LAW And Associates

LAW  And Associates law of Pakistan

23/06/2026

جی ہاں، دفعہ 249-A Cr.P.C. کی درخواست بعض حالات میں چارج فریم ہونے سے پہلے بھی قابلِ سماعت ہو سکتی ہے، لیکن یہ مقدمے کے حقائق پر منحصر ہے۔

آپ درج ذیل نظائر (citations) پیش کر سکتے ہیں:

1. 2005 SCMR 1544, The State through Advocate-General v. Raja Abdul Rehman

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 249-A کی درخواست "at any stage" دائر اور فیصلہ کی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ استغاثہ کے شواہد ریکارڈ ہونے سے پہلے بھی۔

2. PLD 1996 Karachi 253, Aarub Khan v. Haris M. Ahmad

"At any stage" کا مطلب ابتدائی مرحلہ، چارج سے پہلے، یا بعد کا مرحلہ بھی ہو سکتا ہے۔

3. 1990 PCrLJ 1042 (Karachi), The State v. Muhammad Rafi

عدالت نے قرار دیا کہ 249-A کے اختیارات چارج فریم ہونے سے پہلے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

4. 1992 PCrLJ 1641, Moin-ul-Islam v. State

دفعہ 249-A کی درخواست چارج فریم ہونے سے پہلے بھی دائر کی جا سکتی ہے۔

مخالف نظیر (Prosecution may cite)

2001 MLD 334 (Karachi), Khalil Ahmed v. State

اس فیصلے میں کہا گیا کہ مخصوص حقائق میں چارج فریم ہونے سے پہلے 249-A کی درخواست قبل از وقت (premature) تھی۔

مختصر قانونی نکتہ

اگر FIR، 161 Cr.P.C. بیانات، اور چالان کے مواد سے ہی یہ ظاہر ہو جائے کہ:

کوئی جرم بنتا ہی نہیں؛

الزام بے بنیاد (groundless) ہے؛ یا

سزا کا کوئی امکان نہیں؛

تو مجسٹریٹ چارج فریم ہونے سے پہلے بھی دفعہ 249-A کے تحت بریت دے سکتا ہے۔

درخواست میں استعمال کرنے کے لیے ایک سطر:

> "The words 'at any stage' occurring in Section 249-A Cr.P.C. include the stage prior to framing of charge; therefore, the present application is fully maintainable in law."

درخواست یکطرفہ کارروائی ختم کرنے کے لیے حدودِ وقت (limitation) 30 دن نہیں بلکہ 3 سال ہے (آرٹیکل 181 کے تحت)۔عدالت عالیہ ...
20/06/2026

درخواست یکطرفہ کارروائی ختم کرنے کے لیے حدودِ وقت (limitation) 30 دن نہیں بلکہ 3 سال ہے (آرٹیکل 181 کے تحت)۔
عدالت عالیہ کا تجزیہ:

1. آرڈر IX، رول 7 کی تشریح:
· اس رول کے تحت اگر کوئی مدعا علیہ (جس کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہو چکی ہو) بعد میں آ کر معقول وجہ پیش کرے تو عدالت اسے جرمانے یا دیگر شرائط پر مقدمے میں شامل ہونے کی اجازت دے سکتی ہے۔
· اس رول میں کوئی خاص مدتِ حد (limitation period) مقرر نہیں ہے۔
2. حدودِ وقت کا قانون:
· سپریم کورٹ کے فیصلے محمد یوسف بھنڈی بمقابلہ ایم/سی اے جی ای اینڈ سنز (PLD 2024 SC 864) کے مطابق، آرڈر IX، رول 7 کے تحت درخواست کے لیے آرٹیکل 181 (جو 3 سال کی مدت دیتا ہے) لاگو ہوتا ہے، نہ کہ 30 دن۔
· لہٰذا نظرثانی عدالت کا 30 دن کا قیاس غلط تھا۔
3. یکطرفہ کارروائی بمقابلہ یکطرفہ فیصلہ (decree):
· موجودہ کیس میں یکطرفہ فیصلہ نہیں ہوا تھا، صرف کارروائی یکطرفہ تھی۔
· سپریم کورٹ کے فیصلے پولیس ڈیپارٹمنٹ بمقابلہ جاوید اسرار (1992 SCMR 1009) کے مطابق، جس شخص کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہو، وہ عدالت سے باہر نہیں ہو جاتا اور بعد میں بھی مقدمے میں شامل ہو سکتا ہے۔
4. نظرثانی کا دائرہ کار (Revisional jurisdiction):
· نظرثانی عدالت صرف اس وقت مداخلت کر سکتی ہے جب کوئی قانونی غلطی، نااہلی، یا عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز ہو۔
· یہاں ٹرائل کورٹ نے اپنے اختیار کا صحیح استعمال کیا تھا، اور نظرثانی عدالت نے بغیر کسی بنیاد کے مداخلت کی۔

درخواست یکطرفہ کارروائی ختم کرنے کے لیے حدودِ وقت (limitation) 30 دن نہیں بلکہ 3 سال ہے (آرٹیکل 181 کے تحت)۔

20/06/2026

وعلیکم السلام

پیارے بھائیو اور بہنو!

اگر کوئی بہن یا بھائی بلیک میلنگ، ہراسانی یا آن لائن بلیک میلنگ کا شکار ہے تو پریشان نہ ہوں۔ جے ایم لا ایسوسی ایٹس، کوئٹہ ایسے متاثرہ افراد کو قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے حاضر ہے۔ مستحق افراد کے مقدمات بلا معاوضہ (Free of Cost) لڑ کر انہیں اس اذیت اور پریشانی سے نجات دلانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

آپ کی عزت، رازداری اور حقوق کا تحفظ ہماری ترجیح ہے۔

JM Law Associates,

"NADRA شہری کا CNIC محض انٹیلی جنس رپورٹ یہ انتظامی پالیسی کی بنیاد پر بلاک نہیں کر سکتی؛ قانون، وجوہات اور موقعِ سماعت ...
17/06/2026

"NADRA شہری کا CNIC محض انٹیلی جنس رپورٹ یہ انتظامی پالیسی کی بنیاد پر بلاک نہیں کر سکتی؛ قانون، وجوہات اور موقعِ سماعت لازمی ہیں۔

National Database and Registration Authority (NADRA) کو قانوناً CNIC بلاک کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ NADRA آرڈیننس 2000 کی دفعہ 18 صرف Cancellation، Impounding یا Confiscation کی اجازت دیتی ہے، وہ بھی مناسب وجوہات اور مکمل قانونی کارروائی کے بعد۔

عدالت نے قرار دیا کہ:

صرف خفیہ اداروں کی معلومات یا اندرونی SOPs کی بنیاد پر CNIC بلاک نہیں کیا جا سکتا۔

کسی بھی منفی کارروائی سے پہلے شوکاز نوٹس، وجوہات کی فراہمی اور مؤثر موقعِ سماعت دینا لازمی ہے۔

آرٹیکل 10-A کے تحت Due Process ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

شہریت کا فیصلہ NADRA نہیں کر سکتی؛ اگر کسی کی شہریت مشکوک ہو تو معاملہ Pakistan Citizenship Act, 1951 کے تحت طے ہوگا۔

پہلے سے جاری شدہ CNIC، پاسپورٹ اور ڈومیسائل کو دھوکہ دہی یا جعلسازی ثابت کیے بغیر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انتظامی پالیسیاں یا SOPs قانون پر فوقیت نہیں رکھتیں۔
نتیجہ:
عدالت نے CNIC کی بلاکنگ/ڈیجیٹل امپاؤنڈنگ کو غیر قانونی، غیر آئینی اور بلا اختیار اقدام قرار دیتے ہوئے NADRA کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کا CNIC قانون کے مطابق بحال اور تجدید کرے۔

13/06/2026

سیکشن 19 پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت افغان کارڈ (ACC/POR) رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے رہنمائی

اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر پاکستانی شہری ہے لیکن اس نے کسی مرحلے پر افغان سٹیزن کارڈ (ACC) یا پروف آف رجسٹریشن (POR) حاصل کر لیا ہو، اور اس بنیاد پر اس کا قومی شناختی کارڈ معطل، ضبط یا منسوخ کر دیا گیا ہو، تو وہ اپنی پاکستانی شہریت کے ثبوت کے لیے متعلقہ قانونی طریقہ کار اختیار کر سکتا ہے۔

پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ، 1951 کے سیکشن 19 کے تحت وفاقی حکومت نے رجسٹرار جنرل پاکستان (چیئرمین نادرا) کو اختیار دیا ہے کہ وہ ایسے معاملات کی جانچ کرے جہاں کسی فرد کی شہریت کے بارے میں شبہ یا تنازع موجود ہو۔ اگر درخواست گزار اپنی پاکستانی شہریت کے حق میں قابلِ اعتماد دستاویزات پیش کر سکے تو اس کا معاملہ نادرا کے ذریعے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔

مطلوبہ دستاویزات

درخواست گزار کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستیاب ریکارڈ اور معاون دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں حسبِ ضرورت درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:

- اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ بیانِ حلفی۔
- 1979 سے قبل کے سرکاری ریکارڈ، مثلاً زمین یا جائیداد سے متعلق دستاویزات۔
- پرانے ڈومیسائل یا لوکل سرٹیفکیٹس۔
- تعلیمی اسناد، پاسپورٹ، پرانے شناختی دستاویزات یا ڈرائیونگ لائسنس۔
- 1990 سے قبل کی سرکاری ملازمت سے متعلق تصدیق شدہ ریکارڈ (درخواست گزار یا قریبی خونی رشتہ دار کا)۔
- متعلقہ محکمہ مال سے تصدیق شدہ شجرۂ نسب یا خاندانی ریکارڈ۔

درخواست کا طریقۂ کار

1. نادرا میں درخواست جمع کرانا
درخواست گزار اصل دستاویزات اور بیانِ حلفی کے ساتھ نامزد نادرا مرکز میں حاضر ہو کر درخواست جمع کرائے گا۔ مقررہ فیس کی ادائیگی اور بائیومیٹرک تصدیق بھی درکار ہوگی۔

2. جانچ پڑتال اور انٹرویو
نادرا کی جانب سے مقررہ تاریخ پر درخواست گزار کا انٹرویو لیا جا سکتا ہے تاکہ فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کا جائزہ لیا جا سکے۔

3. ریکارڈ کی تصدیق
نادرا متعلقہ سرکاری اداروں سے فراہم کردہ ریکارڈ اور دستاویزات کی تصدیق حاصل کرے گا۔

4. حتمی فیصلہ
ضروری کلیئرنس اور تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد معاملہ مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اگر شہریت کا دعویٰ درست ثابت ہو جائے تو افغان کارڈ منسوخ کرنے اور پاکستانی شہریت و شناختی دستاویزات کی بحالی یا اجرا کے لیے قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اہم قانونی نکات

- افغان کارڈ کی منسوخی یا پاکستانی شناختی کارڈ کی بحالی خود بخود ماضی میں ہونے والی کسی ممکنہ قانونی خلاف ورزی یا کارروائی کو ختم نہیں کرتی۔
- اگر بعد میں یہ ثابت ہو جائے کہ درخواست گزار نے جعلی دستاویزات استعمال کیں یا اہم حقائق مخفی رکھے، تو متعلقہ اتھارٹی شہریت سے متعلق جاری کردہ فیصلے یا سرٹیفکیٹ کو قانون کے مطابق واپس لینے یا منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
- ہر درخواست کا فیصلہ اس کے اپنے حقائق، دستیاب شواہد اور
قانونی تقاضوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔

13/06/2026

نجی زندگی کا تقدس، غیر قانونی پولیس چھاپے اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 371-A و 371-B PPC کے اطلاق کا دائرہ کار: پشاور ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ

مقدمے کے بنیادی مندرجات (Case Profile)

مقدمے کے حقائق اور پولیس کا مؤقف
پولیس کے مطابق، مانسہرہ کے علاقے ٹینکی موڑ پر ایک کرائے کے مکان میں مبینہ طور پر جسم فروشی (Prostitution) کی عوامی شکایت موصول ہونے پر مقامی پولیس نے چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران ایک کمرے سے درخواست گزار نور محمد اور مسمات مدیحہ بی بی، جبکہ دوسرے کمرے سے مسمات عاصمہ بی بی اور ایک شخص سیف اللہ (جو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا) مبینہ طور پر قابلِ اعتراض حالت میں پائے گئے۔

عدالت کے اہم قانونی نکات اور مشاہدات (Legal Points & Findings)
عدالتِ عالیہ نے درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے درج ذیل اہم قانونی اصول طے کیے:

1۔ دفعات 371-A اور 371-B PPC کا دائرہ اختیار اور اطلاق
عدالت نے واضح کیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی یہ دفعات بنیادی طور پر انسانی اسمگلنگ، انسانوں کی خرید و فروخت، تجارتی مقاصد کے لیے خدمات حاصل کرنے یا جسم فروشی کے لیے تجارتی استحصال کو روکنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
محض کسی نجی جگہ پر مرد اور عورت کا ایک ساتھ موجود ہونا یا غیر اخلاقی رویے کا الزام ہونا، خود بخود ان دفعات کے اطلاق کے لیے کافی نہیں ہے، جب تک کہ وہاں کسی انسان کی خرید و فروخت یا تجارتی بنیادوں پر جسم فروشی کا ثبوت موجود نہ ہو۔

2۔ ایف آئی آر (FIR) میں شواہد کی کمی
عدالت نے نوٹ کیا کہ ایف آئی آر میں ایسا کوئی الزام نہیں ہے کہ ملزمان انسانوں کی خرید و فروخت یا تجارتی بنیادوں پر جسم فروشی میں ملوث تھے۔
چھاپے کے دوران نہ تو کوئی رقم برآمد ہوئی، نہ کوئی گاہک سودا بازی کرتے ہوئے پکڑا گیا اور نہ ہی منظم جسم فروشی یا اسمگلنگ کا کوئی مواد برآمد ہوا۔
عدالت نے اس سلسلے میں سابقہ عدالتی نظائر (2024 P Cr. LJ 1972 اور 2021 P Cr. LJ 323) کا حوالہ دیا۔

3۔ غیر قانونی پولیس چھاپہ اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی
عدالت نے پولیس کی کارروائی کے طریقے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پولیس نے مجسٹریٹ سے تلاشی کا وارنٹ (Search Warrant) لیے بغیر اور علاقے کے معززین کو شامل کیے بغیر (جو کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 103 کی خلاف ورزی ہے) ایک نجی گھر پر چھاپہ مارا اور خواتین کو گرفتار کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ کارروائی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک کا حق)، آرٹیکل 9 (انفرادی آزادی اور تحفظ) اور آرٹیکل 14 (انسان کا وقار اور گھر کی پرائیویسی) کے تحت شہریوں کو دی گئی آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جاسوسی، گمنام شکایات یا محض شک کی بنیاد پر پولیس کو شہریوں کی عزت اور وقار پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی (حوالہ: 2019 YLRN 51 Karachi)۔

4۔ زنا یا باہمی رضامندی کا معاملہ اور قانونی طریقہ کار
عدالت نے واشگاف الفاظ میں رولنگ دی کہ اگر معاملہ باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات یا زنا (Fornication) کا ہو، تو قانون کے مطابق پولیس براہِ راست ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔
ایسی صورت میں کارروائی صرف اور صرف ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 203-C کے تحت (عدالت میں) استغاثہ/شکایت کے ذریعے ہی چلائی جا سکتی ہے، نہ کہ دفعہ 371-A یا 371-B کے تحت ایف آئی آر درج کر کے۔

5۔ مزید انکوائری کا کیس (Further Inquiry)
ان تمام قانونی خامیوں کے پیشِ نظر، عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کا کیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ (2)497 Cr.P.C کے تحت "مزید انکوائری" (Further Inquiry) کے دائرے میں آتا ہے، یعنی ابھی یہ ٹرائل کورٹ میں ثابت ہونا باقی ہے کہ آیا انہوں نے کوئی جرم کیا بھی ہے یا نہیں۔

عدالتی فیصلہ (The Order)
ان تمام وجوہات کی بنا پر پشاور ہائی کورٹ نے دونوں ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
تمام ملزمان (نور محمد، مسمات عاصمہ بی بی، اور مسمات مدیحہ بی بی) کو بعد از گرفتاری (Post-Arrest) ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔
ملزمان کو ہدایت کی گئی کہ وہ 100,000 روپے (ایک لاکھ روپے) مالیت کے مچلکوں کے ساتھ دو ضامن ٹرائل کورٹ کی تسلی کے لیے جمع کرائیں۔

عدالت: پشاور ہائی کورٹ، ایبٹ آباد بینچ
جج صاحب: معزز جسٹس سید مدثر امیر
درخواست گزاران: نور محمد (Cr. M BA No.326-A/2026)، مسمات عاصمہ بی بی اور مسمات مدیحہ بی بی (Cr. M No.329-A/2026)
مقدمہ/ایف آئی آر: مقدمہ نمبر 549، مورخہ 02.05.2026، تھانہ سٹی مانسہرہ
قانون کی دفعات: دفعہ 371-A اور 371-B تعزیراتِ پاکستان (PPC)
تاریخِ سماعت و فیصلہ: 21 مئی 2026

افغان کارڈ (ACC/POR) کی منسوخی، پاکستانی شہریت کی تصدیق اور قومی شناختی کارڈ کی بحالیکیا آپ پاکستانی شہری ہیں لیکن ماضی ...
12/06/2026

افغان کارڈ (ACC/POR) کی منسوخی، پاکستانی شہریت کی تصدیق اور قومی شناختی کارڈ کی بحالی
کیا آپ پاکستانی شہری ہیں لیکن ماضی میں کسی وجہ سے آپ نے افغان سٹیزن کارڈ (ACC) یا پروف آف رجسٹریشن (POR) حاصل کر لیا تھا؟ کیا اس بنیاد پر آپ کو نادرا کی جانب سے نوٹس موصول ہوا ہے، یا آپ کا قومی شناختی کارڈ معطل یا منسوخ کر دیا گیا ہے؟
اگر آپ کے پاس اپنی پاکستانی شہریت کے حق میں مستند اور قابلِ تصدیق دستاویزی شواہد موجود ہیں تو آپ قانون کے مطابق اپنے معاملے کے جائزے اور فیصلے کے لیے نادرا سے رجوع کر سکتے ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کی متعلقہ شق کے تحت رجسٹرار جنرل پاکستان، یعنی چیئرمین نادرا، کو اختیار تفویض کیا ہے تاکہ ایسے معاملات کا قانون اور دستیاب شواہد کی روشنی میں جائزہ لے کر فیصلہ کیا جا سکے۔
درخواست کے لیے درکار دستاویزات
درخواست گزار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی شہریت کے دعوے کے حق میں دستیاب تمام متعلقہ دستاویزی شواہد فراہم کرے۔ حسبِ ضرورت ان میں درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:
1۔ بیانِ حلفی:
اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ بیانِ حلفی، جس میں فراہم کردہ معلومات کی درستی کی تصدیق کی گئی ہو۔
2۔ شہریت کے حق میں دستاویزی شواہد:
قانون اور متعلقہ شیڈول کے مطابق دستیاب دستاویزات، مثلاً
- 1979 سے قبل کا سرکاری اراضی ریکارڈ
- 1979 سے قبل کا لوکل سرٹیفکیٹ یا ڈومیسائل
- پرانا پاکستانی پاسپورٹ
- پرانا قومی شناختی کارڈ
- 1990 سے قبل کی سرکاری ملازمت کا ریکارڈ
- محکمۂ مال سے تصدیق شدہ خاندانی شجرۂ نسب
- دیگر سرکاری دستاویزات جو پاکستانی شہریت کے تاریخی اور قانونی تسلسل کی نشاندہی کرتی ہوں۔
ہر درخواست کا فیصلہ دستیاب شواہد، متعلقہ دستاویزات اور ان کی تصدیق کے نتائج کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
درخواست کے جائزے کا طریقۂ کار:
مرحلہ اول: درخواست کا اندراج
درخواست گزار کو اصل دستاویزات اور بیانِ حلفی کے ساتھ مقررہ نادرا سنٹر میں حاضر ہونا ہوگا، جہاں اس کی بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی اور ضروری کوائف حاصل کیے جائیں گے۔
مرحلہ دوم: ویریفیکیشن بورڈ کے روبرو پیشی
نادرا کا خصوصی ویریفیکیشن بورڈ درخواست گزار کا مؤقف سنے گا اور پیش کردہ دستاویزات کا جائزہ لے گا۔
مرحلہ سوم: ادارہ جاتی تصدیق
پیش کردہ دستاویزات اور معلومات کی تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں، ریکارڈ رکھنے والے محکموں اور دیگر متعلقہ ذرائع سے ضروری تصدیقات حاصل کی جائیں گی۔
مرحلہ چہارم: حتمی فیصلہ
اگر دستیاب شواہد اور متعلقہ تصدیقات کی بنیاد پر پاکستانی شہریت ثابت ہو جائے تو مطلوبہ کلیئرنس موصول ہونے کے بعد افغان کارڈ منسوخ کر دیا جائے گا، اور نادرا قانون کے مطابق پاکستانی قومی شناختی کارڈ (CNIC) بحال یا جاری کر سکے گا۔
قانونی وضاحت:
افغان کارڈ کی منسوخی یا قومی شناختی کارڈ کی بحالی یا اجرا، کسی شخص کو پاکستان کے رجسٹریشن قوانین، پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ یا نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت ممکنہ قانونی ذمہ داریوں یا کارروائیوں سے ازخود بری الذمہ نہیں کرتا۔
جہاں قانون کا اطلاق ہو، نادرا متعلقہ قوانین کے مطابق مناسب کارروائی کا اختیار رکھتا ہے۔
مزید برآں، اگر کسی درخواست میں جعلی دستاویزات پیش کی جائیں، اہم حقائق چھپائے جائیں، یا دانستہ طور پر غلط معلومات فراہم کی جائیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں جاری شدہ دستاویزات، حاصل شدہ مراعات یا کیے گئے فیصلے بھی قانون کے مطابق منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔
اگر کسی درخواست کے بارے میں منفی فیصلہ صادر ہو تو متعلقہ شخص کو قانون کے تحت مجاز اتھارٹی کے سامنے اپیل یا عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔
درخواست گزاروں کے لیے رہنمائی:
پاکستانی شہریت کا تعین قانون، حقائق اور قابلِ تصدیق دستاویزی شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ محض زبانی دعویٰ، غیر مصدقہ دستاویزات یا نامکمل معلومات شہریت کے ثبوت کے طور پر کافی نہیں ہوتیں۔
تاہم جہاں درخواست گزار اپنی یا اپنے خاندان کی پاکستانی شہریت کے حق میں قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق دستاویزی شواہد پیش کرنے میں کامیاب ہو، وہاں قانون اسے اپنے دعوے کے مکمل، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ جائزے کا حق فراہم کرتا ہے۔
لہٰذا درخواست گزاروں کے مفاد میں ہے کہ وہ درخواست جمع کرانے سے قبل اپنے پاس موجود تمام متعلقہ دستاویزات، خاندانی ریکارڈ اور معاون شواہد کے ساتھ نادرا سے رجوع کریں۔
نادرا اپنی تفویض کردہ قانونی ذمہ داریوں کو بطریقِ احسن انجام دینے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔
تفصیلی معلومات اور رہنمائی کے لئے وڈیو اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں:

11/06/2026

Compromise in non compound able offence...
PLD 2016 pesh 26
2003 SCMR 663
PLD 2015 pesh 223
2011 MLD 1468
2009 YLR 1526

08/06/2026

2026 MLD 752
PLJ 2026 Cr.C. 128
منشیات مقدمہ میں عدالت نے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ منشیات مقدمات میں 3 بڑے قانونی اصول طے کیے:
*1. Safe Custody ثابت نہ ہو تو Acquittal لازمی*
اگر پراسیکیوشن یہ ثابت نہ کر سکے کہ برآمد شدہ مادہ/سیمپل پارسل پولیس کی تحویل سے لیب تک محفوظ رہا، تو کیس کے #دوسرے کرنے کی #ضرورت ہی نہیں۔ سیدھا بریت ہو گی۔
*2. of Custody کا اصول*
محفوظ تحویل کا مطلب:
- #برآمدگی > #مہر لگانا > #محررکے حوالے
- محرر سے لیبارٹری تک: اگر کسی دن کسی وجہ سے لیبارٹری بند ہونے کی وجہ سے نموناجات پارسل ہائے جمع نہ ہو سکے
- تو پولیس اہلکار کے لیے لازمی ہے کہ پارسل ہائے واپس محرر کو دے دے
- اگلے دن دوبارہ محرر سے وصول کر کے لیبارٹری جمع کروائے(ڈیلی ڈائری،رجسٹر 19اور 21 اندراج وغیرہ بیان زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری دستاویزات بطور ثبوت پیش کرنے ہونگے)
اگر اہلکار پارسل اپنے پاس رکھے گا تو Safe Custody ہو جائے گی۔
*3. Ratio Decidendi*
"By now it is well settled" - مطلب یہ اب Settled Law ہے۔ 1853 کی PPC کی روح کے مطابق شواہد کی شفافیت لازمی ہے۔

# # # *عملی استعمال وکلا کے لیے:*
Cross-examination میں 3 سوال لازمی:
1. پارسل کس وقت محر سے وصول کیا؟
2. لیب کتنے بجے بند ہو جاتی ہے؟
3. اگر وقت ختم ہو گیا تھا تو پارسل رات محر کے پاس کیوں نہیں رکھوایا؟ کس کی تحویل میں رہا؟

*نوٹ:* یہ PLJ 2026 Cr.C. 128 کی شہادت ہے کہ 2026 میں بھی عدالت CNSA 1997 کے کیسز میں Chain of Custody کو سب سے اہم مان رہی ہے۔
آپ اس citation کو کراس ایگزامینیشن کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا لکھت میں شامل کرنا ہے؟ میں اس کی Application + Case Brief بھی بنا دوں گا۔
Safe custody of parcels of samples--By now it is also well settled that if safe custody of allegedly recovered substance or parcel of sample/case property has not been proved then, there is no need to discuss other merits of case and it straightaway leads to acquittal of accused.
If for any reason whatsoever, police official after receiving parcel of sample of narcotics from the Moharir could not deposit the same in the concerned laboratory within the closing working hours then it was mandatory for him to return the same to the Moharir for safe custody and then to recollect the same from the Moharir on the day when he was again going to deposit the same in concerned laboratory otherwise safe custody of parcel of sample would be compromised.
Jail Appeal.71368/23
Rana Farman Vs The State
Reliance
Case Laws on Control of Narcotic Substances Act, 1997
-R. 6---Control of Narcotic Substances Act (XXV of 1997), S. 9(c)---Possession of narcotics---Report of Government Analyst---protocol s/procedure---Scope---Substantial/sufficient compliance with R. 6 of the Control of Narcotic Substances (Government Analysts) Rules, 2001 ('Rule 6')---Plea on behalf of accused that forensic report in the present case did not mention the details of protocol s used, as such the nature of contraband was never established---Held, that tests carried out by the analyst were vividly mentioned in his report, under the heading "Test Performed on Received Item(s) of Evidence" followed by the heading "Results and Conclusions"---Said details in the forensic report substantially/sufficiently qualified to meet the statutory requirements under R. 6 of Control of Narcotic Substances (Government Analysts) Rules, 2001---Conviction of accused under S. 9(c) of Control of Narcotic Substances Act, 1997 was maintained---Petition for leave to appeal was dismissed. 2020 SCMR 460 SHAZIA BIBI vs State

Any test conducted without a protocol lost its reliability and evidentiary value---To serve the purposes of the Control of narcotic Substances Act, 1997 and the Control of narcotic Substances (Government Analysts) Rules, 2001, the report of the Government Analyst must contain three elements, i.e the tests applied; the protocols applied to carry out these tests; and, the result of the test(s)---Report of the Government Analyst which did not specify the protocols of the tests applied did not meet the requirements of the law---Such a Report could not be relied upon for the conviction of an accused. [Context of 'protocols' as explained in the judgment reported as (Ikramullah's case 2015 SCMR 1002, Imam Bakhsh's case 2018 SCMR 2039 and Khair-ul-Bashar's case 2019 SCMR 930) further clarified]. PLD 2020 SC 57

Held, that the accused was driving the relevant vehicle when it was intercepted---Report received from the Chemical Examiner had declared that the recovered substance was charas---Prosecution witnesses deposing about the alleged recovery, were public servants who had no ostensible reason to falsely implicate the accused in a case of present nature---Said witnesses had made consistent statements fully incriminating the accused in the alleged offence---Nothing had been brought on record which could possibly be used to doubt the veracity of the said witnesses---Guilt of accused had been established beyond reasonable doubt---Conviction and sentence recorded against the accused and upheld by the courts below was maintained. PLD 2020 SC 132

R. 6---Control of narcot ic Substances Act (XXV of 1997), S. 9(c)---Possession of narcot ics--- Report of Government Analyst---Protocols/procedure---Confirmatory forensic conclusions to establish narcot ic character of a substance must be supported by the protocol/procedure mandated by R. 6 of the Control of narcot ic Substances (Government Analysts) Rules, 2001---Non-compliance of R. 6 would render the report of the Government Analyst inconclusive, suspicious and untrustworthy and would not meet the evidentiary assumption attached to such report 2020 SCMR 196
narcot ics were not recovered from the secret cavities of the vehicle---Appellant, being in possession of valid documents showing his undisputed ownership, was entitled to the custody of the vehicle---Appeal was allowed. 2020 MLD QUETTA 59
R.6---Control of Narcotic Substances Act (XXV of 1997), S. 36(1)---Narcotics---Government analyst report, preparation of---Mandatory requirements---Report of the Government Analyst, prepared in consequence of R. 6 of the Control of Narcotic Substances (Government Analysts) Rules, 2001, must provide for, firstly, tests and analysis of the alleged drug; secondly, the results of the test(s) carried out, and, thirdly the test protocol s applied to carry out these tests---Said three elements formed the fundamental and the core elements of a valid Report prepared by a Government Analyst---Non-compliance of R. 6 and absence of any of the said mandatory elements/requirements frustrated the purpose and object of the Control of Narcotic Substances Act, 1997 ('the Act'), thereby diminishing the reliability and evidentiary value of the Report---Under S. 36 of the Act, the report of the Government Analyst, whilst being admissible in evidence without formal proof, was rebuttable and could be questioned by the accused, inter alia, on the ground of non-compliance of the information required under R. 6 of the Control of Narcotic Substances (Government Analysts) Rules, 2001---Judgment reported as State v. Imam Bakhsh (2018 SCMR 2039) purposively interpreted the Act and (rightly) found R. 6 to be a mandatory provision regarding information to be reflected in the Report of the Analysts. 2019 SCMR 930 KHAIR-UL-BASHAR vs State

Ss. 9(c) & 36---Control of Narcotic Substances (Government Analyst) Rules, 2001, R. 6---Possession of

Address

Quetta
Quetta Cantonment

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LAW And Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share