LAW And Associates

LAW  And Associates law of Pakistan

22/05/2026

علاقہ مجسٹریٹ کی سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار
جب بھی کسی فوجداری مقدمے میں سرکار (State) کی طرف سے نامزد کردہ ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate) سزا سناتا ہے، تو قانونِ پاکستان کے تحت اس سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
1۔ اپیل کہاں دائر ہوگی؟ (Forum of Appeal)
فورم: علاقہ مجسٹریٹ (خواہ وہ سیکشن 30 کا مجسٹریٹ ہو یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ) کی سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل سیشن کورٹ (Sessions Court) میں دائر کی جاتی ہے۔
قانونی دفعہ: یہ اپیل ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 408 (Section 408 CrPC) کے تحت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں دائر ہوتی ہے۔
2۔ اپیل کتنے دنوں میں دائر کرنی ہوتی ہے؟ (Limitation Period)
میعادِ سماعت: علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت 30 دن ہے۔
قانونی حوالہ: قانونِ میعاد سماع (Limitation Act, 1908) کا آرٹیکل 154۔
وضاحت: یہ 30 دن اس تاریخ سے شروع ہوتے ہیں جس دن مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا ہو۔ فیصلے کی تصدیق شدہ نقل (Certified Copy) حاصل کرنے میں جو دن لگتے ہیں، وہ اس وقت میں سے نکال (Minus کر) دیے جاتے ہیں۔
3۔ اہم عدالتی نظائر (Relevant Judgements)
اپیل کے حق پر اصول (PLD 2018 Supreme Court 332):
اس فیصلے کے تحت اپیلٹ عدالت (سیشن کورٹ) پابند ہے کہ وہ مجسٹریٹ کی عدالت کے پورے ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لے۔
دورانِ اپیل سزا کی معطلی اور ضمانت (2021 SCMR 445):
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 (Section 426 CrPC) کے تحت سیشن کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپیل کا حتمی فیصلہ ہونے تک مجسٹریٹ کی سزا کو معطل کر کے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دے۔
4۔ اپیل کے لیے ضروری دستاویزات (Checklist)
میمو آف اپیل (Memo of Appeal): جس میں مجسٹریٹ کے فیصلے کے قانونی نقائص اور گواہوں کے بیانات کے تضادات کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
فیصلے کی مصدقہ نقل (Certified Copy of Judgement): علاقہ مجسٹریٹ کے اصل فیصلے کی نقلِ مطابقِ اصل۔
وکالت نامہ: کونسل/وکیل صاحب کا دستخط شدہ فارم۔
درخواست زیر دفعہ 426 CrPC: دورانِ اپیل سزا معطلی اور رہائی کے لیے۔

20/05/2026

علاقہ مجسٹریٹ کی سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار
​جب بھی کسی فوجداری مقدمے میں سرکار (State) کی طرف سے نامزد کردہ ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate) سزا سناتا ہے، تو قانونِ پاکستان کے تحت اس سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
​1۔ اپیل کہاں دائر ہوگی؟ (Forum of Appeal)
​فورم: علاقہ مجسٹریٹ (خواہ وہ سیکشن 30 کا مجسٹریٹ ہو یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ) کی سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل سیشن کورٹ (Sessions Court) میں دائر کی جاتی ہے۔
​قانونی دفعہ: یہ اپیل ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 408 (Section 408 CrPC) کے تحت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں دائر ہوتی ہے۔
​2۔ اپیل کتنے دنوں میں دائر کرنی ہوتی ہے؟ (Limitation Period)
​میعادِ سماعت: علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت 30 دن ہے۔
​قانونی حوالہ: قانونِ میعاد سماع (Limitation Act, 1908) کا آرٹیکل 154۔
​وضاحت: یہ 30 دن اس تاریخ سے شروع ہوتے ہیں جس دن مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا ہو۔ فیصلے کی تصدیق شدہ نقل (Certified Copy) حاصل کرنے میں جو دن لگتے ہیں، وہ اس وقت میں سے نکال (Minus کر) دیے جاتے ہیں۔
​3۔ اہم عدالتی نظائر (Relevant Judgements)
​اپیل کے حق پر اصول (PLD 2018 Supreme Court 332):
اس فیصلے کے تحت اپیلٹ عدالت (سیشن کورٹ) پابند ہے کہ وہ مجسٹریٹ کی عدالت کے پورے ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لے۔
​دورانِ اپیل سزا کی معطلی اور ضمانت (2021 SCMR 445):
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 (Section 426 CrPC) کے تحت سیشن کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپیل کا حتمی فیصلہ ہونے تک مجسٹریٹ کی سزا کو معطل کر کے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دے۔
​4۔ اپیل کے لیے ضروری دستاویزات (Checklist)
​میمو آف اپیل (Memo of Appeal): جس میں مجسٹریٹ کے فیصلے کے قانونی نقائص اور گواہوں کے بیانات کے تضادات کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
​فیصلے کی مصدقہ نقل (Certified Copy of Judgement): علاقہ مجسٹریٹ کے اصل فیصلے کی نقلِ مطابقِ اصل۔
​وکالت نامہ: کونسل/وکیل صاحب کا دستخط شدہ فارم۔
​درخواست زیر دفعہ 426 CrPC: دورانِ اپیل سزا معطلی اور رہائی کے لیے۔

19/05/2026

اگر کسی جائیداد کی سیل (Sale Deed) جعلی، فراڈ، دھوکہ دہی، بوگس انتقال یا فرضی بیع پر مبنی ہو تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ایسے معاملات عام طور پر دیوانی عدالت (Civil Court) میں دائر کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں فوجداری کارروائی بھی بنتی ہے۔
جعلی سیل کو چیلنج کرنے کی عام بنیادیں
1۔ جعلسازی (Forgery)
مثلاً:
جعلی دستخط
جعلی انگوٹھا
فوت شدہ شخص کے نام پر سیل
جعلی شناختی کارڈ
2۔ دھوکہ دہی (Fraud)
اگر:
اصل مالک کو علم ہی نہ ہو
دھوکے سے انگوٹھا لگوا لیا گیا ہو
قیمت ادا نہ کی گئی ہو
غلط بیانی سے رجسٹری کروائی گئی ہو
تو سیل چیلنج ہو سکتی ہے۔
3۔ اختیار نہ ہونا
اگر فروخت کرنے والا:
مالک ہی نہ ہو
مختارِ عامہ جعلی ہو
وراثت ثابت نہ ہو
تو بیع کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔
قانونی بنیادیں
Specific Relief Act 1877
جعلی یا غیر قانونی دستاویز منسوخ کروانے کیلئے:
Specific Relief Act 1877 Section 39
کے تحت Suit for Cancellation دائر کیا جاتا ہے۔
یہ سیکشن عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ:
اگر کوئی دستاویز کسی شخص کے حقوق کیلئے خطرہ بن رہی ہو تو عدالت اسے منسوخ قرار دے سکتی ہے۔
اگر قبضہ بھی چلا گیا ہو
تو ساتھ میں:
Declaration
Possession
Permanent Injunction
کی دعائیں بھی شامل کی جاتی ہیں۔
اہم ثبوت
جعلی سیل چیلنج کرنے کیلئے عام طور پر یہ ثبوت اہم ہوتے ہیں:
اصل فردِ ملکیت
انتقال کی نقل
رجسٹری کی Certified Copy
NADRA ریکارڈ
فرانزک / فنگر پرنٹ رپورٹ
گواہان
فوتگی سرٹیفکیٹ (اگر مالک فوت تھا)
فوجداری کارروائی بھی ہو سکتی ہے
اگر واضح جعلسازی ہو تو:
FIR
جعلسازی
دھوکہ دہی
جعلی دستاویزات
کی دفعات بھی لگ سکتی ہیں۔
عام طور پر:
PPC 420
PPC 468
PPC 471
وغیرہ استعمال ہوتی ہیں۔
عدالت کیا دیکھتی ہے؟
عدالت عموماً یہ سوالات دیکھتی ہے:
کیا واقعی قیمت ادا ہوئی؟
فروخت کنندہ موجود تھا؟
رجسٹری قانون کے مطابق ہوئی؟
گواہ اصلی تھے؟
قبضہ منتقل ہوا یا نہیں؟
مدعی نے بروقت اعتراض کیا یا نہیں؟
بہت اہم بات
اگر رجسٹری کافی پرانی ہو تو:
Limitation
Bona fide purchaser
Acquiescence
جیسے دفاع سامنے آ سکتے ہیں۔
اس لیے جتنا جلد ممکن ہو کارروائی کرنا بہتر ہوتا ہے۔
عملی طریقہ کار
رجسٹری اور انتقال کی نقل حاصل کریں
فرد نکلوائیں
ریکارڈ کا موازنہ کریں
وکیل کے ذریعے قانونی نوٹس دیں
دیوانی دعویٰ دائر کریں
ضرورت ہو تو FIR بھی درج کروائیں
متعلقہ قانونی حوالہ
Transfer of Property Act 1882
اور
Registration Act 1908
بھی ایسے مقدمات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

18/05/2026

*********** Must read and save ********

300 LEGAL Words are most helpful for Legal drafting.

Expedient – To Prioritize , to rush
Cavil – Argument by which a conclusion evidently false , is drawn from a principle evidently true.
Elusive – Difficult to find , catch or achieve.
Scuffle – a short , confused fight or struggle at close quarters.
Credential – a qualification, achievement , quality, or aspect of a person ‘s background , especially when used to indicate their suitability for something.
Oblivious – Aware.
Accustomed – Customary ; usual.
Treacherous – Guilty of or involving betrayal.
Erudite – learned.
Accentuating – More noticeable.
Crescendo – Progressive increase in intensity.
Tedious –Too long , slow or dull.
Dreadful – involving great suffering.
Enigma – Mysterious or difficult to understand.
Sceptical – Doubtful.
Sardonic – grimly mocking or cynical.
Habeas corpus – a prerogative writ to a person who detains another in custody and which commands him to produce or ‘ have the body of that person before him ‘
Mesne – middle, intervening or tame by nature.
Per se – by itself
Nocumentum – an annoying , unpleasant or obnoxious thing or ptactice.
Non obstante – notwithstanding
Prima facie – on the face of it.
Aequitas – Equity i.e fair or just according to natural law.
Bona fide – in good faith.
Certiorari – a writ of a superior court calling forth the records and entire proceedings of an inferior court or a writ by which causes are removed from an inferior court into a superior court.
Obiter dictum – an incidental and collateral opinion uttered by a judge while delivering a judgement and which is not binding.
Pari material – on the same material.
Pendente lite – during the process of litigation.
Supra – above.
Status quo – the state in which the things are , or were.
Volkogeist – general awareness of the people.
Res judicata – a case or suit already decided.
RE – in the matter of.
Ratio Legis – according to spirit of law
Scienter – knowledge ; an allegation in a pleading that the thing has been done knowingly.
Ex gratia –as an act of grace or favour.
In rem – an act , proceeding or right available against the world at large, as opposed to in personam.
Noscitur a socits – a word known by its associates , i.e the meaning of a word cab be gathered from the context.
Res sub judicata – a matter under judicial consideration.
Ad hoc – created or done for a particular purpose as necessary.
Pertinent – Relevant or applicable to a particular matter , apposite.
Curative petition – question arises whether an aggrieved person is entitled to any relief against the final judgment / order of the Supreme Court, after dismissal of a review petition
Erect –rigidly upright or straight.
Advent – arrival of a notable person or thing.
Submergence – to cover ; bury.
Vicinity –the area near or surrounding a particular place.
Detention –the act of detaining someone or the state of being in official custody.
Rebuttable – an instance of rebutting evidence or an accusation.
Preclude – prevent from happening ; make impossible.
Discrepancy – an illogical or surprising lack of compatibility or similarity between two or more facts.
Superannuation – pension paid to a retired employee who has contributed to a superannuation fund.
Ordinance – An authoritative order
Promulgation – to make known by open declaration; publish ; proclaim formally or put into operation.
Consortium – the right of association and companionship with one’s husband or wife
Averred – allege as a fact in support of a plea
Estoppel – the principle which precludes a person from asserting something contrary to what is implied by a previous action or statement of that person or by a previous pertinent judicial determination.
Plenary – unqualified ; absolute
Impugned – dispute the truth , validity or honesty of ( a statement or motive ) ; call into question.
Prejudiced – harm or injury that results or may result from some action or judgement.
Legal Luminary – a person who inspires or influences others , especially one prominent in a particular sphere.
Plagiarized – the act of appropriating the literary composition of another , or parts or passages of his writings , or the ideas or language of the same , and passing them off as the product of one’s own mind.
Evacuee – A person evacuated from a place of danger.
Demarcate – Set the boundaries or limits of.
Unfettered – not confined or restricted
Discernible – able to be discerned ; perceptible.
Arenas – a place or scene of activity , debate , or conflict.
Transgression – An act that goes against a law , or code of conduct ; an offence.
Construed – interpret in a particular way.
Consonance – Agreement or compatibility , between opinions or actions.
Retrospectively – looking back.
Dissuade – persuade not to take a particular course of action.
Rationale – set of reasons.
Embezzlement – Theft or misappropriation of funds placed in one’s trust or belongings to one’s employer.
Perished - die , especially in a violent or sudden way.
Inter alia – among other things
Arbitration – the Must of an arbitrator to settle a dispute.

16/05/2026

بڑے جرم میں، فردِ جرم لگنے کی صورت میں، چھوٹے جرم میں سزا دی جاسکتی ہے. اور چھوٹے جرم میں، فردِ جرم لگنے کی صورت میں، بڑے جرم میں سزا نہ دی جا سکتی ہے.
(2014 YLR 1473).
فردِ جرم میں ترمیم کے بعد، شہادت گواہان دوبارہ لکھی جائے گی.
(2020 YLR 317).
ملزم کو کسی ایسے جرم میں سزا نہ دی جاسکتی ہے، جس میں اس کے خلاف فردِ جرم نہ لگایا گیا ہو.
(PLD 2019 FSC1)
فردِ جرم عائد کرتے وقت، عدالت، پولیس کی لگائی دفعات کی پابندنہ ہے.
(2015 PCrLJ 502).
ملزم کو نوٹس دئیے بغیر فردِ جرم میں ترمیم نہ ہو سکتی ہے.
(2005 PCrLJ 489).

16/05/2026

P L D 2024 Sindh 289
Cross-examination.
---Voluntary statement---Scope---Voluntary statement by a witness in cross-examination has no legal evidentiary value---Witness is not permitted to foist into his answer, any statement/material which is not in answer to or explanatory of his answer to the questions put to him---Such voluntary evidence is denominated as "irresponsive" testimony and introduction of such evidence is against the rule of re-examination as contemplated under Art.133 of Qanun-e-Shahadat, 1984.

2003 Y L R 406
Voluntary statement by a witness in cross‑examination has no legal evidentiary value‑‑‑Witness is not permitted to foist into his answer statement any material which is not in answer to or explanatory of his answer to the questions put to him‑‑‑Such voluntary evidence is denominated as "irresponsive" testimony and the introduction of such evidence shall be against the rule of re­-examination as contemplated under Art.133 of Qanun‑e‑Shahadat, 1984‑‑‑Principles.

According to Article 133 of the Qanun‑e‑Shahadat Order, 1984, the order of examination of witnesses has been set down. The witnesses shall be first examined‑in‑chief and then if the adverse party so desires shall be cross‑examined. The re‑examination, however, is limited to the explanation of matters referred to in‑cross‑examination and if permission in this respect is granted by the Court. It would thus, be seen that the voluntary statement by a witness in cross-­examination has no legal evidentiary value. It is not permissible for a witness to foist into his answer statement any material which is not in answer to or explanatory of his answer to the questions put to him. In jurisprudence, such voluntary evidence is denominated as "irresponsive" testimony and the introduction of such evidence shall be against the rule of re‑examination as contemplated under Article 133 of the Qanun‑e‑Shahadat Order, 1984.

15/05/2026

آئینِ پاکستان کے 20 اہم ترین آرٹیکلز اور آپ کے حقوق
​✨ آرٹیکل 6 ← آئین توڑنا سنگین غداری ہے
✨ آرٹیکل 25-A ← مفت اور لازمی تعلیم
✨ آرٹیکل 19 ← اظہارِ رائے کی آزادی
✨ آرٹیکل 224 ← 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں
✨ آرٹیکل 4 ← قانون کے مطابق سلوک ہر شہری کا حق
✨ آرٹیکل 62 ← صادق و امین ہونا ضروری
✨ آرٹیکل 95 ← عدم اعتماد سے وزیراعظم ہٹایا جا سکتا ہے
✨ آرٹیکل 5 ← آئین کی اطاعت ہر پاکستانی کا فرض
✨ آرٹیکل 184(3) ← سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے سکتی ہے
✨ آرٹیکل 9 ← زندگی اور آزادی کا تحفظ
✨ آرٹیکل 58 ← اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار
✨ آرٹیکل 25 ← سب شہری برابر ہیں
✨ آرٹیکل 14 ← عزت اور پرائیویسی کا تحفظ
✨ آرٹیکل 19-A ← معلومات تک رسائی کا حق
✨ آرٹیکل 10-A ← شفاف ٹرائل کا حق
✨ آرٹیکل 199 ← ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن کا حق
✨ آرٹیکل 17 ← سیاسی جماعت بنانے کا حق
✨ آرٹیکل 45 ← صدر کو سزا معاف کرنے کا اختیار
✨ آرٹیکل 218 ← شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری
✨ آرٹیکل 140-A ← بلدیاتی نظام کا قیام

14/05/2026

Benefit of doubt ---Principle---If there is a single circumstance, which creates doubt in the prosecution case then the same will be sufficient to acquit the accused.
2026 SCMR 798
2026 SCMR 783
2026 SCMR 686
2026 SCMR 674
2025 SCMR 1876
2026 SCMR 257
2026 SCMR 47
2025 SCMR 2052
2025 SCMR 1876
2025 SCMR 1730
2025 SCMR 1633
2025 SCMR 1616
2025 SCMR 1599
2025 SCMR 1580
2025 SCMR 1558
2025 SCMR 1388
2025 SCMR 1344
2025 SCMR 880
2025 SCMR 810
2024 SCMR 1839
2024 SCMR 1731
2024 SCMR 1507
2024 SCMR 1490
2024 SCMR 1427
2024 SCMR 1191
2024 SCMR 1146
2024 SCMR 1116
PLD 2024 SC 1119
2024 SCMR 156
2024 SCMR 51
2023 SCMR 1791
2023 SCMR 1698
2023 SCMR 870
2023 SCMR 781
2023 SCMR 670
2023 SCMR 566
2023 SCMR 241
2022 SCMR 1567
2022 SCMR 1540
2022 SCMR 1527
2022 SCMR 1515
2022 SCMR 1328
2022 SCMR 1148
2022 SCMR 986
2021 SCMR 873
2021 SCMR 736
2021 SCMR 736
PLD 2021 SC 600.

05/05/2026

فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے تحت دعویٰ کی تیاری (Drafting) کے لیے قانونی تقاضوں اور طریقہ کار کی تفصیل اردو میں درج ذیل ہے:
​1. دعویٰ کی ابتدا (سیکشن 7)
​پاکستان میں فیملی کورٹ کے اندر کسی بھی مقدمے کا آغاز فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے سیکشن 7 کے تحت ہوتا ہے۔ جب آپ دعویٰ دائر کرتے ہیں، تو اس میں درج ذیل قانونی نکات کا ہونا لازمی ہے:
​2. دعویٰ کے ساتھ ضروری دستاویزات (Checklist)
​قانون کے مطابق دعویٰ کے ساتھ درج ذیل چیزیں لگانا لازمی ہیں، ورنہ عدالت اعتراض لگا سکتی ہے:
​عرضی دعویٰ (Plaint): جس میں تمام واقعات اور مطالبات (مثلاً خرچہ، بچوں کی ملاقات، یا حق مہر) واضح درج ہوں۔
​فہرست گواہان: ان تمام افراد کے نام اور پتے جو آپ کے حق میں گواہی دیں گے۔
​خلاصہ شہادت (Summary of Evidence): گواہان کیا بیان دیں گے، اس کا مختصر ذکر۔
​فہرست دستاویزات (نقل و اصل): وہ تمام کاغذات جن پر آپ انحصار کر رہے ہیں (مثلاً نکاح نامہ، برتھ سرٹیفکیٹ، یا یونین کونسل کا ریکارڈ)۔
​وکالت نامہ: اگر آپ وکیل کے ذریعے کیس لڑ رہے ہیں۔
​تعداد نقول: مدعا علیہ (دوسری پارٹی) کی تعداد کے مطابق دعویٰ اور دستاویزات کے مکمل سیٹ۔
​3. عدالتی ڈگری کی بنیاد
​فیملی کورٹ درج ذیل بنیادوں پر فیصلہ (ڈگری) صادر کرتی ہے:
​ثبوت و شہادت: پیش کردہ دستاویزات اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں۔
​مصالحت کی کوشش (سیکشن 10): ٹرائل شروع ہونے سے پہلے جج صاحب فریقین کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر صلح نہ ہو سکے تو کیس آگے بڑھتا ہے۔
​بعد از شہادت مصالحت (سیکشن 12): گواہیاں مکمل ہونے کے بعد عدالت ایک بار پھر صلح کی کوشش کرتی ہے۔ اگر پھر بھی ناکامی ہو تو عدالت حتمی فیصلہ سناتی ہے۔
​بچے کی فلاح (Welfare of Minor): اگر کیس بچوں کی حضانت (Custody) کا ہے، تو عدالت صرف قانون نہیں بلکہ یہ دیکھتی ہے کہ بچے کا مستقبل کہاں محفوظ ہے۔
​ . اہم قانونی دفعات (Sections) کا خلاصہدفعہ (Section) تفصیل و مقصد
سیکشن 5 عدالت کا دائرہ اختیار (کون سے کیسز فیملی کورٹ سن سکتی ہے)۔
سیکشن 7 دعویٰ دائر کرنے کا طریقہ کار اور لوازمات۔
سیکشن 8 دوسرے فریق کو سمن اور نوٹس جاری کرنا۔
سیکشن 9 دوسری پارٹی کی طرف سے جواب دعویٰ داخل کرنا۔
سیکشن 10 پری ٹرائل کارروائی اور صلح کی پہلی کوشش۔
سیکشن 11 شہادتیں (Evidence) ریکارڈ کرنا۔
سیکشن 12 ٹرائل کا اختتام اور صلح کی آخری کوشش۔
سیکشن 13 ڈگری کا نفاذ اور عملدرآمد (Execution)۔

5. ڈرافٹنگ کے لیے اہم نصائح
​مختصر اور جامع: دعویٰ میں غیر ضروری کہانیاں لکھنے کے بجائے قانونی نکات اور تاریخوں پر توجہ دیں۔
​دائرہ اختیار (Jurisdiction): دعویٰ میں یہ واضح لکھیں کہ عدالت کے پاس یہ کیس سننے کا اختیار کیوں ہے (مثلاً مدعیہ اس شہر میں رہائش پذیر ہے)۔
​فریاد (Relief): دعویٰ کے آخر میں واضح لکھیں کہ آپ عدالت سے کیا چاہتے ہیں (مثلاً کتنا خرچہ یا کون سا سامان)۔
​پاکستان کے فیملی قوانین میں طریقہ کار کو سادہ رکھا گیا ہے تاکہ انصاف جلد مل سکے، اس لیے پہلی فرصت میں ہی تمام گواہان اور دستاویزات کی فہرست فراہم کرنا قانونی طور پر نہایت ضروری ہے.

03/05/2026

1. ٹرائل کس سیکشن کے تحت لگتا ہے؟
​ فوجداری ٹرائل کا آغاز مختلف عدالتوں میں مختلف دفعات کے تحت ہوتا ہے:
​مجسٹریٹ کی عدالت میں ٹرائل: یہ دفعہ 241-A سے 250 CrPC کے تحت ہوتا ہے۔
​سیشن عدالت میں ٹرائل: یہ دفعہ 265-A سے 265-N CrPC کے تحت ہوتا ہے۔
​جب پولیس دفعہ 173 CrPC کے تحت چالان (چاہے وہ مکمل ہو یا نامکمل) عدالت میں پیش کر دیتی ہے اور عدالت اس کا نوٹس (Cognizance) لے لیتی ہے، تو ٹرائل کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
​2. کیا ٹرائل کے دوران تفتیش ہو سکتی ہے؟
​جی ہاں، ٹرائل شروع ہونے کے بعد بھی تفتیش جاری رہ سکتی ہے۔ قانون کی نظر میں چالان پیش کرنا تفتیش کے دروازے بند نہیں کرتا۔
​دفعہ 173(8) CrPC: یہ دفعہ پولیس کو اختیار دیتی ہے کہ چالان جمع کروانے کے بعد بھی اگر کوئی نیا ثبوت یا گواہ سامنے آئے، تو وہ مزید تفتیش (Further Investigation) کر سکتی ہے۔
​سپلیمنٹری چالان (بقیہ چالان): مزید تفتیش کے نتیجے میں پولیس جو نئی رپورٹ تیار کرتی ہے، اسے "بقیہ چالان" کہا جاتا ہے اور اسے ٹرائل کے دوران کسی بھی وقت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
​3. تفتیش کب تک ہو سکتی ہے؟ (حدود و قیود)
​تفتیش کے حوالے سے وقت کی کوئی آخری حد مقرر نہیں ہے، لیکن اس کے لیے کچھ اصول ہیں:
​فیصلے سے پہلے تک: قانونی طور پر تفتیش اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک عدالت اپنا حتمی فیصلہ (Judgment) نہ سنا دے۔
​عدالت کی اجازت: جب ٹرائل باقاعدہ شروع ہو چکا ہو، تو عام طور پر پولیس عدالت کو مطلع کرتی ہے کہ ہم مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
​دوبارہ تفتیش (Re-investigation) بمقابلہ مزید تفتیش (Further Investigation): اعلیٰ عدالتوں (سپریم کورٹ) کے فیصلوں کے مطابق، پولیس "مزید تفتیش" تو کر سکتی ہے لیکن پورے کیس کی "دوبارہ تفتیش" (نئے سرے سے) کرنے کے لیے ٹھوس وجوہات اور بعض اوقات اعلیٰ پولیس افسران یا عدالت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
​4. اہم قانونی نظائر (Case Laws)
​PLD 2011 SC 616: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چالان پیش ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تفتیش ختم ہو گئی۔ اگر نئے حقائق سامنے آئیں تو پولیس دفعہ 173(8) کے تحت مزید تفتیش کر کے اضافی ثبوت پیش کر سکتی ہے۔
​2002 SCMR 542: عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کے دوران بھی اگر تفتیشی ایجنسی کو لگے کہ کوئی بے گناہ پھنس گیا ہے یا اصل ملزم باہر ہے، تو وہ تفتیش جاری رکھ سکتی ہے۔

عدالتِ عالیہ (High Court)
سپریم کورٹ جب کسی ٹرائل کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے، تو اس کے لیے مخصوص وقت کا تعین کیس کی نوعیت اور عدالتی حکم پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے عمومی قانونی اصول اور اہم فیصلوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. ٹرائل مکمل کرنے کی مدت
عام طور پر جب ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کو ہدایت جاری کرتی ہے، تو وہ درج ذیل میں سے کوئی ایک مدت مقرر کرتی ہے:
3 ماہ (90 دن): زیادہ تر سنگین مقدمات میں عدالت 3 ماہ کے اندر ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے۔
6 ماہ: پیچیدہ مقدمات میں جہاں گواہان کی تعداد زیادہ ہو، 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر سماعت (Day-to-Day Basis): اگر کیس بہت پرانا ہو یا ملزم کافی عرصے سے جیل میں ہو، تو عدالت روزانہ سماعت کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
2. قانونی دفعات (CrPC)
دفعہ 344 CrPC: یہ دفعہ ٹرائل کے التوا (Adjournment) سے متعلق ہے۔ اعلیٰ عدالتیں اکثر اس دفعہ کا حوالہ دیتی ہیں کہ ٹرائل میں بلاوجہ التوا نہ دیا جائے۔
آرٹیکل 10-A (آئینِ پاکستان): یہ ہر شہری کو "فیئر ٹرائل" اور جلد انصاف کا حق دیتا ہے۔
3. اہم عدالتی فیصلے (Judgments)
اعلیٰ عدالتوں نے بارہا ٹرائل کی مدت کے حوالے سے سخت احکامات جاری کیے ہیں:
الف: ٹرائل کی مدت اور ضمانت (2021 SCMR 651 - سپریم کورٹ)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ہائی کورٹ نے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے کوئی وقت (مثلاً 4 ماہ) مقرر کیا تھا اور ٹرائل اس دوران مکمل نہیں ہوا، تو ملزم ضمانت (Bail) کے لیے دوبارہ رجوع کر سکتا ہے۔ عدالت نے اسے ملزم کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ب: روزانہ سماعت کا حکم (PLD 2017 SC 733)
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ وہ مقدمات جو ہائی کورٹ کی طرف سے "ٹائم باؤنڈ" (Time Bound) کیے گئے ہوں، ان کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور ٹرائل جج کو بلاوجہ التوا نہیں دینا چاہیے۔
ج: ٹرائل جج کی ذمہ داری (2019 YLR 1242 - لاہور ہائی کورٹ)
لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ کے دیے گئے وقت کے اندر فیصلہ نہیں کر پاتی، تو ٹرائل جج کو ہائی کورٹ سے باقاعدہ "وقت میں توسیع" (Extension of Time) کی درخواست کرنی چاہیے، ورنہ اسے عدالتی حکم کی عدولی تصور کیا جا سکتا ہے۔
4. اگر ٹرائل مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ٹرائل لیٹ ہو رہا ہو، تو آپ کے پاس یہ قانونی راستے موجود ہیں:
درخواست برائے تعمیلِ حکم (Implementation Petition): اسی ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کریں جس نے حکم دیا تھا، تاکہ ٹرائل کورٹ سے جواب طلبی کی جائے۔
ضمانت کی نئی بنیاد: اگر ملزم جیل میں ہے، تو وقت گزرنے کو "تازہ گراؤنڈ" (Fresh Ground) بنا کر دوبارہ ضمانت کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
توسیع کی مخالفت: اگر استغاثہ (Prosecution) تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، تو عدالت سے ان کے گواہان کا حقِ شہادت ختم کرنے کی استدعا کی جا سکتی ہے۔
قانون میں کوئی ایک فکس مدت نہیں ہے، لیکن ہائی کورٹ کا حکم حتمی ہوتا ہے۔ عموماً 3 سے 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر اس دوران ٹرائل مکمل نہ ہو، تو ملزم کو ضمانت ملنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور ٹرائل جج کو ہائی کورٹ میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔

02/05/2026

📘 پاکستان پینل کوڈ (PPC) — دفعہ 390 تا 400
⚖️ ڈکیتی (Robbery) اور ڈکیتی بمعہ گروہ (Dacoity) سے متعلق اہم قوانین

🔴 دفعہ 390 — Robbery (ڈکیتی کی تعریف)
جب کسی شخص کو خوف، تشدد یا فوری نقصان کے ڈر سے مال چھینا جائے تو یہ Robbery کہلاتی ہے۔

🔴 دفعہ 391 — Dacoity
جب پانچ یا اس سے زیادہ افراد مل کر Robbery کریں تو اسے Dacoity کہا جاتا ہے۔

🔴 دفعہ 392 — سزا
ڈکیتی کرنے پر قید اور جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔

🔴 دفعہ 393 — کوشش
ڈکیتی کی کوشش بھی جرم ہے چاہے واردات مکمل نہ ہو۔

🔴 دفعہ 394 — زخمی کرنا
ڈکیتی کے دوران زخمی کرنے پر سزا مزید سخت ہو جاتی ہے۔

🔴 دفعہ 395 — گروہی ڈکیتی
گروہ کی صورت میں ڈکیتی پر سخت سزا (عمر قید تک) ہو سکتی ہے۔

🔴 دفعہ 396 — قتل کی صورت میں
ڈکیتی کے دوران قتل ہو جائے تو سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے۔

🔴 دفعہ 397 — مہلک ہتھیار
مہلک ہتھیار کے استعمال پر کم از کم سخت سزا لازم ہوتی ہے۔

🔴 دفعہ 398 — ہتھیار کے ساتھ کوشش
ہتھیار کے ساتھ ڈکیتی کی کوشش بھی سنگین جرم ہے۔

🔴 دفعہ 399 — تیاری
ڈکیتی کی تیاری کرنا بھی قابلِ سزا جرم ہے۔

🔴 دفعہ 400 — گروہ کا رکن ہونا
ڈکیتی کرنے والے گروہ کا حصہ ہونا بھی جرم ہے۔

⚖️ فوجداری مقدمات | ضمانت | اپیل | قانونی مشاورت
👉 اپنے حق کے لیے آج ہی ہم سے رابطہ کریں!



Address

Quetta
Quetta Cantonment

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LAW And Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share