04/06/2026
اسے گزرے ہوئے زمانہ ہو گیا
میں بھی اُسی گلی کا دیوانہ ہو گیا
تم پوچھتے ہو مجھ مسافر سے منزل کا پتہ
میں مست آنکھوں کا مست ٹھکانہ ہو گیا
میں اُس طغیانی سے سیراب ہوا، کاشفؔ
اب جاؤں کہاں؟ یہی میرا آستانہ ہو گیا
کاشف ملتان ✍🏻04.06.26