آشوب دہر

آشوب دہر الم کشو اٹھو کہ آفتاب سرپرآگیا ہے

دوستی کے نام پر کیجے نہ کیونکر دشمنیکچھ نہ کچھ آخر طریق کار ہونا چاہئےجھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔآدمی کو صاح...
17/07/2026

دوستی کے نام پر کیجے نہ کیونکر دشمنی
کچھ نہ کچھ آخر طریق کار ہونا چاہئے

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے
ظفر اقبال

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہےگھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوںشام ہوتی ...
16/07/2026

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ پڑے
ایسی منزل سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

وہی پیماں جو کبھی جی کو خوش آیا تھا بہت
اسی پیماں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے
افتخار عارف

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہےمگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہےکشش سے کب ہے خالی تشنہ کامی تشنہ کاموں کی...
15/07/2026

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے
مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے

کشش سے کب ہے خالی تشنہ کامی تشنہ کاموں کی
کہ بڑھ کر موجۂ دریا لب ساحل سے ملتا ہے

لٹاتے ہیں وہ دولت حسن کی باور نہیں آتا
ہمیں تو ایک بوسہ بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے

گلے مل کر وہ رخصت ہو رہے ہیں ہائے کیا کہنے
یہ حالت ہے کہ بسمل جس طرح بسمل سے ملتا ہے

شہادت کی خوشی ایسی ہے مشتاق شہادت کو
کبھی خنجر سے ملتا ہے کبھی قاتل سے ملتا ہے

وہ مجھ کو دیکھ کر کچھ اپنے دل میں جھینپ جاتے ہیں
کوئی پروانہ جب شمع سر محفل سے ملتا ہے

خدا جانے غبار راہ ہے یا قیس ہے لیلیٰ
کوئی آغوش کھولے پردۂ محمل سے ملتا ہے

جلیلؔ اس کی طلب سے باز رہنا سخت غفلت ہے
غنیمت جانیے اس کو کہ وہ مشکل سے ملتا ہے
جلیل مانک پوری

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہےشہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطا میری ہےیہ جو ہے خاک کا اک ڈھیر بدن ہے میراوہ جو اڑتی ہوئ...
15/07/2026

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے
شہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطا میری ہے

یہ جو ہے خاک کا اک ڈھیر بدن ہے میرا
وہ جو اڑتی ہوئی پھرتی ہے قبا میری ہے

وہ جو اک شور سا برپا ہے عمل ہے میرا
یہ جو تنہائی برستی ہے سزا میری ہے

میں نہ چاہوں تو نہ کھل پائے کہیں ایک بھی پھول
باغ تیرا ہے مگر باد صبا میری ہے

ایک ٹوٹی ہوئی کشتی سا بنا بیٹھا ہوں
نہ یہ مٹی نہ یہ پانی نہ ہوا میری
فرحت احساس

داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئیبات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیسب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکناک تری یاد تھی ای...
14/07/2026

داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
بات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی

سب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکن
اک تری یاد تھی ایسی جو بھلائی نہ گئی

عشق پر کچھ نہ چلا دیدۂ تر کا قابو
اس نے جو آگ لگا دی وہ بجھائی نہ گئی

پڑ گیا حسن رخ یار کا پرتو جس پر
خاک میں مل کے بھی اس دل کی صفائی نہ گئی

کیا اٹھائے گی صبا خاک مری اس در سے
یہ قیامت تو خود ان سے بھی اٹھائی نہ گئی
جگر مراد آبادی

نزع میں پیار سے کیوں پوچھتے ہو تم مجھ کودم لبوں پر ہے نہیں تاب تکلم مجھ کوقتل غصہ میں کرو پھیر کے منہ تم مجھ کودیکھنا دی...
14/07/2026

نزع میں پیار سے کیوں پوچھتے ہو تم مجھ کو
دم لبوں پر ہے نہیں تاب تکلم مجھ کو

قتل غصہ میں کرو پھیر کے منہ تم مجھ کو
دیکھنا دیکھ نہ لے چشم ترحم مجھ کو

ابھی بیعت میں کروں دست سبو پر ساقی
لے چلیں ہاتھ پکڑ کر جو سوئے خم مجھ کو

تب شب وصل ترا شکر ادا ہو یا رب
بہر تسبیح ملیں دانۂ انجم مجھ کو

ظرف عالی ہے مرا عرش بریں پر ہے دماغ
جام خورشید کا گردوں کا ملے خم مجھ کو
وسیم خیر آبادی

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتاپرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتامجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہےبہانہ کر ...
14/07/2026

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

دل بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں
وہ آنسو کیا پیے گا جس کو غم کھانا نہیں آتا

سراپا راز ہوں میں کیا بتاؤں کون ہوں کیا ہوں
سمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا
یاس یگانہ چنگیزی

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہےاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہےدل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکلہم نے یہ ان کے تغا...
13/07/2026

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے

دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکل
ہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے

تم نے بال اپنے جو پھولوں میں بسا رکھے ہیں
شوق کو اور بھی دیوانہ بنا رکھا ہے

سخت بے درد ہے تاثیر محبت کہ انہیں
بستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ہے

آہ وہ یاد کہ اس یاد کو ہو کر مجبور
دل مایوس نے مدت سے بھلا رکھا ہے

کیا تأمل ہے مرے قتل میں اے بازو یار
ایک ہی وار میں سر تن سے جدا رکھا ہے

حسن کو جور سے بیگانہ نہ سمجھو کہ اسے
یہ سبق عشق نے پہلے ہی پڑھا رکھا ہے

تیری نسبت سے ستم گر ترے مایوسوں نے
داغ حرماں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے

کہتے ہیں اہل جہاں درد محبت جس کو
نام اسی کا دل مضطر نے دوا رکھا ہے

نگہ یار سے پیکان قضا کا مشتاق
دل مجبور نشانے پہ کھلا رکھا ہے

اس کا انجام بھی کچھ سوچ لیا ہے حسرتؔ
تو نے ربط ان سے جو اس درجہ بڑھا رکھا ہے
حسرت موہانی

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلےشیخ ابراہیم ذوقؔلائی حیات آئے قضا لے چلی چلےاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلےہو عمر خضر بھی ...
13/07/2026

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
شیخ ابراہیم ذوقؔ

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگ
ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے

ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

لیلیٰ کا ناقہ دشت میں تاثیر عشق سے
سن کر فغان قیس بجائے حدی چلے

نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے ہو وہی
دانش تری نہ کچھ مری دانش وری چلے

دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے

جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔ
اپنی بلا سے باد صبا اب کبھی چلے
شیخ ابراہیم ذوق

یہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھاپھول کا ہنسنا ہی اس کی موت کا پیغام تھاغم نہ دیتے آپ تو راحت سے کس کو کام تھازندگی کی...
13/07/2026

یہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھا
پھول کا ہنسنا ہی اس کی موت کا پیغام تھا

غم نہ دیتے آپ تو راحت سے کس کو کام تھا
زندگی کی گردشوں کے ساتھ دور جام تھا

ٹھوکریں کھاتے گئے لب پر تمہارا نام تھا
حشر کا منظر تھا راہ عشق میں جو گام تھا

آپ کیوں آنسو بہائیں میرے حال زار پر
عشق کا نکلا وہی انجام جو انجام تھا

بن گیا ہر سانس قاتل رنج ہے تو بس یہی
زندگی نے مار ڈالا موت پر الزام تھا

تھا تمہارے سامنے بے کیف رنگ گلستاں
دیدۂ نرگس تو کہنے کو چھلکتا جام تھا

دیکھنے والے کہیں گے میری بربادی کا حال
آشیانہ جل رہا تھا میں اسیر دام تھا

گریۂ شبنم سے آتی ہے گلوں میں تازگی
میرا رونا بھی کسی کے عیش کا پیغام تھا

برق کے کیا ہاتھ آیا کیا ملا صیاد کو
چار تنکوں کے نہ رہنے سے چمن بدنام تھا

جلنے والا ہی سمجھ سکتا ہے دل کی آگ کو
ہجر میں عارفؔ مرا ہمدم چراغ شام تھا
عارف نقشبندی

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when آشوب دہر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category