29/01/2026
بسا اوقات ہم کمزور پڑ جاتے ہیں
ایمان کی کمزوری کی وجہ سے نہیں
حیات کی تلخی کی وجہ سے!
طائف کے روز نبی کریم ﷺ کا ایمان ہرگز کم نہیں تھا
مگر ظلم کا ذائقہ کڑوا ہی بہت ہوتا ہے!!
اس بات کو سمجھو!
کہ انسان بسا اوقات ٹُوٹ پُھوٹ جاتا ہے
وہ بظاہر ہماری دنیا میں بھٹکتا پھر رہا ہوتا ہے
مگر وہ کسی اور ہی دنیا میں ہوتا ہے
جس کا ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا!
انسان پر بعض لمحات ایسے گزرتے ہیں
جب وہ ایک بھی کلمہ کہنے کی ہمت نہیں پاتا
کوئی نصیحت سننے کا متحمل نہیں ہوتا
کسی انسان کا منہ تک نہیں دیکھنا چاہتا
پس ایک دوسرے کے غموں کا احترام کیا کرو
اور کسی شخص کی اس خواہش کو اہمیت دیا کرو جب وہ کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہو ...
پھر جب حالات سازگار ہوں
تو اس کو سینے سے لگاؤ
اس کی دِلجوئی کرو
اس سے وہ بات کرو جو دِل کی دِل سے بات ہوتی ہے
روح کی روح سے بات ہوتی ہے
کچھ دیر کو اپنے فلسفے پرے رکھ دو
ٹوٹے ہوئے دل کو آغوش چاہیے ہوتی ہے، درس نہیں!
زخمیدہ روح کا مرہم معانقہ ہوتا ہے، نصیحت نہیں!
غم کے لمحات جینے میں کوئی برائی نہیں ہے
درد کے مارے تھوڑا سا رو لیا کرو
اپنے آنسوؤں کو دباؤ مت
کہ غم اگر دل میں رہ جائے
تو دل چیر دیتا ہے، اور ناسور بن جاتا ہے!
کچھ دور ہو جایا کرو
کہ کوئی تمہارے ٹوٹ گرنے کا تماشہ نہ دیکھے ...
تنہائی میں اللہ سے مناجات کرو
سجدے میں جا پڑو
اس غلام کی طرح گڑگڑاؤ جو ہر ایک سے مایوس ہو چکا ہو!!
اپنی انگلیوں سے اپنے دل کی طرف اشارہ کرو
اور کہو:
مولا! یہاں ایک زخم ہے
مرہم چاہیے!
پھر اپنے آنسو صاف کرو
اور لوگوں کے سامنے مضبوط بن کر نکلو
جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو
کوئی گزند پہنچا ہی نہ ہو!
کیونکہ لوگوں کی ترس کھاتی آنکھیں بجائے خود ایک زخم ہوا کرتی ہیں!!
اللہ تعالیٰ ہر اُس شخص کا مددگار ہو
جسے سر رکھنے کو کندھا میسر نہیں ہے!
(الشيخ الحبيب محمد سعيد رسلان حفظه الله)