Dr Sajid Chaudhary

Dr Sajid Chaudhary Dr Sajid Chaudary is an ENDOCRINOLOGIST, DIABETOLOGIST and A Consultant Physician . He is Super Expert in Diabetes,Thyroid, Obesity and Hormonal Issues.

He has done MBBS,FCPS Medicine &
2nd FCPS Fellowship in Endocrinology and Diabetes!

کیا بچے کے ہاتھ عمر کے لحاظ سے چھوٹے نظر آتے ہیں؟ اس علامت کو نظر انداز نہ کریں!کچھ بچوں کے ہاتھ اور انگلیاں عمر کے مطاب...
02/08/2026

کیا بچے کے ہاتھ عمر کے لحاظ سے چھوٹے نظر آتے ہیں؟ اس علامت کو نظر انداز نہ کریں!

کچھ بچوں کے ہاتھ اور انگلیاں عمر کے مطابق غیر معمولی طور پر چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہمیشہ معمول کی بات نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ جسم میں ہارمونز کی کمی، نشوونما میں خرابی یا کسی پیدائشی بیماری کی اہم علامت ہو سکتی ہے۔

چھوٹے ہاتھ درج ذیل مسائل کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں:

✔️ قد کا کم رہ جانا (Short Stature)

✔️ گروتھ ہارمون کی کمی (Growth Hormone Deficiency)

✔️ بلوغت میں تاخیر (Hypogonadism)

✔️ تھائرائیڈ ہارمون کی کمی (Hypothyroidism)

✔️ بظاہر تاخیرِ نشوونما و بلوغت (Constitutional Delay of Growth & Puberty)

✔️ ٹرنر سنڈروم، نونان سنڈروم یا دیگر جینیاتی بیماریاں(Turner Syndrome etc)

✔️ بعض دیگر اینڈوکرائن (ہارمونل) امراض

اگر بچے کے ہاتھ چھوٹے ہوں اور اس کے ساتھ قد بھی کم ہو، بلوغت میں تاخیر ہو، یا جسمانی نشوونما عمر کے مطابق نہ ہو تو اس کا بروقت معائنہ بے حد ضروری ہے۔

صرف ہاتھ دیکھ کر کسی بیماری کی تشخیص نہیں کی جا سکتی، لیکن یہ ایک اہم علامت ضرور ہو سکتی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

صحیح تشخیص کے لیے بچے کا مکمل معائنہ، گروتھ چارٹ، بون ایج یعنی ہڈیوں کی عمر، اور ضرورت پڑنے پر ہارمونز سمیت دیگر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر مناسب علاج کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اگر آپ کے بچے میں ایسی کوئی علامات موجود ہیں تو بروقت کسی ماہر اینڈوکرائنولوجسٹ سے رجوع کریں۔

ڈاکٹر محمد ساجد چوہدری
اینڈوکرائنولوجسٹ اینڈ ڈائیبیٹولوجسٹ

کنسلٹنٹ فزیشن

دوست پلازہ نشتر روڈ ملتان

یاد رکھیں: بروقت تشخیص سے بہت سی ہارمونل اور نشوونما سے متعلق بیماریوں کا مؤثر علاج ممکن ہے، جبکہ تاخیر بعض اوقات مستقل مسائل کا سبب بن سکتی ہے

31/07/2026

Finally Raining in Multan
May it be a rain of Almighty’s Rehmat and peace Aameen!

جامعہ محد الفقیر کا ایک روحانی دورہپچھلے سال مجھے ازبکستان کے سفر کا موقع ملا، جہاں میں نے سمرقند اور تاشقند جیسے تاریخی...
28/07/2026

جامعہ محد الفقیر کا ایک روحانی دورہ

پچھلے سال مجھے ازبکستان کے سفر کا موقع ملا، جہاں میں نے سمرقند اور تاشقند جیسے تاریخی شہروں کی زیارت کی۔ چونکہ مجھے تاریخ اور سفرنامے پڑھنے کا شوق ہے، اس لیے وطن واپسی پر میری نظر حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کے سفرنامے “لاہور تا خاکِ بخارا” پر پڑی۔ میں نے سوچا کہ دیکھوں، ایک صاحبِ نظر نے ان مقامات کو کس زاویے سے دیکھا ہے۔

جب میں نے یہ سفرنامہ پڑھنا شروع کیا تو مجھے بے حد حیرت ہوئی۔ یہ محض ایک سفرنامہ نہیں تھا بلکہ دین اور دنیا کا ایک حسین امتزاج تھا۔ ایک طرف ازبکستان کی تاریخ، تہذیب اور بزرگانِ دین کا تذکرہ تھا، تو دوسری طرف ہر صفحے پر اصلاحِ نفس، اخلاق اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی ایسی دعوت تھی جو دل میں اترتی چلی جاتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ میں صرف ایک سفر کی روداد نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک صاحبِ دل کی صحبت میں بیٹھا ہو۔

مطالعے سے معلوم ہوا کہ حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ پیشے کے اعتبار سے ایک الیکٹریکل انجینئر تھے، مگر بعد میں اپنی زندگی دین کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ اسی دوران یاد آیا کہ پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبی، ریجنل ڈائریکٹر CPSP، اپنے فیس بک پر ان کے ساتھ ملاقاتوں کی تصاویر شیئر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف خود بلکہ نشتر میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ اور پریذڈینٹ پی ایم اے پروفیسر ڈاکٹر مسعود ہراج کے ہمراہ بھی جامعہ محد الفقیر کی زیارت کی تھی۔

میرے دل میں بھی ایک جیتے جاگتے ولی اللہ کی زیارت کی خواہش پیدا ہوئی، مگر یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔
کیونکہ حضرت صاحب ہماری وہاں حاضری سے قبل دنیا سے رحلت فرما گئے - چند روز قبل جب اس خواہش کا ذکر میں نے پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبی صاحب سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ آج بھی جامعہ محد الفقیر جاتے رہتے ہیں، اور اگر میں چاہوں تو ان کے ساتھ چل سکتا ہوں۔ اس دعوت کو میں نے اپنی خوش نصیبی سمجھا-

چنانچہ محرم الحرام کے بابرکت دنوں میں ڈاکٹر غلام مجتبی صاحب، ڈاکٹر ہمایوں ریاض صاحب، ایک معزز دوست اور میں جامعہ محد الفقیر، جھنگ پہنچ گئے۔ جامعہ کا پُرسکون ماحول، خوبصورت جامع مسجد اور علمی و روحانی فضا دل کو چھو گئی۔ نمازِ جمعہ، شیخ الحدیث کا بیان، دعا، مدرسے کا دورہ اور حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کی قبر پر فاتحہ خوانی اس سفر کے یادگار لمحات تھے۔

جامعہ محد الفقیر ایک وسیع و عریض، نہایت خوبصورت اور پُرسکون دینی و تربیتی مرکز ہے۔ کشادہ جامع مسجد، منظم تعلیمی عمارتیں، طلبہ کے لیے رہائشی سہولیات اور ہر طرف طاری سکون و وقار انسان کو دنیا کی ہنگامہ خیزی سے الگ ایک روحانی فضا میں لے جاتا ہے۔ یہاں علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی، تزکیۂ نفس اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کی عملی تربیت بھی دی جاتی ہے، جو اس ادارے کی نمایاں خصوصیت ہے۔

ہم نے جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی، شیخ الحدیث کا نہایت ایمان افروز بیان سنا، بعد ازاں ان سے ملاقات اور دعا کی سعادت حاصل کی۔ پھر حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کی قبر پر حاضر ہو کر فاتحہ خوانی کی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔

واپسی پر شورکوٹ کینٹ میں مختصر قیام اور ظہرانے کے بعد ہم ملتان روانہ ہوگئے۔

بظاہر یہ سفر ملتان سے جھنگ تک کا تھا، لیکن حقیقت میں یہ ایک روحانی سفر تھا۔ ازبکستان سے شروع ہونے والی ایک فکری جستجو مجھے جامعہ محد الفقیر تک لے آئی، جہاں یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے جانے کے بعد بھی ان کے علم، تربیت اور اخلاص کے ذریعے ان کا فیض جاری رکھتا ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی اخلاص کے ساتھ دین اور انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

راجپوت برصغیر کی قدیم جنگجو برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔لفظ “راجپوت” سنسکرت کے لفظ “راج پتر” (یعنی “بادشاہ کا بیٹا” یا “ش...
27/07/2026

راجپوت برصغیر کی قدیم جنگجو برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔لفظ “راجپوت” سنسکرت کے لفظ “راج پتر” (یعنی “بادشاہ کا بیٹا” یا “شہزادہ”) سے ماخوذ ہے۔ مختلف راجپوت خاندان صدیوں تک موجودہ راجستھان، پنجاب، سندھ، گجرات اور شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آباد رہے اور متعدد ریاستوں پر حکومت کرتے رہے۔ تاریخ میں راجپوت اپنی بہادری، عزتِ نفس، وفاداری، مہمان نوازی اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی جنگی روایات اور شجاعت نے برصغیر کی تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

راجپوت برادری آج بھی پاکستان کی نمایاں اور بااثر برادریوں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کی بڑی آبادی پنجاب، آزاد جموں و کشمیر، پوٹھوہار، خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں اور سندھ میں آباد ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد بھی بہت سے راجپوت خاندان پاکستان میں رہے اور انہوں نے فوج، سیاست، زراعت، سرکاری خدمات، تعلیم اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔

تاریخی طور پر راجپوت مختلف شاہی اور جنگجو خاندانوں پر مشتمل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مختلف شاخوں (Clans) میں تقسیم ہوئے، جنہیں عموماً قبیلہ، شاخ یا گوت کہا جاتا ہے۔ “ذیلی ذات” کہنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا، کیونکہ راجپوت شناخت زیادہ تر قبیلوں پر مبنی ہے۔
پاکستان میں پائے جانے والے معروف راجپوت قبائل میں شامل ہیں:

* بھٹی
* رانجھا (بعض خاندان اپنی نسبت راجپوتوں سے جوڑتے ہیں)
* راؤ
* راٹھور (رتھوڑ)
* چوہان
* توہانہ
* جنجوعہ
* کھوکھر (اگرچہ تمام کھوکھر خود کو راجپوت نہیں کہتے)
* مینہاس
* جسروٹیا
* سولنکی
* پرمار (پوار)
* گہلوٹ (سسودیا)
* چب
* جڑال
* کہوٹ
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جنوبی ایشیا میں مختلف خاندان اپنی روایات اور نسب کے مطابق خود کو راجپوت قرار دیتے ہیں، اس لیے ہر قبیلے کی اصل اور نسب کے بارے میں مورخین کی آراء ہمیشہ یکساں نہیں ہیں۔
راجپوت ثقافت کی نمایاں خصوصیات میں بہادری، عزتِ نفس، مہمان نوازی، وعدے کی پاسداری، بزرگوں کا احترام اور اپنے خاندان و قبیلے سے وفاداری شامل ہیں۔ یہی اوصاف صدیوں سے راجپوت شناخت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں-
ایسے ہی آج ایک راجپوت دوست ڈاکٹر عارف جب آپ قلعۂ ملتان، اس تاریخی شہر کی سرزمین پر تشریف لائے ہیں، تو مجھے یقین ہے کہ اس قلعے کی فضا آپ کو ان بہادر سپاہیوں اور عظیم روایات کی یاد دلائے گی جنہوں نے صدیوں تک اپنی سرزمین، اپنے وقار اور اپنی اقدار کی حفاظت کی۔

میرے عزیز دوست ڈاکٹر راؤ عارف راجپوت ! آپ کی دوستی میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ قلعۂ ملتان میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ دعا ہے کہ آپ کا یہ سفر خوشگوار اور یادگار گزرے-

ذیابیطس کو نظر انداز نہ کریں… ورنہ اس کے نتائج زندگی بھر ساتھ رہ سکتے ہیں۔آج مجھے  کلینک میں ایک ایسے مریض کے معائنہ کا ...
25/07/2026

ذیابیطس کو نظر انداز نہ کریں… ورنہ اس کے نتائج زندگی بھر ساتھ رہ سکتے ہیں۔

آج مجھے کلینک میں ایک ایسے مریض کے معائنہ کا اتفاق ہوا جس کے پاؤں کی انگلیاں پنجہ نما (Claw Toe) شکل اختیار کر چکی تھیں۔

کئی سالوں سے ان کی شوگر مناسب کنٹرول میں نہیں تھی۔ بار بار مشورہ دینے کے باوجود وہ انسولین شروع کرنے میں تاخیر کرتے رہے اور علاج باقاعدگی سے نہیں کرواتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ شوگر نے پاؤں کے اعصاب کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں انگلیوں کی ساخت تبدیل ہو گئی۔

⚠️ یہ صرف ظاہری خرابی نہیں، بلکہ Diabetic Neuropathy (ذیابیطس کی وجہ سے اعصاب کا متاثر ہونا) کی ایک اہم علامت ہو سکتی ہے۔

ایسی خرابیوں کے بعد مریض میں:
✔ پاؤں پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے۔
✔ سخت جلد (Callus) بنتی ہے۔
✔ زخم بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
✔ انفیکشن اور بعض اوقا ت کٹنے (Amputation) تک کی نوبت آ سکتی ہے۔

اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

✅ شوگر کو شروع ہی سے اچھی طرح کنٹرول رکھیں۔
✅ اگر ڈاکٹر انسولین تجویز کریں تو صرف خوف یا غلط فہمی کی وجہ سے اسے مؤخر نہ کریں۔
✅ روزانہ اپنے پاؤں کا معائنہ کریں۔
✅ مناسب سائز کے نرم جوتے پہنیں۔
✅ سال میں کم از کم ایک مرتبہ Diabetic Foot Examination ضرور کروائیں۔

یاد رکھیں! ذیابیطس کا ہر دن بغیر مناسب علاج کے اعصاب، گردوں، آنکھوں اور پاؤں کو خاموشی سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بروقت اور مناسب علاج مستقبل کی معذوری سے بچاسکتا ہے-

ڈاکٹر محمد ساجد چوہدری
ماہر امراضِ شوگر، ہارمونز بلڈ پریشر اور موٹاپا (Endocrinologist & Diabetologist)

#شوگر #ذیابیطس

18/07/2026

کیا ہر شوگر ایک جیسی ہوتی ہے؟

بہت سے لوگ صرف ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے بارے میں جانتے ہیں، لیکن ٹائپ 1.5 (LADA) ، موڈی (MODY) دوران حمل شوگر (Gestational Diabetes)اور ڈبل ڈائبیٹیز )Double Diabetes)بھی اہم اقسام ہیں جن کی تشخیص اور علاج مختلف ہو سکتا ہے۔

اس مختصر ویڈیو میں ان سب کی وضاحت کی گئی ہے۔

👨‍⚕️ ڈاکٹر محمد ساجد چوہدری
ماہر امراضِ شوگر، ہارمونز اور موٹاپا
# #شوگر
#ذیابیطس
#شوگرکیاقسام










08/07/2026

ایک عام غلط فہمی جس کا شوگر کے مریضوں کے لیے جاننا ضروری ہے
ڈاکٹر ساجد چوہدری اینڈوکرائں وشوگر اسپیشلسٹ

17/06/2026

شوگر کی ایک خطرناک پیچیدگی—-
ڈایبیٹک کیٹوایسیڈوسس (Diabetic Ketoacidosis - DKA) کیا ہے؟

ڈایبیٹک کیٹوایسیڈوسس (DKA)شوگر کی ایک خطرناک اور جان لیوا پیچیدگی ہے جو عموماً ٹائپ 1 ذیابیطس میں ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں بھی ہو سکتی ہے۔

جب جسم میں انسولین کی شدید کمی ہو جائے تو جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے چربی کو توڑنا شروع کر دیتا ہے، جس سے “کیٹونز” بنتے ہیں۔ کیٹونز کی زیادتی خون کو تیزابی بنا دیتی ہے، جسے ڈایبیٹک کیٹوایسیڈوسس کہتے ہیں۔

اہم علامات:
✅ بہت زیادہ پیاس لگنا
✅ بار بار پیشاب آنا
✅ متلی اور قے
✅ پیٹ میں درد
✅ شدید کمزوری اور نقاہت
✅ سانس کا تیز اور گہرا ہونا
✅ منہ سے پھل جیسی بو آنا
✅ غنودگی یا بے ہوشی

وجوہات:
🔹 انسولین چھوڑ دینا یا خوراک کم لینا
🔹 انفیکشن (نمونیا، پیشاب کی نالی کا انفیکشن وغیرہ)
🔹 دل کا دورہ یا شدید جسمانی دباؤ
🔹 نئی تشخیص شدہ ذیابیطس

یہ ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے۔
اگر مذکورہ علامات موجود ہوں تو فوراً ہسپتال سے رجوع کریں کیونکہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بے ہوشی، دماغی سوجن، گردوں کی خرابی اور حتیٰ کہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

اپنی شوگر کو باقاعدگی سے چیک کریں، ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ادویات استعمال کریں اور بیماری یا بخار کی صورت میں خصوصی احتیاط کریں۔
یہ معلومات مفادہ عامہ کے لیے لکھی گئی ہیں-
ڈاکٹر محمد ساجد چودھری
ماہر امراض شوگر و اینڈوکرائن

14/06/2026

الحمدللہ، میں ہر مہینے کے پہلے اور تیسرے اتوار کو جہانیاں میں کلینک کرتا ہوں۔ میرا آبائی گاؤں بھی تحصیل جہانیاں میں شامل ہے۔

یہ پیغام خاص طور پر اُن افراد کے لیے ہے جو اکثر دریافت کرتے ہیں کہ جہانیاں میں کلینک کہاں ہوتا ہے، کن دنوں میں وزٹ ہوتا ہے اور اوقاتِ کار کیا ہیں۔

درج ذیل امراض کے لیے تشخیص اور علاج کی سہولت دستیاب ہے:

🔹 ذیابیطس (شوگر) اور اس کی پیچیدگیاں
🔹 اینڈوکرائن اور ہارمونز کے امراض (تھائیرائیڈ، ہارمونل مسائل وغیرہ)
🔹 موٹاپا اور وزن سے متعلق مسائل
🔹 جنرل میڈیسن کے امراض جیسے:
• جوڑوں کا درد اور گنٹھیا
• دمہ اور سانس کی بیماریاں
• تپِ دق (ٹی بی)
• بخار، ملیریا اور ٹائیفائڈ
• سر درد اور مائیگرین
• کالا یرقان (ہیپاٹائٹس) اور جگر کے امراض
• معدے اور نظامِ ہضم کے مسائل
• کمر درد
•اور دیگر عمومی طبی مسائل

اسی طرح میری اہلیہ بھی میرے ساتھ موجود ہوتی ہیں، جن سے جلد (اسکن) کے امراض کے حوالے سے مشورہ اور علاج حاصل کیا جا سکتا ہے۔

📅 ہر مہینے کے پہلے اور تیسرے اتوار
📍 کلینک کا مکمل پتہ اور اوقاتِ کار ویڈیو میں درج ہیں۔
رابط نمبر
03080850142
03165422622

آپ کی صحت، ہماری ترجیح
#جہانیاں #ملتان #ذیابیطس #شوگر

Address

Multan
60000

Telephone

+92614543577

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sajid Chaudhary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Dr Sajid Chaudhary:

Shortcuts

Share