11/08/2026
ہمیں بچپن سے یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ پٹھان ایک غیرت مند، بہادر اور باہمی اتحاد رکھنے والی قوم ہے۔ لیکن آج جو کچھ میں اپنے معاشرے میں دیکھ رہا ہوں، اس نے مجھے اس سوچ پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
میری نظر میں ہمارے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک باہمی حسد، عدمِ برداشت اور ایک دوسرے کو آگے بڑھتا ہوا نہ دیکھ سکنے کا رویہ ہے۔ اگر ہمارا کوئی بھائی یا ہم وطن کامیاب ہو جائے تو ہمیں اس کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے بعض اوقات یہ خوف اور شک پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں وہ کل ہمیں ہی نقصان نہ پہنچائے۔ یہی سوچ ہمیں ایک دوسرے سے دور کرتی ہے۔
خیبر پختونخوا کے مسائل کی تمام ذمہ داری صرف دوسروں پر ڈالنے کے بجائے ہمیں اپنے اندر بھی جھانکنا چاہیے۔ اگر ہم واقعی متحد ہوتے، ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے، کاروبار اور تعلیم میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے، تو شاید حالات بہت مختلف ہوتے۔
میں نے پنجاب کے لوگوں میں ایک چیز نسبتاً زیادہ دیکھی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو کاروبار اور ترقی میں آگے بڑھتا دیکھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یقیناً ہر معاشرے میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں، لیکن اجتماعی رویّے قوموں کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہمیں اپنے بڑوں کی ہر بات کو صرف روایت سمجھ کر قبول کرنے کے بجائے اپنے موجودہ حالات کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اگر ہم واقعی غیرت، بہادری اور عزت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف غصہ یا طاقت نہیں ہونا چاہیے؛ اصل غیرت یہ ہے کہ ہم اپنے بھائی کو گرتا دیکھ کر اسے اٹھائیں، اس کی کامیابی پر دل سے خوش ہوں اور اپنے معاشرے کو مل کر آگے لے کر جائیں۔
ہمیں دوسروں سے پہلے اپنے اندر موجود حسد، بے حسی، عدمِ برداشت اور انتشار کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف وسائل سے نہیں، بلکہ اتفاق، اعتماد اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ترقی کرتی ہیں۔