24/06/2026
بچے نفرت نہیں، محبت سیکھ کر پیدا ہوتے ہیں
آج شام حیات آباد کے شلمان پارک میں ایک خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا۔ چند افغان نوجوان آپس میں فٹسال کھیل رہے تھے۔ جب ان کا میچ ختم ہوا تو ان کے ساتھ آئے ہوئے چھوٹے بچے، جن کی عمریں شاید پانچ یا چھ سال کے قریب ہوں گی، خوشی خوشی میدان میں کود پڑے اور اپنا کھیل شروع کر دیا۔
میں دور کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ اپنی ٹیموں کے نام رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک بچہ دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ تم اپنی ٹیم کا نام پرتگال رکھ لو، کوئی برازیل کی بات کر رہا تھا، کوئی دوسرے مشہور فٹبال ممالک کے نام تجویز کر رہا تھا۔ لیکن ان میں سے ایک بچہ بار بار اصرار کر رہا تھا کہ "نہیں، میں اپنی ٹیم کا نام پاکستان رکھوں گا۔"
بہت سمجھانے کے باوجود وہ کسی اور نام پر راضی نہیں ہوا۔ اس کی یہ معصومیت، محبت اور سادگی میرے دل کو چھو گئی۔ اس کے ذہن میں نہ سرحدیں تھیں، نہ سیاست، نہ تعصب اور نہ نفرت۔ وہ صرف ایک نام سے محبت کر رہا تھا جو اسے اچھا لگتا تھا۔
یہی تو بچوں کی اصل خوبصورتی ہے۔ بچے فطرتاً صاف دل، سچے اور نفرتوں سے پاک ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں میں رنگ، نسل، قومیت، زبان اور سرحدوں کی دیواریں نہیں ہوتیں۔ وہ انسانوں کو انسان سمجھتے ہیں اور کھیل کو صرف کھیل۔
افسوس یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا معاشرہ، بعض اوقات گھر، ماحول، میڈیا، سیاسی و سماجی بیانیے اور مختلف تعصبات ان معصوم ذہنوں پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر وہی بچے آہستہ آہستہ دوسروں کو اپنے جیسا انسان سمجھنے کے بجائے مختلف خانوں میں تقسیم کرنا سیکھ جاتے ہیں۔
شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر دنیا میں امن، محبت اور رواداری پیدا کرنی ہے تو ہمیں بچوں سے سیکھنا ہوگا۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت، محبت اور دوستی کسی پاسپورٹ، قومیت یا سرحد کی محتاج نہیں۔
آج شلمان پارک میں ایک بچے نے اپنی ٹیم کا نام "پاکستان" رکھ کر شاید ایک چھوٹا سا کھیل کھیلا تھا، لیکن اس نے مجھے ایک بڑا سبق دے دیا کہ محبت اور اپنائیت کی زبان ہر جگہ سمجھی جاتی ہے۔