Shair-o-Shairi

Call Website Contact the establishment

Shair-o-Shairi Here you will find the impressive and 💖 heart touching poetry۔
We also have a youtube channel
Do

18/07/2026
19/04/2026

انا وفا سے زیادہ ہے اس میں، ذرا روٹھ کے دیکھ
وہ کسی کا ہاتھ پکڑ لے گا، تیرے پیر (پاؤں) نہیں

بہت اعلیٰ %💯

19/04/2026

‏‏میکوں کیا تھئ گئے ہر شے میکوں
تیڈی گول اچ گالھی ڈسدی ھے

تیڈی تانگھ اچ تارے نئیں سمدے
ڈینہہ رات ابالھی ڈسدی ھے

ہنج ہنج دے نال بھویندے ہوئیں
اکھ مونجھ دی مالھی ڈسدی ھے

تیڈی پینگھ دا ''طارق'' خیال آوے
میکوں چندر اچ ٹالھی ڈسدی ھے

18/04/2026

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو

پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو

جیسے بالوں میں کوئی پھول چنا کرتا ہے
گھر کے گلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو

کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں
کر کے منا سا ہواؤں میں اچھالیں تم کو

اس قدر ٹوٹ کے تم پہ ہمیں پیار آتا ہے
اپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو

کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو
کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو

ہے تمہارے لیے کچھ ایسی عقیدت دل میں
اپنے ہاتھوں میں دعاؤں سا اٹھا لیں تم کو

جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہو
ورنہ مر جائیں ابھی مر کے منا لیں تم کو

جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور
اپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو

اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تم
ہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ سنبھالیں تم کو

وصی شاہ

15/04/2026

لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی
پروین شاکر

اس عمر کے بعد اس کو دیکھا!
آنکھوں میں سوال تھے ہزاروں

ہونٹوں پہ مگر وہی تبسم!
چہرے پہ لکھی ہوئی اداسی

لہجے میں مگر بلا کا ٹھہراؤ
آواز میں گونجتی جدائی

بانہیں تھیں مگر وصال ساماں!
سمٹی ہوئی اس کے بازوؤں میں

تا دیر میں سوچتی رہی تھی
کس ابر گریز پا کی خاطر

میں کیسے شجر سے کٹ گئی تھی
کس چھاؤں کو ترک کر دیا تھا

میں اس کے گلے لگی ہوئی تھی
وہ پونچھ رہا تھا مرے آنسو

لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی!

14/04/2026

ہمیں وہاں بھی تیری آرزو رہے گی
جہاں وعدہ ہے ستر حور دینے کا

04/04/2026

تُوں صُبح دی پاک ھَوا ورگا ،
ساڈے پِنڈ نُوں جاندی راہ ورگا
تینُوں پُلِیئے وی تے کِنج سجناں ،
تُوں آندے جاندے ساہ ورگا ،
توں رد وی تے نئیں ہو سکدا
تو میرے دل دی چاہ ورگا
کوئی تیرے باجو ہور نئیں
مینوں ہور کسے دی لوڑ نئیں
تیرا پرچھاواں سجناں میرے تے
کڑی تپ وچ پپلاں دی چھاں ورگا
تیوں پلیے وی تے کنج سجناں
توں آندے جاندے ساہ ورگا

28/03/2026

مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا
مرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھا

کسی اور چہرے کو دیکھ کر تری شکل ذہن میں آ گئی
ترا نام لے کے ملا اسے میرے حافظے کا یہ حال تھا

کبھی موسموں کے سراب میں کبھی بام و در کے عذاب میں
وہاں عمر ہم نے گزار دی جہاں سانس لینا محال تھا

کبھی تو نے غور نہیں کیا کہ یہ لوگ کیسے اجڑ گئے
کوئی میرؔ جیسا گرفتہ دل تیرے سامنے کی مثال تھا

ترے بعد کوئی نہیں ملا جو یہ حال دیکھ کے پوچھتا
مجھے کس کی آگ جلا گئی مرے دل کو کس کا ملال تھا

کہیں خون دل سے لکھا تو تھا ترے سال ہجر کا سانحہ
وہ ادھوری ڈائری کھو گئی وہ نہ جانے کون سا سال تھا

اعتبار ساجد

28/03/2026

جے لکھڑاں ہے تاں ایویں کر تو بانھ تے میڈے ناں کوں لکھ
تو گھر دی ھک ھک کندھی تے ہر چھاں تے میڈے ناں کو لکھ
کاھیں کاں دے ہتھ سنیہا پٹھ ہر کاں تے میڈے ناں کو لکھ
دل دھڑکے تیکوں یاد آواں تو ہاں تے میڈے ہاں کو لکھ

Address

Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shair-o-Shairi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Shair-o-Shairi:

Shortcuts

Share