رد الالحاد میڈیا

رد الالحاد میڈیا Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from رد الالحاد میڈیا, Art, Peshawar.

رد الالحاد میڈیا ایک علمی و دعوتی پلیٹ فارم ہے جہاں قرآن و سنت اور مستند دلائل کی روشنی میں الحاد، شکوک و شبہات اور باطل نظریات کے مدلل جوابات پیش کیے جاتے ہیں۔ علمی پوڈکاسٹس، تحقیق، رہنمائی اور حق کی دعوت۔ حق کی بات، دلیل کے ساتھ۔

📖 قرآنی جواب 📖قرآن خود بتاتا ہے کہ قرآن بھی ذکر ہے  #جیسے  وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ  #اور یہ بابرکت ذکر ہ...
09/10/2026

📖 قرآنی جواب 📖
قرآن خود بتاتا ہے کہ قرآن بھی ذکر ہے #جیسے وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ #اور یہ بابرکت ذکر ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ (الأنبیاء: 50)
اور فرمایا: وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ #اور بے شک یہ تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ذکر ہے۔ (الزخرف: 44)
#اب بتائیے، قرآن خود اپنے لیے ذکر کا لفظ استعمال کر رہا ہے تو #ملا نے ذکر کو قرآن #کیسے بنایا؟
✍️ ھارون الرشید ھاشمی

زلزلے آنے کی بنیادی وجہ ایک دور میں یہ بھی تھا 😂
09/10/2026

زلزلے آنے کی بنیادی وجہ ایک دور میں یہ بھی تھا 😂

خدا ہے یا نہیں؟ — عقل، فطرت اور وحی کا جوابخدا کے وجود کا سوال محض ایک مذہبی سوال نہیں، بلکہ انسان کے وجود، کائنات اور م...
05/10/2026

خدا ہے یا نہیں؟ — عقل، فطرت اور وحی کا جواب

خدا کے وجود کا سوال محض ایک مذہبی سوال نہیں، بلکہ انسان کے وجود، کائنات اور مقصدِ زندگی کا بنیادی سوال ہے۔ قرآن انسان کو جذباتی اندھی تقلید نہیں بلکہ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ ۝ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ﴾
"کیا وہ بغیر کسی خالق کے پیدا ہوگئے ہیں؟ یا وہ خود خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟"
(الطور: 35-36)

یہ آیت ایک نہایت بنیادی عقلی حقیقت سامنے رکھتی ہے: انسان خود اپنے وجود کا خالق نہیں، اور کائنات اپنی ذات سے اپنے وجود کی آخری توضیح نہیں بن سکتی۔

پھر اللہ تعالیٰ کائنات اور انسان کے اندر اپنی نشانیاں دکھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

> ﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ﴾
"ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں اور خود ان کے اندر دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے گا کہ وہ حق ہے۔"
(فصلت: 53)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ»
"ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔"
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)

یعنی انسان کے اندر حق کو پہچاننے کی ایک فطری صلاحیت بھی رکھی گئی ہے۔ عقل کائنات کے نظم و آثار میں غور کرتی ہے، فطرت خالق کی طرف متوجہ کرتی ہے، اور وحی خالق کی معرفت اور زندگی کا مقصد واضح کرتی ہے۔

لہٰذا سوال صرف یہ نہیں کہ "خدا ہے یا نہیں؟" بلکہ یہ بھی ہے:

اگر کائنات موجود ہے، ہم موجود ہیں، شعور موجود ہے اور ہر چیز محتاج و محدود ہے، تو اس سب کی آخری حقیقت کیا ہے؟

قرآن کا جواب واضح ہے:

> ﴿اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ﴾
"اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔"
(الزمر: 62)

خدا کو نہ ماننے سے سوال ختم نہیں ہوتا؛ اصل علمی تقاضا یہ ہے کہ کائنات اور اپنے وجود کی سب سے معقول توضیح تلاش کی جائے۔

موت کے بعد کیا ہے؟موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی منتقلی ہے۔ قرآن انسان کو واضح کرتا ہے کہ موت ...
05/10/2026

موت کے بعد کیا ہے؟

موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی منتقلی ہے۔ قرآن انسان کو واضح کرتا ہے کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا اور اللہ کے سامنے پیش ہونا یقینی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾
"ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہیں تمہارے اعمال کا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا۔"
(آل عمران: 185)

موت کے بعد انسان برزخ میں داخل ہوتا ہے، پھر قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا:

> ﴿وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾
"اور ان کے آگے ایک برزخ ہے، اس دن تک جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"
(المؤمنون: 100)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> «إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ...»
"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے..."
(صحیح مسلم: 1631)

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> ﴿وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ﴾
"اور بے شک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ قبروں والوں کو دوبارہ اٹھائے گا۔"
(الحج: 7)

لہٰذا موت فنا نہیں، آخرت کی طرف سفر کا آغاز ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اس دن کے لیے ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ تیار ہو جس دن نہ مال کام آئے گا نہ دنیا کی حیثیت، بلکہ انسان اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔

موت یقینی ہے، قیامت یقینی ہے، اور اللہ کے سامنے جواب دہی بھی یقینی ہے۔

03/10/2026

ابلیس کی پہلی بغاوت: جب مادّے کو برتری اور تکبر کو دلیل بنا لیا گیا!

#ابلیس #تکبر

کیا اللہ کے بغیر کائنات کا وجود ممکن ہے؟انسان جب کائنات کی وسعت، ستاروں کے نظم، زندگی کی پیچیدگی اور اپنے وجود پر غور کر...
03/10/2026

کیا اللہ کے بغیر کائنات کا وجود ممکن ہے؟

انسان جب کائنات کی وسعت، ستاروں کے نظم، زندگی کی پیچیدگی اور اپنے وجود پر غور کرتا ہے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: یہ سب کچھ آخر وجود میں کیسے آیا؟

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:

﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ﴾

ترجمہ: کیا یہ کسی پیدا کرنے والے کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟ (سورۃ الطور: 35)

یہ آیت انسان کو بنیادی عقلی سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے: کیا انسان اور کائنات خودبخود وجود میں آگئے، یا انہوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا؟ انسان خود اپنا خالق نہیں ہوسکتا، کیونکہ پیدا ہونے سے پہلے وہ موجود ہی نہ تھا۔

اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں:

﴿اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ﴾

ترجمہ: اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔ (سورۃ الزمر: 62)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرُهُ»

ترجمہ: اللہ تھا اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی۔ (صحیح البخاری: 7418)

سائنس کائنات کے مشاہدہ پذیر نظام اور اس کے قوانین کا مطالعہ کرتی ہے، لیکن قوانین کی دریافت بذاتِ خود اس سوال کا مکمل جواب نہیں کہ کائنات اور اس کے قوانین کی آخری بنیاد کیا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ ہی خالق اور تمام وجود کی آخری بنیاد ہے۔

سوچنے کی بات: کائنات کے اندر موجود چیزوں کی وضاحت تلاش کرنا اہم ہے، لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ کائنات سرے سے موجود کیوں ہے؟

کائنات کو سمجھنے کی کوشش کیجیے، مگر اس کے خالق کو فراموش نہ کیجیے؛ علم کا مقصد حقیقت سے فرار نہیں، بلکہ حقیقت کی تلاش ہے۔

کیا واقعی زندگی کا کوئی مقصد نہیں؟انسان اس دنیا میں محض کھانے، کمانے اور ایک دن مر جانے کے لیے نہیں آیا۔ اگر زندگی بے مق...
02/10/2026

کیا واقعی زندگی کا کوئی مقصد نہیں؟

انسان اس دنیا میں محض کھانے، کمانے اور ایک دن مر جانے کے لیے نہیں آیا۔ اگر زندگی بے مقصد ہوتی تو انسان کی عقل، شعور، اختیار اور اچھے برے اعمال کی جواب دہی کا کیا مطلب ہوتا؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ﴾

ترجمہ: کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟ (سورۃ المؤمنون: 115)

اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا مقصد بھی واضح فرمایا:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾

ترجمہ: اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ (سورۃ الذاریات: 56)

عبادت صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا، سچ بولنا، عدل کرنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور مخلوق کی خدمت کرنا بھی نیکی کے کام ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»

ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح البخاری: 1؛ صحیح مسلم: 1907)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ ایک مومن کی عام زندگی بھی اچھی نیت اور درست طریقے سے عبادت بن سکتی ہے۔

سوچنے کی بات: اگر زندگی کا کوئی مقصد نہیں تو پھر ہم حق و باطل، ظلم و انصاف اور نیکی و بدی میں فرق کیوں کرتے ہیں؟ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی ایک آزمائش ہے، موت اختتام نہیں اور آخرت میں اعمال کا حساب ہونا ہے۔

زندگی بے مقصد نہیں؛ اپنے خالق کو پہچانیے، اس کی رضا کے مطابق جیے اور اس دن کی تیاری کیجیے جب ہر انسان اپنے اعمال کا جواب دے گا۔

02/10/2026
ارتقاء یا تخلیقِ الٰہی؟انسان کی ابتدا کے بارے میں اسلام کا بنیادی مؤقف واضح ہے: انسان محض اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ...
01/10/2026

ارتقاء یا تخلیقِ الٰہی؟

انسان کی ابتدا کے بارے میں اسلام کا بنیادی مؤقف واضح ہے: انسان محض اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی باحکمت تخلیق ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> ﴿وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِينٍ ۝ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ﴾
’’اور اس نے انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل کو حقیر پانی کے نچوڑ سے جاری فرمایا۔‘‘
(السجدۃ: 7-8)

اور حضرت آدمؑ کے بارے میں فرمایا:

> ﴿إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ﴾
’’میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔‘‘
(ص: 71)

رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا:

> «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ»
’’اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو زمین کے تمام حصوں سے لی گئی مٹی سے پیدا فرمایا۔‘‘
(سنن ابی داود: 4693، جامع الترمذی: 2955)

لہٰذا مسلمانوں کے لیے آدمؑ کی تخلیق محض ایک فلسفیانہ تصور نہیں بلکہ قرآن و حدیث سے ثابت عقیدہ ہے۔ البتہ حیاتیاتی ارتقاء کے بعض مشاہدات یا انواع کے اندر تبدیلی کے سائنسی مباحث کو الگ الگ سمجھنا چاہیے؛ ہر سائنسی مشاہدہ لازماً اس دعوے کو ثابت نہیں کرتا کہ انسان کی اصل محض غیر شعوری اتفاقی عمل ہے۔

اصل سوال یہ ہے: زندگی، شعور اور انسان کا وجود آخر کس حکمت اور مقصد کے تحت ہے؟
قرآن جواب دیتا ہے:

> ﴿أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا﴾
’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا؟‘‘
(المؤمنون: 115)

اسلام انسان کو بے مقصد اتفاق نہیں، بلکہ خالقِ حکیم کی باقصد تخلیق قرار دیتا ہے۔

موت کے بعد کیا ہے؟ — اختتام یا نئی زندگی؟انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا موت کے بعد سب کچھ ختم ہو جاتا ہے؟...
01/10/2026

موت کے بعد کیا ہے؟ — اختتام یا نئی زندگی؟

انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا موت کے بعد سب کچھ ختم ہو جاتا ہے؟ قرآنِ مجید اس سوال کا واضح جواب دیتا ہے: موت خاتمہ نہیں، بلکہ آخرت کی زندگی کی طرف منتقلی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (سورۃ العنکبوت: 57)

انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کی زندگی آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَکیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟ (سورۃ المؤمنون: 115)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> «أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ»لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز، یعنی موت، کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ (جامع الترمذی: 2307؛ سنن النسائی: 1824)

موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی دولت، شہرت اور طاقت عارضی ہیں، لیکن ہمارے اعمال کی جواب دہی باقی ہے۔ آخرت پر ایمان انسان کو ظلم سے روکتا، نیکی کی ترغیب دیتا اور زندگی کو حقیقی مقصد عطا کرتا ہے۔

سوچنے کی بات: اگر موت کے بعد کوئی حساب نہیں، تو مظلوم کو اس کا پورا انصاف کہاں ملے گا؟ اور اگر آخرت برحق ہے، تو کیا ہم نے اس کی تیاری کی ہے؟

یاد رکھیے! موت زندگی کا آخری باب نہیں، بلکہ اعمال کے نتائج سامنے آنے کا آغاز ہے۔

Address

Peshawar
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when رد الالحاد میڈیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category