Nayyar

Nayyar Confused ��

21/02/2025

یہ میں ہوں؟ ہنسی آ رہی ہے مجھے
یہ دعویٰ بھی کیسا ہے، کیسا گماں؟

میں سایہ ہوں یا کوئی بھٹکی صدا؟
کہ خود اپنی ہستی پہ ہے بدگماں

یہ چہرہ، یہ آنکھیں، یہ سائے، یہ لمحے
یہ سب کچھ تو میں ہوں— مگر میں کہاں؟

یہ میں ہوں کہ کوئی تماشا ہوں بس
جو خود دیکھتا ہے، جو خود ہے عیاں

یہ سب واہمہ ہے، یہ سب کچھ فریب
جو پایا تھا اک دن، ہوا رائگاں

میں اک بے یقینی کا عالم، کہ جیسے
میں اپنے ہی اندر ہوں بے داستاں

کہاں سے چلا تھا، کہاں آ گیا ہوں؟
مسافر ہوں یا خود کوئی راستہ ہوں؟

یہ میں ہی ہوں جو خود کو سنتا نہیں
یہ میں ہی ہوں جو خود کو سمجھا نہیں

یہ میں ہوں؟ ہنسی آ رہی ہے مجھے…
یہ دعویٰ بھی کیسا ہے، کیسا گماں؟

نیئر

یہ دنیا تماشا، یہ دنیا جوا ہےیہاں خون بہتا ہے، کوئی نہ رویا ہےیہاں لوگ مرتے ہیں، سب بے خبر ہیںیہاں زخم ہنستے ہیں، سب باا...
21/02/2025

یہ دنیا تماشا، یہ دنیا جوا ہے
یہاں خون بہتا ہے، کوئی نہ رویا ہے

یہاں لوگ مرتے ہیں، سب بے خبر ہیں
یہاں زخم ہنستے ہیں، سب بااثر ہیں

یہاں چیخ اٹھی ہے، مگر کون سنتا؟
یہاں ہر صدا کا کوئی نہ رُکتا

یہ بستی، یہ رستے، یہ دیوار و در،
یہ بارود، گولی، یہ خوں میں ہے تر

یہ ماں رو رہی ہے، مگر کس لیے؟
یہ قاتل بھی شاید کسی ماں کا ہے

یہ برباد لمحے، یہ اجڑے ہوئے دن
یہ مرنے کی رسمیں، یہ جینے کے فن

یہ دنیا، یہ دنیا! یہ دنیا نہیں ہے
یہ قاتل کا بازار، زنداں نہیں ہے؟

نیئر

20/02/2025

گلاب رات کو باغ میں روتا ہوگا
پھولوں کی وادی میں، دل کی آواز سوتی ہوگی

خوابوں کی گلیوں میں، دکھ کی بارشیں
یادوں کے بادل میں، سناٹی میں بہتا ہوگا

خوشبو میں غم، وہ لبوں پہ گم ہوتا
شاید کبھی گلاب بھی روتا ہوگا

دیکھتے ہیں ہم جو مسکراہٹوں میں چھپے
وہ گلاب، کبھی غم میں ڈوبا ہوگا

نیئر

20/02/2025

زندگی سے زیادہ اہم ہے وہ نظر
جو اُس نے کبھی بے دھیانی میں دی تھی

میری ہستی کے سب خواب مرجھا گئے
پر اُس کے ہونٹوں پہ خاموشی تھی

یہ یکطرفہ عشق ہے، اک امتحان
جہاں خود سے ہی جنگ باقی رہی تھی

کبھی آ بھی جائے، یہ سوچ کر
ہر لمحہ میری بے خودی میں جلی تھی

انتظار کی راہ میں عمر بیت گئی
پر اُس کی گلی اب بھی ویسی ہی تھی

مجھے اُس کی نگاہ کا قرض دار کر گیا
وہ لمحہ، جو میری ہستی پہ کھیلا گیا

نیئر

20/02/2025

میں نے کب کہا تھا کہ آ مجھے دیکھ،
میں نے کب چاہا تھا کہ تُو سمجھے،
بس ایک نظر ڈالی تھی راہگزر میں،
اور تو نے اسے نظر ہی نہ جانا۔

کتنے برس خود سے باتیں کیں،
کتنی راتیں تجھ میں گم رہیں،
میں نے تو چپ چاپ مر بھی لیا،
اور تُو نے میری موت بھی نہ سنی۔

اب میں بھی وہی بے خبر سا ہوں،
اب میں بھی تجھے سوچ کر ہنستا ہوں،
ہاں! میں نے بھی ضد پکڑ لی ہے،
اب میں بھی تیرا انتظار نہیں کرتا۔

اب تُو اگر پلٹ بھی آئے،
تو تیرے لیے وہ شخص نہیں،
جو نگاہوں میں اک عجز رکھتا تھا،
جو خاموشی میں صدا دیتا تھا۔

مگر معلوم نہیں...
یہ انا کب تک رہے،
یہ انا بھی کوئی نیا تو نہیں،
یہ انا کب تک رہے،

جب تجھے دیکھوں گا،
شاید ٹھہر جاؤں،
شاید مسکرا دوں،
اور پھر خود پہ ہی ہنس دوں…

جب تو مجھے دیکھے گا،
میں انتظار نہ بھی کروں،
تو بھی دل راہ تکتا رہے گا،
یہ انا بھی کب تک رہے گی؟

نیئر

نیئر نے پہلی بار ایک نظر ڈالی،جیسے چاندنی رات میں روشنی چھائی۔وہ آنکھیں، وہ مسکان، وہ چہرے کا نور،دل دھڑکنے لگا، بن گیا ...
10/01/2025

نیئر نے پہلی بار ایک نظر ڈالی،
جیسے چاندنی رات میں روشنی چھائی۔
وہ آنکھیں، وہ مسکان، وہ چہرے کا نور،
دل دھڑکنے لگا، بن گیا محبت کا دستور۔

ہر لمحہ اب اُس کا خیال تھا،
نیئر کا دل اُس کا سوال تھا۔
دور رہنا عذاب بن گیا،
اس کی ہنسی، زندگی کا جواب بن گیا۔

محبت گہری، جذبہ شدید ہوا،
نیئر کا خواب اب حقیقت قریب ہوا۔
ہر سانس میں اُس کا نام تھا،
دل میں اب صرف اُس کا مقام تھا۔

نیئر نے اُس کو خدا سا مان لیا،
اُس کی عبادت میں ہر پل گزار دیا۔
محبوب کی ذات بنی روشنی کا چراغ،
اُس کے بغیر سب کچھ لگا جیسے سراب۔

نیئر نے خود کو فنا کر دیا،
اپنی خوشی کو اُس کے سپرد کر دیا۔
اُس کے درد میں اپنی ہنسی دیکھی،
اُس کی خوشبو میں اپنی زندگی دیکھی۔

نیئر پاگل سا ہو گیا،
اُس کی محبت میں بے خود ہو گیا۔
دنیا کے ہر قانون کو بھلا دیا،
اُس کے بغیر جینا گناہ بنا دیا۔

نیر نے محبت میں خود کو مٹا دیا،
اپنے وجود کو عشق میں فنا دیا۔
اُس کی یاد ہی اب زندگی کی دلیل ہے،
نیئر کا عشق ہمیشہ کے لیے جلیل ہے۔

نیئر

ایک لڑکا تھا، حیران اور پریشان،ہر رات کرتا تھا سوال آسمان۔کہاں ہو اے خدا، کہاں چھپے ہو؟کیوں ہمارے دکھوں سے انجان بنے ہو؟...
21/12/2024

ایک لڑکا تھا، حیران اور پریشان،
ہر رات کرتا تھا سوال آسمان۔

کہاں ہو اے خدا، کہاں چھپے ہو؟
کیوں ہمارے دکھوں سے انجان بنے ہو؟

کیوں بچے بھوکے سوتے ہیں رات؟
کیوں جنگیں چھینتی ہیں لوگوں کی ذات؟

کیا یہ تیرا انصاف ہے اے خدا؟
یا محض ہماری بدقسمتی کا قصہ؟

ہر جواب کے بدلے سکوت ملا،
نہ کوئی روشنی، نہ کوئی صدا۔

سال گزرے، امیدیں مٹ گئیں،
خواب اور دعائیں سب کہیں کھو گئیں۔

ایک دن لڑکے نے کہا بلند آواز،
شاید تم ہو ہی نہیں، یہی ہے راز۔

جو دکھ ہم سہتے ہیں، انسان کے ہیں،
نہ کوئی معجزہ، نہ فرشتوں کے پہرہ۔

میں خود ہوں اپنا سہارا،
نہ کوئی خدا، نہ کوئی کنارا۔"

یوں لڑکا زندگی کی حقیقت سمجھ گیا،
خدا کے تصور کو وہ ترک کر گیا۔

نیئر

خود شناسی کا سفرمیں کون ہوں؟ یہ سوال ازل سے جاری ہے،کیا جسم ہوں؟ یا روح کی عکاسی؟کیا میں نیچے مٹی کا اک ذرہ ہوں؟یا آسمان...
16/12/2024

خود شناسی کا سفر

میں کون ہوں؟ یہ سوال ازل سے جاری ہے،
کیا جسم ہوں؟ یا روح کی عکاسی؟
کیا میں نیچے مٹی کا اک ذرہ ہوں؟
یا آسمانوں میں کوئی روشنی کی سواری؟

نیطشے کہتا ہے، خود کو ارادہ بناؤ،
جو تقدیر کی زنجیروں کو توڑ جائے، دکھاؤ۔
سقراط کہتا ہے، خود شناسی کرو،
یہی تمہاری آزادی کی راہ بنے، سچ کو سنو۔

ڈیکارٹ کہتا ہے، میں سوچتا ہوں، اس لیے ہوں،
کیا میں صرف شعور ہوں؟ یا اس کے پار کچھ اور ہوں؟
لاک کہتا ہے، تجربہ میری ذات کا آئینہ ہے،
کیا یادیں، خواہشات، میری پہچان کا خزینہ ہیں؟

بدھ کہتا ہے، میں تو خواہش سے آزاد ہوں،
کیا میں سکون کا پرتو ہوں؟ یا کشمکش کا ایک شاداب ہوں؟
اسلام کہتا ہے، میں خلیفہ ہوں زمین پر،
کیا میں عبد ہوں؟ یا خدا کا مظہر ہوں؟

عیسیٰ کہتے ہیں، محبت میری پہچان ہے،
کیا میں محبت کی زبان ہوں؟ یا خود ایک کہانی ہوں؟
ہندو فلسفہ کہتا ہے، آتما کا حصہ ہوں برہم کا،
کیا میں ابدی ہوں؟ یا لمحاتی زیاں کا؟

یہ سوال، یہ تلاش، کبھی ختم نہیں ہوگی،
میری ذات کی گتھی سلجھنے نہیں دے گی۔
شاید میں سوال ہوں، شاید جواب ہوں،
شاید میں وہ ہوں جو وقت کے پار کا خواب ہوں۔

نیئر

تنہائی کا عشقوہ لڑکا جو خود کو مسترد کر چکا تھامحبت میں جو کبھی گہری لگان تھا،خوابوں کی گلیوں میں رنگ بکھیرتا،دِل کی ویر...
15/12/2024

تنہائی کا عشق

وہ لڑکا جو خود کو مسترد کر چکا تھا
محبت میں جو کبھی گہری لگان تھا،
خوابوں کی گلیوں میں رنگ بکھیرتا،
دِل کی ویرانیوں میں گم ہو چکا تھا۔

ایک طرفہ محبت کا یہ افسردہ قصہ،
وہ لڑکی جو کبھی دل کے دریا میں تھی،
مگر حقیقت کے جزیرے پر دور تھی،
یہیں کہیں اُس کی مسکراہٹ میں غم تھا۔

خود کو وہ اذیت کا ساگر بنا بیٹھا،
دوسروں کی ہنسی میں غم چھپاتا تھا،
لیکن اندر کی تہی جھیل میں،
ہر لمحہ لہریں اُٹھاتی تھی۔

وہ جانتا تھا، اس کا خواب کبھی حقیقت نہ بنے گا،
پھر بھی دل کی لَو جلتی رہتی تھی،
مگر اندر کی جلتی شمع،
دھیرے دھیرے مدھم پڑ چکی تھی۔

یادیں اُس کی روح میں قید ہو چکی تھیں،
جہاں میں وہ کبھی نہ تھا،
وہ لڑکا جو خود کو مسترد کر چکا تھا،
محبت میں بہک گیا تھا، پر تنہا رہ گیا تھا۔

نیئر

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nayyar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share