01/02/2026
علامہ محمد اقبال — شکوہ اور جوابِ شکوہ
شکوہ
(مسلمانوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے فریاد)
کیوں زیاں کاری کا انجام بنوں، سود سے منہ موڑ لوں
کل کی فکر نہ کروں، آج کی غفلت میں کھو جاؤں
ہم نے مانا کہ ہمیں بھلاؤ گے نہیں لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، جب تمہیں خبر ہوگی
تمہیں یاد ہوگا، کسی نے نام ترا لیا تھا
مسلمانوں کی قوت نے کیا کچھ نہ کیا تھا
بس اتنی سی زندگی ہے، اور بس یہی کچھ ہوا
ہم نے دیکھا وہ انجام، جو ہونا تھا وہی ہوا
جوابِ شکوہ
(اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب)
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قوموں کی حیات اُن کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق اگر مر جائے تو پھر روح بھی مر جائے
کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
#شکوہ
#اقبال
#خودی
#ایمان
#عمل
#مسلمان