Asif Siddique

Asif Siddique میرا سوہنا پاکستان

*رینالہ خورد خوشخبری! ✅*رینالہ خورد کے *دو اہم ترین روڈز سمیت چار روڈز* کی منظوری دے دی گئی!  🚧 *چوچک روڈ حبیب آباد*  🚧 ...
17/10/2025

*رینالہ خورد خوشخبری! ✅*

رینالہ خورد کے *دو اہم ترین روڈز سمیت چار روڈز* کی منظوری دے دی گئی!

🚧 *چوچک روڈ حبیب آباد*
🚧 *پیر دی ہٹی روڈ*

یہ منصوبے ایم پی اے *چوہدری جاوید علاؤالدین (PP-185)* کی خصوصی کاوشوں سے منظور ہوئے۔

📢 علاقہ مکینوں کی دیرینہ عوامی demand پوری، ترقی کا نیا دور شروع!
شہریوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایم پی اے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

#

14/10/2025

اسرائیلی پارلیمنٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جو تقریر پاکستان میں دکھائی گئی ہے تمام میڈیا چینلز کو جرمانہ ہونے چاہیے اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ کو معافی مانگ کر ریزائن دینا چاہیے@ #

بڑی خبر CCD نے پنجاب کے سب سے بڑے ڈان / سیریل کلیئر ، ٹارگٹ کلر ، اجرتی قاتل / انڈر ورلڈ ڈان طیفی بٹ کو بھی ٹھکانے لگا د...
12/10/2025

بڑی خبر CCD نے پنجاب کے سب سے بڑے ڈان / سیریل کلیئر ، ٹارگٹ کلر ، اجرتی قاتل / انڈر ورلڈ ڈان طیفی بٹ کو بھی ٹھکانے لگا دیا ، طیفی بٹ گینگ نے سینکڑوں افراد کو ٹھکانے لگایا اور آج تک کبھی پولیس اس پر ہاتھ نہ ڈال سکی تھی ، CCD نے دوبئی سے انٹرپول کے ذریعے لا کر رحیم یار خان میں پولیس مقابلے میں ٹھوک دیا ، یہ بہت بڑا پیغام ہے بڑے بڑے انڈر ورلڈ ڈان ، لوکل کن ٹوٹوں کیلئے ، گینگ چلانے والوں کیلئے ، اگر بڑے بڑوں کی آنکھ کا تارا طیفی بٹ مارا گیا تو اب اور کوئی بدمعاش بچ نہیں سکتا نہ کوئی سفارش کام آئے گی نہ پیسہ CCD ایک برانڈ ہے ایک خوف کی علامت ہے ملزمان کیلئے ، آج لاہور کے بڑے بڑے ڈان انڈر گراؤنڈ ہو چکے
Punjab Police Pakistan

08/10/2025

میری وفات کے بعد...
ایک بار ضرور ضرور پڑھیے۔
بہت عرصہ پہلے دل کو چُھو لینے والی یہ تحریر پڑھی تھی پھر لاکھ ڈھونڈنے پر نا ملی۔۔۔ اب جو ملی تو اس "فن پارے" کو آپ کی نذر کر رہا ہوں۔
ہو سکتا ہے آپ پہلے پڑھ چکے ہوں لیکن حقیقت سے بھرپور یہ تحریر بار بار پڑھنے کے لائق ہے۔۔۔
ایک نامعلوم ڈائری سے۔
میری وفات کے بعد۔۔۔
موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔
اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔
دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔
لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔
رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں انہیں پریشان کرنے کی کوئی تُک نہ تھی.
میں میری بیوی گھر پر تھے اور ایک ملازم جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا جاتا تھا۔
عصر ڈھلنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی، بیوی کو پاس بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور جو دوسروں کو ادا کرنا تھیں۔
بیوی نے ہلکا سا احتجاج کیا:
” یہ تو آپ کی پرانی عادت ہے ذرا بھی کچھ ہو تو ڈائری نکال کر بیٹھ جاتے ہیں“
مگر اس کے احتجاج میں پہلے والا یقین نہیں تھا۔ پھر سورج غروب ہوگیا۔ تاریکی اور سردی دونوں بڑھنے لگیں۔ بیوی میرے لیے سُوپ بنانے کچن میں گئی۔ اس کی غیر حاضری میں مَیں نے چند اکھڑی اکھڑی سانسیں لیں اور........... میری زندگی کا سورج غروب ہو گیا۔
مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔
بیوی سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی. یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔
لاہور والی بیٹی رات کے پچھلے پہر پہنچ گئی تھی۔ کراچی سے چھوٹی بیٹی اور میاں صبح کی پہلی فلائیٹ سے پہنچ گئے۔
بیٹے تینوں بیرون ملک تھے وہ جلد سے جلد بھی آتے تو دو دن لگ جانے تھے۔ دوسرے دن عصر کے بعد میری تدفین کر دی گئی۔
شاعر، ادیب، صحافی، سول سرونٹ سب کی نمائندگی اچھی خاصی تھی۔ گاؤں سے بھی تقریباً سبھی لوگ آ گئے تھے۔ ننھیا ل والے گاؤں سے ماموں زاد بھائی بھی موجود تھے۔
لحد میں میرے اوپر جو سلیں رکھی گئی تھیں مٹی ان سے گزر کر اندر
آ گئی تھی۔ بائیں پاؤں کا انگوٹھا جو آرتھرائٹس کا شکار تھا، مٹی کے بوجھ سے درد کر رہا تھا۔
پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔
شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔
یہ کیفیت ختم ہوئی۔
محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہو چکے ہیں تمہیں فوت ہوئے ۔
پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی:
” ہم تمہیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں دنیا میں کسی کو نظر نہیں آؤ گے. گھوم پھر کر اپنے پیاروں کو دیکھ لو،
پھر اگر تم نے کہا تو تمہیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے ورنہ واپس آ جانا “
میں نے یہ پیشکش غنیمت سمجھی اور ہاں کر دی۔
پھر ایک مدہوشی کی حالت چھا گئی۔ آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں کھڑا تھا۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔ راستے میں کرنل صاحب کو دیکھا۔ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ اتنے زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔ خواجہ صاحب بیگم کے ساتھ واک کرنے نکل رہے تھے۔
اپنے مکان کے گیٹ پر پہنچ کر میں ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وفات سے چند ہفتے پہلے تازہ ماڈل کی خریدی تھی دھچکا سا لگا۔
گاڑی کہاں ہوسکتی ہے؟
بچوں کے پاس تو اپنی اپنی گاڑیاں تھیں تو پھر میری بیوی جو اب بیوہ تھی، کیا گاڑی کے بغیر تھی؟
دروازہ کھلا تھا۔ میں سب سے پہلے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟
کتابیں تھیں نہ الماریاں
رائٹنگ ٹیبل اس کے ساتھ والی مہنگی کرسی، صوفہ، اعلیٰ مرکزی ملازمت کے دوران جو شیلڈیں اور یادگاریں مجھے ملی تھیں اور الماریوں کے اوپر سجا کر رکھی ہوئی تھیں۔ بے شمار فوٹو البم، کچھ بھی تو وہاں نہ تھا۔
مجھے فارسی کی قیمتی ایران سے چھپی ہوئی کتابیں یاد آئیں، دادا جان کے چھوڑے ہوئے قیمتی قلمی نسخے، گلستان سعدی کا نادر نسخہ جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا اور دھوپ میں اور چھاؤں میں الگ الگ رنگ کی لکھائی دکھاتا تھا.
داداجان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ یوں لگتا تھا، گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا. سامنے والی پوری دیوار پر جو تصویر پندرہ ہزار روپے سے لگوائی تھی وہ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی.
میں پژمردہ ہوکر لائبریری سے باہر نکل آیا۔ بالائی منزل کا یہ وسیع و عریض لاؤنج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا؟
اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے چکوال سے رنگین پایوں والے سُوت سے بُنے ہوئے چار پلنگ منگوا کر اس لاؤنج میں رکھے تھے شاعر برادری کو یہ بہت پسند آئے تھے وہ غائب تھے۔
نیچے گراؤنڈ فلور پر آیا، بیوی اکیلی کچن میں کچھ کر رہی تھی۔ میں نے اسے دیکھا۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہو گئی تھی میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں کے درد کا کیا حال ہے؟
ایڑیوں میں بھی درد محسوس ہوتا تھا۔ دوائیں باقاعدگی سے میسر آرہی تھیں یا نہیں؟
میں اس کے لیے باقاعدگی سے پھل لاتا تھا۔ نہ جانے بچے کیا سلوک کر رہے ہیں؟
مگر... میں بول سکتا تھا نہ وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔
اتنے میں فون کی گھنٹی بجی بیوی بہت دیر باتیں کرتی رہی۔ جو اس طویل گفتگو سے میں سمجھا یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ بچے بضد تھے کہ ہمارے پاس رہیں گی.
میری بیوی کو میری یہ نصحیت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔
گاڑی کا معلوم ہوا کہ بیچی جاچکی تھی۔ بیوی نے خود ہی بیچنے کے لیے کہا تھا کہ اسے ایک چھوٹی آلٹو ہی کافی ہو گی۔
اتنے میں ملازم لاؤنج میں داخل ہوا۔
یہ نوجوان اب ادھیڑ عمر لگ رہا تھا۔
میں اس کا لباس دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے میری قیمتی برانڈڈ قمیض جو ہانگ کانگ سے خریدی تھی پہنی ہوئی تھی۔ نیچے وہ پتلون تھی جس کا فیبرک میں نے اٹلی سے خریدی تھی. اچھا... تو میرے بیش بہا ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے تھے.
میں ایک سال لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر سب کو دیکھتا رہا۔
ایک ایک بیٹے بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم کا یعنی میرا ذکر آتا وہ بھی سرسری سا۔
ہاں...
زینب، میری نواسی اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ ایک دن ماں سے کہہ رہی تھی:
” اماں... یہ بانس کی میز کرسی نانا ابو لائے تھےنا جب میں چھوٹی سی تھی اسے پھینکنا نہیں“
ماں نے جواب میں کہا:
” جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھاؤ پھر مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کردینا“
میں شاعروں ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے جیسے بھول ہی تو چکے تھے۔
اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں بھی الماری سے ہٹا دی تھیں۔
ایک چکر میں نے قبرستان کا لگایا۔
میری قبر کا برا حال تھا. گھاس اگی تھی۔ کتبہ پرندوں کی بیٹوں سے اٹا تھا۔ ساتھ والی قبروں کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔
ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ زرہ بھر بھی نہیں.
بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے پوتے نواسے پوتیاں سب مجھے بھول چکے تھے ۔
ادبی حلقوں کے لیے میں اب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ جن بڑے بڑے محکموں اور اداروں کا میں سربراہ رہا تھا وہاں ناموں والے پرانے بورڈ ہٹ چکے تھے۔
دنیا رواں دواں تھی۔ کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی۔ گھر میں نہ باہر. پھر تہذیبی، معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں اور آئے جا رہی تھیں.
ہوائی جہازوں کی رفتار چار گنا بڑھ چکی تھی۔ دنیا کا سارا نظام سمٹ کر موبائل فون کے اندر آ چکا تھا۔ میں ان جدید ترین موبائلوں کا استعمال ہی نہ جانتا تھا۔
فرض کیجئے،
میں فرشتوں سے التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں بھی ویلکم نہ کہا جاتا. بچے پریشان ہو جاتے ، ان کی زندگیوں کے اپنے منصوبے اور پروگرام تھے جن میں میری گنجائش کہیں نہ تھی.
ہو سکتا تھا کہ بیوی بھی کہہ دے کہ تم نے واپس آ کر میرے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ مکان بک چکا،
میں تنہا تو کسی بچے کے پاس رہ لیتی، دو کو اب وہ کہاں سنبھالتے پھریں گے.
دوست تھوڑے بہت باقی بچے تھے۔
وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ کے مراحل طے کر رہے تھے. میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ نئے لباس میں پیوند کی طرح۔
جدید بستی میں پرانے مقبرے کی طرح.
میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنی آخری خواہش بتا دی۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں.
فرشتہ مسکرایا۔ اس کی بات بہت مختصر اور جامع تھی:
”ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا، وہ کبھی بھرا نہیں جا سکے گا مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا “
-------------
ہمارے سبھی کے دماغوں میں بھی یہی سوچ ہے کہ یہ گھر، یہ کاروبار، یہ نوکری، یہ دنیا کی، گھر کی، بچوں کی ضرورتیں اور سارے کام کاج میری وجہ سے ہی جاری ہیں.اگر میں نہ رہا تو دنیا کی گردش رک جائے گی۔۔۔
مگر صرف ایک پل کو صرف ایک پل کو سوچئے ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔ دنیا تو ہمارے سے پہلے جانے والوں کے بغیر بھی چل رہی ہے اور ہمارے جانے کے بعد بھی یوں ہی چلتی رہے گی۔
اک خیال ہے، سراب ہے، وہم ہے، گماں ہے اور بس کچھ بھی نہیں۔۔۔کچھ بھی نہیں۔
سلامت اور آباد رہئے۔

Copied

07/10/2025

اردن اور مقبوضہ فلسطین کے بارڈر سے رہا ہونے کے بعد،
ڈاکٹر شکیب رفیق (ڈپٹی ہیڈ آف مشن) اور جناب سلمان احمد (ایمبیسی اسٹاف)، سفارت خانہ پاکستان عمان کے ہمراہ

(ایڈمن)

شہری حضرات اپنی گاڑی کا ای چالان اس لنک کے ذریعے چیک کر سکتے ہیں:https://echallan.psca.gop.pk/✅ قوانین کی پابندی کریں، ح...
03/10/2025

شہری حضرات اپنی گاڑی کا ای چالان اس لنک کے ذریعے چیک کر سکتے ہیں:
https://echallan.psca.gop.pk/
✅ قوانین کی پابندی کریں، حادثات سے بچیں۔
ساڈا تے دو نکل آئے نے سب اپنا اپنا ویکھ لو

لو جی ساڈا وی چالان ہوں گیا جےاماں جی کے کھاتے میں 2000دا ودا کر دیتا جے
03/10/2025

لو جی ساڈا وی چالان ہوں گیا جے
اماں جی کے کھاتے میں 2000دا ودا کر دیتا جے

ابھی کچھ ہفتے پہلے ہی فلسطین کیلئے بولنے پر اسلام آباد پولیس کے ایک بڑے افسر نے سینیٹر مشتاق کا مذاق اڑاتے ہوۓ کہا اگر و...
02/10/2025

ابھی کچھ ہفتے پہلے ہی فلسطین کیلئے بولنے پر اسلام آباد پولیس کے ایک بڑے افسر نے سینیٹر مشتاق کا مذاق اڑاتے ہوۓ کہا اگر واقعی درد ہے تو فلسطین جاو، الله کی کرنی ایسی ہوئی کہ خوراک لیکر جانے والی کشتیوں کی خبر سنی اور سینیٹر مشتاق تونیسیا روانہ ہوگئے وہاں سے ایک کشتی میں سوار ہوۓ 20 دن کی لگاتار جدوجہد کے بعد آج صبح وہ غزہ کے ساحل کے پاس پہنچ گئے اب اطلاعات ہیں کہ وہاں اسرائیلی نیوی نے 9 کشتیوں کے سواروں کو گرفتار کر لیا ہے، خبر آ رہی ہے کہ سینیٹر مشتاق بهی ان میں ہی ہیں، انہوں نے تو اسلام آباد پولیس کے اس افسر کو دکھا دیا کہ انکے دل میں درد ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ انکی گرفتاری کی خبر پر اس پاکستانی قوم کو بهی درد ہوتا ہے یا نہیں، الله انکو سلامت رکھے اور معجزہ دکھا دے کہ بچوں کا دودھ، چاول آٹا اور ادویات اہل غزہ والوں تک پہنچ جائیں یہ صرف ایک معجزہ ہی ہو سکتا ہے.
Copy

*ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ2000 روپے**غلط جگہ پارکنگ پر جرمانہ 2000 روپے**ممنوعہ جگہ کی طرف گاڑی کے داخلے پر جرمانہ 500 رو...
28/09/2025

*ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ2000 روپے*
*غلط جگہ پارکنگ پر جرمانہ 2000 روپے*
*ممنوعہ جگہ کی طرف گاڑی کے داخلے پر جرمانہ 500 روپے*
*بائیک پر تین افراد بٹھانے پرجرمانہ 2000 روپے*
*پلاسٹک کے ہیلمٹ پہننے پر جرمانہ 5000 روپے*
*ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی پر جرمانہ 1000 روپے*
*ون وے پر جرمانہ 2000 روپے*
*بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے پر جرمانہ 2000 روپے*

⭐~*اب دوسرا پہلو دیکھیئے**⭐
*سڑک پر بے شمار گڑھے کھڈے ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*گلیوں میں سیوریج کاپانی ، بارش کا پانی زمہ دار کوئی نہیں*
*مین ہولز کے ڈھکن نہیں روزانہ ایکسیڈینٹ زمہ دار کوئی نہیں **
*سرکاری ہسپتالوں میں دوایاں نہیں زمہ دار کوئی نہیں*
*ناکارہ سگنل لائٹس ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*سڑک کی کھدائی کے بعد اسکی مرمت نہیں ہوتی ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*سڑک پر سیاسی فلیکسز اور بینرز لگوائے جاتے ہیں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*فٹ پاتھ پر بےشمار تجاوزات ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*سڑک پر ابلتی کچرا کنڈیاں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*سڑکوں پررات کے اوقات میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
ایسا لگتا ہے کہ عوام صرف مجرم ہیں اور جرمانے ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں آئے ہیں
انتظامیہ اور حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔
ان پر کوئی قواعد و ضوابط لاگو نہیں ۔
وہ مسائل کے حل کے لیے کبھی ذمہ دار نہیں ۔
کیا انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیئے؟
*شہری فرائض ادا کریں*
*شہری تکلیف کا سامنا کریں*
*شہری ٹیکس ادا کریں*
*شہری حکومت کا خزانہ بھریں*
اور حکومت ہمارے ٹیکسوں سے عیاشیاں کرے

*حالات تبدیل ہونے چاہئیں*

22/09/2025

🌾کسانوں کی محنت پر ڈاکہ !🌾
دیپالپور میں رائس ملز مالکان کی خفیہ مشاورت میں *کسانوں سے مونجی اونے پونے قیمت پر خریدنے کا منظم منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔*
اس منصوبے کے مطابق، چند بااثر مل مالکان اور بیوپاری *قیمتیں خود طے کریں گے،* منڈیوں کو کنٹرول کریں گے، اور کسان کو اس کی خون پسینے کی کمائی کا *جائز حق نہیں ملے گا۔*

یہ ہے *کسان دشمنی* کی بدترین شکل —
نہ حکومت نرخ مقرر کرتی ہے،
نہ کوئی چیک اینڈ بیلنس،
بس مفاد پرستوں کی ملی بھگت اور *غریب کسان کا معاشی قتل!*

*🎙 کسان بھائیو!*
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں،
یہ وقت اتحاد کا ہے، مزاحمت کا ہے!

کیونکہ...

*کسان صرف گندم، چاول، کپاس نہیں اگاتا — وہ ملک کا پیٹ پالتا ہے!*
اور اگر کسان کمزور ہو گیا، تو معیشت بھوکی مرے گی۔

---

**




**

---

Address

Okara
9412

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asif Siddique posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category