رد الالحاد میڈیا

رد الالحاد میڈیا Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from رد الالحاد میڈیا, Art, Peshawar.

رد الالحاد میڈیا ایک علمی و دعوتی پلیٹ فارم ہے جہاں قرآن و سنت اور مستند دلائل کی روشنی میں الحاد، شکوک و شبہات اور باطل نظریات کے مدلل جوابات پیش کیے جاتے ہیں۔ علمی پوڈکاسٹس، تحقیق، رہنمائی اور حق کی دعوت۔ حق کی بات، دلیل کے ساتھ۔

اس بے چارے کو دیکھیں، اس کا تعلق جاپان سے ہے۔۔یہ ارب پتی شخص ہے اور اس نے یہ مقام حاصل کرنے کے لئے 220 کروڑ روپے خرچ کئے...
10/08/2026

اس بے چارے کو دیکھیں، اس کا تعلق جاپان سے ہے۔۔
یہ ارب پتی شخص ہے اور اس نے یہ مقام حاصل کرنے کے لئے 220 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ دو سو بیس کروڑ روپے خرچ کرکے موصوف نے کتا بننے کی کوشش کی ہے۔
ابلیس نے کہا تھا: یہ انسان ضرور اللہ کی خلقت بگاڑیں گے۔۔ابلیس نے اپنا گمان سچا کردیا سوائے اہل ایمان ایک گروہ کے،سب نے ہی شیطان کی راہ اختیار کرلی

09/08/2026

اویس اقبال ملحد کا جاہلانہ اعتراض:
اگر اللہ کو پکا یقین تھا کہ بچہ بڑا ہو کر اپنے نیک والدین کے لیے بدنامی کا باعث بنے گا تو حضرت خضر علیہ السلام کو یہ حکم بھی دے سکتا تھا کہ بچے کو گود لے کر احسن طریقے سے اس کی پرورش کرو نہ کہ مار دو!

جواب: مکمل پڑھیے!
1) واقعہ کیا تھا؟
سورہ کہف آیت 74-80
حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے استفسار کیا۔ پھر آخر میں خضر علیہ السلام نے وجہ بتائی:
وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا۔
اور رہا وہ لڑکا تو اس کے والدین مومن تھے۔ ہمیں ڈر تھا کہ یہ انہیں سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔ تو ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے انہیں اس سے بہتر پاکیزہ اور رحم کے لحاظ سے قریب بچہ عطا فرمائے۔

2) گود لے کر پرورش ممکن نہیں تھی
یہ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔
حضرت خضر ع۔ کو بھی وہی حکم ملا جو اللہ تعالیٰ نے دیا۔ اگر اللہ حکم دیتا "گود لو" تو وہی کرتے۔ کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام وحی کے تابع ہیں نہ کہ اپنی خواہش یا مزاج کے۔ لیکن اللہ نے قتل کا حکم دیا کیونکہ یہی اس بچے، اس کے والدین اور امت کے لیے بہتر تھا۔ اور یہی حکمت تھی کیونکہ رب العالمین حکیم بھی ہے۔ وہی خالق ہے اور وہی علیم بھی ہے۔ مخلوق تو نہیں کیونکہ مخلوق ناقص العقل ذوع محدود ہوتی ہے۔ خدا کا ہر ہر فیصلہ اور ہر ہر حکمت جاننا ایک محدود عقل والے انسان کے لیے ممکن نہیں۔ اور یہ عقل کے خلاف نہیں بلکہ عقل کی حد سے باہر کی بات ہے کیونکہ عقل اور انسانی علم و حکمت محدود ہے۔

3) تربیت سے موت تک کسی بچے کے اچھا اور نیک صالح ذمہ دار بننے کا ثبوت اور یقین نہیں ہو سکتا۔
آپ دیکھتے ہیں کہ فرعون کی تربیت کےلئے حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی بیجھا گیا ساتھ میں ہارون علیہ السلام بھی ۔۔۔لیکن وہ ضدی، جاہل اور متکبر ہی بنا۔ نہ ہدایت کی کمی تھی نہ وحی اور معجزات کی۔
ابو طالب کو نبی ﷺ جیسے رحمت للعالمین کے ہوتے ہویی معجزات دلائل سب کچھ دیکھ کر بھی لیکن وہ کفر پر چل بسا۔ اسی طرح دنیا میں ہزاروں مثالیں ہیں کہ اچھی خاصی تربیت کے بعد بھی بچے ملحد بن جاتے ہیں۔
ابلیس کو ہی دیکھو۔ فرشتوں کی مجلس اور آسمانوں پر رہنے کے بعد بھی رجیم بن گیا کیونکہ اس کی ذات میں خباثت، تکبر اور بغاوت تھی۔ اس لیے یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ خضر علیہ السلام تربیت کرتے تو اچھا ہوتا۔ کیونکہ تربیت سے اس کے اچھا بننے کی سو فیصد ذمہ داری نہیں ہو سکتی۔ آنے والے وقت، فتنوں، مجالس اور لوگوں کی وجہ سے اکثر تربیت یافتہ بھی بگڑ جاتے ہیں۔ اس لیے اس کو قتل کر کے جنتی بنا دیا گیا اور یہ ظلم نہیں رب العالمین کی حکمت، رحمت اور عدل تھا۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ اچھے خاصے لوگ مجلسوں، فتنوں اور وقت کے ساتھ تباہ ہو جاتے ہیں، سرکش اور باغی بن جاتے ہیں۔ ان کی تربیت میں کمی نہیں ہوتی بلکہ ان کا اختیار اور کسب انہیں ایسا بناتا ہے۔ اس لیے اس کا موت یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت حکمت اور عدل تھی نہ کہ ظلم۔
اویس اقبال کو دیکھو یا باقی ملحدین کو کیا انکی تربیت نہیں ہویی ہے ؟ یا اچھا تربیت نہیں ملاہے ؟ تربیت ضرور ملا ہوگا مگر آج سب سے بڑے (کھ وت ے ) فسادی اور سرکش مخلوق یہی ملحدین ہے۔ اپنے کسب اور اختیار کے وجہ سے اسلیے یہ غلط ہے کہ خضر علیہ السلام تربیت کرتے تو اچھا نیک صالح بن جاتاہے اور موت تک زمہ داری ہوتی۔
4) مقصد صرف "بچے کو مارنا" نہیں تھا
مقصد 3 چیزیں تھیں:
1) والدین کی حفاظت: بچہ بڑا ہو کر انہیں طغیان اور کفر پر مجبور کرتا۔ یعنی وہ مومن والدین کے ایمان کے لیے فتنہ بنتا۔ اللہ نے والدین کے ایمان کو بچے کی جان پر مقدم رکھا۔
2) بچے پر رحم: بچہ ابھی نابالغ تھا۔ اس حالت میں فوت ہونے پر وہ جنت میں جائے گا۔ اگر بڑا ہو کر کافر مرتا تو جہنم۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا تربیت سے اچھا بننے کی ذمہ داری ممکن نہیں، تو یہ اس کے لیے بھی رحمت تھی۔
3)اللہ کا بدلہ: فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ۔
اللہ نے وعدہ کیا کہ ان کو اس سے بہتر، زیادہ نیک اولاد دے گا۔ اور روایات میں ہے کہ اللہ نے انہیں ایک نیک بیٹی دی جس کی نسل سے نبی آیا۔

5) عقلی اصول
اسلام کا اصول ہے: دفع المفاسد مقدم علی جلب المصالح۔
فساد کو دور کرنا، فائدہ حاصل کرنے سے پہلے ہے۔ اور یہ عام اصول ہے کہ ابھی جو فساد اور نقصان ہے اس کو دور کرو، باقی ممکنات بعد میں ہوتے ہیں۔
اگر ایک عضو میں کینسر ہو جائے تو ڈاکٹر پورے جسم کو بچانے کے لیے عضو کاٹ دیتا ہے۔ یہ ظلم نہیں، حکمت ہے۔
اسی طرح یہاں ایک جان کے ذریعے 2 مومنوں کا ایمان، اور ایک نئی نیک نسل بچائی گئی۔ اور خود بچہ بھی محفوظ ہو کر جنت میں داخل ہوا۔ کیونکہ محض تربیت سے آنے والی زندگی کے لیے اچھائی اور نیکی بننے کی سو فیصد ذمہ داری ممکن نہیں۔ اوپر مثالیں مذکور ہیں۔

(خلاصہ)
اللہ کو علم تھا اس لیے ہی یہ حکم دیا۔ اگر گود لے کر پرورش" بہتر ہوتی تو اللہ وہی حکم دیتا۔ اور اللہ حکیم و علیم ہے نہ کہ ہم اس سے زیادہ۔
اللہ کی حکمت میں کمی نہیں۔ ہماری عقل محدود ہے اس لیے ہمیں ہر حکمت سمجھ نہیں آتی۔
اور تربیت سے آنے والی زندگی کا سو فیصد یقین اور ذمہ داری ممکن نہیں، اس لیے یہ حکمت اور عدل تھا۔
وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي` [الکہف: 82]
اور میں نے یہ اپنے حکم سے نہیں کیا۔
اور اللہ تعالیٰ کا حکم حکمت سے خالی نہیں۔
اور ہم مخلوق جتنی زور لگائیں محدود اور ناقص ہی ہیں۔ اس لیے رب العالمین کے حکم کو ماننا اور تعمیل کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
رد الالحاد میڈیا

09/08/2026

ایک کمنٹ کرنے کےلئے للحد کا ہونا ضروری ہے،
باقی للحد سمیت کاینات اتفاق، حادثہ، اور خود بخود چل رہی ہے۔ #کھوتاپن

08/08/2026

ملحدین کا سوال
اگر اسلام میں جبر نہیں تو لڑکیاں پردہ کیوں کرتی ہیں ؟
تفصیلی جواب ضرور سنئیں
#ردالالحادمیڈیا
#الحاد
#ردالالحاد

سوال:  انسان کے ساتھ زیادتی کا جواب دہ کون ہوگا مثلا زلزلہ سیلاب میں مرے ہوئے لوگ؟  اسی طرح ماں سے بچے فوت ہونے کا بدلہ؟...
07/08/2026

سوال:
انسان کے ساتھ زیادتی کا جواب دہ کون ہوگا مثلا زلزلہ سیلاب میں مرے ہوئے لوگ؟
اسی طرح ماں سے بچے فوت ہونے کا بدلہ؟

جواب:
آپ کے پہلے سوال کی بنیاد ہی درست نہیں ہے۔ آپ نے ایک مخلوق کو جو خود شر، نقصان اور ظلم کا ارتکاب کرتی ہے اس کو نعوذ باللہ،
اللہ تعالیٰ کے فعل، حکمت، عدل اور قدرت پر قیاس کرکے سوال کیا ہے اور یہ بالکل غلط ہے۔
کیونکہ خالق اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے۔ وہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا وہ ظلم سے پاک ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا ۔
بے شک اللہ لوگوں پر ذرا برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حکمت اور رحمت ہے، عدل اور کرم ہے، کیونکہ وہ حکیم اور عدل کرنے والی ذات ہے۔ مخلوق ایسی نہیں ہے۔ اس لیے مخلوق یعنی انسان اپنے جرائم، ظلم، بغاوت اور سرکشی کا خود جواب دہ ہے کیونکہ اس نے عقل، علم اور سمجھ کے ساتھ اختیار کیا ہے باوجود منع کیے جانے کے۔
اور خالق رب العالمین ایسا نہیں۔

اب تفصیل سمجھ لیجیے:
سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ دنیا دار الامتحان ہے، دار الجزاء نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا اور زندگی کو امتحان اور امتحان گاہ بنایا ہے، مکمل فورا عدالت گاہ نہیں۔
اللہ فرماتا ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا
جس نے موت اور زندگی پیدا کی تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے۔
اس لیے مکمل عدل کا دن یوم القیامہ ہے۔

قدرتی آفات ظلم نہیں ہیں، بلکہ یہ تین چیزوں میں سے ایک ہیں۔
پہلی چیز آزمائش ایمان والوں کے لیے ہے۔ اللہ مومن کو بیماری، خوف، بھوک، نقصان، مال و جان اور کئی قسم کے مصائب سے آزماتا ہے تاکہ اس کا صبر و استقامت اور اللہ کی طرف رجوع معلوم ہو جائے۔ یہی امتحان کا اصول ہے، اور اسی سے سزا و جزا اور درجات بلند ہوتے ہیں اور گناہ معاف ہوتے ہیں۔ قرآن خود گواہ ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور بھوک سے، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔
نبی ﷺ نے فرمایا: مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔ اس لیے دنیا میں بھی بدلہ ملتا ہے مگر اصل بدلہ حقیقی زندگی یعنی ابدی زندگی آخرت میں ہوگا۔
تو سیلاب، آفات زلزلہ وغیرہ میں جو مومن فوت ہوا وہ شہید ہے۔ جو ماں فوت شدہ اولاد پر صبر کر گئی اس کے لیے جنت کے اعلیٰ درجات ہیں۔ یہی بدلہ ہے اور یہی امتحان ہے۔
دنیا میں بھی بدلہ ملے گا مگر اصل بدلہ اور جزا آخرت میں ہوگا۔

دوسری چیز تنبیہ اور اصلاح گنہگاروں کے لیے ہے۔
اللہ بعض اوقات قوموں کو سزا دے کر جگاتا ہے تاکہ وہ رجوع کریں۔
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
اور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریب کے عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ پلٹ آئیں۔
یعنی اس لیے تاکہ سرکش ظالم اور باغی نفس کے مارے ہوئے غافل لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اخلاص سے توبہ کریں۔

تیسری چیز کائنات کا نظام اور قانونِ قدرت ہے۔
زلہ زمین کی حرکت سے، سیلاب پانی کے نظام سے آتا ہے۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ اس میں انسان بھی کبھی اس کی زد میں آ جاتا ہے۔

تو ان معصوموں کا انصاف کہاں ہوگا؟
یہیں پر اللہ تعالیٰ کا کامل عدل، قیامت جنت اور سزا جزا کا عقیدہ ظاہر ہوتا ہے اور ضروری ہے۔
جو بچے فوت ہوئے، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ تمام معصوم بچے جنت میں جائیں گے۔ وہاں انہیں دنیا کا ایک لمحے کا دکھ بھی یاد نہیں رہے گا۔ اور والدین کے لیے بھی درجات بلند کرنے کا ذریعہ و سبب ہے۔
جو مظلوم فوت ہوئے: قیامت کے دن اللہ انہیں شہادت کا درجہ دے گا۔ اور ان کے ہر آنسو، ہر تکلیف، ہر نقصان کا بدلہ دس گنا، سو گنا، بے حساب دے گا۔ اور ظالم سے بدلہ لے گا۔
جو مالی نقصان ہوا: اگر اس پر صبر کر گیا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اور آخرت میں اس کا گھر، مال، سب کا بدلہ اعلی کامل اور بہترین انداز میں لوٹا دے گا۔ اور سب سے بہتر اور ہمیشہ کے لیے۔

یعنی دنیا میں جو کمی رہ گئی وہ آخرت میں مکمل عدل کے ساتھ پوری ہوگی۔ کیونکہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ ہر شخص ہر حال میں امتحان میں ہے۔ ایمان، یقین، صبر اور استقامت کا بدلہ ضرور ہوگا اور اسی پر نتیجہ ہے۔

عقلی دلیل یہ ہے کہ فرض کریں ایک باپ اپنے بچے کا آپریشن کرواتا ہے۔ آپریشن میں تکلیف ہے، کٹ لگتا ہے، خون نکلتا ہے۔ کیا باپ ظالم ہے؟ نہیں۔ وہ وقتی تکلیف دے کر بڑی بھلائی چاہتا ہے۔
بلا تشبیہ، اللہ رب العالمین حکیم ہے۔ ہماری عقل محدود ہے۔ جو چیز ہمیں زیادتی لگتی ہے وہ اللہ کے علم میں ہمارے لیے خیر اور بھلائی ہی ہے۔ تو بظاہر آپ کو شر نظر آنے والا آپ کے لیے امتحان تنبیہ اور سزا تینوں ہو سکتی ہے۔ آپ نے اللہ سے رجوع کرنا اور صبر شکر اور استقامت اختیار کرنا ہوگا اسی پر عظیم اجر اور بدلہ ہوگا اور یہی زندگی کا راز ہے کہ یہ ہر حال میں امتحان ہے۔

انسان کا کردار بھی ہے۔ ہاں اگر سیلاب کمزور بند باندھنے کی وجہ سے آیا، یا زلزلے میں عمارتیں ناقص میٹیریل سے گریں، تو وہاں انسان جوابدہ ہے۔ وہاں قدرت کے ساتھ انسانی کوتاہی بھی شامل ہے۔ ورنہ دار امتحان میں جو چیز فوت ہو جائے اور جو تکلیف پہنچے یہ امتحان کا حصہ ہے اور اس پر صبر استقامت، اور اس کا حقیقی بدلہ آخرت میں ہوگا۔

خلاصہ:
قدرتی آفات اللہ کا ظلم نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ یہ آزمائش، تنبیہ اور کائنات کا نظام ہیں۔
معصوموں کا نقصان نہیں اس کے ساتھ حساب بھی نہیں اور جنت ہوگا، اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک ذرے کا بدلہ بھی اعلی کامل طریقہ سے دے گا۔ کوئی مظلوم محروم نہیں رہے گا۔ کوئی ظالم بچ نہیں سکتا۔
دنیا دار امتحان ہے اور انصاف کا مکمل دن آخرت ہے۔ مومن کے لیے ہر حال ہر وقت آزمایش ہے اور اسی پر بدلہ اور ہمیشہ کامیابی ہے۔ جب ایمان،صبر، یقین اور استقامت ہو۔
اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا عادل ہے
اور بھترین و کامل بدلہ دینے والا ہے۔
رد الالحاد میڈیا

06/08/2026

کون ہے جو موت کو ختم کر سکتا ہے؟
کون ہے جو تمام مخلوقات کو ان کے اجسام اور ضرورتوں کے مطابق رزق کھلاتا ہے؟
کون ہے جس نے سورج، چاند، ستاروں اور کہکشاؤں کو بنایا؟
کون ہے جس نے کششِ ثقل بنائی؟
کون ہے جو حیات کو پیدا کر کے بناتا ہے؟
کون ہے جو شعور، عقل، فہم اور ذہانت کو پیدا کرتا ہے؟
کون ہے جو ہر چیز میں اس کی فطرت کو اس کے مطابق رکھتا ہے؟
کون ہے جو کائنات کا نظام سو فیصد باریک بینی سے چلاتا ہے؟ ایک نہیں، اربوں کھربوں نظاموں کو؟
کون ہے جو سکون، خوشی اور اطمینانِ قلب پیدا کرتا ہے اور اس کے اصل اسباب خود بناتا ہے؟
کون ہے جو بھوک اور پیاس کو ہمیشہ کے لیے مٹا سکتا ہے؟
کون ہے جو اسباب میں اثر رکھتا ہے؟
کون ہے جس نے ماں کے دل میں محبت، شفقت اور نرمی رکھی؟ چاہے وہ جانور ہی کیوں نہ ہو؟
کون ہے جس نے نیند بنائی؟
کون ہے جس نے آرام بنایا؟
کون ہے جس نے دن اور رات کو بنایا؟
کون ہے جو سونا، چاندی، لوہا، پانی جیسی رب العالمین کی پیدا کردہ نعمتوں جیسی کوئی چیز بنا کر دکھا سکتا ہے؟
کون ہے جس نے عقل، فکر، تدبر، شعور اور ذہانت کو بنا کر انسان کو اس سے مستغنی کر دیا؟

کیا یہ کافی نہیں ہے ایک عقلمند، باشعور اور علم والے شخص کے لیے کہ رب العالمین ہے... تھا... اور رہے گا۔۔۔۔۔۔
اور وہی کامل قدرت، حکمت اور عظمت والی ذات ہے؟

کیا یہ کافی نہیں خدا کے وجود کے ثبوت اور دلیل کے لیے؟

(خلاصہ)
یہ سارے سوالات "دلیلِ نظم و تدبیر" اور "دلیلِ فطرت" کہلاتے ہیں۔
اتنا کامل نظام، اتنی باریک ترتیب، اتنی حکمت... یہ خود بخود نہیں ہو سکتی۔
اس کے پیچھے ایک علیم، قدیر اور حی و قیوم ذات کا ہونا لازمی ہے۔
اور جو ان تمام عقلی و منطقی دلائل سے ثابت ہے وہی ذات قرآن نے فرمایا :
الٰہ العلمین، رب العالمین اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
اس کے بعد صرف ضد ہی رہ جاتاہے دلیل، علم و عقل سلیم نہیں ۔۔۔۔
والسلام!
رد الالحاد میڈیا

رزلٹ زندگی کا اختتام نہیں، ایک نئے سفر کا آغاز ہے. کل ان شاء اللہ جب میٹرک کا رزلٹ آئے گا  تو کسی گھر میں خوشیاں ہوں گی،...
05/08/2026

رزلٹ زندگی کا اختتام نہیں، ایک نئے سفر کا آغاز ہے.
کل ان شاء اللہ جب میٹرک کا رزلٹ آئے گا تو کسی گھر میں خوشیاں ہوں گی، مٹھائیاں تقسیم ہوں گی، مبارک باد دی جائے گی، لیکن ممکن ہے کسی گھر میں ایک بچہ خاموش بیٹھا ہو، جس کے نمبر اس کی توقع کے مطابق نہ آئے ہوں۔خدارا! ایسے بچے کو ناکام نہ کہیں۔یاد رکھیں کہ کم نمبر آنا کم صلاحیت نہیں اورفیل ہونا زندگی ختم ہونا نہیں
ایک DMC آپ کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتی۔
واضح رہے کہ کسی بچے کا ذہن کتابوں میں تیز ہوتا ہے، کسی کا ہاتھ کے ہنر میں، کسی کی سوچ کاروبار میں، کسی کی تخلیقی صلاحیت میں اور کسی کی ٹیکنالوجی میں۔
آج دنیا صرف ڈگری نہیں، Skill، Creativity، Technology، Communication اور Character کو بھی اہمیت دیتی ہے۔
والدین سے گزارش ہے کہ رزلٹ والے دن اپنے بچے کا موازنہ دوسرے بچوں سے نہ کریں۔یہ نہ کہیں کہ فلاں کے اتنے نمبر ہیں اور تمہارے اتنے کم!اس کے بجائے اسے گلے لگائیں اور تسلی دے کرکہیں:بیٹا! ہمیں تم پر یقین ہے۔ ایک رزلٹ تمہاری پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ہم تمہیں دوبارہ کوشش کا موقع دیں گے۔
یاد رکھیں، آپ کا ایک حوصلہ افزا جملہ کسی بچے کی زندگی بدل سکتا ہے اور پشاور کے عزیر جیسے حادثات سے بچانے کا باعث بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام طلبہ کے مستقبل کو روشن فرمائے، انہیں علم، ہنر، عزت، کامیابی اور بہترین کردار عطا فرمائے۔

05/08/2026

سوال 2: ملحد کون ہے؟
جواب:
جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، نبوت، وحی، آخرت یا دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات کا انکار کرے یا ان سے انحراف اختیار کرے، وہ ملحد کہلاتا ہے۔
سوال 3: موجودہ دور میں الحاد کیوں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے؟
جواب:
موجودہ دور میں میڈیا، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے ملحدانہ افکار تیزی سے پھیل رہے ہیں، جس کے باعث الحاد پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
سوال 4: قرآنِ کریم نے ملحدین کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟
جواب:
قرآنِ کریم نے بیان فرمایا ہے کہ منکرینِ آخرت اور ملحدین دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے، حالانکہ ان کے پاس اس دعوے کی کوئی یقینی دلیل نہیں، بلکہ وہ محض گمان اور قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں۔
سوال 5: اس عقیدے کے رد میں قرآنِ کریم کی کون سی آیت دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے؟
جواب:
سورۃ الجاثیہ، آیت: 24
وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
ترجمہ:
"اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں، اور ہمیں صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے، حالانکہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں، وہ محض گمان کرتے ہیں۔"
(سورۃ الجاثیہ: 24)

05/08/2026

. الحاد کے بارے میں پانچ بنیادی سوالات کے جوابات
* مفتی صاحب پہلا سوال الحاد کیا ہے اور ملحد کون ہوتا ہے؟*
2. * مفتی صاحب آج کل الحاد پہلے سے زیادہ نظر آتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟*
3. * قرآن مجید میں اللّہ تعالیٰ نے ملحدین کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟*
4. *اور اس عقیدے کے رد میں قرآن کریم کی کون سی آیت دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے؟*

04/08/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

رد الالحاد میڈیا میں آپ کو خوش آمدید۔

یہ پلیٹ فارم قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ اور مستند علمی دلائل کی روشنی میں الحاد، شکوک و شبہات اور باطل نظریات کے مؤدبانہ، تحقیقی اور مدلل جوابات پیش کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب علم، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دیا جائے، تاکہ حق واضح ہو اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات عام ہوں۔

آپ سے گزارش ہے کہ اس دعوتِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں، پیج کو فالو کریں، پوسٹس کو شیئر کریں اور اپنے قیمتی مشوروں سے ہمیں ضرور آگاہ کریں۔

رد الالحاد میڈیا
حق کی بات، دلیل کے ساتھ۔

Address

Peshawar
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when رد الالحاد میڈیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category