05/09/2025
ناگرہ پل کا وہ مشہور بوہڑ کا درخت، جو صدیوں سے اپنی شاخوں میں سکون، سایہ اور تاریخ سمیٹے کھڑا تھا، کل بے دردی سے زمین بوس کر دیا گیا۔ وہ صرف ایک درخت نہیں تھا، بلکہ ایک یادگار تھا، صدیوں پہلے سکھ اور پنجابی بزرگوں کی، محبت اور وابستگی کی علامت تھا۔ جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے لگایا روز پانی دیا اور جوان کیا۔
بوہڑ کا سایہ ہمیشہ سے مسافروں کو آسرا دیتا، راہگیروں کو سکون بخشتا اور علاقے کو اپنی سبز جھالر سے خوبصورتی عطا کرتا۔ پرندے اس کی شاخوں پر گھونسلے بناتے، بزرگ اس کے نیچے بیٹھ کر اپنی یادیں تازہ کرتے اور بچے اس کے سائے میں کھیلتے تھے۔ یہ درخت دراصل ایک زندہ تاریخ تھا، ایک گواہی تھی کہ محبت اور قربانی کبھی فنا نہیں ہوتیں۔
مگر افسوس! ترقی اور بے حسی کی دوڑ میں ہم نے ایک اور ورثہ مٹی میں ملا دیا۔ وہ درخت جس کے تنوں میں وقت کی لکیریں اور قربانیوں کی کہانیاں درج تھیں، آج زمین پر گرا کر خاموش کر دیا گیا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر وہ بزرگ آج زندہ ہوتے جنہوں نے اپنی عقیدت کے طور پر اس درخت کو لگایا تھا، تو ان کے دل پر کیا گزرتی؟ شاید ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے، شاید وہ یہ سوچ کر تڑپ اٹھتے کہ ہم اپنی ہی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔
بوہڑ کا درخت تو کٹ گیا، مگر اس کا دکھ ہمارے دلوں پر نقش ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ درخت صرف لکڑی نہیں، یہ سایہ، یہ زندگی، یہ ورثہ اور یہ محبت ہیں۔ اگر ہم نے اپنے ورثے کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
#پنجاب