16/09/2026
#8وقت #سلائی #مشین
وہ اکثر رات گئے تک باہر بیٹھا رہتا تھا، پتہ نہیں کیوں، اور شاید اس سوال کا جواب خود اسے بھی معلوم نہیں تھا۔ خیر، وہ اداسی میں رہنے کو ترجیح دیتا تھا۔ لگتا ہے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ خوشی عارضی ہے اور اداسی مکمل ہے۔ آج بھی وہ اسی اندھیری رات میں، اسی بینچ پر بیٹھا، موبائل ہاتھ میں پکڑے گہری سوچ میں گم تھا، اور خود کو موسم میں تحلیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مون سون کی آخری لہر کی بارش برس چکی تھی اور ستمبر کی 17 تاریخ ہو چکی تھی۔ ہلکی ہلکی سنسناہٹ، اداسی اور سردیوں والی خاموشی چھانے لگی تھی، اور اسی خاموشی اور اداسی میں وہ اپنی اداسی کو چھپا رہا تھا. موسم کے مطابق اپنی محرومی۔۔ اللہ معاف کرے، وہ مایوس نہیں تھا، بس وقت کے اندھے دھند طمانچوں سے اس کا چہرہ لال تھا۔ وہ کم عمری میں ہی تھک چکا تھا۔ شاید اس نے اپنی خواہشات کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھا لیا تھا اور اس کی خواہشات ہی اسے اداسیوں کے محور میں گھیرے ہوئے تھیں۔ خواہشات بھی کیا۔۔ ابدی زندگی کی طرح ہوتی ہیں، جو مل جائیں تو ملنے کے بعد ختم، بلکہ دفن ہو جاتی ہیں۔ خیر، وہ آج بھی دیکھنے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی کے خیالوں میں گم ہے، جو اس سے بہت دور کہیں اپنی نئی زندگی شروع کر چکا ہے۔ اسے یہ سب پتہ بھی ہے، لیکن پھر بھی وہ اسے یاد کیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ خیر، اتنے میں چائے والے کی آواز آئی کہ بہت دیر ہو چکی ہے، اسے دکان بند کرنی ہے۔ لائٹ بجھ گئی، بوندا باندی شروع ہو گئی۔ میں نے اپنی چائے کا بل دیا، اس لڑکے کو اور اس کی سوچوں کو وہیں تنہا چھوڑا، اور خود اپنی راہ لی. اور مجھے یقین ہے کہ وقت ایک سلائی مشین ثابت ہوگا، اور اس کے سارے احساسات، محرومیاں، خواہشات، دکھ۔۔۔ سب سی دیے جائیں گے۔
منقول
.