کچھ ایسے ڈھنگ سے رویا کہ معتبر بھی لگا
وہ ایک شخص مگر مبتلائے شَر بھی لگا
کبھی کبھار پرندوں سے آپ بیتی کہی
کبھی کبھار مجھے دشت اپنا گھر بھی لگا
میں اتنی تنگ جگہ سے گزر کے آیا ہوں
گھِسے ہیں پاؤں بھی اور آسماں پہ سر بھی لگا
ہمارے جسم کو نوچو تمام جانب سے
ادھر لگا چکا ہے زخم؟ اب ادھر بھی لگا
بنائے بیٹھا ہوں کاغذ پہ ایک فرضی مکان
اور اپنے آپ سے کہتا ہوں اس میں در بھی لگا
کسی کے ساتھ محبت کی بات کرتے ہوئے
ذرا سا خوش بھی ہوئے، ٹھیک ٹھاک ڈر بھی لگا
اداس میں بھی تھا اور اس پہ مستزاد تھا یہ
خفا خفا سا اداسی بھرا سفر بھی لگا
ہماری سمت سے آزاد ہے سو اپنا دل
کسی کو سونپ، کہیں پھینک یا جدھر بھی لگا
فیضان احمد فیضی
19/05/2026
اپنوں کو کسی طور رلانا نہیں آتا
یعنی کہ مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا
مشکل ہے ذرا ملنا مجھے کام بہت ہیں
اس کو کوئی اچھا سا بہانا نہیں آتا
مجذوب پے جچتی ہے فقط گوشہ نشینی
گلیوں میں مجھے خاک اڑانا نہیں آتا
اک سمت مجھے بھوک بہت نوچ رہی ہے
اک سمت مجھے کچھ بھی چرانا نہیں آتا
وہ کیسے سمیٹے گا مری ذات کے ٹکڑے
پتھر بھی جسے راہ سے ہٹانا نہیں آتا
مسجود ملائک تری مخلوق عجب ہے
اکڑی ہوئی گردن کو جھکانا نہیں آتا
حنظلہ حالِم
18/05/2026
کل ایک یادگار دن گزرا محترم روفی سرکار صاحب کے ساتھ، جن کی میزبانی، محبت بھری گفتگو، خوبصورت اشعار اور علم سے بھرپور نشست نے دل جیت لیا۔
چائے سے لے کر لذیذ کھانے تک ہر لمحہ خلوص سے بھرپور تھا۔
ایسی محفلیں صرف وقت نہیں بلکہ یادیں بن جاتی ہیں۔
🤍دل کی گہرائیوں سے شکریہ سر
05/05/2026
ورنہ اسے تعزیر نہ زنجیر کا ڈر ہے
قیدی کو فقط زہر بجھے تیر کا ڈر ہے
مسمار کا خدشہ تو بہت بعد میں ، پہلے
اک کھوکھلی بنیاد پہ تعمیر کا ڈر ہے
جو مجھ کو ڈراتا ہے مری نیند میں اکثر
اس ایک برے خواب کی تعبیر کا ڈر ہے
اس گردشِ دنیا سے نکلتے ہوئے دل کو
کچھ دن سے فقط گردشِ تقدیر کا ڈر ہے
کم ظرف تھا وہ شخص جسے چوٹ دکھائی
اب مجھ کو مرے زخم کی تشہیر کا ڈر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Komal joya کومل جوئیہ
20/04/2026
نہیں ہے خوف کوئی دشمنوں کی صف سے مجھے
کمک ملے گی ابھی دیکھنا نجف سے مجھے
علی کا نام لیا مل گئی خدا کی مدد
یہ عشق شرک نہیں ہے کسی طرف سے مجھے
آفتاب عارض
゚
06/04/2026
الحمدللہ ایک کامیاب مشاعرہ منعقد ہوا
تمام احباب کی آمد کا بہت شکریہ
مشاعرہ کی کچھ جھلکیاں۔۔۔۔۔۔
゚
04/04/2026
تمام احباب کو خوش آمدید ❣️
Powered by:
بیان
04/04/2026
آگ پانی غبار کیا ہو گا
کہکشاؤں کے پار کیا ہوگا
موسم انتظار میں عاشر
ماسوا انتظار کیا ہو گا
ندیم بلال عاشر
04/04/2026
ہو جائے اگر لڑنے کو تیار درندہ
کھا جائے گا سب درد کے انبار درندہ
آفاق سے اترے گی مرے نام کی پرچی
مکتوبِ خدا بولیں گے غدار درندہ
Be the first to know and let us send you an email when بیان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.