Zubair Hamza -Poetry

Zubair Hamza -Poetry شور نظر اندازی کا
میرے شعر سنانے تک

زبیرحمزہ

17/03/2026

خدا کی ایک نشانی میں آسمان بھی ہیں
زمیں پہ میں بھی کھڑا ہوں کسی سہارے بغیر

زبیرحمزہ

ہمارے واسطے چارہ نہیں تھا ہارے بغیرکہ خواب آئے لٹیروں کے روپ دھارے بغیریہ دیکھ کے بہت اُن پانیوں کو آگ لگی کہ کوئی ڈوب گ...
09/02/2026

ہمارے واسطے چارہ نہیں تھا ہارے بغیر
کہ خواب آئے لٹیروں کے روپ دھارے بغیر

یہ دیکھ کے بہت اُن پانیوں کو آگ لگی
کہ کوئی ڈوب گیا المدد پکارے بغیر

اب اُس کو دیکھتے ہیں تو یقیں نہیں آتا
یہی اُٹھاتا تھا قسمیں کہ میں تمہارے بغیر ۔۔۔۔۔۔

نہیں ملا ترے جنگل میں اک بھی ٹھیک شکار
سو واپس آ گئے ہم کوئی تیر مارے بغیر

خدا کی ایک نشانی میں آسمان بھی ہیں
زمیں پہ میں بھی کھڑا ہوں کسی سہارے بغیر

وہ اپنے چین کی سیٹی نہیں بجاتا ہے
دُکھوں کی ریل مرے جسم سے گزارے بغیر

محبتوں کے ہزار اور نفرتوں کے کروڑ
سو مجھ کو موت نہ آئے یہ قرض اتارے بغیر

زبیرحمزہ

لہو کے اشک ! نہ رخسار سے ڈھلک ایسےکہ اُس کو ہو گا تری ہمّتوں پہ شک ایسےسب اُس سلیقۂ اظہار نے سکھایا تھاکہ ایک آن میں بجھ...
01/02/2026

لہو کے اشک ! نہ رخسار سے ڈھلک ایسے
کہ اُس کو ہو گا تری ہمّتوں پہ شک ایسے

سب اُس سلیقۂ اظہار نے سکھایا تھا
کہ ایک آن میں بجھ اِس طرح ، چمک ایسے

زبیرحمزہ

وہ ہماری ہی مثالوں سے ہراتا ہے ہمیںہم سے ہی جنگ میں ہتھیار بناتا ہے ہمیںتم سمجھ جاؤ تمہیں پیار سے سمجھاتے ہیں ویسے تو او...
22/01/2026

وہ ہماری ہی مثالوں سے ہراتا ہے ہمیں
ہم سے ہی جنگ میں ہتھیار بناتا ہے ہمیں

تم سمجھ جاؤ تمہیں پیار سے سمجھاتے ہیں
ویسے تو اور بھی اک طرح سے آتا ہے ہمیں

دیتا ہے غصے کو دھکا تری ناراضی کا ڈر
اور گریبان سے کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں

وقت لکھ دیتا ہے اتنا ہی نمایاں کر کے
جتنا وہ ذہن کی تختی سے مٹاتا ہے ہمیں

کسی دن ایک جھلک کو بھی ترس جائے گا
یہ جو فیّاض کھلے ہاتھوں لٹاتا ہے ہمیں

زبیرحمزہ

20/01/2026

دیکھ لو ، ہم ابھی روشن ہیں شفق جیسے لوگ
اور کچھ دیر میں تم دیکھ نہ پاؤ گے ہمیں

کر چکے ہوں گے کہیں اور بسیرا ، اور تم
انہی گلیوں میں بہت ڈھونڈنے آؤ گے ہمیں

زبیرحمزہ

حالات کے پاؤں میں پڑے سوچ رہے ہیں کیا تھی تری بانہوں میں سمٹنے کی تمنازبیرحمزہ
18/01/2026

حالات کے پاؤں میں پڑے سوچ رہے ہیں
کیا تھی تری بانہوں میں سمٹنے کی تمنا

زبیرحمزہ

ٹھیک کرتا ہے ، دِکھاتا ہے جدھر اُس کو لگے لیکن اک زخم مرے جیسا اگر اُس کو لگےمیرے ہمراہ کڑی دھوپ میں جو جو بھی جلامالکا ...
15/01/2026

ٹھیک کرتا ہے ، دِکھاتا ہے جدھر اُس کو لگے
لیکن اک زخم مرے جیسا اگر اُس کو لگے

میرے ہمراہ کڑی دھوپ میں جو جو بھی جلا
مالکا رنگ بھی اب اُتنا ہی ہر اُس کو لگے

پہلی دفعہ ہے مرا شامِ الم پر ہنسنا
اعتماد ایسا ہے لیکن کہ ہنر اس کو لگے

وہ ڈرے تو مرے سینے سے لپٹتی ہے سو میں
ایسے حالات بناتا ہوں کہ ڈر اس کو لگے

کس نے تجھ چشمۂ شفًاف میں جوتے دھوئے
غرق ہو جائے مری گندی نظر اُس کو لگے

ایسے بیٹھے نہیں ملنے کی وہ نخرے والی
عشق کرنا ہے تو اس طور سے کر ، اُس کو لگے

سربلندی کی ہیں جس سطح پہ تلوے تیرے
ایڑیاں بونے اٹھائیں تو نہ سر اُس کو لگے

زبیرحمزہ

کتنے آسان یہ دشوار سفر تجھ کو لگےجن پہ اک پیر اٹھاتے ہوئے ڈر تجھ کو لگے دلِ مجذوب ! تری اپنی ہی دنیا ہے کوئیپھول بھی خار...
12/01/2026

کتنے آسان یہ دشوار سفر تجھ کو لگے
جن پہ اک پیر اٹھاتے ہوئے ڈر تجھ کو لگے

دلِ مجذوب ! تری اپنی ہی دنیا ہے کوئی
پھول بھی خار ، تو ویرانہ بھی گھر تجھ کو لگے

میری جی جان سے کوشش ہے ، لگے کچھ نہ برا
پھر بھی ،،، خاکم بدہن ،،، پھر بھی اگر تجھ کو لگے ۔۔۔ 🙏

نہ رُتیں تھیں ، نہ مرے بیج میں بارآوری تھی
اک مسافر نے دعا دی کہ ثمر تجھ کو لگے

کتنا کہتا تھا دِلا تجھ سے میں اِتنا بھی نہ اُڑ
جانے تھے کون سے سرخاب کے پر تجھ کو لگے

زبیرحمزہ

پھل لیے چوری مرے باغ سے کتنے تم نے میں زیادہ تمہیں دیتا جو بتا کر لیتے پاتے اک آخری موقع ترے ہارے ہوئے لوگ مگر اِس طرح ب...
25/12/2025

پھل لیے چوری مرے باغ سے کتنے تم نے
میں زیادہ تمہیں دیتا جو بتا کر لیتے

پاتے اک آخری موقع ترے ہارے ہوئے لوگ
مگر اِس طرح بھی ہو جاتا تو کیا کر لیتے

کوئی زر خانۂ دل کھول ہی بیٹھا تھا تو پھر
دستِ دریوزہ گراں آپ حیا کر لیتے

زبیرحمزہ

23/11/2025

قدم اٹھائے تو شہروں نے راہ خالی کی
عطا ہے ایک پہاڑوں میں رہنے والی کی

ذخیرہ کر تو رہے ہیں ہم التفات ترا
بتا تو دے ہمیں میعاد خشک سالی کی

ہزار آہنی لشکر کچل گئے ہاتھی
مگر جو تُو نے مرے دل کی پائمالی کی

امنگ نام کی اک چیز تھی ، خدا بخشے
رفیق تھی مرے عہدِ شکستہ حالی کی

زبیر تاج بھی باحیثیت پہ سجتا ہے
سو کم نہ کی کبھی توقیر میں نے گالی کی

زبیرحمزہ

14/11/2025

جو لگ سکے درست وہ اندازہ کس کا ہے
اِن موسموں میں چہرہ تر و تازہ کس کا ہے

نکلے گی اپنے شہر پلٹنے کی کب سبیل
ویسے وہاں کشادہ بھی دروازہ کس کا ہے

ہم کیا کہیں گے عظمتِ اجداد کے رہین
بچپن سے بھر رہے ہیں جو خمیازہ ، کس کا ہے

آخر بکھیرتے ہوئے سفاک کیوں نہ ہوں
ان گردشوں کے ہاتھ میں شیرازہ کس کا ہے

سب سے چھپی ہے مجھ سے خیانت جو میں نے کی
پھر مجھ پہ کَس رہا ہے جو آوازہ کس کا ہے

زبیرحمزہ

24/10/2025

لہو کے اشک ! نہ رخسار سے ڈھلک ایسے
کہ اُس کو ہو گا تری ہمَتوں پہ شک ایسے

سب اُس سلیقۂ اظہار نے سکھایا تھا
کہ ایک آن میں بجھ اِس طرح ، چمک ایسے

ہوا کے زور نے در ہی اکھاڑ پھینکا ہے
وہ شخص دل میں گھس آتا تھا بے دھڑک ایسے

چمک نہ دیکھی زمیں نے ترے بدن جیسی
ستارے سینے پہ رکھتا نہیں فلک ایسے

قسم گلاب کی ، وہ اسمِ با مسمّٰی تھی
رکھا تو نام بہت سوں نے ہے مہک ، ایسے

ابھی تو اور بھی دیکھو گے نفرتیں اُس کی
ابھی تو سینکڑوں کانٹے ہیں پھول تک ایسے

تُو کم دِلا ہے تو خواہش کے راستے پہ نہ چل
بہت سے موڑ دکھاتی ہے یہ سڑک ایسے

زبیر نیند کی دیوی بھی ڈر کے بھاگ گئی
عجیب خوف بچھے ہیں پلک پلک ایسے

زبیرحمزہ

Address

Qila Didar Singh

Telephone

+923187259450

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zubair Hamza -Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Zubair Hamza -Poetry:

Share

Category