30/03/2026
ثابت ہوا اگر سامنے اپنا سردار ہو تو پھر سندھ کی بیٹی بھی سندھ کی بیٹی نہیں رہتی، عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں بھی خاموش تماشائی!!!
میرا جسم میری مرضی والے ام۔ارباب کے لئے کوئی احتجاج کریں گے یا فقط بیرون ممالک اور اسلام مخالف پروپیگنڈا کے تحت خواتین مارچ کرنا مقصود ہے؟
آج فیس بک پر وہ لوگ بھی جئے جئے سردار کررہے ہیں جو ہمیشہ۔سندھ کی ہر نا انصافی کا ذمہ دار وڈیروں، سرداروں،جاگیر داروں کو قرار دیتے ہیں لیکن کیوں کہ سردار اپنی ذات کا ہے اس لئے زندہ باد، مطلب میرا سردار زندہ باد تیرا سردار مردہ باد کی پالسی اپنا کر ہر کوئی اپنا سردار زندہ باد کررہا ہے،
اس کے علاوہ ہمارے یہاں ہر حق و باطل کا معرکہ فقط سوشل میڈیا کے میدان تک ہی رہ گیا ہے عملی طرح سے جتنے لوگ ام ارباب کے کیس پر دکھ، غصے اور افسوس کا اظہار کررہے ہیں وہ ام رباب کے ساتھ ایک دن بھی عملی میدان میں نہیں دکھائی دیئے اسکے برعکس سردار کے ساتھ سینکڑوں گاڑیاں اور سینکڑوں افراد ہر سنوائی پر ساتھ نظر آئے۔۔
خواتین کے حقوق کی دعویدار این جی اوز، میرا جسم میری مرضی والے لبرل، انسانی حقوق کے علمبردار بھی مکمل خاموش ہیں، اگر ام رباب کے کیس میں سامنے والے سردار کی جگہ کوئی اور ہوتا تو سب کہتے سندھ کی بیٹی کو انصاف دو لیکن ام رباب سندھ کی بیٹی ہونے کے باوجود بھی بیٹی والی ہمدردی بھی حاصل نا کر سکی کیوں کہ سامنے اپنا سردار تھا۔😭
ام رباب بیٹی ایک عدالت ابھی باقی ہے اس عدالت میں آپکو ضرور انصاف ملے گا،بس تمہارا ڈٹ جانا ہی قاتلوں کے لئے ہر روز موت کا احساس بن کر ان پر خوف طاری رکھے گا۔انشاء اللہ