arqat.writes

arqat.writes سید حسن ارقط مہدی

02/05/2026

"خواب"

میں جس کے خواب لیے گردِ راہ ٹھہرا ہوں
ابھی وہ رت مرے بختِ رواں نہیں گزری
۔

شباب پر ہیں مر مٹے
گلاب پر ہیں مر مٹے
حقیقتیں تو کڑوی ہیں
وہ خواب پر ہیں مر مٹے
۔

میں خود کو ڈھونڈنے نکلا تو مجھ پہ راز کھلا
وجود میرا محض استعارہ خواب کا ہے
۔

فریبِ چشم ہے یا یہ اثر شباب کا ہے
مرے افق پہ جو عالم ہے، ایک خواب کا ہے
۔

میں خود کو ڈھونڈنے نکلا تو مجھ پہ راز کھلا
وجود میرا محض استعارہ خواب کا ہے
۔

ترا وصال میسر ہے خواب کے اندر
میں اس سراب کو پلکوں کا راستہ دوں کیا
۔

دھوپ کی چادر گری ہے، خواب کا در کھل گیا ہے
چشمِ تر کے سامنے، اک تازہ منظر کھل گیا ہے
۔

سکونِ جاں، فریبِ جاں، ہجومِ خوابِ بے پایاں
عجب اک کیفیت دیکھی، تری زلفِ معنبر میں
۔

خواب کو آنکھوں کے اندر رہنے دو
عکس کو ہی اصلِ جوہر رہنے دو
تشنگی میں بھی عجب اک لطف ہے
آج خالی میرا ساغر رہنے دو
۔

وہ دیکھو چاند ستاروں میں مسکراتا ہے
کئی دنوں سے کوئی دل کو یاد آتا ہے

نظر کو اب کسی منظر کی جستجو کیا ہو
خیال و خواب کو وہ رنگ سے سجاتا ہے
۔

پرانی اک تمنا زندہ کرنی ہے
نیا اک خوابِ خوش منظر بٹھانا ہے

مرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی بستی میں
امیدوں کا کوئی لشکر بٹھانا ہے
۔

خواب کی بستی میں بکھری تھیں شکستہ سیڑھیاں
چڑھنے والا تھک گیا، اونچا شبستاں رہ گیا
۔

ورق ورق پہ لکھے خواب مٹنے کے ہم نے
حیات، حرفِ تمنا کی بے گناہی ہے
۔

تھک گئے ہم پر کسی نے بھی بٹھایا تک نہیں
خواب کوئی آنکھ نے اب کے سجایا تک نہیں
۔

خواب کی دہلیز پر دستک کی صورت تھم گیا
وہ جو میری روح میں اک شورِ پسپائی رہا
۔

نطق کو حسرت ہے، معنی کا تماشا اور ہے
جو سمجھ میں آ گیا، وہ عالمِ لا اور ہے
کیا تجھے معلوم ہے یہ شورشِ ہستی ہے کیا
خواب کی دنیا جدا ہے، خواب دیکھنا اور ہے
۔
خواب کے اس در میں کوئی عکسِ مے خانہ بھی ہے
اک حقیقت بھی ہےاور ہاں، ایک افسانہ بھی ہے
۔

پوچھتے کیا ہو حقیقت اس جہانِ بے ثبات و رنگ و بو کی، ایک خوابِ غفلت و افسانہ ہی ہے
ناصحو کیا تم سکھاؤ گے ہمیں آدابِ ہستی، ہم نے تو ہر سانس کو مقتل کی صورت ہی جیا ہے
۔
ارقط

20/04/2026

"شعر شاعر شاعری غزل"
۔

ارقط اب اس شعر میں، غم کی کہانی ہے رقم
دنیا سے تو داد کا سامان، لے کر دیکھ لے
۔

یہ سوزِ جاں، یہ لطافت، یہ نرم سا لہجہ
کہ حسنِ یار کا صدقہ یہ شعر پا رہا ہے
۔

کسی قطار میں شاعر شمار ہوتا نہیں
بھلا وہ کیوں بے وجہ اپنا خوں ابالتا ہے
۔

رینگتی خاموشیوں نے کان کے پردے سئیے
شورِ محشر میں کوئی گونگا غزل خواں رہ گیا

۔
شاعری بس نام ہے اس درد کے اظہار کا
اور کچھ بھی تو نہیں اس آہ و زاری کا کمال

۔
قلم سے خون ٹپکا ہے، بنی ہے شاعری ارقط
ورق پر رقص کرتی ہے مری صدمات کی رانی

۔
شاعری ارقط سے نہ ہو پائی، ایسا درد تھا
کربِ جاں نے چھین کر میرا یہ جوہر لے لیا
۔

ارقط اپنی تو غزل کا رنگ ہے سب سے جدا
بات جو دل میں تھی، اب وہ چار سو ہونے لگی
۔

ارقط اب چھیڑئیے کوئی پرانی سی غزل
یوں ہی محفل کا لہو، اب کے تپایا جائے گا
۔

ارقط

18/04/2026

" عاشقی عاشق "
۔

کچھ عجب انداز سے بدلے ہیں وہ رسمِ کرم
خونِ عاشق کو ہی اب رنگِ حنا رکھا گیا
۔

ارقط اک یہ رازِ ہستی، اک وہ رمزِ عاشقی
ہر کڑی میں ایک نیا ہی التوا رکھا گیا
۔

جس گلی میں خونِ عاشق کا کوئی پرسانِ حق ہو
اس گلی میں تو ہمارا بھی کوئی قصہ ہوا ہے
۔

ایک میٹھی سی کسک ہے، ایک دھیما سا گداز
دل کا ہر گوشہ حریمِ عاشقاں ہونے کو ہے
۔

عقل کی قندیل سے روشن ہوئے کتنے ہی گھر
عشق کی تقویم اب عاشق کے جھکتے سر پہ ہے
۔

ارقط

18/04/2026

"خدا "
۔

اٹھاتے ہاتھ بھلا کیوں ہیں لوگ، جب کبھی بھی
ستارے کو خدا، میری طرف اچھالتا ہے
۔

بہا دیا ہے لہو ہم نے اپنی آنکھوں کا
خدا ہی جانے کہ اب کیا ملے گا اس کا صلہ
۔

دعا کو عرش کے اوپر بٹھانا ہے
خدا کو روح کے اندر بٹھانا ہے
۔

کھینچ کے جو دی ضرورت نے تھپڑ
بھولے بسرے کو خدا یاد آ گیا
۔

بے خودی میں لے لیا نامِ ستم گر کیا کریں
ہوش جب آیا تو پہلو میں خدا رکھا گیا
۔

ارقط

18/04/2026

ایک "دستک" اور سات رنگ

۔
آ گئے ہیں وہ مسافر، مدتوں کے بعد گھر کو
دستکوں کی کیا ضرورت، خود ہی یہ گھر کھل گیا ہے
۔

پھر کسی کی یاد نے دے دی ہے دستک
اشک کی صورت رواں اک جستجو ہے
۔

بخت کی شطرنج پر بیٹھے ہوئے تھے مطمئن
موت کی دستک ہوئی ہے وقت کے شہوار پر
۔

دی خود دستک تو خود ہی میں نے دروازہ کھولا ہے
مرے گھر میں مرے علاوہ کوئی رہتا ہی نہیں ہے
۔

خواب کی دہلیز پر دستک کی صورت تھم گیا
وہ جو میری روح میں اک شورِ پسپائی رہا
۔

کون اب دستک پہ اٹھ کر جائے، باہر دیکھئے
ہوا کا جھونکا الگ ہے، اس کا آنا اور ہے
۔

اب کوئی دستک نہیں، اب کوئی آہٹ بھی نہیں
وہ جو اک ہنگامہ تھا، وہ بس مرا جیون کال تھا
۔

ارقط

"ساقیِ مطلق"میں نے اپنے خواب کی دیوار پر اک روشن خیال کی چھوٹی سی کھڑکی کھولی تو دیکھا وقت جھومتا ہے، تقدیر رقصاں ہے اور...
01/04/2026

"ساقیِ مطلق"

میں نے اپنے خواب کی دیوار پر اک روشن خیال کی چھوٹی سی کھڑکی کھولی تو دیکھا وقت جھومتا ہے، تقدیر رقصاں ہے اور کائنات کی رگوں میں نُور کی شراب دوڑ رہی ہے اور میں نے بے خودی کی آنکھ سے ہر شے کو اک پیالہ سمجھا، ہر منظر کو اک گھونٹ، ہر صدا کو اک سرور، ہر سوال کو اک کشف، نہ کوئی مدرسہ، نہ کوئی مکتب، نہ دیر و حرم، نہ علم کی مسند، نہ عقل کی شمشیر، جو بھی ملا پیاسا ملا اور اس پیاس کو میں نے چند مصرعوں میں جکڑا، میں نے الفاظ کے ساغر تراشے اور مفہوم کی شراب ان میں انڈیلی تو حرف خود رقص کرنے لگے، خیال، خمار میں ڈوب گئے اور خامشی، وجد میں بول اٹھی، نہ کوئی رسم، نہ کوئی قاعدہ باقی رہا۔ ہر ذرے میں ایک آہنگ، ہر سناٹے میں نغمگی اور ہر دل میں ایک تشنہ پیاس جو ساقی کے ایک اشارے پر سیراب ہو جائے۔ میں نے اک نظم لکھی، نظم نہیں، کیفیت، اک کائناتی خمار اک مستی جو فقط عشق سے وابستہ ہو، لفظ لفظ میں سرور، جملہ جملہ میں انکشاف، کہاں ساقی، کہاں جام، کہاں جامِ جہاں آرا ،یہ سب تو تمثیلیں ہیں، یہ کیسا میخانہ ہے، جہاں نہ کوئی جام ٹوٹتا ہے، نہ ہوش، نہ غم، نہ فراق بس اک مسلسل وصال، اک دائمی کشف، اک بے نام عشق۔ کہیں رازقِ عرفان کی انگشتِ کرم چھو جائے تو کہیں ساقیِ معرفت جامِ یقین تھما دے اور میں نے نظم میں یہ منظر سمیٹ دیا، لفظوں سے اک محفل سی سجا دی کہ پورا جہاں اک لمحے کے واسطے میخانہ بن گیا۔

ارقط

"حسین میں تجھ تک آ رہا ہوں"زبانِ خاموش میں، صدیوں کی چیخیں بسی ہیں، نقوشِ وقت پہ، تھکن کی ریت جمی ہے،  میری نس نس میں سو...
01/04/2026

"حسین میں تجھ تک آ رہا ہوں"

زبانِ خاموش میں، صدیوں کی چیخیں بسی ہیں، نقوشِ وقت پہ، تھکن کی ریت جمی ہے، میری نس نس میں سوال گونجتے ہیں، آندھیوں کی گرد میں لپٹا ہوا چراغ ہوں، جو جلتے لمحوں سے لو کشید کرتا ہے۔ فرازِ شب کے سنگلاخ خوابوں میں، میں نے اپنی بینائی بیچ دی تاکہ میں دیکھ سکوں اُسے، جو ہر منظر سے پرے ہے۔ میری سماعت میں کرب کی موسیقی گونجتی ہے۔ لفظ، چھلنی ہیں، خیال، زخموں کا مرقع اور وقت کی پیشانی پر ثبت اک تمنا جس کے ماتھے پر تیرے نام کی محراب ہے۔ میں حرفِ یقین کو رگِ تمنا میں پگھلا کر اک ایسی ندا بنا رہا ہوں جو بین السطور صدا دے۔ میں ان پتھریلی ساعتوں میں جہاں جذبہ بھی دم توڑ دیتا ہے، ایک ایسا احساس بنا رہا ہوں جو تیری قربت کے لمس سے دھڑکنوں میں اذان بنے۔ میں دُور صحراؤں میں یقین کی کرسی اُٹھائے آ رہا ہوں، حسین، تجھ تک میں آ رہا ہوں۔

ارقط

"صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم"جب عدم کے دشت میں خامشی کا راج تھا، نہ کرۂ وجود پر کسی ہُو کا سایہ تھا، نہ لفظ نے آنکھ کھولی...
31/03/2026

"صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم"

جب عدم کے دشت میں خامشی کا راج تھا، نہ کرۂ وجود پر کسی ہُو کا سایہ تھا، نہ لفظ نے آنکھ کھولی تھی، نہ مفہوم کا کوئی خد و خال تھا تب تو تھا، اے صاحبِ لامکان ﷺ تو ہی تھا، ازل کے پردوں میں لپٹا وہ جمالِ مطلق، وہ حسنِ خلدآگیں، وہ نورِ سِرِ سبحانی، جو ابھی کائنات کی آنکھ نے دیکھا نہ تھا۔ پھر صدیوں کے سفر کے بعد جب زمانہ تھکنے لگا، جب قریش کے حجرے اصنام سے بھر گئے، جب دل احساس کی خاک تلے دفن ہو گئے، جب نگاہیں نفع و ضرر کے حساب میں گم ہو گئیں تب حراء کی تنہائی میں ایک صدا ابھری اقرا اور پڑھنے لگا وہ امی، جو علم کا افق ٹھہرا جو سراپا صفا، جو ترجمانِ وحی، جو صادق، امین، جو محسنِ اعظم ٹھہرا۔ نعت لکھی گئی تسبیح بن کے، درود کے موتی بنے اور قلم عجز کی دہلیز پہ سجدہ ریز ہوا۔ اے سیّدِ دو جہاں ﷺ!تیری خو سے عدل نے پیمان لیا تیری ادا سے رحمت نے رنگ پایا تیری نگاہ نے بتوں کو ریزہ ریز کیا اور انسان کو انسان بنایا ہم تیرگی کے مارے ہوئے خاک نشین جب اپنی بےنوری پر شرمندہ ہوتے ہیں تو تیری سیرت کا چمکتا ہوا قندیل ہمیں حوصلہ دیتا ہے، کہ ابھی امید باقی ہے، ابھی درود جاری ہے، ابھی نامِ محمد ﷺ ہر صبح کا ترانہ ہے، ہر شام کا سہارا ہے۔ اے کہ جن کے لئےعرش بھی بچھا، فرشتے بھی جھکے، اور قلم بھی رک گیا تو وہی ہے جس کے نقشِ قدم پر وقت بھی ناز کرے میرے کلام کی ہر لغزش تیری ثنا کی دریا دلی میں گم، میرے لفظوں کا ہر زخم تیری محبت کے مرہم میں محو ہے اور اک دعا ہے کہ میرے دل کی حرارت تیری محبت میں کبھی سرد نہ ہو۔

ارقط

"اے میرے  مالک"تو ازل کا ہے، ابد کا ہے،  ہر لمحے کی رگ میں رواں، ہر آن میں پنہاں ہر جا میں نمایاں، تو لفظ سے ماورا، تو ص...
31/03/2026

"اے میرے مالک"

تو ازل کا ہے، ابد کا ہے، ہر لمحے کی رگ میں رواں، ہر آن میں پنہاں ہر جا میں نمایاں، تو لفظ سے ماورا، تو صوت کے دائرے سے باہر، نہ آنکھ تجھ کو دیکھ پائی، نہ دل تیری گہرائی کو چھو سکا، مگر احساس کی سرحد پر، تو ایک یقین کی صورت قائم ہے۔ تو وہ ہے جس نے خامشی کو صدا بخشی، صدا کو بیاں کا فن دیا، اور بیاں کو عجز کا لباس، کہ ہر زبان پر جاری ہے اک نام جو بے نغمہ بھی ترنم ہے۔ تو نے وقت کی باگ تھامی، مگر خود وقت سے ماورا ٹھہرا، تو نے ذرے کو آسمان بنایا، اور خاک کو صعود کی لذت بخش دی۔ تو حاکمِ کن فیکون،، مصورِ کون و مکاں، ہر رنگ کی اصل، ہر خیال کی بنیاد، ہر جذبے کے پس پردہ تو ہی ہے۔ جب عقل تھک کر رک جاتی ہے، جب علم بھی سر بسجود ہوتا ہے، جب فلسفے دم توڑ دیتے ہیں، تب بھی تیرا وجود اک سچ کی صورت روح میں اترتا ہے۔ تو وہ جو پتوں کی لرزش میں بولتا ہے،، قطرے کے لبوں پر آتا ہے، تو وہ جو بے زبانی میں مفہوم ہے، اور مفہوم میں بے نیازی۔ تو نے عرش بچھایا، فرشتے بنائے، اور انسان کو خمیرِ محبت سے تخلیق دیا، پھر اُس پر اپنی معرفت کے در کھولے۔ اے خالقِ حیرت! تیری صناعی کے ہر گوشے میں اک نکتۂ راز ہے، اک اسرارِ جاویداں اور میں جو تیری مخلوق ہوں اک عجز میں بھیگتا ہوا ذرہ، تیری بے نیاز نگاہ کے سامنے اپنا وجود محض اک دعا کی صورت سمجھتا ہوں۔ تو سن رہا ہے نا؟ اے سننے والے! اے علم کے سمندر! اے رحمت کے بحرِ عمیق! یہ میرے سجدے کی تحریر ہے، میرے دل کی حمد، میرے حرف کی معراج، جو فقط تیرے لیے ہے۔

ارقط

Address

Okara
56600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when arqat.writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category