05/10/2021
جب اچانک پتہ چلتا ہے کہ آپ کا ٹین ایج بچہ / بچی دھوکا دے رہا ہے تو میں نے مضبوط سے مضبوط ماں کو بھی روتے دیکھا ہے ـ اِسے وقت کی سب سے بڑی آزمائش سمجھیےـ
یہ 1990/80 کا دور نہیں جہاں آپ کے اماں ابا کی لیاقت کے قصے یہ سماج سنتا رہے گا.... یہ انٹرنیٹ کا دور ہے جہاں سوشل میڈیا ممی انتہائی رنگین ہے، دلفریب ہے، اس کی گود میں بیٹھا بچہ آپ کے پڑھائے سبق میں دلچسپی نہیں لیتا، آپ کی تربیت اور اقدار کا جنازہ گھر بیٹھے نکل رہا ہے، مان لیجیے
اس لیے اب جدید تقاضوں کو مدنظر رکھ کر بچی /بچے کو بتائیے کہ جہاں ہاتھ رکھو گے وہیں رشتہ کریں گے لیکن اتنا پڑھ لو کہ اپنے لیے روٹی خرید سکو
اسے کہہ دیں یہ پکڑو موبائل اور استعمال کرو، ہم نگرانی نہیں کرتے، لیکن کل کو تمھاری چیٹ پر تمھیں بلیک میل کیا گیا تو ہم زمہ دار نہ ہوں گے.
یہ بات اس لئے پوری زمہ داری سے لکھ رہی ہوں کہ موبائل لینا اب مسئلے کا حل نہیں رہا، کیونکہ بچے کی ساری تعلیم و تعلم موبائل سے جڑ گئی ہے
سو آپ جتنی بھی نظر رکھیں، آپ کا بچہ راہ نکال ہی لیتا ہے..
کھل کر گفتگو میں بتا ہی دیجیے کہ چیٹ کے مزے سے لے کر بلیک میلنگ تک کے سارے مراحل طے ہونے کے بعد ریپ کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں
بتا دیجیے کہ... یہاں چیٹ کرتی لڑکیوں کو ایسے لڑکے ٹائم پاس سمجھتے ہیں بیوی نہیں بناتے...
آپ بحیثیت والدین اپنا فرض پورا کیجیے ... باقی اللہ پر چھوڑ دیں... کہ اک انسانی بساط اتنی ہی ہے
بات تو صرف احساس کی ہے
سائرہ فاروق