Urdu adab

Urdu adab الم کشو اٹھو کہ آفتاب سرپرآگیا ہے

10/04/2026
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئیدنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائیاک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئیسیکھے ہیں نئے دل نے اند...
07/02/2026

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی

اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی

اس موسم گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابر بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی

ہر درد محبت سے الجھا ہے غم ہستی
کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی

چرکے وہ دیے دل کو محرومیٔ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی

یہ بزم محبت ہے اس بزم محبت میں
دیوانے بھی شیدائی فرزانے بھی شیدائی

نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراباک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خرابکیوں ڈالتا ہے خاک کہ ہوگا کفن خرابمیں ہوں سفید پوش نہ...
05/02/2026

نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب
اک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراب

کیوں ڈالتا ہے خاک کہ ہوگا کفن خراب
میں ہوں سفید پوش نہ کر پیرہن خراب

جی میں یہ ہے کہ دل ہی کو سجدے کیا کروں
دیر و حرم میں لوگ ہیں اے جان من خراب

نازک دلوں کا حسن ہے رنگ شکستگی
پھٹنے سے کب گلوں کا ہوا پیرہن خراب

دنیا نے منہ پہ ڈالا ہے پردہ سراب کا
ہوتے ہیں دوڑ دوڑ کے تشنہ دہن خراب

ابلیس سے یہ کہتا ہے لعنت کا طوق روز
آدم خراب یا صفت ما و من خراب

کیا خوش نما ہو خضر بڑھے گر لباس عمر
قد سے جو ہو دراز تو ہو پیرہن خراب

میرا سلام عشق علیہ السلام کو
خسرو ادھر خراب ادھر کوہ کن خراب

یوسف کے حسن نے یہ زلیخا کو دی صدا
لو انگلیاں کٹیں وہ ہوئے طعنہ زن خراب

گر بس چلے تو آپ پھروں اپنے گرد میں
کعبے کو جا کے کون ہو اے جان من خراب

زخمی ہوا ہے نام کو در پردہ حسن بھی
یوسف کا خون گرگ سے ہے پیرہن خراب

وعدہ کیا ہے غیر سے اور وہ بھی وصل کا
کلی کرو حضور ہوا ہے دہن خراب

اے خاک گور دیکھ نہ دھبا لگے کہیں
رکھ دوں ابھی اتار کے گر ہو کفن خراب

کیسی بھی ہو زمین عجب ہل ہے طبع تیز
مائلؔ جو بوئیں ہم نہ ہو تخم سخن خراب

صبح کے شور میں ناموں کی فراوانی میںعشق کرتا ہوں اسی بے سر و سامانی میںسورما جس کے کناروں سے پلٹ آتے ہیںمیں نے کشتی کو ات...
03/02/2026

صبح کے شور میں ناموں کی فراوانی میں
عشق کرتا ہوں اسی بے سر و سامانی میں

سورما جس کے کناروں سے پلٹ آتے ہیں
میں نے کشتی کو اتارا ہے اسی پانی میں

صوفیہ تم سے ملاقات کروں گا اک روز
کسی سیارے کی جلتی ہوئی عریانی میں

میں نے انگور کی بیلوں میں تجھے چوم لیا
کر دیا اور اضافہ تری حیرانی میں

کتنا پر شور ہے جسموں کا اندھیرا ثروتؔ
گفتگو ختم ہوئی جاتی ہے جولانی میں

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میںمیں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میںایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنج...
31/12/2025

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں

ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن
میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں

آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے
جس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں

ایک ملال کی گرد سمیٹے میں نے خود کو پار کیا
کیسے کیسے وصل گزارے ہجر کا زخم چھپانے میں

جتنے دکھ تھے جتنی امیدیں سب سے برابر کام لیا
میں نے اپنے آئندہ کی اک تصویر بنانے میں

ایک وضاحت کے لمحے میں مجھ پر یہ احوال کھلا
کتنی مشکل پیش آتی ہے اپنا حال بتانے میں

پہلے دل کو آس دلا کر بے پروا ہو جاتا تھا
اب تو عزمؔ بکھر جاتا ہوں میں خود کو بہلانے میں

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوںنہ دواۓ درد جگر ہوں میں...
11/12/2025

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

نہ دواۓ درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں
نہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں

مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیا
جو خزاں سے باغ اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں

نہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوں
جو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں

میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

نہ میں مضطرؔ ان کا حبیب ہوں نہ میں مضطرؔ ان کا رقیب ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

رکھ دیا ہے مری دہلیز پہ پتھر کس نےاور پھر بھیجے ہیں آسیب کے لشکر کس نےشجر تر نہ یہاں برگ شناسا کوئیاس قرینے سے سجایا ہے ...
07/12/2025

رکھ دیا ہے مری دہلیز پہ پتھر کس نے
اور پھر بھیجے ہیں آسیب کے لشکر کس نے

شجر تر نہ یہاں برگ شناسا کوئی
اس قرینے سے سجایا ہے یہ منظر کس نے

کشتیاں کیسے نکل پائیں گی گیلی تہہ سے
پی لیا چند ہی سانسوں میں سمندر کس نے

پیشوائی کے لیے بنت صبا آئی ہے
پا شکستہ ہوں بنایا ہے قد آور کس نے

میری بستی بھی ہوئی شعلہ زنی میں شامل
لا کے چھوڑے ہیں یہاں آگ کے پیکر کس نے

دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیاپایا جہاں فقیر نے بسرام رہ گیاکس کس نے اس کے عشق میں مارا نہ دم ولےسب چل بسے مگر وہ دل آ...
06/12/2025

دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیا
پایا جہاں فقیر نے بسرام رہ گیا

کس کس نے اس کے عشق میں مارا نہ دم ولے
سب چل بسے مگر وہ دل آرام رہ گیا

جس کام کو جہاں میں تو آیا تھا اے نظیرؔ
خانہ خراب تجھ سے وہی کام رہ گیا

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہےہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہےکتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو توشبنم کا قطرہ...
05/12/2025

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے

اس بستی میں کون ہمارے آنسو پونچھے گا
جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے

دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے

کس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے
شیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے

صدیاں جن میں زندہ ہوں وہ سچ بھی مرنے لگتے ہیںدھوپ آنکھوں تک آ جائے تو خواب بکھرنے لگتے ہیںانسانوں کے روپ میں جس دم سائے ...
04/12/2025

صدیاں جن میں زندہ ہوں وہ سچ بھی مرنے لگتے ہیں
دھوپ آنکھوں تک آ جائے تو خواب بکھرنے لگتے ہیں

انسانوں کے روپ میں جس دم سائے بھٹکیں سڑکوں پر
خوابوں سے دل چہروں سے آئینے ڈرنے لگتے ہیں

کیا ہو جاتا ہے ان ہنستے جیتے جاگتے لوگوں کو
بیٹھے بیٹھے کیوں یہ خود سے باتیں کرنے لگتے ہیں

عشق کی اپنی ہی رسمیں ہیں دوست کی خاطر ہاتھوں میں
جیتنے والے پتے بھی ہوں پھر بھی ہرنے لگتے ہیں

دیکھے ہوئے وہ سارے منظر نئے نئے دکھلائی دیں
ڈھلتی عمر کی سیڑھی سے جب لوگ اترنے لگتے ہیں

بیداری آسان نہیں ہے آنکھیں کھلتے ہی امجدؔ
قدم قدم ہم سپنوں کے جرمانے بھرنے لگتے ہیں

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu adab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category