02/05/2026
"خواب"
میں جس کے خواب لیے گردِ راہ ٹھہرا ہوں
ابھی وہ رت مرے بختِ رواں نہیں گزری
۔
شباب پر ہیں مر مٹے
گلاب پر ہیں مر مٹے
حقیقتیں تو کڑوی ہیں
وہ خواب پر ہیں مر مٹے
۔
میں خود کو ڈھونڈنے نکلا تو مجھ پہ راز کھلا
وجود میرا محض استعارہ خواب کا ہے
۔
فریبِ چشم ہے یا یہ اثر شباب کا ہے
مرے افق پہ جو عالم ہے، ایک خواب کا ہے
۔
میں خود کو ڈھونڈنے نکلا تو مجھ پہ راز کھلا
وجود میرا محض استعارہ خواب کا ہے
۔
ترا وصال میسر ہے خواب کے اندر
میں اس سراب کو پلکوں کا راستہ دوں کیا
۔
دھوپ کی چادر گری ہے، خواب کا در کھل گیا ہے
چشمِ تر کے سامنے، اک تازہ منظر کھل گیا ہے
۔
سکونِ جاں، فریبِ جاں، ہجومِ خوابِ بے پایاں
عجب اک کیفیت دیکھی، تری زلفِ معنبر میں
۔
خواب کو آنکھوں کے اندر رہنے دو
عکس کو ہی اصلِ جوہر رہنے دو
تشنگی میں بھی عجب اک لطف ہے
آج خالی میرا ساغر رہنے دو
۔
وہ دیکھو چاند ستاروں میں مسکراتا ہے
کئی دنوں سے کوئی دل کو یاد آتا ہے
نظر کو اب کسی منظر کی جستجو کیا ہو
خیال و خواب کو وہ رنگ سے سجاتا ہے
۔
پرانی اک تمنا زندہ کرنی ہے
نیا اک خوابِ خوش منظر بٹھانا ہے
مرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی بستی میں
امیدوں کا کوئی لشکر بٹھانا ہے
۔
خواب کی بستی میں بکھری تھیں شکستہ سیڑھیاں
چڑھنے والا تھک گیا، اونچا شبستاں رہ گیا
۔
ورق ورق پہ لکھے خواب مٹنے کے ہم نے
حیات، حرفِ تمنا کی بے گناہی ہے
۔
تھک گئے ہم پر کسی نے بھی بٹھایا تک نہیں
خواب کوئی آنکھ نے اب کے سجایا تک نہیں
۔
خواب کی دہلیز پر دستک کی صورت تھم گیا
وہ جو میری روح میں اک شورِ پسپائی رہا
۔
نطق کو حسرت ہے، معنی کا تماشا اور ہے
جو سمجھ میں آ گیا، وہ عالمِ لا اور ہے
کیا تجھے معلوم ہے یہ شورشِ ہستی ہے کیا
خواب کی دنیا جدا ہے، خواب دیکھنا اور ہے
۔
خواب کے اس در میں کوئی عکسِ مے خانہ بھی ہے
اک حقیقت بھی ہےاور ہاں، ایک افسانہ بھی ہے
۔
پوچھتے کیا ہو حقیقت اس جہانِ بے ثبات و رنگ و بو کی، ایک خوابِ غفلت و افسانہ ہی ہے
ناصحو کیا تم سکھاؤ گے ہمیں آدابِ ہستی، ہم نے تو ہر سانس کو مقتل کی صورت ہی جیا ہے
۔
ارقط