16/05/2026
گلی سے گزرتے قدم بولتے ہیں
غبارِ عدم کا
وجود اِک نشاں ہے
جہاں اِک قفس ہے
قفس میں دھواں ہے
دھویں میں یہ آواز پیہم اذاں ہے
سُنو غور سے ہوش کے آستاں پر
ہوئی چُوک ایدھر
اُدھر مر گئے تم
سُنو غور سے اس میں کیا کیا نہاں ہے!
گلی سے گزرتے قدم بولتے ہیں
جہاں ایک ہے
اس میں دو بولتے ہیں،
پرندے تذبذب میں پر کھولتے ہیں
تو دو کھولتے ہیں،
کہاں بیڑے بن پانیوں ڈولتے ہیں!
دوئی ہے دوئی ہے جہاں میں دوئی ہے
سو ہم بھی وہی نغمۂ سرمدی
گا رہے ہیں کہ تُم سُن سکو: سُر بھی دو ہیں،
جو اک تھا وہ دو ہیں
جو دو ہیں وہ سو ہیں،
سنو غور سے زندگی کی صدا میں
چھپے رنگ دو ہیں،
سفر ایک کا ہے
مگر ایک "مَیں" میں
فقط تُم کہاں ہو!
فقط ہم کہاں ہیں!
قاسمِ مقسوم
#شاعری #نظم