24/04/2022
ایک ہی ماہ کے لئے متقی بن جاؤ :
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک بات کہتا ہوں اگرچہ میرے منہ سے اچھی نہیں معلوم ہوتی اس لئے کہ ہم کو تو یہی کہنا چاہئے کہ دائمی تقویٰ اختیار کرو لیکن کیا کِیا جائے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بلاؤں میں مبتلا ہیں ( ان کی حالت کو دیکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ) اگر آپ سے دائمی تقویٰ نہ ہوسکے تو صرف رمضان ہی میں تقوی اختیار کرلو، رمضان کے بعد تم کو اختیار ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باقی گیارہ مہینے تقویٰ نہ اختیار کرو بلکہ مطلب یہ ہے کہ نفس سے ایک ماہ کے لئے صلح کرلو اور ایک ماہ کے لئے تقویٰ اختیار کرنے پر اس کو راضی کرلو، اور یہ کہو کہ اے نفس ایک ماہ کے لئے متقی بن جاؤ اور ایک مہینہ کے بعد پھر آزادی ہے اور جب یہ مہینہ گذر جائے تو ایک ماہ کے لئے اور صلح کرلو ـ
نفس کی یہ خاصیت بچہ کی سی ہے کہ بچہ بہلانے سے بہل جاتا ہے پس تم بھی نفس سے کہہ دو کہ عید کے دن تک تو متقی ہوجا بعد میں تجھ کو اختیار ہے ـ اگر کوئی کہے کہ عید تک متقی ہونے سے کیا نفع تقویٰ تو جب ہی کارآمد ہے جب کہ مرتے دم تک ہو ـ صاحبو! اس میں بھی ایک فائدہ ہے وہ یہ کہ یہ ایک تدبیر ہے دائمی تقویٰ حاصل کرنے کی اور وجہ اس کی یہ ہے کہ نفس جو تقویٰ کی طرف مائل اور معصیت نفرت نہیں کرتا اس کی وجہ یہ ہے کہ تقویٰ کی لذت اور معصیت کی کدورت سے واقف نہیں اس کو یہ خبر ہی نہیں تقویٰ کے اندر کیا لذت اور نور ہے اور معصیت کے اندر کیا کدورت اور ظلمت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس چوں کہ ہمیشہ معصیت ہی رہا ہے اس لئے تقویٰ کے نور کی اس کو خبر نہیں اور جب نورِ تقویٰ کی خبر نہیں تو معصیت کی ظلمت کا احساس بھی نہیں پس ضرورت اس کی ہے کہ اس کو اِس نور اور ظلمت یا یوں کہو کہ اس کو لذت اور کدورت سے واقف کرایا جائے جب اس کو تقوٰی کی لذت حاصل ہوگی تو معصیت میں کدورت محسوس ہوگی،پس لامحالہ تقویٰ کی حرص اور معصیت سے نفرت پیدا ہوگی جب پورے رمضان المبارک میں متقی رہو گے تو کچھ احساس ہوگا،نفس سے صلح کی جب میعاد ختم ہوجائے گی تو شوال میں نفس تقویٰ کی لذت و حلاوت اس نور کو یاد کرے گا اور اس وقت اس کو ولولہ اور شوق ہوگا، طلب هوگی، تقویٰ کا نور اپنی طرف کھینچے گا اور گناہوں کی کدورت سے اس کو روکے گا پس اس طرح وہ رفتہ رفتہ متقی بن جائے گاـ
اب سمجھ آگیا ہوگا کہ رمضان میں متقی بن جانے سے کس طرح دائمی ( یعنی ہمیشہ کے لئے) متقی بن جاؤگے ـ اور آیت ’’لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘ کا مطلب بھی یہ ہے کہ چند روز متقی بن جاؤ یہ تم کو دائمی متقی بنادے گاـ ؎¹ رمضان بھر تو آپ متقی بن جایئے پھر اس تقوے کا اثر آپ خود دیکھیں گے میرے بیان کی ضرورت نہیں ـ
(اصیام ص ۴۸ الصوم ۱۲۴)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کتاب : احکام رمضان المبارک
(صفحہ نمبر 37,38 )
مصنف :حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ