28/02/2026
پاکستان میں جانوروں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ قوانین مؤثر ہیں؟ اور کیا ان پر عملدرآمد ہو رہا ہے؟
یہ برطانوی دور کا قانون آج بھی نافذ ہے۔ اس کے تحت
جانور کو بلاوجہ مارنا، زخمی کرنا جرم ہے۔
جانوروں کو لڑانا جرم ہے۔
حد سے زیادہ بوجھ ڈالنا جرم ہے۔
بھوکا پیاسا رکھنا جرم ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس قانون میں جرمانے انتہائی کم
(چند سو روپے تک) مقرر تھے، جو آج کے دور میں مؤثر سزا نہیں سمجھے جاتے۔
اس قانون میں جانوروں کے لیے بہتر رہائش، خوراک، طبی سہولت اور غیر انسانی سلوک پر سخت سزاؤں کی بات کی گئی ہے۔
عدالتوں نے کئی مواقع پر آوارہ کتوں کے غیر انسانی قتل کے خلاف احکامات جاری کیے۔
لاہور ہاٸ کورٹ نے حکم دیا کہ آوارہ کتوں کو زہر دے کر یا گولی مار کر ہلاک کرنا غیر قانونی اور غیر انسانی طریقہ ہے اس کے بجائے ویکسینیشن اور نیوٹرنگ اپنائی جائے۔
اگر عدلیہ انسانوں کو بروقت انصاف دینے میں مشکلات کا شکار ہے تو جانوروں کے کیسز کی ترجیح اور بھی کم ہو جاتی ہے۔
،
پولیس میں جانوروں کے قوانین پر خصوصی تربیت نہیں عوام کو معلوم نہیں کہ ظلم بھی جرم ہے، زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے، سزائیں کمزور اور مقدمات طویل ہیں۔
قانون کتاب میں زندہ ہے، زمین پر کمزور۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ،
جو معاشرے جانوروں پر ظلم برداشت کرتے ہیں وہاں انسانی تشدد کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے، جانوروں پر ظلم اکثر گھریلو تشدد یا سماجی جرائم کی ابتدائی علامت ہوتا ہے،رحم اور اخلاقی تربیت کا آغاز بے زبان مخلوق سے ہوتا ہے
یہ محض جذباتی مسئلہ نہیں یہ "سماجی صحت" کا مسئلہ ہے۔
پرانے قانون میں ترامیم،جرمانوں اور سزاؤں میں اضافہ، پولیس اور بلدیاتی اداروں کی تربیت،ویکسینیشن و نیوٹرنگ پروگرام اور عوامی شعور کی بیداری۔
#نتیجہ
پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے قوانین موجود ہیں،
عدالتوں کے اچھے فیصلے بھی موجود ہیں،
مگر عملی نفاذ کمزور ہے۔
مسئلہ عدلیہ کی نیت نہیں،
بلکہ نظام کی ترجیح، وسائل اور سماجی شعور ہے۔
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جو صرف انسان کے لیے انصاف مانگے،
بلکہ وہ ہے جو طاقتور کو قانون کا پابند اور کمزور کو محفوظ بنائے،چاہے وہ انسان ہو یا بے زبان۔
Copied