Shehryar Khakha

Shehryar Khakha Writing service, Article writer, poetry lover, Student ,Khakhwarians, KhakhaRajput

فری آن لائن کورسوزنِ شعری کورساگر آپ بے وزن کلام لکھتے ہیں یا آپ شعر گو بننا چاہتے ہیں تو یہ کورس آپ کے لیے ہے ۔شاعری می...
22/02/2024

فری آن لائن کورس
وزنِ شعری کورس
اگر آپ بے وزن کلام لکھتے ہیں یا آپ شعر گو بننا چاہتے ہیں تو یہ کورس آپ کے لیے ہے ۔
شاعری میں دو بنیادی چیزیں ہیں ۔
1: تخیل
2: وزن

آپ کا تخیل کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو ، خواہ کتنا ہی شاعرانہ لہجہ کیوں نہ ہو اگر وزن نہیں ہے تو وہ کلام شاعری نہیں کہلایا جاسکتا ہے۔

اس کورس میں آپ سیکھیں گے کہ مصرعوں کو کس طرح موزوں کیا جاتا ہے ۔ شعر کیسے بنتا ہے ؟
تقطیع کیا ہے اور کیسے ہوتی ہے؟
وزن اور بحر کیا ہے ؟ بے وزن مصرعوں کو وزن میں کس طرح باندھتے ہیں ....!

کورس کا آغاز یکم مارچ سے ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔!

Follow the وزنِ شعری کورس channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaHWW6ZFcovz2lxqdV10

17/11/2022

لرننگ اینڈ ارننگ۔۔۔۔ آرگنائزیشن ۔۔۔۔۔۔تجویز ۔۔۔۔۔۔
جامعہ آزاد جموں کشمیر میں بہت سی سیاسی تنظمیں دیکھیں ، ویلفئیر تنظیمیں بھی کچھ نظر آئیں مگر آج تک جامعہ میں ایک ایسی تنظیم نظر نہیں آئی جو ایک نیا آئیڈیا لے کر آئی ہو۔ ایسی کوئی تنظیم نہیں بنی جس کا مقصد سیکھنا اور سکھانا ہوتا، ایسی کوئی تنظیم نہیں آئی جس کا مقصد طلباء کو موجودہ وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے میں مدد کی جاتی ، آن لائن لرننگ اور ارننگ سکھائی جاتی ، کمپوٹر اور سافٹ وئیر متعلقہ چیزیں سکھائی جاتیں ، نئی سکلز سکھائیں جاتیں ، فارن سکالر شیپس کے متعلق بتایا جاتا، تمام سٹوڈینٹس کو اپلائی کرنا سکھایا جاتا ، کور لیٹر لکھنا اور سی وی بنانا سکھایا جاتا، سٹیٹمنٹ آف پرپوز اور ریسرچز کے متعلق گائیڈ کیا جاتا۔۔ ۔

اخلاقی و دینی تربیت پر زور دیا جاتا ،وقت کی ضرورت کے لحاظ سے بہترین آئیڈیاز پیش کیے جاتے ، سیمنار منعقد کروائے جاتے وغیرہ وغیرہ ۔

مگر ہم نے آج تک صرف سیاست کو اہم سمجھا ، نعرے لگانا , جھنڈے لہرانے ، گیٹ بند کرنے ، روز بروز احتجاج کرنا ہی سیکھا !

جامعہ آزاد جموں کشمیر کے سٹوڈینٹس سے میری ریکویسٹ ہے کہ وہ مذکورہ بالا مقاصد پر ایک ایسی تنظیم قائم کریں جس سے طلباء کا وقت ضائع کرنے کے بجائے انھیں کچھ سکھایا جاسکے !

راجہ شہریار طاہر

5)خواہش  : مستقبل میں متحدہ ریاست جموں کشمیر کا جھنڈا 😁😁🤭خود مختار ریاست ہمارا حقصرف ایک رائے ! رائے دینے  کا سب کو حق ہ...
18/08/2022

5)خواہش : مستقبل میں متحدہ ریاست جموں کشمیر کا جھنڈا 😁😁🤭

خود مختار ریاست ہمارا حق

صرف ایک رائے ! رائے دینے کا سب کو حق ہے ! اظہارِ خیال پر پابندی تو نہیں ہے نا!

جیسا کہ آپ کے علم میں ہو گا کہ آزادی پسند ایک نہیں بلکہ تین تین قسم کے جھنڈے لہراتے نظر آتے ہیں ! جھنڈے پر کافی زیادہ اختلافات دیکھنے کو ملے ۔ تو اس لیے یہ محض ایک تجویز ہے !
قابلِ قبول ہو سکتا ہے!!✔ اور جھگڑا بھی ختم ہو سکتا ہے۔

پیلا رنگ
امید ،خوشی ، تازگی ،مثبت رویہ ،یاد ،عزت سمجھداری ،حب الوطنی اور وفاداری کو ظاہر کرتا ہے

لال رنگ
مضبوطی، طاقت ،محنت،جدوجہد ،بہادری،قربانی ،محبت اور مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے

سبز رنگ
نیچر، تازگی ،زرخیزی اور ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔

اور ریاست میں مذہبی پٹی والوں کو تینوں کلر میں اپنا اپنا رنگ بھی مل جائے گا

چنار کا پتہ : ہمارا قومی نشان
شہریار طاہر

17/08/2022

خود مختار ریاست ہمارا حق

خواہش ، نعروں اور خود مختار ریاست کے لیے جدوجہد و عملی کوششوں کے علاؤہ ہمیں ان چیزوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ہمیں خودمختاری ملنے کے بعد خود مختاری برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں !

شہریار طاہر

مکمل  آزاد حکومت اور بااختیار اسمبلی ہمیں مکمل طور پر بااختیار اسمبلی کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے !  اگر کوئی آزادی چاہتا ...
12/08/2022

مکمل آزاد حکومت اور بااختیار اسمبلی

ہمیں مکمل طور پر بااختیار اسمبلی کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے !
اگر کوئی آزادی چاہتا ہے تو بااختیار اسمبلی کے لیے جدوجہد کرے ، ایکٹ چوہتر اور معائدہ کراچی کی منسوخی کے لیے آواز بلند کرے !
جب تک ہمارے فیصلے اسلام آباد کے بجائے مظفرآباد میں نہیں ہوتے تب تک جموں کشمیر آزادی نہیں دیکھ سکتا !
آپ کے پاس اختیارات ہوں گے تب ہی آپ کچھ کرسکیں گے ، جب اختیارات ہی نہیں ہیں ، ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگنے سے کیا ہو گا !
اور چھتر میں بنی اسمبلی میں بیٹھی ہوئی کھٹپتلیاں بے اختیار ہیں جن کی ڈور کہیں اور سے ہلائی جاتی ہے !

سب سے پہلے بااختیار اسمبلی جس میں اپنا وزیر خارجہ ، وزیر دفاع ہو ، اقوام متحدہ میں رکنیت ہو ، جہاں ہم اپنی ریاست کا کیس خود لڑ سکیں ! اپنی ریاستی فوج ہو تب جا کر راہ اور منزل دونوں دکھیں گے !
کوئی بھوکا نہیں مرتا رزق اللہ دیتا ہے ! اور ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں ہم 50 لاکھ لوگوں کا پیٹ بھر لیں گے ان شاءاللہ
بس شعور چائیے ہے پیٹ کسی نہ کسی طرح بھر جائے گا ۔
شہریار طاہر

02/08/2022

کورپٹ کھٹپتلیاں!

ہمارے کھٹپتلی ممبرانِ اسمبلی پہلے ہی بے اختیار ہیں ، 1947 سے فیصلے اسلام آباد سے ہی ہوتے آئے ہیں ! ایکٹ چوہتر مسلط کرنے کے بعد تیرویں ترمیم ، چودویں ترمیم اور پندرویں ترمیم کیا اہمیت رکھتی ہے ؟
یہ اسمبلی بے اختیار ہے. اس اسمبلی میں بیٹھے لوگ بنی گالہ ، رائیونڈ اور لاڑکانہ کی غلامی کو اپنا ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہ کورپٹ سیاستدان کروڑوں روپے ہڑپ کرتے ہیں ، 75 برس سے فنڈز و بجٹ کھا رہے ہیں! اے جے جے میں اسکولوں اور سڑکوں کے برے حالات ہیں ، عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔تعمیر و ترقی صفر ہے ۔ بجٹ کے کروڑوں روپے ہڑپ کیے جاتے ہیں ۔ ان اسلام آباد کے غلاموں کی نسلیں عیاشی کررہی ہیں جبکہ عوام حقوق مانگے تو یہ اسلام آباد کے نوکر گریبان پکڑ لیتے ہیں ۔
آزاد جموں کشمیر کے ساتھ صرف نام آزاد لگا ہوا ہے باقی یہاں ذہنی غلامی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ یہاں صرف جنگلی جانوروں کی طرح گھومنے کو آزادی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں بنیادی سہولیات و حقوق سے محروم عوام خود کو آزاد سمجھتی ہے اور مطالعہ پاکستان و پاکستانی میڈیا کی من گھڑت باتوں کو حقائق جان کر جذبات میں بہہ کر بکواس دلائل سے خود کو مطمئن کرتی آئی ہے ۔
یہاں بنیادی حقوق کے لیے نکلو کو تشدد کیا جاتا ہے ، مارا جاتا ہے ،لاٹیاں برسائی جاتی ہے ، آنسو گیس کا تحفہ دیا جاتا ہے ، انڈین ایجنٹ کہا جاتا ہے ,فسادی کہا جاتا ہے !
تو پھر کیسی آزادی ہے ؟
یہ آزاد کشمیر کے ساتھ لفظ آزاد دھوکا ہے اور اس خطے کو آزاد کہنا آزدی کی توہین ہے ، جس عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر فیصلے لیے جاتے ہوں ، جن کے فیصلے کہیں اور سے کیے جاتے ہیں وہ کہاں کے آزاد ہیں ؟ 75 برس سے اڑھائی اضلاع کی عوام خود کو بیوقوف بنا رہی ہے اور اپنی نسلوں کے ساتھ دشمنی کررہی ہے ۔
ان کے دماغ میں بس یہ بھرا ہوا ہے انڈین مقبوضہ کشمیر کی عوام ٹائلٹ بھی اپنی مرضی سے نہیں جاسکتی ہے بلکہ فوج سے پوچھ کر جاتی ہے ! بس یہ سن کر مان لیتے ہیں یہ آزاد ہیں !
ہمیں 75 برس میں کیا ملا !
اسمبلی میں بیٹھے عوام کے نوکر کہیں اور جوتے پالش کرتے ہیں ! کیا عوام ان کو اسلام آباد ، بنی گالہ ، رائیونڈ اور لاڑکانہ کی غلامی کرنے کے لیے منتخب کرتے ہیں ؟
ہمارے خطے کے اصل دشمن یہ کھٹپتلیاں ہیں جن کو ہم نے منتخب کر کے اسمبلیوں میں بیٹھایا ہوا ہے ۔ یہ اسمبلی میں پہنچ کر ہمارے لیے خدا بن جاتے ہیں اور کوہالہ پار کے لیے چپراسی ! ہمیں سمجھنا ہو گا ایسے چپراسیوں کی جگہ اسمبلی نہیں ہے بلکہ ان کے آقاؤں کے درباروں میں چپراسی کے عہدوں کی ہے ۔
یہ چپراسی نااہل ہیں ، یہ چپراسی مفاد پرست ہیں ، یہ پیسے کے بھوکے ہیں ان کو عوام اور ریاست کے مفاد سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ کورپٹ مافیا ہے جو کروڑوں روپے ہضم کرتی چلی آئی ہے ! اپنے لیے سرکار خزانے سے دس دس کروڑ کی گاڑیاں خریدی جاسکتی ہیں مگر ہسپتالوں کو ایمبولینس مہیا نہیں کی جاسکتی ہیں !
ہمارے اڑھائی اضلاع میں ترقیاتی کام 10 پرسنٹ بھی نہیں ہوئے ! فنڈز سیاستدانوں اور ان کے چمچے ہضم کرتے آئے ہیں ۔
ہمیں ان کا احتساب کرنا چائیے , ان کے خلاف نکلنا چائیے اور ان کو ان کی اوقات یاد دلانی چائیے ، الیکشن سے پہلے عوام کے آگے سجدے کرنے کو تیار ہو جانے والے اسمبلی میں پہنچ کر خود کو خدا سمجھ بیٹھتے ہیں اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں ۔
ہمیں ان کھٹپتلیوں کا احتساب کرنا ہو گا ، یہ ہمیں شعور نہیں آنے دیتے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ عوام کو شعور آگیا تو ان کی جگہ اسمبلی میں نہیں رہے گی ! یہ ہماری آزادی کے دشمن ہیں ، ان کو معلوم ہے آزادی کے بعد ان کی اوقات چپراسی جیسی ہو جائے گی ، ان کی عیاشیوں کا خاتمہ ہو جائے گا ! ہمیں ان مفاد پرست اور عیاش پرستوں کے خلاف نکلنا ہو گا ! ہمارے خطے کو سب سے پہلے ان مفاد پرستوں سے چھٹکارے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو چائیے اب ضمیر کو زندہ ہونے دیں کب تک سیاستدانوں کے تلوے چاٹتے رہیں گے ! ہمیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں انقلاب کی ضرورت ہے! اب نظام بدلنا ہو گا !

راجہ شہریار طاہر

انساں  خطا  کا  پتلا ہے  معلوم   تم  کو  ہےچھوڑو بھی یہ انا،جو بھی ہوا بھول جاو ناشہریار طاہر کھکھہ #شاعری  #شعر
05/07/2022

انساں خطا کا پتلا ہے معلوم تم کو ہے
چھوڑو بھی یہ انا،جو بھی ہوا بھول جاو نا

شہریار طاہر کھکھہ
#شاعری #شعر

09/06/2022

جامعہ آزاد جموں کشمیر ٹرانسپورٹ فیس

اگر ایک وزیر کے لیے دس کروڑ کی گاڑی خریدی جاسکتی ہے تو یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر کے طلباء کو فری ٹرانسپورٹ کیوں نہیں دی جاسکتی ہے ؟
۔دس کروڑ کی گاڑی خریدی جاسکتی ہے تو طلباء کو فری ٹرانسپورٹ دینے کے لیے بجٹ سے ڈیڑھ کروڑ کیوں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے ؟
شہر سے 20 کلو میٹر دور کیمپس کی تعمیر کس نے کروائی ؟ گورنمنٹ یا طلباء نے ؟
پہلے ہی تعلیم بہت مہنگی ہے ۔ جامعہ سمسٹر کی بھاری فیس وصول کررہی ہے ، ٹرانسپورٹ فیس کی مد میں مزید مالی بوجھ ڈالا گیا ہے ۔ دیہاڑی دار مزدور و غریب کا بیٹا کدھر سے لائے ٹرانسپورٹ فیس ؟
جن کی فیس ڈونیشن سے پوری ہوئی ہے وہ کدھر سے لائیں ٹرانسپورٹ فیس؟
کیا مالی مشکلات کا شکار طلباء کا تعلیم حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ؟ کیا فری تعلیم مہیا کرنا ریاست کی زمہ داری نہیں ہے ؟
طلباء کا پرزور مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر کے طلباء کو فری ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کے لیے حکومت آئندہ مالی بجٹ میں ٹرانسپورٹ فیس کو شامل کرے !
فری تعلیم تو ناممکن ہے کم از کم اتنا ریلیف ریاست کے مستقبل کا حق بنتا ہے!
کیمپس کی تعمیر شہر سے 20 کلو میٹر دور گورنمنٹ نے کروائی ہے ۔اسی لیے فری ٹرانسپورٹ میسر کرنا گورنمنٹ کی زمہ داری بنتی ہے !




#شہریار طاہر

جب گزر جاؤں گا، صف اک میرے ہمدردوں کی ہو گی آج  زندہ  ہوں  تو  کوئی  پوچھتا  تک  بھی  نہیں ہےشہریار طاہر کھکھہ #شاعري  #...
16/05/2022

جب گزر جاؤں گا، صف اک میرے ہمدردوں کی ہو گی
آج زندہ ہوں تو کوئی پوچھتا تک بھی نہیں ہے

شہریار طاہر کھکھہ
#شاعري #شعر #اردوشاعر

نہ جانے کب  ملے گا اب  سکونِ دلنہ جانے کیوں  بسیرا  ہے اداسی کاشہریار طاہر کھکھہ
24/04/2022

نہ جانے کب ملے گا اب سکونِ دل
نہ جانے کیوں بسیرا ہے اداسی کا

شہریار طاہر کھکھہ

ہمارے  قبیلے  کا   یہ  دستور  ہے مشہورجو بھی تم سے ٹکرائے  اسے  زیر کر ڈالوشہریار طاہر کھکھہ #راجپوت  #کھکھہ  #شاعری  #ش...
19/04/2022

ہمارے قبیلے کا یہ دستور ہے مشہور
جو بھی تم سے ٹکرائے اسے زیر کر ڈالو

شہریار طاہر کھکھہ
#راجپوت #کھکھہ #شاعری #شہریار

Address

Therian
Muzaffarabad
13100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shehryar Khakha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Shehryar Khakha:

Share