ALI HAMZA TARAR

ALI HAMZA TARAR Welcome everyone on my page. I created this page for sharing my ideas about Politics'Hstry and poetry

22/06/2025

چھوٹے چھوٹے "خدا" اور عام آدمی کا درد

زندگی کے تمام شعبوں میں ویسے تو ہمیں ڈگریاں اٹھائے پھرتے لوگ ہزاروں، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مل جائیں گے، لیکن افسوس کہ ان میں سے کسی ماہر استاد یا واقعی سمجھ دار انسان کو تلاش کرنا آج کے دور کا ایک مشکل ترین کام بن چکا ہے۔

عام آدمی کے لیے شاید یہ سمجھنا مشکل ہو، لیکن جو لوگ تعلیمی نظام کا حصہ ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارا نظامِ تعلیم کیسے کیسے کردار تخلیق کر رہا ہے۔ وہ ذہن جو محض رٹہ بازی سے ڈگریاں حاصل کر کے سماج پر مسلط ہو جاتے ہیں، اور وہ لوگ جو خود سے سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔

آپ پاکستان کے کسی بھی سرکاری شعبے کو دیکھ لیں، وہاں جان بوجھ کر نظام کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ عام آدمی بےبس ہو جاتا ہے۔ ایک فائل کو اتنی جگہوں سے گزارا جاتا ہے کہ بندہ تھک ہار کر کام ہی نہ کروانے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ عزت دار لوگ تھانے، کچہری جیسے اداروں میں جانے سے محض اس لیے کتراتے ہیں کہ کہیں عزت کی دھجیاں نہ اُڑ جائیں۔ اور ایک جملہ تو خاص طور پر ہماری حالت کی ترجمانی کرتا ہے:
"ہمارے سرکاری ملازم کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں!"

جہاں تعلیم یافتہ ہونا ایک اعزاز ہونا چاہیے، وہاں ہمارے ہاں یہ بھی ایک کاروبار بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر ضلع منڈی بہاؤالدین میں ذاتی طور پر میرے ساتھ دو سے تین ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں معروف ڈاکٹرز مریضوں کی ایسی بیماری کا علاج کرتے رہے جو سرے سے تھی ہی نہیں۔ جب حقیقت سامنے آئی، تو حیرانی اور افسوس کے سوا کچھ نہ بچا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ لاعلمی ہے یا پھر پیشہ ورانہ غفلت؟ یا شاید محض لالچ؟

ابھی کچھ دن پہلے ایک غریب مریض ایک معروف ڈاکٹر کے پاس گیا۔ علاج ناکام رہا، جو کہ بہرحال ممکن ہے کیونکہ شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن جب وہ مریض شکایت لے کر دوبارہ اسی ڈاکٹر کے پاس گیا، تو ڈاکٹر صاحب کا رویہ حد درجے ہتک آمیز تھا۔ آخر کار انہوں نے یہ تک کہہ دیا:
"یہ اپنا مریض یہاں سے لے جاؤ، اب میں اس کا علاج ہی نہیں کروں گا!"

کیا یہ کسی مہذب انسان، کسی مسیحا، کسی پڑھے لکھے فرد کا رویہ ہو سکتا ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں بطور معاشرہ خود سے پوچھنے ہوں گے۔ ہم جیسے عام لوگوں کی طاقت شاید محدود ہو، لیکن ہماری آواز بےاثر نہیں۔ آج سوشل میڈیا وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی بات ریکارڈ کروا سکتے ہیں، احتجاج درج کرا سکتے ہیں۔ ہمیں خاموش رہنے کے بجائے بولنا ہوگا، لکھنا ہوگا، اور شعور پھیلانا ہوگا۔

یہ جو چھوٹے چھوٹے "خدا" بنے پھرتے ہیں، ان کے غرور کو توڑنا ہوگا۔ ان کے رویّوں کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی تاکہ کل کو وہ کسی اور مجبور انسان کے ساتھ ایسا نہ کر سکیں۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ ہمارے معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ، جو آج صرف ڈگریوں کے پلندے اٹھائے پھر رہا ہے، کاش اپنی تعلیم کو فہم و تدبر میں بھی ڈھالے۔ کیونکہ ہر شخص ہر کسی کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکتا، لیکن اگر عام آدمی کے دکھ کو سمجھنے اور مداوا کرنے کا جذبہ بھی نہ ہو، تو تعلیم یافتہ اور جاہل میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟

ہمیں سوچنا ہوگا، بولنا ہوگا، اور اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔ جیسا کہ شاعر کہتا ہے:

"شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی شمع ہی جلاتے جاتے"

20/06/2025

ٹکنالوجی کے اس جدید ترین دور میں کسی بھی جنگ کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں اگر جنگ چھڑتی ہے، تو اس کے اثرات محدود نہیں رہتے۔ وہ اثرات سرحدوں، نسلوں اور زبانوں سے بے نیاز ہو کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

آج ایک قوم کی ہٹ دھرمی، ضد، انا یا ناسمجھی کا خمیازہ پوری انسانیت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں پاکستان اور بھارت کے درمیان چند چھوٹی جھڑپیں ہوئیں، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ وہ جلد ختم ہو گئیں۔ لیکن حالیہ ایران اسرائیل جنگ ایک ایسا باب ہے جو بند ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ جنگ کتنی طویل ہوگی؟ کیسے ختم ہوگی؟ کوئی نہیں جانتا۔

ہمیں اب اپنے مفادات سے بلند ہو کر سوچنا ہوگا۔ یہ وقت پوری انسانیت کے لیے سوچنے کا ہے — ورنہ کل کو انجام سب کا ایک جیسا ہو سکتا ہے۔

جمہوریت کے سب سے بڑے دعویداروں نے، درحقیقت، جمہوریت کے نام پر دنیا کے کمزور اور خاص طور پر مسلم ممالک کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ تاریخ کے سیاہ ابواب میں شامل ہو چکا ہے۔ ان طاقتور اقوام کے رویے اور رویوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جمہوریت صرف ایک نعرہ ہے، ایک لبادہ، جس کے پیچھے مفادات، تسلط اور استحصال چھپا ہوتا ہے۔

مسلم دنیا کے ساتھ جو تباہی برپا کی گئی، اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ اگرچہ یہ بھی سچ ہے کہ مسلمانوں کی اپنی کمزوریاں اور کوتاہیاں بھی اس زوال کا سبب بنیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان طاقتوں نے ظلم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جہاں موقع ملا، وار کیا؛ جہاں بہانہ ملا، چڑھ دوڑے۔

گزشتہ برس جب اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا تو ابتدا میں تو مخصوص گروہوں کو نشانہ بنایا گیا، مگر پھر یہ جنگ عام عوام تک آ پہنچی۔ پورا غزہ ایک ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اسکول، اسپتال، رہائشی عمارتیں—کچھ بھی محفوظ نہیں رہا۔ صرف انسانیت کی تذلیل، آنکھوں کے سامنے ہنستی بستیاں مٹتی رہیں۔

المیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہوا، مگر اقوامِ عالم کی آنکھیں بند رہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی سب کسی طاقتور یا مغربی ملک میں ہوتا، تو ردِعمل کیسا ہوتا؟ کیا تب بھی عالمی ضمیر اسی طرح خاموش رہتا؟

اب وقت ہے کہ دنیا یہ منافقت چھوڑے اور سچائی کو تسلیم کرے۔ ورنہ انصاف کے بغیر امن محض ایک خوش فہمی ہے۔

حالیہ ایران اسرائیل جنگ نے دنیا کی طاقتور اقوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کے حملے کے بعد اچانک ساری دنیا کو انسانیت، امن اور مکالمے کی باتیں یاد آنا شروع ہو گئی ہیں—لیکن سوال یہ ہے: یہ سب کچھ شروع کس نے کیا؟ آگ لگانے والا کون تھا؟ اور یہ شعلے بھڑکانے کی وجہ کیا تھی؟

جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔ امن ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو بچا سکتا ہے اور دنیا کو ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ جب دنیا کی بڑی طاقتیں خود چھوٹے اور کمزور ممالک پر چڑھ دوڑتی ہیں، تو کیا وہ امن کی زبان بول رہی ہوتی ہیں؟ کیا وہ انسانیت کی خدمت کر رہی ہوتی ہیں؟

ایران نے اس بار طاقت کے اس توازن کو چیلنج کیا ہے۔ اس نے یہ دکھا دیا ہے کہ اگر بدماشوں کو نکیل نہ ڈالی جائے، تو وہ پوری دنیا کو آگ میں جھونک دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج وہ قوتیں جو ہمیشہ اتحاد کر کے کسی نہ کسی مسلم ملک پر چڑھائی کر دیتی تھیں، اب ایران کی جانب سے سخت ردِعمل کے بعد خاموش دکھائی دے رہی ہیں—یا کم از کم سنبھل کر چل رہی ہیں۔

آنے والا کل کیا لائے گا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ ممکن ہے کہ دنیا کی وہی طاقتیں ایران کے خلاف بھی اسی جارحیت کا مظاہرہ کریں، جیسا کہ وہ ماضی میں کرتی آئی ہیں۔ لیکن ابھی کے لیے، ایران نے انہیں وہ سبق سکھایا ہے جسے شاید وہ مدتوں نہ بھولیں۔

اس وقت جب دنیا کی بڑی طاقتیں خود کو انصاف کا علمبردار کہتی ہیں لیکن مظلوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے سے باز نہیں آتیں، ایسے میں ایران کی مزاحمت ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔ ہماری تمام تر ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں—نہ صرف بطور ایک ریاست، بلکہ بطور ایک مظلوم کا دفاع کرنے والے مؤقف کے ساتھ۔

ہم دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت ایران کو مزید طاقت دے، مزید استقامت عطا فرمائے، تاکہ وہ ان نام نہاد عالمی چودریوں کو ان کی اوقات یاد دلا سکے۔ یہ دنیا بھول چکی ہے کہ مسلمان کبھی جنگ کا شوقین نہیں رہا، نہ ہی وہ جارحیت کا آغاز کرتا ہے۔ مسلمان تو وہ ہے جو امن کا داعی ہے، جو ہر رنگ، نسل، قبیلے اور مذہب کے انسان کی جان و مال کی حرمت کا زامن ہے۔

لیکن... اگر کوئی طاقت اپنے گھمنڈ میں آ کر ہمیں چیلنج کرے، ہماری سالمیت کو للکارے، تو پھر ہمارا فارمولہ بالکل واضح ہے:
"Do or Die — کرو یا مرو!"

یہ صرف ایک نعرہ نہیں، یہ ایک تاریخ ہے، ایک مزاحمتی ورثہ ہے۔ ایران اس وقت محض اپنے دفاع کی جنگ نہیں لڑ رہا، وہ پوری امتِ مسلمہ کی غیرت، حمیت اور بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ مسلمان دنیا اس مؤقف کے ساتھ کھڑی ہو، تاکہ دنیا کو بتا سکیں:
ہم امن چاہتے ہیں، لیکن ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے۔

آیت اللہ سید علی خامنائی اور ان کی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، جنہوں نے اسرائیلی حملے کے پہلے دن ہی اپنی اعلیٰ قیادت کے شہید ہو جانے کے باوجود نہ سرنڈر کیا، نہ خوف کھایا، نہ جھکے اور نہ مصلحت کے پردے میں چھپے۔ انہوں نے غیرتِ ایمانی، حوصلے اور تدبر سے اپنے موقف پر ڈٹ کر مقابلہ کیا—اور یہی قیادت کی اصل روح ہوتی ہے۔

یہ جنگ صرف میزائلوں یا ہتھیاروں کی نہیں، نظریے اور غیرت کی ہے۔ ایران نے یہ پیغام دیا ہے کہ ظلم جتنا بھی طاقتور ہو، اگر ایک قوم جاگ جائے تو وہ ظلم کی دیوار میں دراڑ ڈال سکتی ہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو صرف تقریر کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اپنی قوم کے دکھ میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو۔

اب سوال یہ نہیں کہ ایران نے کیا کیا — سوال یہ ہے کہ دنیا کیا دیکھ رہی ہے؟ کیا وہ اس قیادت کی استقامت سے سبق سیکھے گی یا حسبِ روایت ظالم کے ساتھ کھڑی رہے گی؟

ہونا تو یہی چاہیے کہ امن قائم ہو، مہربانی غالب آئے، اور انسانیت کی قدریں بحال ہوں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ جو طاقتیں خود کو "دنیا کے چوکیدار" سمجھتی ہیں، ان کی ایسی کمر ٹوٹے کہ وہ آئندہ کسی مظلوم کو ان کے گھر سے بے دخل نہ کر سکیں، کسی کمزور پر ظلم نہ کر سکیں، اور کسی اور قوم کی خودمختاری کو للکارنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔

دیکھتے ہیں کہ آنے والے دن کیا لے کر آتے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے—اگر یہ بیداری باقی رہی، تو تاریخ کا دھارا بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

19/06/2025

مزاج کا بدلنا ایک عام سی بات ہے۔ انسانی طبیعت کا کچھ پتہ نہیں چلتا—ایک دم کچھ اور، اور اگلے ہی لمحے کچھ اور ہو جاتی ہے۔
کبھی ایسی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ انسان پھولے نہیں سماتا، اور کبھی غم کی ایسی کیفیت آ جاتی ہے جو طبیعت کی روانی میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
کبھی کبھی یوں دل چاہتا ہے کہ انسان بولتا جائے، بولتا ہی جائے، اور برسوں تک کوئی اسے روکے نہیں—بس خاموشی سے سُنا جائے۔
لیکن بعض اوقات دل چاہتا ہے کہ دنیا کی ساری رنگینیوں اور ہنگاموں کو چھوڑ کر کسی سنسان صحرا کے ایک کونے میں جا کر ڈیرا لگا لیا جائے۔
یہ مزاج کا بدلنا، موسموں کا بدلنا، نظاروں کا بدلنا—اور شاید لوگوں کا بدلنا—کبھی کبھار ہمیں بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔

بہرحال، حالات جیسے بھی ہوں، چیزیں جیسی بھی ہوں، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ذہن، دل اور روح کو کسی نہ کسی ایسی غیر مرئی کیفیت یا روحانی مرکز سے جوڑ کر رکھیں، جو ہمیں اندر سے مضبوط بنائے۔
ایسا بندھن، جو ہمیں خود پر قابو رکھنے کا شعور دے، تاکہ حالات کا کنٹرول ہمارے اپنے ہاتھ میں ہو، نہ کہ ہم دوسروں کے محتاج بن جائیں۔
یہ بات درست ہے کہ انسان بعض اوقات دوسروں کے بغیر ادھورا محسوس کرتا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ درست بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی تکمیل کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔

04/06/2025

ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں معافی مانگنے کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، اور دل آزاری کو کبھی کبھی "صاف گوئی" کا نام دے دیا جاتا ہے۔ مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ الفاظ کے زخم جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔

اکثر ہمیں دیر سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے کسی عمل یا فیصلے نے کسی شخص کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اگر وقت پر یہ بات ہمیں سمجھ آ جائے، تو ہمارا اخلاقی اور انسانی فرض ہے کہ فوراً اُس سے معذرت کریں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں لوگ یا تو اپنی انا کے غلام بنے رہتے ہیں یا پھر وقت کے ختم ہو جانے کا انتظار کرتے ہیں۔

معافی مانگنے کا اصل وقت وہی ہوتا ہے جب انسان سامنے ہو، زندہ ہو، محسوس کر سکتا ہو۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اس دنیا میں ہوتا ہے، ہم اُس کے جذبات کو روندتے رہتے ہیں۔ اور جیسے ہی وہ مٹی تلے چلا جاتا ہے، ہم اُس کی قبر پر آ کر ندامت کے آنسو بہاتے ہیں۔

کیا یہی سچ ہے؟ کیا یہی انسانیت ہے؟ نہیں!

زندہ دل وہی ہوتا ہے جو اپنی غلطی کو بروقت تسلیم کرے اور اُس کا ازالہ کرے۔ معافی مانگنا بزدلی نہیں، بلکہ ایک بڑے دل اور پختہ کردار کی علامت ہے۔ مگر افسوس، ہم میں سے اکثر نے یہ ظرف کھو دیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ معافی مانگنے سے ہم چھوٹے ہو جائیں گے، حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ معافی مانگنے سے ہم انسان بن جاتے ہیں۔

یاد رکھیے، کل کو اگر کسی کی دل شکنی کرنے والا انسان اُس سے معافی مانگنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو جائے، تو پھر وہ شخص اس عدالت میں جائے گا جہاں صرف سچ بولا جاتا ہے، جہاں نہ سفارش چلتی ہے، نہ تعلق، نہ بہانہ۔ وہاں صرف نیت، عمل اور حق کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔

لہٰذا، آج جب آپ کے پاس وقت ہے، جب آپ کے لفظوں میں جان ہے اور سامعین موجود ہیں، تو دل صاف کیجیے، معذرت کیجیے۔ جو دل آزاری ہو چکی ہے، اُسے سچائی اور نرمی سے بھر دیجیے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کل آپ کے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے، اور جس سے معافی مانگنی ہے، وہ دنیا میں ہی نہ ہو۔

30/05/2025

پتہ نہیں کیوں، ہم بطور قوم ہر کام میں ریاکاری کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اس کی کوئی دوسری مثال شاید ہی ملے۔ اب چاہے بات کسی کی تعریف کی ہو یا کسی شخصیت کو سراہنے کی، ہمارا رویہ اکثر و بیشتر اعتدال سے کوسوں دور ہوتا ہے۔

کوئی شخص اگر واقعی قابل ہو، محنتی ہو، تو اُس کی حوصلہ افزائی نہ صرف ضروری بلکہ اخلاقی فریضہ ہے۔ اس سے معاشرے میں ایک مثبت تاثر بھی پیدا ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی تحریک ملتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر کام کریں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم حوصلہ افزائی کے نام پر مبالغہ آرائی کی ایسی روش اپنا چکے ہیں جو نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ نقصان دہ بھی۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ہم کسی کو بلاتے ہیں یا اس کا تعارف کرواتے ہیں، تو اس کے نام کے ساتھ ایسے ایسے لمبے چوڑے القابات جوڑ دیے جاتے ہیں کہ سننے والا خود حیرت میں مبتلا ہو جائے۔ مثلاً، اگر کوئی استاد ہے تو اس کے ساتھ "بابائے علم"، "رہبرِ دانش"، "چراغِ ہدایت" جیسے خطابات لگا دیے جاتے ہیں، جیسے اس سے بڑا کوئی معلم آج تک دنیا میں آیا ہی نہ ہو۔

مگر جب آپ اس شخصیت سے ملاقات کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک خطاب کا بھی حقیقی طور پر اہل نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کسی کی عزت نہ کی جائے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ بلاوجہ، بے جا تعریف نہ کی جائے۔ اس طرزِ عمل سے سب سے زیادہ نقصان اُن لوگوں کو ہوتا ہے جو حقیقتاً ان القابات کے مستحق ہوتے ہیں—وہ لوگ جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، فہم، حکمت اور خدمتِ انسانیت کے لیے وقف کر دی ہو۔

ان سچے لوگوں کی توہین دراصل تب ہوتی ہے جب ہم ہر دوسرے تیسرے شخص کو بلا سوچے سمجھے انہی القابات سے نواز دیتے ہیں۔ نتیجتاً، معاشرے میں اصل اور نقل کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے، اور ہم خود فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہتے کہ کس کی عزت کریں اور کس کی بات کو سنجیدہ نہ لیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مبالغے سے بچیں۔ ہر شخص کی پہچان اس کی اصل قابلیت اور کردار کے مطابق ہونی چاہیے، نہ کہ مصنوعی تعریفوں کے سہارے۔ ریاکاری سے مزین معاشرہ کبھی پائیدار سچائی، خلوص یا ترقی کا حامل نہیں بن سکتا۔

25/05/2025

پاکستانی معاشرے کو درپیش بے شمار مسائل میں ایک بنیادی اور افسوسناک مسئلہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے سے انکار ہے۔ وہ بیٹے جو اس مٹی کے، اس دھرتی کے، اس قوم کے اصل معمار ہیں، انہیں ان کا مقام دینا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ریاست اور اس کے ذمہ دار ادارے اپنے اس فرض سے یا تو غافل ہیں یا جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

آج میں دھرتی کے ایک ایسے ہی بیٹے، جناب تجمّل کلیم کا انٹرویو سن رہا تھا۔ ان کی گفتگو دل کو چیر گئی۔ وہ بتا رہے تھے کہ جب وہ شدید بیماری کے عالم میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، اسی اثنا میں واپڈا والوں نے ان کا بجلی کا میٹر کاٹ دیا۔ ایک ایسا شخص، جس نے اپنی ساری زندگی علم، ادب اور فن کے لیے وقف کر دی، کیا اس کے ساتھ سلوک کا یہی معیار ہونا چاہیے؟ کیا ریاست ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتی؟ کیا ریاست صرف طاقتور، بااثر، اور سرمایہ دار افراد کے لیے ہے؟

یہ پہلا واقعہ نہیں۔ تجمّل کلیم جیسے بے شمار ادیب، شاعر، اور فنکار اس ملک میں موجود ہیں جنہیں صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی تعلق ہے، نہ سرمایہ، نہ سفارش۔ ان کی کل متاعِ حیات ان کا فن ہے، ان کے لفظ ہیں، ان کا خلوص ہے۔ ان کی پہچان صرف کتابیں، اشعار، اور تخلیقات ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ معاشرہ اور ریاست ان تمام اثاثوں کو بے قیمت سمجھتی ہے۔ ان لوگوں کی خدمتوں کو نظر انداز کرنا محض انفرادی ناقدری نہیں، بلکہ اجتماعی بے حسی کی علامت ہے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، لیکن یہ مساوات کہاں نظر آتی ہے؟ کیا وہ افراد جو اپنی زندگیاں قوم کی فکری تعمیر، تہذیبی بقا، اور زبان و ادب کی ترقی کے لیے وقف کر دیتے ہیں، کیا وہ کسی خاص احترام، کسی الگ نظام کے مستحق نہیں؟ کیا ایسا کوئی ادارہ موجود ہے جو ان کی بیماری، بڑھاپے، اور مالی پریشانیوں میں ان کا سہارا بنے؟ المیہ یہ ہے کہ نہ صرف ایسا کوئی فعال ادارہ موجود نہیں، بلکہ جو چند نمائشی تنظیمیں ہیں، وہ بھی صرف تصویری نشستوں اور رسمی بیانات تک محدود ہیں۔

خصوصاً پنجابی زبان کے کئی بلند پایہ شعراء غربت، بیماری، اور بے قدری کے ہاتھوں مایوسی کی موت مر چکے ہیں۔ ان کے جنازے گواہ ہیں کہ یہ قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ اور ہم سب خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ ادب کسی قوم کی روح ہوتا ہے، اور اگر ہم اپنی ہی روح کو رسوا کریں گے تو پھر زندہ قوم کہلانے کا کیا حق باقی رہتا ہے؟

ادبی حلقے، اہلِ قلم، اور ثقافتی ادارے، سب کو مل کر اب اس سنگین مسئلے پر آواز بلند کرنی ہوگی۔ صرف تقاریر یا تعریفی الفاظ کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وہ تمام افراد جو خود کو ادب دوست کہتے ہیں، جن کے ہاتھ میں اختیار ہے، وہ اپنی حیثیت کا استعمال کریں، اور ایسا پائیدار نظام تشکیل دیں جو ان فنکاروں اور اہلِ قلم کی مدد کر سکے — بغیر ان کی عزتِ نفس کو مجروح کیے۔

یہ محض مالی معاونت کا مسئلہ نہیں، یہ عزت، وقار، اور قومی تشخص کا سوال ہے۔ آخر کب تک ہم ان لوگوں کو، جنہوں نے ہمیں لفظ دیے، شعور دیا، شناخت دی، بے بسی کی حالت میں موت کے حوالے کرتے رہیں گے؟ کب تک صرف ان کے مرنے کے بعد سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات اور دو سطری خراجِ تحسین پر اکتفا کرتے رہیں گے؟

ہمیں چاہیے کہ ایک خودمختار، بااختیار اور فعال ادارہ قائم کیا جائے جو ان اہلِ قلم، شاعروں، فنکاروں کی زندگیوں کو سہارا دے، ان کے علاج، رہائش، اور ضروریاتِ زندگی کا ذمہ لے۔ ایسا ادارہ جو انہیں وہ مقام دے جس کے وہ اصل حقدار ہیں۔ یہ صرف افراد نہیں، یہ ہماری ثقافت، ہماری تہذیب، اور ہمارے شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی ناقدری دراصل اپنے آپ کی توہین ہے۔

آج بھی شاکر شجاع آبادی جیسے کئی عظیم شاعر شدید مالی مسائل کا شکار ہیں۔ وہ لوگ جو ہمارے فکری افق پر روشنی بن کر چمکتے رہے، آج اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ وقت ہے سنجیدہ سوچ اور اجتماعی اقدام کا۔ ہمیں حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ یہ لوگ محض عزت کے طالب ہیں، خیرات کے نہیں۔

یقین جانئیے، اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو نہ صرف اپنے محسنوں کے ساتھ بے وفائی کریں گے بلکہ اپنی تہذیب، اپنے معاشرے، اور اپنی شناخت کے ساتھ بھی غداری کے مرتکب ہوں گے۔ قیامت کے دن اگر کوئی سوال ہوا کہ تم نے اپنے محسنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ تو ہم کیا جواب دیں گے؟

اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم حق کا ساتھ دیں، اور اپنے قلم کو محض کاغذ کی زینت بنانے کے بجائے، سماجی شعور کے لیے آواز بنائیں۔ شاید ہماری یہی تحریریں، یہی صدائیں، کسی دل تک پہنچ جائیں، اور کوئی دروازہ کھل جائے۔

علی حمزہ تارڑ

Address

Phalia

Telephone

+923448645356

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ALI HAMZA TARAR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to ALI HAMZA TARAR:

Share

Category