11/06/2026
کسی ریگزار کی دھوپ میں وہ جو قافلے تھے بہار کے
وہ جو اَن کھلے سے گلاب تھے
وہ جو خواب تھے میری آنکھ میں
جو سحاب تھے تیری آنکھ میں
وہ بکھر گئے، کہیں راستوں میں غبار کے !
وہ جو لفظ تھے دمِ واپسیں
میرے ہونٹ پر
تیرے ہونٹ پر
انہیں کوئی بھی نہیں سُن سکا
وہ جو رنگ تھے سرِ شاخِ جاں
تیرے نام کے
میرے نام کے
انہیں کوئی بھی نہیں چُن سکا۔
امجد اسلام امجد