ لہریں گردش کر رہی تھیں۔
ریحان نے اُسے تھاما، اور آسمان پر بادل گرجنے لگے۔

---

چوتھا منظر — مایہ کی واپسی

مایہ نے اپنی ماں کی ڈائری بند کی، مگر آنکھوں میں چنگاری تھی۔
"امی… اگر آپ نے زولفقار کو روکا نہیں، تو میں روکوں گی۔"

اچانک کمرے میں اُس کی ماں کا سایہ نمودار ہوا۔
"مایہ، مت بھاگو۔ زولفقار کو شکست صرف طاقت سے نہیں، احساس سے ہوگی۔ وہ اندھیرا خوف سے پیدا ہوا، محبت سے مرے گا۔"

مایہ کی آنکھوں میں آنسو چمکے، اُس نے ڈائری کو سینے سے لگایا:
"تو پھر محبت ہی میرا ہتھیار ہوگی۔"

---

پانچواں منظر — نگہبان کا زوال

دوسری طرف، نگہبان اپنے قدیم مندر میں کمزور ہو چکا تھا۔
اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ دائرے بن چکے تھے۔
"روشنی کا توازن بگڑ چکا ہے… عالیہ، ریحان، مایہ — تم تینوں ہی امید ہو۔ مگر یاد رکھو… جو دل روشنی کا دعویٰ کرے، اُسے اندھیرے سے گزرنا ہی ہوگا۔"

مندر کی دیواروں پر دراڑیں پڑ گئیں۔
نگہبان نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھایا اور آخری الفاظ کہے:
"میں نہیں، اب تم لوگ اس سرزمین کے رکھوالے ہو۔"

اور روشنی کا دائرہ ٹوٹ گیا۔

---

چھٹا منظر — تین راہوں کا ملاپ

جھیل، پہاڑ، اور خواب — تینوں جگہوں سے تین روشنی کے راستے نکلے۔ وہ آسمان میں آپس میں مل گئے۔
ریحان، عالیہ، اور مایہ — تینوں ایک ہی مقام پر آ پہنچے، ایک ویران وادی میں جہاں کبھی سرزمین کی پہلی جنگ لڑی گئی تھی۔

زولفقار وہاں موجود تھا — مکمل طاقت کے ساتھ، اُس کے گرد سائے ناچ رہے تھے۔
اس نے مسکرا کر کہا: "تو روشنی واپس آگئی ہے؟ دیکھتے ہیں کب تک جلتی ہے۔"

عالیہ نے جواب دیا: "یہ روشنی تمہارے خلاف نہیں، تمہارے لیے ہے۔ کیونکہ میں جانتی ہوں… تم میرا خون ہو۔"

زولفقار ایک لمحے کو رکا — جیسے اس بات نے اسے چبھ دیا ہو۔
ریحان نے تلوار اٹھائی، مایہ نے ہاتھ جوڑے۔
فضا میں توانائی کی گرج پیدا ہوئی۔

---

آخری منظر — جنگ کی ابتدا

روشنی اور اندھیرے کا ٹکراؤ ہوا۔
زمین ہلنے لگی، آسمان پھٹنے لگا۔
زولفقار نے ایک چیخ ماری — "یہ دنیا اندھیرے سے بنی تھی، اور اسی میں لوٹے گی!"

ریحان چلا اٹھا:
"اور محبت؟ وہ کہاں جائے گی؟"

مایہ نے آنکھیں بند کیں — ایک روشنی اس کے دل سے نکلی، سیدھی زولفقار کے سینے کی طرف۔
عالیہ نے چیخ کر کہا:
"یہ روشنی نہیں، یہ رشتہ ہے!"

اور سب کچھ سفید ہو گیا — مکمل خاموشی میں ڈوبا ہوا سفید۔

09/10/2025

Sad song status ゚viralシypシ゚viralシhtag

21/07/2025

Sad poetry

---ناول کا نام: محبت کی سرزمینقسط نمبر: 12عنوان: اندھیرے کا وارثتحریر: اسد ایان---پہلا منظر — روشنی کی شکست؟عالیہ کے ہات...
05/06/2025

---

ناول کا نام: محبت کی سرزمین
قسط نمبر: 12
عنوان: اندھیرے کا وارث
تحریر: اسد ایان

---

پہلا منظر — روشنی کی شکست؟

عالیہ کے ہاتھ سے نکلی روشنی لرزنے لگی۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ خود اپنی طاقت سے خوف زدہ ہو گئی ہو۔ سیاہ وجود زمین پر اترا، اور جیسے ہی اس نے زمین کو چھوا، ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ درخت جھلس گئے، اور فضا میں جلی ہوئی راکھ کی بو پھیل گئی۔

ریحان، مایہ، اور حمزہ پیچھے ہٹنے لگے۔ مایہ چیخی:
"یہ کیا چیز ہے؟ یہ کوئی انسان نہیں!"

سیاہ وجود کی گرجتی ہوئی آواز گونجی:
"میرا نام 'زولفقار' ہے۔ میں اُس اندھیرے کا وارث ہوں جسے تمہارے اجداد نے قید کیا تھا۔ اور اب… میں واپس آیا ہوں!"

---

دوسرا منظر — نگہبان کی حقیقت

نگہبان نے ایک چمکتا ہوا دائرہ کھینچا، جس نے سب کو زولفار کی تپش سے بچایا۔ عالیہ نے تیزی سے پوچھا:
"تم نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا کہ ہم کس سے لڑنے جا رہے ہیں؟"

نگہبان نے سنجیدگی سے جواب دیا:
"کیونکہ بعض جنگیں شعور سے نہیں، شعور کے پار لڑی جاتی ہیں۔ زولفار صرف ایک مخلوق نہیں، یہ ہر اس خوف کی علامت ہے جو دلوں میں چھپا ہوتا ہے۔"

ریحان غصے سے بولا:
"ہمیں اُس دروازے کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا؟"

نگہبان نے آسمان کی طرف اشارہ کیا:
"کیونکہ دروازہ روشنی کا نہیں، انسان کے دل کا تھا۔ تم ہی ہو جنہوں نے اسے کھولا۔"

---

تیسرا منظر — علیحدگی کا فیصلہ

نگہبان نے سب کی طرف دیکھا:
"اب تم میں سے ہر ایک کو ایک الگ راستے پر جانا ہوگا۔ یہ سرزمین کے نئے راز کھولنے کا وقت ہے۔ عالیہ، تم شمالی پہاڑوں کی طرف جاؤ۔ وہاں روشنی کی ماں کا راز دفن ہے۔"

"ریحان، تمہیں پرانی جھیل کے اندر چھپی ایک یادداشت تک جانا ہے… جو تمہارے باپ کی قربانی سے جڑی ہے۔"

"مایہ، تمہیں اپنی ماں کے خوابوں کا در کھولنا ہوگا، وہ در جو تمہارے بچپن کے ایک بھولے کمرے میں بند ہے۔"

تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا — ایک گہری خاموشی اور جدائی کی کسک کے ساتھ۔

---

چوتھا منظر — جھیل کا راز

ریحان تنہا پرانی جھیل پر پہنچا۔ پانی پرسکون تھا، لیکن اُس کے دل میں طوفان برپا تھا۔ اچانک جھیل کے بیچ میں ایک روشنی ابھری — ایک ہولوگرام جیسی شبیہ، اُس کے باپ کی!

"ریحان… اگر تم یہ سن رہے ہو، تو سمجھ لو میرا وقت ختم ہو چکا ہے۔ زولفار کو قید کرنے کی قیمت میں نے اپنی روح سے ادا کی تھی۔ اب یہ تم پر ہے… روشنی کی شمع کو جلائے رکھنا۔"

ریحان کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ جھیل میں جھک گیا اور اُس نے پہلی بار خود کو معاف کیا۔

---

پانچواں منظر — شمالی پہاڑوں کی چیخ

عالیہ برف سے ڈھکے پہاڑوں پر پہنچی۔ ایک غار کے اندر ایک قدیم، روشن ستون اس کا منتظر تھا۔ جیسے ہی اس نے ہاتھ رکھا، ایک آواز گونجی:
"تم ماں کی روشنی ہو، اور بیٹی کی وارث۔ تمہیں زولفار کی اصل طاقت جاننی ہوگی… وہ تم سے جڑا ہے، خون کے رشتے کی طرح۔"

عالیہ حیران رہ گئی:
"کیا مطلب؟ میں… اس سے جڑی ہوں؟"

روشنی کی لہر نے جواب دیا:
"زولفقار تمہارے ماضی کا وہ حصہ ہے جسے تم نے کبھی جانا ہی نہیں…"

---

چھٹا منظر — بچپن کی یادوں کا دروازہ

مایہ نے ایک پرانا کمرہ کھولا — اُس کا بچپن، پرانی گڑیا، ایک خستہ کتاب… اور ایک لاکڈ ڈائری۔

ڈائری کھولتے ہی ایک آواز گونجی:
"مایہ… تمہاری ماں ایک روشن دل کی حامل تھی، لیکن اُس نے کچھ چھپایا تھا۔ زولفقار نے اُسے پہلے ہی دیکھا تھا… اور وہ اسے روک نہ سکی۔ تمہیں اس کی جنگ مکمل کرنی ہے۔"

---

آخری منظر — سیاہ آندھی

تینوں کردار اپنے الگ سفر پر نکل چکے تھے، لیکن زولفقار اپنی طاقت بڑھا رہا تھا۔ سرزمین پر ہر طرف آندھیاں، سائے، اور آتش فشاں پھیلنے لگے۔

نگہبان نے آخری جملہ کہا:
"اب وقت ہے کہ روشنی اور اندھیرے کی اصل جنگ شروع ہو… لیکن اس بار، دل ہی میدان ہوگا۔"

---

اگلی قسط کا عندیہ:

کیا عالیہ واقعی زولفقار سے خون کا رشتہ رکھتی ہے؟

ریحان کو اپنے باپ کی قربانی کا کیا اصل مطلب معلوم ہوگا؟

اور مایہ، کیا وہ اپنی ماں کی ادھوری کہانی مکمل کر سکے گی؟

سرزمین… کیا یہ واقعی کسی ایک کی نہیں، بلکہ سب کے اندر کی کہانی ہے؟

جاری ہے…

ناول کا نام: محبت کی سرزمینقسط نمبر: 11عنوان: روشنی کا امتحانتحریر: اسد ایان---پہلا منظر — دروازے کے اُس پارعالیہ نے جیس...
03/06/2025

ناول کا نام: محبت کی سرزمین
قسط نمبر: 11
عنوان: روشنی کا امتحان
تحریر: اسد ایان

---

پہلا منظر — دروازے کے اُس پار

عالیہ نے جیسے ہی دروازے پر ہاتھ رکھا، نقش خودبخود روشن ہونے لگا۔ ایک تیز روشنی پھیلی، اور دروازہ دھڑام سے کھل گیا۔ لیکن اس کے پیچھے کچھ بھی نہ تھا… بس اندھیرا — گہرا، نگلتا ہوا اندھیرا۔

ریحان نے مایہ اور حمزہ کی طرف دیکھا: "تیار ہو جاؤ… اب کھیل شروع ہو چکا ہے۔"

تینوں قدم بہ قدم اندھیرے میں داخل ہوئے۔ اچانک زمین لرزنے لگی، اور ایک زوردار چیخ گونجی۔ اندھیرے میں سے خونخوار آنکھیں چمکنے لگیں۔

مایہ نے ڈر کے مارے ریحان کا ہاتھ تھام لیا: "یہ کیا جگہ ہے؟"

عالیہ نے دھیمی مگر مضبوط آواز میں کہا: "یہ ہماری آزمائش ہے…"

---

دوسرا منظر — سایوں کی لڑائی

اندھیرے سے اچانک کئی سائے نمودار ہوئے۔ یہ کوئی عام دشمن نہ تھے، بلکہ ہر شخص کے اپنے خوف، گناہ، اور کمزوریاں۔

ایک سایہ ریحان پر جھپٹا، جو بچپن میں اپنے والد کے حادثے کا خود کو قصوروار سمجھتا تھا۔ سایہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی: "تم نے اُسے بچایا کیوں نہیں؟"

ریحان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر پھر عالیہ کی آواز گونجی: "اپنے ماضی کو معاف کرو، تبھی حال کو بچا سکو گے!"

ریحان نے آنکھیں بند کیں، اور سایہ خودبخود راکھ میں بدل گیا۔

مایہ بھی اپنے خوف سے لڑی — ایک سایہ جو اُس کی ماں کی موت کا ذمہ دار تھا۔ لیکن جب اُس نے اپنے دل کی سچائی کو تسلیم کیا، سایہ ختم ہو گیا۔

---

تیسرا منظر — عالیہ کی آزمائش

اب صرف عالیہ رہ گئی تھی۔ ایک سایہ اس کے سامنے آیا — وہی جو پہلے اس کے خواب میں آیا تھا۔

"تمہیں لگتا ہے تم تیار ہو؟ تم صرف ایک لڑکی ہو۔ کیا تم اس سرزمین کی وارث بن سکتی ہو؟"

عالیہ نے گہری سانس لی: "میں اپنی کمزوریوں سے نہیں ڈرتی۔ میں انسان ہوں، مگر میرا دل روشنی سے بھرا ہے۔"

سایہ نے آخری بار حملہ کیا، لیکن عالیہ کے ہاتھ سے روشنی کی ایک تیز کرن نکلی اور سایہ دھماکے سے پھٹ گیا۔

زمین ہلنے لگی، اور ایک زلزلہ سا برپا ہو گیا۔ اندھیرا روشنی میں بدلنے لگا، جیسے کسی نے رات کو صبح میں بدل دیا ہو۔

---

چوتھا منظر — نیا انکشاف

جب روشنی مکمل ہوئی، تو سامنے ایک پراسرار شخصیت نمودار ہوئی — سفید کپڑوں میں ملبوس، ہاتھ میں ایک طلسماتی کتاب۔

"تم نے پہلا دروازہ عبور کر لیا۔ مگر اگلا مرحلہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ تمہیں ایک ایسی حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا جو تمہارے دل کو چیر ڈالے گی۔"

عالیہ نے سوالیہ نظروں سے پوچھا: "تم کون ہو؟"

وہ مسکرایا: "میں نگہبان ہوں… اس سرزمین کا پہرہ دار۔ اور تم… تم وہ ہو جس کے بارے میں پیش گوئی کی گئی تھی۔"

---

آخری منظر — ایک نیا خطرہ

اچانک کتاب میں سے شعلے بھڑکنے لگے، اور آسمان سرخ ہو گیا۔ ایک نئی طاقت بیدار ہو رہی تھی۔ فضا میں ایک بھیانک آواز گونجی: "تم نے دروازہ کھول کر میری قید ختم کر دی… اب یہ سرزمین میری ہے!"

سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا، تو ایک سیاہ وجود آسمان سے نیچے اُتر رہا تھا — اس کے پروں سے آگ نکل رہی تھی، اور آنکھوں سے انتقام۔

عالیہ نے ہاتھ بلند کیے، روشنی جمع کی — لیکن کچھ مختلف تھا۔ اس بار روشنی کانپ رہی تھی…

ریحان نے گھبرا کر کہا: "یہ… یہ روشنی نہیں… یہ خوف ہے!"

---

اگلی قسط کا عندیہ:

"کیا عالیہ اپنی روشنی کو سنبھال سکے گی؟
کون ہے وہ وجود جسے قید سے رہائی ملی؟
اور کیا یہ سرزمین روشنی کے ساتھ ساتھ اندھیرے کی بھی وارث بن چکی ہے؟"

جاری ہے…

ناول کا نام: محبت کی سرزمینقسط نمبر: 10تحریر: اسد ایان---قسط 10: آزمائش کی دہلیزعالیہ کے اردگرد سب کچھ سفید تھا — نہ کوئ...
02/06/2025

ناول کا نام: محبت کی سرزمین
قسط نمبر: 10
تحریر: اسد ایان

---

قسط 10: آزمائش کی دہلیز

عالیہ کے اردگرد سب کچھ سفید تھا — نہ کوئی دیوار، نہ کوئی زمین، نہ آسمان… بس ایک بے کنار خلا۔

سامنے وہی دھندلا سایہ کھڑا تھا، جس کی آواز گونج رہی تھی:
"یاد رکھو عالیہ… یہ شروعات ہے…"

عالیہ نے ہمت جمع کی، اپنی مٹھیاں بھینچیں:
"تم کون ہو؟ کیا چاہتے ہو مجھ سے؟"

سایہ کی ہنسی گونجی:
"میں تمہارا وہ حصہ ہوں جسے تم نے ہمیشہ نظرانداز کیا… تمہارا خوف، تمہاری کمزوری۔ اب یا تو تم مجھے قبول کرو گی، یا میں تمہیں نگل جاؤں گا۔"

---

حقیقی دنیا میں:
ریحان، مایہ اور حمزہ بے چینی سے عالیہ کو دیکھ رہے تھے۔ اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں، ماتھے پر پسینہ، اور ہاتھ سختی سے زمین پر جمے ہوئے۔

مایہ نے ریحان سے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا:
"کیا وہ ٹھیک ہے؟ اگر… اگر وہ جاگ نہ پائی تو؟"

ریحان نے گہری سانس لی:
"ہمیں اس پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ یہ اس کی اپنی لڑائی ہے۔"

---

عالیہ کی اندرونی دنیا میں:
سایہ اچانک ایک چمکدار روشنی میں بدلنے لگا، جیسے کوئی دو پہلو رکھتا ہو — ایک سیاہ، ایک سفید۔

"یاد رکھو، عالیہ… ہر طاقت کا ایک سایہ ہوتا ہے۔ تمہیں صرف روشنی نہیں، سایہ بھی قبول کرنا ہوگا۔"

عالیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"اگر میں کمزور پڑ گئی تو؟ اگر میں روشنی سنبھال نہ سکی؟"

آواز نرم ہو گئی:
"تمہاری کمزوری ہی تمہیں انسان بناتی ہے۔ طاقت وہی سنبھال سکتا ہے جو اپنے زخموں کو اپنائے، نہ کہ انہیں چھپائے۔"

---

حقیقی دنیا میں:
عالیہ کی آنکھیں اچانک پوری نیلی ہو گئیں، اور اس کے اردگرد ایک روشنی کا دائرہ بن گیا۔

حمزہ نے چونک کر کہا:
"یہ… یہ کیا ہو رہا ہے؟"

ریحان مسکرا دیا:
"وہ واپس آ رہی ہے۔"

---

عالیہ کی واپسی:
عالیہ نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ اس کے چہرے پر ایک سکون تھا، جیسے وہ کسی بڑی جنگ سے جیت کر آئی ہو۔

مایہ فوراً اس کے پاس لپکی:
"عالیہ! تم ٹھیک ہو؟"

عالیہ نے آہستہ سے سر ہلایا:
"ہاں… میں ٹھیک ہوں۔ اور… اب میں تیار ہوں۔"

ریحان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"اب وقت ہے اس سفر کو آگے بڑھانے کا۔"

---

اگلا منظر:
سرنگ کے اس پار ایک اور دروازہ تھا — لیکن یہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا اور بھاری لگ رہا تھا۔ اس پر ایک نقش کھدا تھا:
"صرف وہی جو اپنا سایہ قبول کرے، یہاں سے گزر سکتا ہے۔"

عالیہ نے دروازے کی طرف قدم بڑھایا۔ اس کے دل میں اب خوف نہیں، اعتماد تھا۔

"چلو… آگے ہمارا مقدر ہمارا انتظار کر رہا ہے۔"

ناول کا نام: محبت کی سرزمینقسط نمبر: 9تحریر: اسد ایان---قسط 9: ایک نئی طاقت کی بیداریسرنگ کی خاموشی اب گونج دار سنّاٹے م...
31/05/2025

ناول کا نام: محبت کی سرزمین
قسط نمبر: 9
تحریر: اسد ایان

---

قسط 9: ایک نئی طاقت کی بیداری

سرنگ کی خاموشی اب گونج دار سنّاٹے میں بدل چکی تھی۔ مٹی کی خوشبو، ٹوٹی دیواروں کی سرسراہٹ اور عالیہ کی مدہم سانسیں — یہ سب ایک نئی کہانی کا آغاز کر رہے تھے۔

ریحان نے عالیہ کی پیشانی پر ہاتھ رکھا:
"تمہیں آرام کی ضرورت ہے، عالیہ۔ ابھی ہم یہاں سے نکلتے ہیں۔"

عالیہ نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں، لیکن اس کی آنکھوں میں اب بھی وہ نیلا عکس باقی تھا۔
"ریحان… مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی میرے اندر بول رہا ہے… جیسے کوئی مجھے راستہ دکھا رہا ہے۔"

مایہ اور حمزہ نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا۔

حمزہ (دھیرے سے): "یہ تو عجیب ہے… عالیہ، تم پہلے کبھی ایسا محسوس نہیں کرتی تھیں؟"

عالیہ نے سر ہلایا: "نہیں… لیکن جب سایہ غائب ہوا، تب مجھے لگا جیسے اس کی طاقت کا ایک حصہ میرے اندر آ گیا ہے۔"

ریحان نے فکر مند لہجے میں کہا:
"اس کا مطلب ہے ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔ یہ طاقت تمہیں مضبوط بھی بنا سکتی ہے… اور نقصان بھی دے سکتی ہے۔"

---

اچانک، سرنگ کی ایک دیوار زور سے ہلی اور ایک خفیہ دروازہ کھل گیا۔

مایہ نے جلدی سے کتاب کھولی:
"یہ… یہ تو پرانی کتاب میں لکھا تھا! کہ جہاں سایہ ہارتا ہے، وہاں روشنی کا نیا دروازہ کھلتا ہے!"

حمزہ نے مشکوک نظر سے دیکھا:
"لیکن کیا ہم واقعی تیار ہیں؟ یا یہ کوئی جال ہو سکتا ہے؟"

عالیہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"ہمیں تیار ہونا ہوگا… اب پیچھے ہٹنے کا وقت نہیں۔"

---

دروازے کے پار:

وہ سب آہستہ آہستہ دروازے کے اندر داخل ہوئے۔ وہاں ایک خوبصورت، جگمگاتی ہوئی جگہ تھی — جیسے ستاروں کی وادی۔

بیچ میں ایک چبوترہ تھا، جس پر ایک طلسماتی کتبہ رکھا تھا۔ کتبے پر لکھا تھا:
"جو بھی یہ طاقت لے، وہ اپنے دل کی روشنی کو سنبھالے، ورنہ اندھیرا اسے نگل لے گا۔"

ریحان نے عالیہ کی طرف دیکھا:
"یہ تمہارے لیے ہے…"

عالیہ نے ہاتھ بڑھایا — لیکن جیسے ہی اس نے کتبے کو چھوا، پوری جگہ روشنی سے بھر گئی، اور عالیہ زمین پر گر گئی۔

مایہ اور حمزہ گھبرا کر اس کی طرف لپکے، مگر ریحان نے انہیں روکا:
"رک جاؤ… یہ اس کی آزمائش ہے۔ اسے اکیلے طے کرنا ہوگا۔"

---

عالیہ کی اندرونی دنیا:

عالیہ نے خود کو ایک سفید جگہ میں پایا۔ سامنے سایہ کا ایک دھندلا عکس تھا۔

"یاد رکھو عالیہ… یہ شروعات ہے…"
آواز گونجی۔

ناول کا نام: محبت کی سرزمینقسط نمبر: 8تحریر: اسد ایان---قسط 8: روشنی اور سایہ کا ٹکراؤریحان کی روشنی کی لہریں سایہ کی طر...
28/05/2025

ناول کا نام: محبت کی سرزمین
قسط نمبر: 8
تحریر: اسد ایان

---

قسط 8: روشنی اور سایہ کا ٹکراؤ

ریحان کی روشنی کی لہریں سایہ کی طرف لپکیں، جیسے بجلی کا کوندنا۔ عالیہ زمین پر گری ہوئی تھی، اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی جاگ اٹھی تھی — جیسے کوئی پرانا راز اس کی روح میں جاگ گیا ہو۔

"عالیہ! اٹھو!" ریحان نے چیخ کر کہا، لیکن سایہ نے زور دار قہقہہ لگایا۔
"تم سمجھتے ہو، تمہاری روشنی مجھے روک سکتی ہے؟" سایہ کا بدن اب اور بھی بڑا اور سیاہ ہوتا جا رہا تھا، جیسے پوری سرنگ کو نگلنے کو تیار ہو۔

مایہ اور حمزہ پیچھے ہٹ گئے، لیکن مایہ نے ریحان کا بازو پکڑ کر کہا، "ہمیں مل کر کچھ کرنا ہوگا!"

ریحان نے آنکھیں بند کیں، دل ہی دل میں ماں کی دعاؤں کو یاد کیا، اور لاکٹ جو اس نے قربانی کے طور پر دیا تھا، اس کی ہلکی سی جھلک اسے محسوس ہوئی۔
اچانک، عالیہ کے ہاتھ کی چراغ کی روشنی آسمانی نیلے رنگ میں بدل گئی، اور اس کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری۔
"یہ… میں کیا محسوس کر رہی ہوں؟" عالیہ نے آہستگی سے کہا۔

سایہ نے اس کی طرف لپکنے کی کوشش کی، لیکن جیسے ہی وہ قریب آیا، عالیہ نے ہاتھ بلند کیا اور چراغ کی روشنی سے ایک دائرہ بنایا۔
روشنی اور تاریکی کا زبردست ٹکراؤ ہوا — پوری سرنگ ہلنے لگی، دیواریں چیخنے لگیں جیسے وہ خود بھی اس جنگ کا حصہ بن گئی ہوں۔

"حمزہ! مایہ! روشنی کا دائرہ بناؤ!" ریحان نے چیخ کر کہا۔

مایہ نے جلدی سے کتاب کھولی، اور حمزہ نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا شیشہ نکالا جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ تینوں نے مل کر روشنی کا ایک مشترکہ دائرہ بنایا۔

سایہ اب غضبناک ہو چکا تھا۔ "تم سب ناکام ہو جاؤ گے!" وہ غرایا۔

لیکن جیسے ہی دائرے مکمل ہوئے، عالیہ کی آنکھیں مکمل طور پر نیلی چمکنے لگیں، اور اس کے جسم سے روشنی کی ایک شدید لہر نکلی۔
سایہ نے ایک آخری چیخ ماری — "یاد رکھنا، عالیہ! یہ ابھی شروعات ہے!" — اور پھر وہ غائب ہو گیا، دھویں کی طرح تحلیل ہو کر۔

خاموشی چھا گئی۔

ریحان دوڑ کر عالیہ کے پاس پہنچا، اور اسے سہارا دیا۔
"عالیہ! تم ٹھیک ہو؟"
عالیہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔ "میں ٹھیک ہوں… لیکن مجھے لگتا ہے، میں پہلے جیسی نہیں رہی۔"

مایہ اور حمزہ بھی قریب آ گئے۔
"یہ کیا تھا؟" حمزہ نے حیرت سے پوچھا۔

ناول کا نام: محبت کی سرزمینقسط نمبر: 7تحریر: اسد ایانقسط 7: اندھیرے کی گہرائیتاریکی میں گرتے ہوئے عالیہ کا دل زور زور سے...
27/05/2025

ناول کا نام: محبت کی سرزمین
قسط نمبر: 7
تحریر: اسد ایان

قسط 7: اندھیرے کی گہرائی

تاریکی میں گرتے ہوئے عالیہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ ایک گہرے گڑھے میں جا گری، لیکن حیرت انگیز طور پر اسے کوئی چوٹ نہیں آئی۔ اردگرد ٹھنڈی ہوا تھی، جیسے کہیں زمین کے نیچے کوئی خفیہ سرنگ ہو۔

"کہاں ہوں میں؟" عالیہ نے دھیمی آواز میں خود سے پوچھا، اس کی آواز سرنگ کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی۔

اچانک اسے ایک دھیمی روشنی دکھائی دی — ایک چھوٹا سا چراغ جو دیوار میں نصب تھا۔ اس نے ہمت جمع کی اور اس طرف بڑھنے لگی۔

اوپر، گول کمرے میں، ریحان، حمزہ اور مایہ بےچین کھڑے تھے۔ "ہم نیچے کیسے جائیں؟" مایہ کی آنکھوں میں خوف تھا، لیکن ریحان کی آنکھوں میں اب عزم تھا۔

"کتاب میں کچھ ہونا چاہیے۔" ریحان نے کتاب کھولی، اور جیسے ہی اس نے ایک مخصوص صفحہ چھوا، کتاب سے نیلا نور نکلا اور فرش پر ایک دائرہ بنانے لگا۔

"جادوئی دروازہ!" حمزہ حیران ہو کر بولا۔

"ہاں، لیکن اسے کھولنے کے لیے قربانی چاہیے۔" ریحان کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔

"کون سی قربانی؟" مایہ نے خوفزدہ ہو کر پوچھا۔

"اپنی سب سے بڑی کمزوری..." ریحان نے آنکھیں بند کیں، اور لمحہ بھر بعد اس کی ہتھیلی پر ایک چمکتا ہوا لاکٹ نمودار ہوا — وہ لاکٹ جو اس کی ماں نے مرتے وقت اسے دیا تھا۔

"ریحان، تم یہ نہیں کر سکتے!" مایہ چلائی۔

"اگر عالیہ کو بچانا ہے، تو مجھے کرنا ہوگا۔" ریحان نے لاکٹ دائرے کے بیچ رکھا۔ دروازہ دھڑام سے کھل گیا اور نیچے ایک زینہ ظاہر ہوا۔

دوسری طرف، عالیہ نے چراغ اٹھایا اور سرنگ میں چلنا شروع کیا۔ اچانک اسے ایک ہلکی سی سرگوشی سنائی دی۔

"عالیہ۔۔۔ عالیہ۔۔۔"

وہ مڑ کر دیکھتی ہے، لیکن وہاں کچھ نہیں۔ اچانک سامنے دیوار پر ایک سایہ بنتا ہے — وہی سایہ جو کتاب سے نکلا تھا!

"کیا تم سچ میں سمجھتی ہو کہ تم بچ جاؤ گی؟" سایہ کی آواز گونجی۔

عالیہ نے دل مضبوط کیا۔ "میں ڈرتی نہیں!"

سایہ ہنسا، "ڈرتی ہو، لیکن مانتی نہیں۔ اب وقت ہے تمہیں اپنی اصل دکھانے کا!"

عالیہ کے ہاتھ کی چراغ کی روشنی تیز ہو گئی، اور اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اسی لمحے، ریحان، حمزہ اور مایہ زینے سے نیچے اتر کر سرنگ میں داخل ہو گئے۔

"عالیہ!!" ریحان کی آواز گونجی۔

عالیہ نے مڑ کر دیکھا — لیکن سایہ اس پر حملہ کر چکا تھا!

ریحان نے ہاتھ اٹھایا اور ایک روشنی کی لہریں نکالیں۔

ناول کا نام: محبت کی سرزمینقسط نمبر: 6تحریر: اسد ایانقسط 6: روشنی کا رازگول کمرے میں گونجتی ہوئی ریحان کی سچائی نے سب کو...
19/05/2025

ناول کا نام: محبت کی سرزمین
قسط نمبر: 6
تحریر: اسد ایان

قسط 6: روشنی کا راز

گول کمرے میں گونجتی ہوئی ریحان کی سچائی نے سب کو جیسے ساکت کر دیا۔ وقت تھم گیا تھا، سانسیں رک گئی تھیں۔

"میں۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ میرے اندر ہے۔۔۔" ریحان کی آواز کپکپاتی ہوئی سنائی دی، جیسے وہ خود اپنی حقیقت سے خوفزدہ ہو۔

"تم نے ہم سے جھوٹ بولا، ریحان!" مایہ نے غصے اور دکھ سے کہا۔

"نہیں! میں خود اس راز سے لاعلم تھا۔ دادا نے ہمیشہ کہا کہ میرے خون میں کچھ خاص ہے، لیکن... یہ؟" ریحان نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔

عالیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن وہ کچھ کہنے کے قابل نہ رہی۔ اس کی نظریں اب بھی کتاب پر جمی تھیں، جو دھیرے دھیرے بند ہو رہی تھی۔ جیسے وہ اپنا پہلا راز کھول کر اب باقی سچائیوں کے لیے تیار ہو۔

اچانک کمرے کی دیواروں پر پھر سے روشنیاں ابھریں — اس بار ایک نقش ظاہر ہوا، جو ایک قدیم درخت کی جڑوں سے ملتا جلتا تھا۔ اس درخت کے نیچے ایک بند دروازہ دکھائی دے رہا تھا، اور اس پر لکھا تھا:

"روشنی کا راز"

"یہ کیا ہے؟" حمزہ نے حیرانی سے پوچھا۔

ریحان آہستہ سے بولا، "یہ... دروازہ شاید ہمیں ہماری اصل طاقتوں تک لے جا سکتا ہے، یا... ہمیں ختم بھی کر سکتا ہے۔"

اسی لمحے کمرے میں تیز ہوا چلنے لگی۔ کتاب نے زور سے ایک بار پھر کھلنا شروع کیا، اور اس کے اندر سے سیاہ دھواں نکل کر فضا میں پھیلنے لگا۔ دھوئیں سے ایک چہرہ نمودار ہوا — وہی سایہ!

"تم نے پہلا راز کھولا ہے، اب باقی دروازے بھی کھلیں گے... لیکن یاد رکھو، ہر سچ روشنی نہیں لاتا۔ بعض سچائیاں صرف اندھیرے کو جنم دیتی ہیں!"

پھر اچانک زمین ہلنے لگی۔ کمرے کا فرش دو حصوں میں بٹ گیا۔ عالیہ پھسلنے لگی، حمزہ نے اسے تھامنے کی کوشش کی، لیکن اس کے ہاتھ سے عالیہ کی انگلیاں نکل گئیں۔

"عاااااالیہ!" حمزہ چیخا۔

عالیہ نیچے تاریکی میں گر گئی۔

خاموشی چھا گئی۔

"ہمیں اسے بچانا ہوگا!" مایہ نے روتے ہوئے کہا۔

ریحان نے کتاب اٹھائی، اس کی آنکھوں میں اب وہی پرانا سکون تھا، لیکن ساتھ ایک نئی آگ بھی — "اب وقت ہے کہ ہم حقیقت کا سامنا کریں، اور عالیہ کو اس تاریکی سے نکالیں... چاہے ہمیں روشنی کا راز ہی کیوں نہ کھولنا پڑے!"

قسط ختم — اگلی قسط میں: عالیہ کو تنہائی میں کیا ملا؟ روشنی کا راز کیا ہے؟ اور کیا ریحان واقعی اندھیرے کا وارث ہے... یا کچھ اور؟

Address

Punjab Pakistan
Rajanpur
3200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novel bank posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share