11/04/2021
نوشہرو فیروز
نوشہرو فیروز شہر کے قریب پڈعیدن کے رہائشی حاضر سروس پاکستان آرمی کے سولجر مختیار دہر اور فوجی امام بخش دہر کی پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی نوشہرو فیروز کے عہدیداروں کے ساتھ نیشنل پریس کلب نوشہرو فیروز میں پریس کانفرنس
پاکستان آرمی کے حاضر سروس مختیار دہر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انجنیئر فواد میمن اور عرفان میمن کے ساتھ ان کا زمین کا تنازع چل رہا ہے جس کا کورٹ میں کیس بھی چل رہا ہے اور مجھے کورٹ کی جانب سے پولیس پروٹیکشن کا لیٹر بھی ملا ہوا ہے جب کہ گزشتہ دن شام کو مجھے ایس ایچ او پڈعیدن منیر لغاری نے بلایا اور میں تھانے پر گیا جہاں پر جہاں پر انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندہی اور زبردستی موبائل بھی چھین لیئے اور پولیس موبائل میں زبردستی بٹھاکر امن چودگی کیلوں کی فصل میں لے گئے اور میرے چھاتی پر گن رکھ کر لوڈ کی اور کہا کہ کلمہ پڑہو تم ہمیں اغواہ برائے تاوان کی کئیں واردات میں ملوث ہو جس پر میں نے کو بتایا کہ میں پاکستان آرمی کا سولجر ہوں اور میں موت سے نہیں ڈرتا اگر تم نے مجھے قتل کیا تو بھی میں شہید ہوں میں موت سے نہیں ڈرتا اس نے مجھے ماں بہن کی گالیاں دی جس پر مجھ بھی غصہ آگیا اور میں بھی گن کو پکڑلیا کہ جس کے بعد دوسرے اہلکار درمیاں میں آگئے اور ایس ایچ او نے کہا کہ تم نے 14 تاریخ تک مجھے ک لاکھ رپیہ دینے ہیں اور گائوں چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ جاکر رہوں ورنہ دوبارہ میں تجھے فل فرائی کروں گا جب کہ میں نے ایس ایچ او سے پوچھا کہ میں 5 لاکھ رپیہ کیوں دوں تو اس نے کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز میمن کے حکم پر میں تم سے 5 لاکھ رپیہ مانگ رہا ہوں اور اگر تم نے کسی کو بتایا یا پیسے نہین دیئے تو پرانی تاریخ میں تم پر اگواہ برائے تاوان کے کیس ڈال کر تم کو فل فرائی کردوں گا پاکستان آرمی کے حاضر سولجر مختیار دہر اور اس کے بھائی فوجی امام بخش دہر نے چیف آف آرمی اسٹاف سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر واقع کا نوٹیس لیا جائے میں ہم پاکستان آرمی کے حاضر سروس فوجی ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ پولیس ہمیں اگوا کرکے فل فرائی کردے یہ ہمیں نہیں بلکہ ڈی ایس پی اعجاز مین اور ایس ایچ اور مینیر لغاری نے پاکستان آرمی اور چیف آف آرمی اسٹاف کو چیلنج کیا ہے کہ ہم اتنے طاقتور ہیں کہ جب چاہیں پاکستان آرمی کے جوانوں کر پکڑ کر فل فرائی کرسکتے ہیں تو مھربانی کرکے ہمیں انصاف دلایاجائے