25/09/2026
اعتماد سنٹر پشاور: سہولت یا پریشانی کا مرکز؟
سعودی عرب جانے کا خواب ہو، حج و عمرہ کی تیاری ہو، وزٹ ویزا ہو یا روزگار کے لیے سعودی عرب کا سفر—بہت سے پاکستانیوں کے لیے اعتماد سنٹر وہ مقام ہے جہاں سفر سے پہلے ایک ضروری مرحلہ مکمل کرنا پڑتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جس ادارے کا بنیادی مقصد لوگوں کے لیے ویزا اور بائیومیٹرک عمل کو آسان بنانا ہے، وہاں پہنچنے والے شہریوں کو سہولت مل رہی ہے یا ایک نئی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟
پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر قائم اعتماد سنٹر سعودی ویزا سے متعلق خدمات، بشمول بائیومیٹرک اور دیگر ضروری کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عوامی طور پر دستیاب ریویوز میں اس سنٹر کے بارے میں ایک ملی جلی تصویر سامنے آتی ہے۔ کچھ لوگ عملے کے تعاون اور تیز سروس کی تعریف کرتے ہیں، جبکہ متعدد صارفین طویل انتظار، رش، محدود بیٹھنے کی جگہ، پارکنگ اور عملے کے رویے سے متعلق شکایات بیان کرتے ہیں۔
سب سے زیادہ توجہ طلب مسئلہ انتظار اور رش کا ہے۔
کئی صارفین کے مطابق اصل بائیومیٹرک یا متعلقہ کارروائی چند منٹ میں مکمل ہو سکتی ہے، لیکن داخلے، ٹوکن اور اپنی باری کے انتظار میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ بعض ریویوز میں سیڑھیوں اور کوریڈورز میں غیر معمولی رش، محدود کاؤنٹرز اور بیٹھنے کی ناکافی سہولت کا بھی ذکر ملتا ہے۔
پارکنگ بھی ایک الگ مسئلہ ہے۔
یونیورسٹی روڈ پہلے ہی ٹریفک کے دباؤ کا شکار رہتی ہے اور سنٹر کے قریب گاڑی کھڑی کرنے کی مناسب جگہ نہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض صارفین نے اس مقام کو رش اور پارکنگ کے حوالے سے ناموزوں قرار دیا ہے۔
اس کے بعد آتا ہے عملے کے رویے اور رہنمائی کا معاملہ۔
کچھ لوگوں نے عملے کو مددگار اور تعاون کرنے والا قرار دیا ہے، جبکہ دیگر صارفین نے غیر دوستانہ رویے، مناسب معلومات نہ ملنے اور غیر مؤثر رہنمائی کی شکایات کی ہیں۔ یعنی تجربہ ہر شخص کا یکساں نہیں، لیکن جب ایک ہی نوعیت کی شکایات بار بار سامنے آئیں تو انہیں نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اضافی چارجز اور ایجنٹوں سے متعلق شکایات بھی بعض عوامی ریویوز میں نظر آتی ہیں۔ تاہم ایسے الزامات کی باقاعدہ تصدیق کے بغیر انہیں حقیقت قرار دینا مناسب نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فیس، اضافی خدمات اور ہر قسم کے چارجز واضح طور پر نمایاں کیے جائیں تاکہ شہریوں کو کسی ابہام کا سامنا نہ ہو۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر تجربہ منفی نہیں۔
کچھ صارفین نے عملے کو شائستہ، مددگار اور پیشہ ورانہ قرار دیا، جبکہ بعض نے آن لائن اپائنٹمنٹ کے ذریعے نسبتاً تیز اور بہتر تجربے کی نشاندہی کی۔ بعض افراد کے مطابق بائیومیٹرک عمل بھی مختصر وقت میں مکمل ہو گیا۔
تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟
شاید مسئلہ کسی ایک فرد یا ایک کاؤنٹر کا نہیں، بلکہ پورے نظام کے انتظام اور عوامی سہولت کے نقطۂ نظر کا ہے۔
اگر روزانہ آنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے تو اسی حساب سے کاؤنٹرز، انتظار گاہ، ٹوکن سسٹم، عملہ، رہنمائی اور پارکنگ کے متبادل انتظامات ہونے چاہییں۔
لوگ دور دراز اضلاع سے سفر کرکے آتے ہیں۔ ان میں بزرگ، خواتین، بچوں والے خاندان، حج و عمرہ کے مسافر اور بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے چند گھنٹے کا غیر ضروری انتظار صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی پریشانی بھی بن سکتا ہے۔
عوام کو کسی غیر معمولی رعایت کی ضرورت نہیں، صرف ایک منظم اور شفاف نظام چاہیے۔
واضح فیس، واضح دستاویزات کی فہرست، مؤثر آن لائن اپائنٹمنٹ، مناسب انتظار گاہ، بہتر ٹوکن مینجمنٹ، شائستہ اور تربیت یافتہ عملہ، مناسب پارکنگ یا متبادل سہولت، اور شکایات کے مؤثر ازالے کا نظام—یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جو کسی بھی عوامی سروس سنٹر سے توقع کی جا سکتی ہیں۔
اعتماد سنٹر کا نام ہی اعتماد ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نام کا تقاضا صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے، بلکہ آنے والے ہر شہری کو اپنے وقت، عزت اور سہولت کے حوالے سے بھی اعتماد محسوس ہو۔
سعودی ویزا کا عمل ایک ضرورت ہے؛ اسے غیر ضروری پریشانی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔