01/03/2026
حضرت امام حسین علیہ السلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا
کُلُّ أَرْضٍ کَرْبَلَا وَکُلُّ یَوْمٍ عَاشُورَاء
ہر زمین کربلا ہے اور ہر دن عاشورہ ہے۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ تاریخ کا ایک ابدی اصول ہے۔ ہر دور میں ایک یزید اٹھتا ہے طاقت کے نشے میں چور، ظلم کے نئے ہتھیاروں سے لیس، اور ہر دور میں ایک حسینؑ اس کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے تنہا مگر سربلند۔
سن اکسٹھ ہجری میں یزید نے بیعت کا مطالبہ کیا تو امام عالی مقام علیہ السلام نے تاریخ کے سینے پر یہ الفاظ نقش کر دیے
"مِثْلِی لَا یُبَایِعُ مِثْلَکَ"
مجھ جیسا، تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔
یزید نے برائے نام مسلمانوں اور اپنے حامیوں کو جمع کیا، بزور بازو بیعت لینے کی کوشش کی، مگر ناکام رہا۔ کربلا کی خاک نے حسینؑ کا لہو تو پیا، مگر یزید کی بیعت کبھی نہ ملی۔
آج وہی منظر نئے روپ میں سامنے ہے۔
آج کا یزید ٹرمپ، چودہ سو سال پہلے کے یزید سے کہیں زیادہ طاقتور ظالم اور جابر ہے۔ اس نے بھی دنیا بھر کے برائے نام مسلمان حکمرانوں کو "بورڈ آف پیس" کے نام پر جمع کیا ہے، مقصد وہی پرانا ہے طاقت کے ذریعے مظلوم سے ان کا حق چھیننا یعنی فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کو غیر مسلح کرنا، نہتے فلسطینیوں کو مٹانا، اور "گریٹر اسرائیل" کے ناپاک منصوبے کو عملی جامہ پہنانا۔
مگر آج کے حسین، سید علی خامنہ ای نے بھی اپنے جدِ امجد کی روایت کو زندہ رکھا اور آج کے یزید کو وہی جواب دیا:
"مجھ جیسا، تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔"
آج کا حسین کل کے حسینؑ سے کہیں زیادہ مظلوم اور تنہا نظر آتا ہے، مگر تاریخ کا اٹل اصول یہی ہے کہ فتح ہمیشہ حسینؑ کی ہوتی ہے انشاء اللہ آج کا یزیدی بھی چودہ سو سال قبل کے یزیدیوں کی طرح ناکام ہوں گے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
دنیا کے سب یزید اسی غم میں مر گئے
سر مل گیا حسینؑ کا، بیعت نہیں ملی