22/06/2025
چھوٹے چھوٹے "خدا" اور عام آدمی کا درد
زندگی کے تمام شعبوں میں ویسے تو ہمیں ڈگریاں اٹھائے پھرتے لوگ ہزاروں، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مل جائیں گے، لیکن افسوس کہ ان میں سے کسی ماہر استاد یا واقعی سمجھ دار انسان کو تلاش کرنا آج کے دور کا ایک مشکل ترین کام بن چکا ہے۔
عام آدمی کے لیے شاید یہ سمجھنا مشکل ہو، لیکن جو لوگ تعلیمی نظام کا حصہ ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارا نظامِ تعلیم کیسے کیسے کردار تخلیق کر رہا ہے۔ وہ ذہن جو محض رٹہ بازی سے ڈگریاں حاصل کر کے سماج پر مسلط ہو جاتے ہیں، اور وہ لوگ جو خود سے سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔
آپ پاکستان کے کسی بھی سرکاری شعبے کو دیکھ لیں، وہاں جان بوجھ کر نظام کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ عام آدمی بےبس ہو جاتا ہے۔ ایک فائل کو اتنی جگہوں سے گزارا جاتا ہے کہ بندہ تھک ہار کر کام ہی نہ کروانے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ عزت دار لوگ تھانے، کچہری جیسے اداروں میں جانے سے محض اس لیے کتراتے ہیں کہ کہیں عزت کی دھجیاں نہ اُڑ جائیں۔ اور ایک جملہ تو خاص طور پر ہماری حالت کی ترجمانی کرتا ہے:
"ہمارے سرکاری ملازم کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں!"
جہاں تعلیم یافتہ ہونا ایک اعزاز ہونا چاہیے، وہاں ہمارے ہاں یہ بھی ایک کاروبار بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر ضلع منڈی بہاؤالدین میں ذاتی طور پر میرے ساتھ دو سے تین ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں معروف ڈاکٹرز مریضوں کی ایسی بیماری کا علاج کرتے رہے جو سرے سے تھی ہی نہیں۔ جب حقیقت سامنے آئی، تو حیرانی اور افسوس کے سوا کچھ نہ بچا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ لاعلمی ہے یا پھر پیشہ ورانہ غفلت؟ یا شاید محض لالچ؟
ابھی کچھ دن پہلے ایک غریب مریض ایک معروف ڈاکٹر کے پاس گیا۔ علاج ناکام رہا، جو کہ بہرحال ممکن ہے کیونکہ شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن جب وہ مریض شکایت لے کر دوبارہ اسی ڈاکٹر کے پاس گیا، تو ڈاکٹر صاحب کا رویہ حد درجے ہتک آمیز تھا۔ آخر کار انہوں نے یہ تک کہہ دیا:
"یہ اپنا مریض یہاں سے لے جاؤ، اب میں اس کا علاج ہی نہیں کروں گا!"
کیا یہ کسی مہذب انسان، کسی مسیحا، کسی پڑھے لکھے فرد کا رویہ ہو سکتا ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں بطور معاشرہ خود سے پوچھنے ہوں گے۔ ہم جیسے عام لوگوں کی طاقت شاید محدود ہو، لیکن ہماری آواز بےاثر نہیں۔ آج سوشل میڈیا وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی بات ریکارڈ کروا سکتے ہیں، احتجاج درج کرا سکتے ہیں۔ ہمیں خاموش رہنے کے بجائے بولنا ہوگا، لکھنا ہوگا، اور شعور پھیلانا ہوگا۔
یہ جو چھوٹے چھوٹے "خدا" بنے پھرتے ہیں، ان کے غرور کو توڑنا ہوگا۔ ان کے رویّوں کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی تاکہ کل کو وہ کسی اور مجبور انسان کے ساتھ ایسا نہ کر سکیں۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ ہمارے معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ، جو آج صرف ڈگریوں کے پلندے اٹھائے پھر رہا ہے، کاش اپنی تعلیم کو فہم و تدبر میں بھی ڈھالے۔ کیونکہ ہر شخص ہر کسی کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکتا، لیکن اگر عام آدمی کے دکھ کو سمجھنے اور مداوا کرنے کا جذبہ بھی نہ ہو، تو تعلیم یافتہ اور جاہل میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟
ہمیں سوچنا ہوگا، بولنا ہوگا، اور اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔ جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
"شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی شمع ہی جلاتے جاتے"