26/02/2023
شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کی ایک پادری سے گفتگو
انگریزوں کے دور حکومت میں ایک مشہور عیسائی پادری دہلی آیا ۔ انگریز وائسرائے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں کسی بڑے مسلمان عالم کے ساتھ مناظرہ کرنا چاہتا ہوں تو اسے بتلایا گیا کہ مسلمانوں کا بڑے عالم اور رہنما موجودہ دور میں حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب نے مناظرے کی چیلنج قبول کرلیا۔ ایک تاریخ طے ہوگئی بڑی دنیا تماشے کے لئے موجود تھی عیسائی پادری نے شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ پر تین اعتراضات کیئے کہ ان کا جواب دو۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ تم مسلمان کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بعد کائنات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے تو کربلا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جب دشمن کے درمیان پھنسے ہوئے تھے تو ان کے نانا جان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیوں نہیں بچایا ان کے لئے اللہ تعالی سے دعا کیوں نہیں کی؟ حضرت شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ نے عقلی جواب دیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی سے فریاد کی کہ یا رب العالمین میرے نواسے کو دشمنوں کے شر اور تکلیف سے بچا دیں مگر اللہ تعالی نے جواب دیا کہ آپ اپنے نواسے کے بارے میں پریشان ہیں یہ لوگ بڑے ظالم ہیں ۔ خود میرابیٹا حضرت عیسی جب دشمنوں کے درمیان پھنسا ہوا تھا اور یہودی آپ کو پھانسی پر چڑھا رہے تھے تو وہ ہائے ابو ہائے کہ رہے تھے کہ مجھے دشمن سے بچادیں وہ مجھے قتل کر رہے ہیں اللہ پاک نے فرمایا جب میں ان ظالموں سے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت عیسی کو نہ بچا سکا اور آخر انہیں پھانسی پر چڑھایا دیا گیا تو آپ کے نواسے کو کیسے بچا سکتا ہوں یا در ہے کہ بہ جواب حضرت شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ نے الزامی طور پر دیا کہ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کے بیٹے ہیں۔ اور یہودیوں نے پھانسی پر چڑھایا ۔ ورنہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمانوں پر ہیں۔قرب قیامت کے نزدیک آئیں گے۔تو خیر حضرت شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ نے فرمایا یہ اعتراض تو خود تم پر آسکتا ہے کہ پھر اللہ تعالی نے اپنے بیٹے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو کیوں نہیں بچایا اس جواب پر پادری لا جواب ہو گیا یہ شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ کی طرف سے عقلی جواب تھا کہ یہ اعتراض تو اللہ تعالی پر بھی آتا ہے کہ بیٹے کو کیوں نہیں بچایا ؟ پادری نے دوسرا اعتراض یہ کیا کہ ایک بڑے شہر میں ایک چوک ہے چوک میں ایک آدمی سورہا ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسرا آدمی بیٹھا ہوا ہے ۔ اب ایک مسافر وہاں پہنچا اس کو راستے کا علم نہیں ۔ اب وہ مسافر راستے کے بارے میں کس سے پوچھے گا جو سورہا ہے اس سے پوچھے گا یا جو جاگ رہا ہے؟ حضرت شاہ صاحب نے بڑا حکیمانہ جواب دیا فرمایا مسافر کو تو راستے کا پتہ نہیں بلکہ جو بیٹھا ہوا ہے اسے بھی راستے کا علم نہیں ۔ وہ دونوں سوئے ہوئے شخص کا انتظار کریں گے کہ جب یہ جاگ اٹھیں گے تو دونوں ان سے راستے کے بارے میں معلومات لیں گے ۔ پادری کا مطلب یہ تھا کہ آپ مسلمان کہ رہے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے میں اور حضرت عیسی علیہ السلام آسمانوں میں زندہ ہیں تو دین میں رہنمائی حضرت عیسی علیہ السلام سے لینی چاہیے ہے نہ کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے جو وفات پاچکے ہیں تو شاہ صاحب رحمت سمجھ گئے اور ایسا پیارا جواب دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لیں گے۔ اس جواب پر پادری بڑا شرمندہ اور لاجواب ہو گیا۔ تیسرا اعتراض پادری نے یہ کیا کہ میرے ہاتھ میں انجیل ہے آپ قرآن پاک لے آئیں اور دونوں کو آگ میں ڈالتے ہیں جو کتاب حق پر ہوگی وہ آگ میں محفوظ رہے گی اور جو حق پر نہیں ہوگی وہ جل جائے گی ۔ حضرت شاہ صاحب نے بڑا ایمان افروز جواب دیا فرمایا یہ تو کتابوں کی توہین ہے کہ آگ میں پھینکی جائیں ۔ آپ اپنی کتاب سینے سے لگائیں اور میں قرآن مجید کو سینے سے لگاتا ہوں اور آگ میں چھلانگ لگاتے ہیں جو بندہ حق پر ہوگا وہ آگ میں نہیں چلے گا اصل میں پادری نے انجیل کتاب پر ایسا مصالحہ لگایا تھا جس پر آگ اثر نہیں کرتی تھی۔ اس پر پادری مناظرہ ہار کر میدان سے بھاگ گیا۔ (ملفوظات مزیزی)